مشکوۃ

Mishkat

زکوۃ کا بیان

صدقہ کی فضیلت کا بیان

بَاب فضل الصَّدَقَة

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتَقَبَّلُهَا بِيَمِينِهِ ثُمَّ يُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَل»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص حلال کمائی سے کھجور کے برابر صدقہ کرتا ہے ، جبکہ اللہ صرف حلال مال ہی قبول کرتا ہے ، تو اللہ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں قبول فرماتا ہے ، پھر اسے اس کے مالک کے لیے اس طرح بڑھاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچے کی پرورش کرتا ہے ، حتیٰ کہ وہ پہاڑ کی مانند ہو جاتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا نقصت صَدَقَة من مَال شَيْئا وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ» . رَوَاهُ مُسلم

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا ، درگزر کرنے اور معاف کر دینے سے اللہ بندے کی عزت میں اضافہ فرماتا ہے ، اور جو کوئی اللہ کی خاطر تواضع اختیار کرتا ہے تو اللہ اس کو رفعت عطا فرماتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ شَيْءٍ مِنَ الْأَشْيَاءِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دُعِيَ مِنْ أَبْوَاب الْجنَّة واللجنة أَبْوَابٌ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَاد دعِي من بَاب الْجِهَاد وَمن كَانَ مَنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ» . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا عَلَى مَنْ دُعِيَ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا؟ قَالَ: «نعم وَأَرْجُو أَن تكون مِنْهُم»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے کسی چیز کا جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کیا تو اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا ، اور جنت کے (آٹھ) دروازے ہیں ، جو شخص نمازی ہو گا اسے باب الصلوۃ سے دعوت دی جائے گی ، جو مجاہد ہو گا اسے باب الجہاد سے آواز دی جائے گی ، جو اہل صدقہ میں سے ہو گا اسے باب الصدقہ سے بلایا جائے گا ، روزہ دار کو باب الریان سے آواز دی جائے گی ۔‘‘ ابوبکر ؓ نے عرض کیا ، ویسے ضروری تو نہیں کہ کسی کو ان سب دروازوں سے بلایا جائے ، پھر بھی کیا کسی کو ان تمام دروازوں سے دعوت دی جائے گی ؟ آپ نے فرمایا :’’ ہاں ، میں امید کرتا ہوں کہ آپ انہی میں سے ہوں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا؟» قَالَ أَبُو بكر: أَنا قَالَ: «فن تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جِنَازَةً؟» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. قَالَ: «فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا؟» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. قَالَ: «فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا؟» . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ» . رَوَاهُ مُسلم

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آج تم میں سے کون روزے سے ہے ؟‘‘ ابوبکر ؓ نے عرض کیا : میں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ آج تم میں سے کون جنازے کے ساتھ شریک ہوا ؟‘‘ ابوبکر ؓ نے عرض کیا : میں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ آج تم میں سے کس نے مسکین کو کھانا کھلایا ؟‘‘ ابوبکر ؓ نے عرض کیا ، میں نے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ آج تم میں سے کس نے مریض کی عیادت کی ؟‘‘ ابوبکر ؓ نے عرض کیا : میں نے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص میں یہ خصلتیں جمع ہو جائیں تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمان خواتین ! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے کسی ہدیے کو حقیر نہ سمجھے خواہ وہ بکری کا کھر ہی ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ جَابِرٍ وَحُذَيْفَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ مَعْرُوف صَدَقَة»

جابر ؓ اور حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر معروف (بھلی بات ، بھلا کلام) صدقہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طليق» . رَوَاهُ مُسلم

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نیکی کے کسی بھی کام کو معمولی مت سمجھو ، خواہ تم اپنے بھائی کو خندہ پیشانی سے ملو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ» . قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَجِدْ؟ قَالَ: «فَلْيَعْمَلْ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعَ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقَ» . قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ؟ أَوْ لَمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: «فيعين ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ» . قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْهُ؟ قَالَ: «فيأمر بِالْخَيرِ» . قَالُوا: فَإِن لمي فعل؟ قَالَ: «فَيمسك عَن الشَّرّ فَإِنَّهُ لَهُ صَدَقَة»

