مشکوۃ

Mishkat

جنازوں کا بیان

جنازے کے ساتھ جانے اور نماز جنازہ پڑھنے کا بیان


وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبِعَ جَنَازَةً لَمْ يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ فَعَرَضَ لَهُ حَبْرٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ لَهُ: إِنَّا هَكَذَا نضع يَا مُحَمَّدُ قَالَ: فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «خَالِفُوهُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَبِشْرُ بْنُ رَافِعٍ الرَّاوِي لَيْسَ بِالْقَوِيّ

عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ کسی جنازے میں شریک ہوتے تو آپ میت کو لحد میں اتارنے تک نہیں بیٹھتے تھے ، ایک یہودی عالم آپ کے پاس آیا تو اس نے آپ سے کہا ، محمد (ﷺ) ! بے شک ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے ، اور فرمایا :’’ ان کی مخالفت کرو ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، بشیر بن رافع راوی قوی نہیں ۔ ضعیف ۔

Status: Zaeef
حکمِ حدیث: ضعیف
Reference
حوالہ حکم
(ضَعِيف)
Conclusion
تخریج
ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۰۲۰) و ابوداؤد (۳۱۷۶) و ابن ماجہ (۱۵۴۵) [و حدیث مسلم (۹۶۲) یغنی عنہ] * ابو الاسباط بشر بن رافع الحارثی و عبداللہ بن سلیمان بن جنادۃ منکر الحدیث ۔