مشکوۃ

Mishkat

جنازوں کا بیان

جنازے کے ساتھ جانے اور نماز جنازہ پڑھنے کا بیان


وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجَنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ وَلَا تَتْبَعُ لَيْسَ مَعَهَا مَنْ تَقَدَّمَهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو ماجد الرَّاوِي رجل مَجْهُول

عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنازے کے پیچھے چلنا چاہیے ، اس کے آگے نہیں چلنا چاہیے اور جو شخص اس کے آگے چلتا ہے تو وہ (شرعی لحاظ سے) اس کے ساتھ نہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ، امام ترمذی نے فرمایا : ابوماجد راوی مجہول ہے ۔ ضعیف ۔

Status: Zaeef
حکمِ حدیث: ضعیف
Reference
حوالہ حکم
(ضَعِيف)
Conclusion
تخریج
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۰۱۱) و ابوداؤد (۳۱۸۴) و ابن ماجہ (۱۴۸۴) ۔