ابوموسی اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر مسلمان پر صدقہ کرنا واجب ہے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اگر وہ نہ پائے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے ہاتھوں سے کمائی کرے اور اپنے آپ کو فائدہ پہنچائے اور صدقہ کرے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اگر وہ استطاعت نہ رکھے یا نہ کر پائے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ضرورت مند مجبور شخص کی مدد کرے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اگر وہ یہ بھی نہ کر سکے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نیکی کا حکم کرے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اگر نہ کر سکے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ برائی سے رک جائے کیونکہ یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ: كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ يَعْدِلُ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ وَيُعِينُ الرَّجُلَ عَلَى دَابَّتِهِ فَيَحْمِلُ عَلَيْهَا أَوْ يَرْفَعُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ والكلمة الطّيبَة صَدَقَة وكل خطْوَة تخطوها إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ وَيُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَة

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ انسان کے ہر جوڑ پر ہر روز صدقہ کرنا واجب ہے ، دو آدمیوں کے درمیان عدل کرنا صدقہ ہے ، آدمی کی اس کی سواری کے بارے میں مدد کرنا ، وہ اسے سواری پر بٹھائے یا اس کا سامان اس پر رکھوائے ، یہ بھی صدقہ ہے ، اچھی بات کرنا صدقہ ہے ، نماز کی طرف ہر قدم اٹھانا صدقہ ہے ، اور راستے سے تکلیف دہ چیز دور کر دینا صدقہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَلَقَ كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلَى سِتِّينَ وَثَلَاثِمِائَةِ مَفْصِلٍ فَمَنْ كَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَ اللَّهَ وَهَلَّلَ اللَّهَ وَسَبَّحَ اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ أَوْ شَوْكَةً أَوْ عَظْمًا أَوْ أَمَرَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ نَهَى عَنْ مُنْكَرٍ عَدَدَ تِلْكَ السِّتِّينَ وَالثَّلَاثِمِائَةِ فَإِنَّهُ يَمْشِي يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ» . رَوَاهُ مُسلم

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر انسان کے تین سو ساٹھ جوڑ ہیں جس شخص نے اللہ اکبر ، الحمد للہ ، لا الہ الا اللہ ، سبحان اللہ اور استغفر اللہ کہا ، اور لوگوں کے راستے سے پتھر یا کانٹے یا ہڈی کو دور کر دیا یا نیکی کا حکم یا برائی سے منع کیا اور یہ کام تین سو ساٹھ عدد کے برابر کیا تو وہ اس روز اس طرح چلتا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو جہنم سے بچا لیا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأْتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ؟ قَالَ: «أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهِ وِزْرٌ؟ فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ أجر» . رَوَاهُ مُسلم

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر تسبیح صدقہ ہے ، ہر تکبیر صدقہ ہے ، ہر تمحید صدقہ ہے ، ہر تہلیل (لا الہ الا اللہ کہنا) صدقہ ہے ، امر بالمعروف صدقہ ہے ، برائی سے منع کرنا صدقہ ہے اور تمہارا اپنی اہلیہ سے جماع کرنا صدقہ ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم میں سے کوئی اپنی شہوت پوری کرتا ہے تو اس پر اسے اجر ملے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے بتاؤ ، اگر وہ حرام طریقے سے شہوت پوری کرتا تو کیا اس پر گناہ ہوتا ؟ اسی طرح جب وہ حلال طریقے سے اسے پورا کرے گا تو اسے اجر ملے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِعْمَ الصَّدَقَةُ اللِّقْحَةُ الصَّفِيُّ مِنْحَةً وَالشَّاةُ الصَّفِيُّ مِنْحَةً تَغْدُو بِإِنَاءٍ وَتَرُوحُ بِآخَرَ»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دودھ دینے والی بہترین اونٹنی عاریۃً دینا اور دودھ دینے والی بہترین بکری ، جو صبح و شام برتن بھر دیتی ہو ، عاریۃً دینا بہترین صدقہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ أَوْ طَيْرٌ أَوْ بَهِيمَةٌ إِلَّا كَانَت لَهُ صَدَقَة»

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب کوئی مسلمان شجرکاری کرتا ہے یا کاشتکاری کرتا ہے ، پھر کوئی انسان یا پرندہ یا کوئی حیوان اس میں سے کھا لیتا ہے تو یہ اس کے لیے صدقہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ عَنْ جَابِرٍ: «وَمَا سُرِقَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَة»

