مشکوۃ

Mishkat

جنازوں کا بیان

جنازے کے ساتھ جانے اور نماز جنازہ پڑھنے کا بیان


وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يجمع بَين الرجلَيْن فِي قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ يَقُولُ: «أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ؟» فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ وَقَالَ: «أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُغَسَّلُوا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

جابر ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ شہدائے احد کے دو دو آدمیوں کو ایک کپڑے میں اکٹھا کرتے اور فرماتے ’’ ان میں سے قرآن کا علم کس کو زیادہ تھا ؟‘‘ جب ان میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ کر دیا جاتا تو آپ ﷺ اسے پہلے لحد میں اتارتے ، اور فرماتے :’’ میں روز قیامت ان لوگوں کی گواہی دوں گا ۔‘‘ آپ نے انہیں اسی خون آلودہ حالت میں دفن کرنے کا حکم فرمایا ، آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی نہ انہیں غسل دیا گیا ۔ رواہ البخاری ۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
رواہ البخاری (۱۳۴۷) ۔