براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کی معیت میں ایک انصاری شخص کے جنازے میں شریک ہوئے ، ہم قبر پر پہنچ گئے ، لیکن ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی ، نبی ﷺ قبلہ رخ ہو کر بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ بیٹھ گئے ۔ ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ ، اور انہوں نے حدیث کے آخر میں یہ اضافہ نقل کیا ہے : گویا ہمارے سروں پر پرندے ہوں ۔ حسن ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میت کی ہڈی کا توڑنا ، زندہ کی ہڈی کے توڑنے کے مترادف ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی کی تدفین کے وقت ہم موجود تھے ، رسول اللہ ﷺ قبر کے پاس تشریف فرما تھے ، میں نے آپ کی آنکھوں کو اشکبار دیکھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے آج رات اپنی اہلیہ سے صحبت نہ کی ہو ؟‘‘ ابوطلحہ ؓ نے عرض کیا ، میں ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ آپ اس کی قبر میں اتریں ۔‘‘ وہ ان کی قبر میں اترے ۔ رواہ البخاری ۔
عمرو بن عاص ؓ نے ، جب وہ نزع کے عالم میں تھے ، اپنے بیٹے سے کہا : جب میں فوت ہو جاؤں تو میرے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی جائے نہ آگ ، جب تم مجھے دفن کر چکو اور مجھ پر مٹی ڈال لو تو پھر اتنی دیر تک میری قبر کے گرد کھڑے رہنا جتنی دیر میں اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے ، حتیٰ کہ میں تمہاری وجہ سے خوش اور پرسکون ہوں اور میں جان لوں کہ میں اپنے رب کے بھیجے ہوئے قاصدوں (فرشتوں) کو کیا جواب دیتا ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب تم میں سے کوئی فوت ہو جائے تو اسے (دفن کرنے سے) نہ روک رکھو ، بلکہ اسے جلد دفن کرو ۔ اور (دفن کرنے کے بعد) سرہانے سورۂ بقرہ کا ابتدائی حصہ اور اس کے پاؤں کے پاس سورۂ بقرہ کا آخری حصہ پڑھا جائے ۔‘‘ بیہقی فی شعب الایمان ، اورانہوں نے فرمایا : درست بات یہ ہے کہ یہ موقوف ہے ۔ ضعیف ۔
ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں ۔ جب عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ نے موضع حُبشی ٰ میں وفات پائی تو انہیں مکہ لا کر دفن کیا گیا ، جب عائشہ ؓ وہاں تشریف لائیں تو وہ عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ کی قبر پر آئیں اور یہ اشعار کہے : ہم جزیمہ کے دونوں مصاحبوں کی طرح ایک مدت تک ملے جلے رہے ، حتیٰ کہ یہ کہا جانے لگا کہ یہ دونوں کبھی جدا نہیں ہوں گے ، جب ہم جدا ہوئے تو گویا میں اور مالک طویل مدت تک اکٹھا رہنے کے بعد بھی ایسے تھے جیسے ہم ایک رات بھی اکٹھے نہ رہے تھے ۔ پھر انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر میں موجود ہوتی تو تمہیں جائے وفات پر ہی دفن کیا جاتا ، اور اگر میں تمہاری وفات کے وقت موجود ہوتی تو میں تمہاری زیارت کرنے نہ آتی ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے سعد کو سر کی طرف سے قبر میں اتارا ، اور ان کی قبر پر پانی چھڑکا ۔ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک نماز جنازہ پڑھی ، پھر قبر پر تشریف لائے اور اس کے سر کی جانب سے اس پر تین لپ مٹی ڈالی ۔ ضعیف ۔
عمرو بن حزم ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے مجھے ایک قبر پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا تو فرمایا :’’ اس قبر والے کو یا اس کو تکلیف نہ پہنچاؤ ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد ۔