اور صحیح مسلم میں جابر ؓ سے روایت ہے :’’ جو اس میں سے چوری ہو جائے تو وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غُفِرَ لِامْرَأَةٍ مُومِسَةٍ مَرَّتْ بِكَلْبٍ عَلَى رَأْسِ رَكِيٍّ يَلْهَثُ كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ فَنَزَعَتْ خُفَّهَا فَأَوْثَقَتْهُ بِخِمَارِهَا فَنَزَعَتْ لَهُ مِنَ الْمَاءِ فَغُفِرَ لَهَا بِذَلِكَ» . قِيلَ: إِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ أَجْرًا؟ قَالَ: «فِي كُلِّ ذَاتِ كبد رطبَة أجر»

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک بدکار عورت کو بخش دیا گیا کہ وہ کنویں کے کنارے ایک کتے کے پاس سے گزری جو کہ اپنی زبان باہر نکالے ہانپ رہا تھا ، قریب تھا کہ شدت پیاس اسے ہلاک کر ڈالے ، اس نے اپنا جوتا اتارا اور اسے اپنے دوپٹے سے باندھ کر اس کے لیے پانی نکالا تو اسے اس وجہ سے بخش دیا گیا ۔‘‘ عرض کیا گیا ، کیا حیوانوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے بھی ہمارے لیے اجر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر جان دار چیز کے ساتھ اچھا سلوک کرنے میں اجر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ أَمْسَكَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ مِنَ الْجُوعِ فَلَمْ تَكُنْ تُطْعِمُهَا وَلَا تُرْسِلُهَا فَتَأْكُلَ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ»

ابن عمر ؓ اور ابوہریرہ ؓ بیان کرتےہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کیا گیا ، اس نے اسے باندھ رکھا تھا ، حتیٰ کہ وہ بھوک کی وجہ سے مر گئی ، اس نے خود اسے کھلایا نہ اسے چھوڑا کہ وہ حشرات الارض کھا لیتی ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَرَّ رَجُلٌ بِغُصْنِ شَجَرَةٍ عَلَى ظَهْرِ طَرِيقٍ فَقَالَ: لِأُنَحِّيَنَّ هَذَا عَنْ طَرِيقِ الْمُسلمين لَا يؤذيهم فَأدْخل الْجنَّة

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک آدمی ایک درخت کی شاخ کے پاس سے گزرا جو کہ راہ گزر پر تھی ، اس نے کہا : میں اسے مسلمانوں کی راہ سے ہٹا دیتا ہوں تاکہ یہ انہیں تکلیف نہ پہنچائے ، اسے (اس بنا پر) جنت میں داخل کر دیا گیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا يَتَقَلَّبُ فِي الْجَنَّةِ فِي شَجَرَةٍ قَطَعَهَا مِنْ ظَهْرِ الطَّرِيقِ كَانَتْ تُؤْذِي النَّاس» . رَوَاهُ مُسلم

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے ایک آدمی کو ، ایک درخت کی وجہ سے ، جنت میں ادھر ادھر پھرتے دیکھا کہ اس نے راہ گزر سے اسے کاٹ دیا تھا جو کہ لوگوں کے لیے تکلیف کا باعث تھا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَنْتَفِعْ بِهِ قَالَ: «اعْزِلِ الْأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَسَنَذْكُرُ حَدِيث عدي ابْن حَاتِمٍ: «اتَّقُوا النَّارَ» فِي بَابِ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے نبی ! مجھے کوئی نفع مند چیز بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمانوں کی گزر گاہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے ۔‘‘ عنقریب ہم عدی بن حاتم سے مروی حدیث :’’ دوزخ سے بچاؤ اختیار کرو ۔‘‘ کو ان شاء اللہ تعالیٰ باب علامات نبوۃ میں ذکر کریں گے ۔ رواہ مسلم ۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ جِئْتُ فَلَمَّا تَبَيَّنْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ. فَكَانَ أَوَّلُ مَا قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصِلُوا الْأَرْحَامَ وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلام» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه والدارمي

عبداللہ بن سلام ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے تو میں بھی (آپ کی زیارت کے لیے) آیا ، جب میں نے غور کے ساتھ آپ کا چہرہ مبارک دیکھا تو میں نے پہچان لیا کہ آپ کا چہرہ کسی جھوٹے شخص کا چہرہ نہیں ، آپ ﷺ نے سب سے پہلے فرمایا :’’ لوگو ! اسلام عام کرو ، کھانا کھلاؤ ، صلہ رحمی کرو اور رات کے وقت ، جبکہ لوگ سو رہے ہوں ، نماز پڑھو ، (اس طرح) تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