انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے ، آپ کو بتایا گیا کہ یہ تو کسی یہودی کا جنازہ ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں تو صرف فرشتوں کی خاطر کھڑا ہوا ہوں ۔‘‘ ضعیف ۔
مالک بن ہبیرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ کوئی مسلمان فوت ہو جائے اور مسلمانوں کی تین صفیں اس کی نماز جنازہ پڑھ دیں تو اس کے لیے (جنت) واجب ہو جاتی ہے ۔‘‘ جب مالک ؓ دیکھتے کہ جنازہ پڑھنے والے کم ہیں تو آپ اس حدیث کی بنیاد پر انہیں تین صفوں میں تقسیم فرما دیتے تھے ۔ ابوداؤد ۔ ترمذی کی روایت میں ہے کہ جب مالک بن ہبیرہ ؓ کوئی نماز جنازہ پڑھتے اور جنازہ پڑھنے والے کم ہوتے تو وہ انہیں تین حصوں میں تقسیم فرما دیتے ، پھر بیان کرتے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص پر تین صفیں نماز جنازہ پڑھیں تو اس پر (جنت) واجب ہو گئی ۔‘‘ اور ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ نماز جنازہ کے بارے میں نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! تو اس کا رب ہے ، تو نے اسے پیدا فرمایا ، تو نے اسے اسلام کی راہ دکھائی ، تو نے اس کی روح قبض کر لی اور تو اس کے ظاہر و باطن سے واقف ہے ، ہم سفارشی بن کر آئے ہیں ، اس کی مغفرت فرما ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
سعید بن مسیّب ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے ابوہریرہ ؓ کے پیچھے ایک ایسے بچے کی نماز جنازہ پڑھی جس نے کبھی کوئی گناہ کیا ہی نہیں ، وہ دعا کر رہے تھے :’’ اے اللہ ! اسے عذاب قبر سے بچا لے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک ۔
امام بخاری ؒ نے معلق روایت بیان کرتے ہوئے فرمایا : حسن بصری ؒ بچے کی نماز جنازہ میں سورۂ فاتحہ پڑھتے اور یہ دعا کرتے : اے اللہ ! اسے ہمارے لیے پیش رو ، میر منزل ، ذخیرہ اور ثواب بنا ۔‘‘ ضعیف ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جب تک پیدا ہونے والا بچہ چیخے نہیں تب تک اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی نہ وہ وارث بنے گا اور نہ ہی اس کی میراث تقسیم ہو گی ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، لیکن انہوں نے یہ ذکرنہیں کیا کہ ’’ اس کی میراث تقسیم نہیں ہو گی ۔‘‘ ضعیف ۔
ابومسعود انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے امام کو کسی بلند جگہ پر کھڑے ہونے سے منع فرمایا جبکہ مقتدی اس کے نیچے ہوں ۔ ضعیف ۔