ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنازہ جلدی لے جایا کرو ، اگر تو وہ صالح ہے تو پھر تم اسے بھلائی کی طرف لے جارہے ہو ، اور اگر وہ اس کے علاوہ ہے تو پھر وہ ایک شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتار رہے ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب جنازے کو رکھا جاتا ہے اور لوگ اسے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں تو اگر وہ نیک ہو تو کہتا ہے : مجھے آگے پہنچاؤ اور اگر وہ صالح نہ ہو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہتا ہے : تباہی ہو ، تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو ۔ انسان کے علاوہ ہر چیز اس کی آواز سنتی ہے ، اور اگر انسان سن لے تو وہ بے ہوش ہو جائے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ ، اور جو شخص اس کے ساتھ جائے تو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے حتیٰ کہ اسے رکھ دیا جائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک جنازہ گزرا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو گئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے ، پھر ہم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ تو ایک یہودی عورت کا جنازہ ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : موت گھبراہٹ والی چیز ہے ، جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ ۔‘‘ متفق علیہ ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے رسول اللہ ﷺ کو جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوتے دیکھا تو ہم بھی کھڑے ہو گئے اور ہم نے آپ کو بیٹھتے دیکھا تو ہم بھی بیٹھ گئے ۔ اور امام مالک اور ابوداؤد کی روایت میں ہے : آپ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو گئے پھر اس کے بعد آپ بیٹھ گئے ۔ رواہ مسلم و مالک و ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص ایمان و ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے میں شریک ہوتا ہے ، اس کے ساتھ رہتا ہے حتیٰ کہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے اور اس کے دفنانے سے فارغ ہو جاتا ہے تو وہ دو قراط اجر کے ساتھ واپس آتا ہے ، ہر قراط احد پہاڑ کی مثل ہے ، اور جو شخص نماز جنازہ پڑھتا ہے اور اس کے دفن ہونے سے پہلے واپس آ جاتا ہے تو وہ ایک قراط اجر کے ساتھ واپس آتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے نجاشی کے فوت ہونے کی ، جس روز وہ فوت ہوئے ، خبر سنائی اور آپ صحابہ کرام ؓ کو لے کر عید گاہ تشریف لے گئے ، آپ نے ان کی صفیں بنائیں اور چار تکبیریں کہیں ۔ متفق علیہ ۔
عبدالرحمن بن ابی لیلہ بیان کرتے ہیں ، زید بن ارقم ؓ نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہا کرتے تھے ، جبکہ ایک جنازے پر انہوں نے پانچ تکبیریں کہیں تو ہم نے ان سے سوال کیا ۔ انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ ایسے بھی کہا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
طلحہ بن عبداللہ بن عوف بیان کرتے ہیں ، میں نے ابن عباس ؓ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی تو انہوں نے (بلند آواز سے) سورۃ الفاتحہ پڑھی ۔ بعد ازاں فرمایا : تاکہ تم جان لو کہ یہ سنت ہے ۔ رواہ البخاری ۔
عوف بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے نماز جنازہ پڑھی تو میں نے آپ کی دعا یاد کر لی ، آپ کہہ رہے تھے :’’ اے اللہ ! اسے معاف فرما ، اس کی بہترین مہمان نوازی فرما ، اس کی قبر فراخ فرما ، اس کے گناہ پانی ، اولوں اور برف سے دھو ڈال ، اسے گناہوں سے اس طرح صاف کر دے جیسے تو نے سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا ہے ، اسے اس کے (دنیا والے) گھر سے بہتر گھر (دنیا کے) اہل سے بہتر اہل (خادم وغیرہ) اور (دنیا کی) زوجہ سے بہتر زوجہ عطا فرما ، اسے جنت میں داخل فرما اور عذاب قبر نیز عذاب جہنم سے محفوظ رکھ ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ اسے فتنہ قبر اور عذاب جہنم سے محفوظ فرما ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : (آپ نے اس قدر دعائیں کیں) کہ میں نے تمنا کی کہ کاش ! یہ میت میری ہوتی ۔ رواہ مسلم ۔
ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ جب سعد بن ابی وقاص ؓ نے وفات پائی تو عائشہ ؓ نے فرمایا : انہیں مسجد میں لے آؤ تاکہ میں بھی ان کی نماز جنازہ پڑھ سکوں ، لیکن ان کی یہ بات قبول نہ کی گئی ، تو انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ نے بیضاء کے دو بیٹوں ، سہیل اور اس کے بھائی کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھی تھی ۔ رواہ مسلم ۔
سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے ، حالت نفاس میں فوت ہو جانے والی عورت کی ، نماز جنازہ پڑھی ، تو آپ اس کے وسط میں کھڑے ہوئے ۔ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک قبر کے پاس سے گزرے جہاں گزشتہ رات کسی کو دفن کیا گیا تھا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے کب دفن کیا گیا ْ‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، گزشتہ رات ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے مجھے کیوں نہ مطلع کیا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہم نے رات کی تاریکی میں اسے دفن کیا تھا ، اس لیے ہم نے آپ کو بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا ، پس آپ کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ کے پیچھے صفیں باندھیں ، پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی ۔ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام خاتون ، جو کہ مسجد کی صفائی کیا کرتی تھیں یا کوئی نوجوان تھا ، رسول اللہ ﷺ نے اسے نہ دیکھا تو آپ نے اس کے بارے میں سوال کیا ، صحابہ نے عرض کیا ، وہ تو وفات پا چکا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے مجھے کیوں نہ مطلع کیا ؟‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، گویا انہوں نے اس کے معاملے کو کم تر سمجھا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے اس کی قبر بتاؤ ۔‘‘ انہوں نے بتا دیا تو آپ نے وہاں نماز جنازہ پڑھی ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ قبریں اپنے اصحاب پر اندھیروں سے بھری پڑی ہیں ، اور بے شک اللہ میرے نماز جنازہ پڑھنے کے ذریعے انہیں منور فرما دیتا ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم اور الفاظ صحیح مسلم کے ہیں ۔ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ کے آزاد کردہ غلام کریب ، ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں قدید یا عسفان کے مقام پر ان کا بیٹا فوت ہو گیا ۔ انہوں نے فرمایا : کریب ! دیکھو ، اس کے (جنازے) کے لیے کتنے لوگ جمع ہو چکے ہیں ؟ راوی بیان کرتے ہیں ، میں باہر آیا تو دیکھا کہ لوگ جمع ہو چکے تھے ، میں نے آپ کو بتایا تو انہوں نے پوچھا : وہ چالیس ہیں ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ، پھر ابن عباس ؓ نے فرمایا : اسے لے چلو ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو مسلمان فوت ہو جائے اور پھر چالیس موحّد (جو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتے) اس کی نماز جنازہ پڑھ لیں تو اللہ اس شخص کے بارے میں ان کی شفاعت قبول فرماتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتی ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جس میت پر سو مسلمان جنازہ پڑھیں اور وہ تمام اس کے حق میں سفارش کریں تو اس کے حق میں ان کی سفارش قبول کی جاتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، وہ ایک جنازے کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اس کی اچھائی بیان کی ، جس پر نبی ﷺ نے فرمایا :’’ واجب ہو گئی ۔‘‘ پھر وہ دوسرے جنازے کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اس کی برائی بیان کی تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ واجب ہو گئی ۔‘‘ عمر ؓ نے عرض کیا : کیا واجب ہو گئی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے اس کی اچھائی بیان کی تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی اور جس کی تم نے برائی بیان کی تو اس کے لیے جہنم واجب ہو گئی ، تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو ۔‘‘ بخاری ، مسلم اور ایک روایت میں ہے ’’ مومن زمین پر اللہ کے گواہ ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس مسلمان کے بارے میں چار آدمی گواہی دے دیں کہ وہ اچھا ہے تو اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا ۔‘‘ ہم نے عرض کیا : اور تین آدمی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تین آدمی ۔‘‘ ہم نے عرض کیا : دو آدمی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دو آدمی ۔‘‘ پھر ہم نے ایک کے بارے میں آپ سے نہیں پوچھا ۔ رواہ البخاری ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ فوت شدگان کو برا بھلا مت کہو ، کیونکہ وہ تو اپنی سزا پا چکے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ شہدائے احد کے دو دو آدمیوں کو ایک کپڑے میں اکٹھا کرتے اور فرماتے ’’ ان میں سے قرآن کا علم کس کو زیادہ تھا ؟‘‘ جب ان میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ کر دیا جاتا تو آپ ﷺ اسے پہلے لحد میں اتارتے ، اور فرماتے :’’ میں روز قیامت ان لوگوں کی گواہی دوں گا ۔‘‘ آپ نے انہیں اسی خون آلودہ حالت میں دفن کرنے کا حکم فرمایا ، آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی نہ انہیں غسل دیا گیا ۔ رواہ البخاری ۔