سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ چار کلمے ، سبحان اللہ ، الحمدللہ ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر ، بہترین کلام ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ اور ایک دوسری روایت میں :’’ اللہ کو چار کلمے انتہائی پسند ہیں ، سبحان اللہ ، الحمدللہ ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر ، ان میں سے جسے بھی پہلے پڑھو وہ تمہارے لئے مضر نہیں ۔‘‘
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سُبْحَانَ اللہِ ، وَالْحَمْدُلِلہِ ، وَلَا اِلَٰہ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ ، پڑھ لینا مجھے پوری کائنات (کے مل جانے) سے زیادہ پسند ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص دن میں سو مرتبہ ((سُبْحَان اللہِ وَبِحَمْدِہِ)) پڑھتا ہے تو اس کے گناہ ، خواہ سمندر کی جھاگ جتنے ہوں ، معاف کر دیے جاتے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۴۰۵) و مسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص صبح و شام سو مرتبہ ((سُبْحَان اللہِ وَبِحَمْدِہِ)) پڑھتا ہے تو قیامت کے دن اس سے کوئی شخص بہتر نہیں ہو گا بجز اس کے جس نے اس جتنا یا اس سے زیادہ مرتبہ پڑھا ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (لم اجدہ) و مسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ دو کلمے : ((سُبْحَان اللہِ وَبِحَمْدِہِ سُبْحَان اللہِ الْعَظِیْمِ)) زبان پر ہلکے ، میزان میں بھاری اور رحمن کو محبوب ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۶۸۲) و مسلم
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم میں سے کوئی روزانہ ہزار نیکی کمانے سے عاجز ہے ؟‘‘ تو آپ کی مجلس میں شریک کسی نے عرض کیا ، ہم میں سے کوئی ہزار نیکی کیسے کما سکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سو مرتبہ ((سُبْحَانَ اللہِ)) کہنے سے اس کے لئے ہزار نیکی لکھی جاتی ہے یا اس کے ہزار گناہ مٹا دیے جاتے ہیں ۔‘‘ مسلم ۔ اور انہی کی کتاب میں موسیٰ الجہنی کی تمام روایات میں ((اَوْیُحَطُّ)) ’’ یا مٹا دیے جاتے ہیں ‘‘ کے الفاظ ہیں ، ابوبکر برقانی نے فرمایا : اور اس حدیث کو شعبہ ، ابوعوانہ اور یحیی بن سعید قطان نے موسیٰ سے روایت کیا تو انہوں نے ((وْیُحَطُّ)) کے الفاظ روایت کیے ہیں یعنی الف کے بغیر ’’ اور مٹا دیے جاتے ہیں ۔‘‘ کتاب الحمیدی میں بھی اسی طرح ہے ۔ رواہ مسلم ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا ، کون سا کلام افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو اللہ نے اپنے فرشتوں کے لئے منتخب کیا ((سُبْحَان اللہِ وَبِحَمْدِہِ)) ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
جویریہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نماز فجر پڑھنے کے لئے صبح کے وقت ان کے پاس سے تشریف لے گئے جبکہ وہ اپنی جائے نماز پر تھیں ، پھر آپ چاشت کے وقت ان کے پاس تشریف لائے تو وہ وہیں بیٹھی ہوئیں تھیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ آپ اسی حالت میں رہیں جس پر میں نے آپ کو چھوڑا تھا ؟ انہوں نے عرض کیا ، جی ہاں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے آپ کے (پاس سے جانے کے) بعد تین کلمے چار مرتبہ پڑھے ہیں ، اگر ان کا ، آپ کے دن بھر کے کہے ہوئے کلمات کے ساتھ وزن کیا جائے تو وہ ان پر بھاری ہوں گے : ((سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ عَدَدَ خَلْقِہِ وَرِضَا نَفْسِہِ ، وَزِنَۃَ عَرْشِہِ ، وَمِدَادَ کَلِمَاتِہِ)) پاک ہے اللہ اپنی حمد کے ساتھ اپنی مخلوق کی تعداد ، اپنے نفس کی رضا ، اپنے عرش کے وزن اور اپنے کلمات کی روشنائی کے برابر ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص دن میں سو مرتبہ یہ دعا پڑھتا ہے :’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لئے بادشاہت ہے ، اسی کے لئے ہر قسم کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔‘‘ تو اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملتا ہے ، اس کے لئے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔ اس کے سو گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ، وہ پورا دن شام ہونے تک شیطان سے محفوظ رہے گا اور اس سے بہتر کوئی شخص نہیں آئے گا مگر وہ جس نے اس سے زیادہ مرتبہ پڑھا ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۴۰۳) و مسلم
ابوموسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے کہ لوگ بلند آواز سے اللہ اکبر پڑھنے لگے ، جس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگو ! اپنے آپ پر آسانی کرو ، کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے بلکہ تم تو سننے دیکھنے والی ذات کو پکار رہے ہو اور وہ تمہارے ساتھ ہے ، اور جس ذات کو تم پکارتے ہو وہ تو تمہاری سواری کی گردن سے بھی تمہارے زیادہ قریب ہے ۔‘‘ ابوموسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں آپ کے پیچھے اپنے دل میں ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ )) پڑھ رہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عبداللہ بن قیس ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانے کے متعلق بتاؤں ؟‘‘ میں نےعرض کیا ، کیوں نہیں ، اللہ کے رسول ! ضرور بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ )) ’’ گناہ سے بچنا اورنیکی کرنا محض اللہ کی توفیق سے ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۳۸۴) و مسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص ((سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہِ)) پڑھتا ہے تو اس کے لئے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جاتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۴۶۴) ۔
زبیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر صبح ایک اعلان کرنے والا (فرشتہ) اعلان کرتا ہے : منزہ و مقدس بادشاہ کی تسبیح بیان کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۵۶۹) ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سب سے افضل ذکر ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) اور افضل دعا ((اَلْحَمْدُلِلہِ)) ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۳۸۳) و ابن ماجہ (۳۸۰۰) و صححہ ابن حبان (۳۲۶ ، الاحسان : ۸۴۳) و الحاکم (۱ / ۴۹۸) ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ الحمد (اللہ کی تعریف کرنا) شکر کی چوٹی ہے ، جو بندہ اللہ کی حمد بیان نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۴۳۹۵) المصنف عبدالرزاق (۱۹۵۷۴) ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ روز قیامت سب سے پہلے ان لوگوں کو جنت کی طرف بلایا جائے گا جو خوشحالی اور تنگ حالی میں اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں ۔‘‘ امام بیہقی نے دونوں روایتیں شعب الایمان میں بیان کی ہیں ۔ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۴۳۷۳ ، ۴۴۸۳ ، ۴۴۸۴) و البغوی فی شرح السنہ (۵/ ۵۰ ح ۱۲۷۰) و الحاکم (۱ / ۵۰۲ ح ۱۸۵۱) ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ موسی ؑ نے عرض کیا ، پروردگار ! مجھے کوئی چیز سکھا دے جس کے ساتھ میں تیرا ذکر کیا کروں یا میں اس کے ساتھ تجھ سے دعا کیا کروں ۔ فرمایا : موسیٰ ! ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) پڑھا کرو ، انہوں نے عرض کیا : پروردگار ! تیرے سارے بندے اسے پڑھتے ہیں ، میں تو ایسی چیز چاہتا ہوں جو میرے ساتھ خاص ہو ۔ فرمایا : موسیٰ ! اگر ساتوں آسمان اور میرے سوا جہان میں بسنے والے اور ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) ان پر بھاری ہو گا ۔‘‘ حسن ، رواہ فی شرح السنہ (۵ / ۵۴ ، ۵۵ ح ۱۲۷۳) و ابن حبان (۲۳۲۴) و الحاکم (۱ / ۵۲۸ ، ۱۳۶۲) ۔
ابوسعید ؓ اور ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَ اللہُ اَکْبَرُ)) کہتا ہے تو اس کا رب اس کی تصدیق فرماتا ہے ، اور فرماتا ہے : میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں سب سے بڑا ہوں ۔ اور جب (بندہ) کہتا ہے : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ تو اللہ فرماتا ہے : میرے اکیلے کے سوا کوئی معبود نہیں ، میرا کوئی شریک نہیں ، اور جب وہ کہتا ہے : اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لئے ہر قسم کی حمد و تعریف ہے ، تو اللہ فرماتا ہے : میرے سوا کوئی معبود نہیں ، بادشاہت اور حمد میرے ہی لئے ہے اور جب وہ کہتا ہے : اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض اللہ کی توفیق سے ہے ، تو اللہ فرماتا ہے : میرے سوا کوئی معبود نہیں ، گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض میری ہی توفیق سے ہے ۔‘‘ آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے :’’ جو شخص اپنی بیماری میں یہ کلمات پڑھے اور پھر وہ فوت ہو جائے تو اسے آگ نہیں چھوئے گی ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۴۳۰) و ابن ماجہ (۲۷۹۴) و النسائی فی الکبری (۹۸۶) ۔
سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ ایک عورت کے پاس آئے ۔ اس کے سامنے کھجور کی گھٹلیاں یا کنکریاں پڑی ہوئی تھیں اور وہ ان پر تسبیح پڑھ رہی تھی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لئے اس سے آسان تر یا افضل ہے ؟ ((وَ سُبْحَانَ اللہِ عَدَدَ مَا خَلَقَ ........ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ مِثْلَ ذَلِکَ)) اللہ کے لئے تسبیح ہے ان چیزوں کی گنتی کے برابر جو اس نے آسمان میں تخلیق فرمائیں ، اللہ کے لئے تسبیح ہے ان چیزوں کی گنتی کے برابر جو اس نے زمین میں پیدا فرمائیں ، اس کے لئے تسبیح ہے ان چیزوں کی گنتی کے برابر جو ان کے درمیان ہیں ، اور اللہ کے لئے تسبیح ہے ان چیزوں کی گنتی کے برابر جو وہ پیدا کرنے والا ہے ، اور اللہ کے لئے بڑائی ہے اسی مثل ، اللہ کے لئے حمد ہے اسی مثل ، ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ )) اسی مثل اور ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ )) اسی مثل ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۵۶۸) و ابوداؤد (۱۵۰۰) ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتےہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص صبح و شام سو سو مرتبہ سبحان اللہ کہتا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے سو حج کیا ہو ، جو شخص سو مرتبہ صبح اور سو مرتبہ شام الحمدللہ کہتا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اللہ کی راہ میں سو گھوڑے فراہم کیے ہوں ، جو شخص صبح و شام سو سو مرتبہ ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) پڑھتا ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اسماعیل ؑ کی اولاد سے سو غلام آزاد کیے ہوں اور جو شخص صبح و شام سو سو مرتبہ ((اَللہُ اَکْبَرُ)) کہتا ہے تو روز قیامت اس سے بڑھ کر کوئی افضل عمل لے کر حاضر نہیں ہو گا مگر وہ شخص جس نے اس کے مثل یا اس سے زیادہ (یہ وظیفہ) کیا ہو گا ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۴۷۱) ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سبحان اللہ کہنا نصف میزان ہے جبکہ الحمدللہ کہنا اس کو بھر دیتا ہے ، اور ((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ)) کسی حجاب یا رکاوٹ کے بغیر اللہ تک پہنچ جاتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے کہا : یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند قوی نہیں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۵۱۸ ، ۳۵۱۹)