ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم ! میں دن میں ستر بار سے زیادہ اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ رواہ البخاری (۶۳۰۷) ۔
اغرّ المزنی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’میرے دل پر پردہ سا آ جاتا ہے اور میں دن میں سو مرتبہ اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
اغرّ المزنی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگو ! اللہ کے حضور توبہ کرو ، کیونکہ میں دن میں سو مرتبہ اللہ کے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں ، جو وہ اللہ تبارک و تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں ، فرمایا کہ اس (اللہ تعالیٰ) نے فرمایا :’’ میرے بندو ! میں نے ظلم کرنا اپنے اوپر حرام قرار دیا ہے ، اور اسے تمہارے مابین بھی حرام کیا ہے ، تم باہم ظلم نہ کرو ، میرے بندو ! تم سب گمراہ تھے بجز اس کے جسے میں ہدایت عطا کروں ، تم مجھ سے ہدایت طلب کرو میں تمہیں ہدایت عطا کروں گا ، میرے بندو ! تم سب بھوکے تھے بجز اس کے جسے میں کھلاؤں ، تم مجھ سے کھانا طلب کرو ، میں تمہیں کھلاؤں گا ، میرے بندو ! تم سب لباس کے بغیر تھے بجز اس کے جسے میں لباس عطا کروں ، تم مجھ سے لباس طلب کرو میں تمہیں لباس عطا کروں گا ، میرے بندو ! تم دن رات خطائیں کرتے ہو ، اور سارے گناہ میں معاف کرتا ہوں ، تم مجھ سے مغفرت طلب کرو ، میں تمہیں بخش دوں گا ، میرے بندو ! اگر تم مجھے نقصان پہنچانا چاہو تو تم مجھے نقصان نہیں پہنچا سکتے ، اور اگر تم مجھے فائدہ پہنچانا چاہو تو تم مجھے فائدہ نہیں پہنچا سکتے ۔ میرے بندو ! اگر تم سب جن و اِنس اس شخص کی طرح ہو جاؤ جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے تو اس سے میری بادشاہت میں کچھ اضافہ نہیں ہو گا ، میرے بندو ! اگر تم سب جن و اِنس اس شخص کی طرح ہو جاؤ جو تم میں سب سے زیادہ فاجر و گناہگار ہے تو اس سے میری بادشاہت میں ذرا کمی نہیں ہو گی ، میرے بندو ! اگر تم سب جن و اِنس ایک میدان میں کھڑے ہو کر مجھ سے سوال کرو اور میں ہر انسان کی مراد پوری کر دوں تو اس سے میرے خزانوں میں صرف اتنی سی کمی آئے گی جیسے سمندر میں سوئی ڈال کر نکال لینے سے سمندر میں کمی آتی ہے ، میرے بندو ! یہ تمہارے اعمال ہی ہیں جنہیں میں نے محفوظ و شمار کر رکھا ہے ، پھر میں (روز قیامت) انہی کے مطابق پورا پورا بدلہ دوں گا ، جو شخص خیرو بھلائی پائے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جو شخص اس کے علاوہ کوئی اور چیز پائے تو پھر وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جو ننانوے انسان قتل کر چکا تھا پھر وہ مسئلہ دریافت کرنے کے لئے نکلا تو وہ کسی راہب کے پاس آیا اور اس سے مسئلہ دریافت کیا تو اسے کہا : کیا اس کے لئے توبہ کی کوئی گنجائش ہے ؟ اس نے کہا : نہیں ، اس نے اس کو بھی قتل کر ڈالا ، اور پھر مسئلہ پوچھنے لگا تو کسی آدمی نے اسے بتایا کے فلاں فلاں بستی چلے جاؤ ، (وہ اس طرف چل دیا) لیکن اسے راستے ہی میں موت آ گئی تو اس نے اس وقت اپنا سینہ آگے (بستی) کی طرف بڑھایا ، رحمت اور عذاب کے فرشتے اس کے متعلق جھگڑنے لگے تو اللہ نے اس (بستی) کو حکم دیا کہ اس کے قریب ہو جا ، اور اس (بستی کو جدھر سے آ رہا تھا) کو حکم دیا کہ دور ہو جا ، پھر فرمایا : ان دونوں کا درمیانی فاصلہ ناپو ، پس (پیمائش کرنے پر) وہ ایک بالشت برابر اس (بستی) کے قریب پایا گیا (جہاں جا رہا تھا) تو اسے بخش دیا گیا ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۴۷۰) و مسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں (اس دنیا سے) لے جائے اور ایک دوسری قوم لے آئے جو گناہ کریں ، پھر اللہ سے مغفرت طلب کریں تو وہ انہیں معاف کر دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوموسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ رات کے وقت اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کے وقت گناہ کرنے والا توبہ کر لے ، اور وہ دن کے وقت اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات کے وقت گناہ کرنے والا توبہ کر لے (اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) حتیٰ کہ سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہو جائے (یعنی قیامت تک) ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب بندہ اعتراف کر لیتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ بھی (رحمت کے ساتھ) اس پر رجوع فرماتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۱۴۱) و مسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے سورج کے مغرب کی طرف طلوع ہونے (یعنی قیامت قائم ہونے) سے پہلے پہلے توبہ کر لی تو اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ اپنے بندے کی توبہ سے ، جب وہ اس کے حضور توبہ کرتا ہے ، اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے ، جس کی سواری کسی جنگل بیاباں میں اس سے دور بھاگ گئی ہو ، جب کہ اس کے کھانے پینے کا سامان بھی اس پر تھا ، وہ سواری سے مایوس ہو کر ایک درخت کے سائے تلے لیٹ گیا کیونکہ وہ اپنی سواری سے تو مایوس ہو چکا تھا ، وہ اسی کرب میں تھا کہ اچانک دیکھتا ہے کہ سواری اس کے پاس کھڑی ہے ، اس نے اس کی مہار تھامی ، پھر شدت فرحت سے کہا : اے اللہ ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں ، اور شدت فرحت کی وجہ سے وہ غلط کہہ بیٹھا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بندہ گناہ کرتا ہے تو کہتا ہے : رب جی ! میں گناہ کر بیٹھا ہوں تو اسے بخش دے ، تو اس کا رب فرماتا ہے : کیا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور اسکی وجہ سے مؤاخذہ بھی کر سکتا ہے ؟ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا ، پھر جس قدر اللہ چاہتا ہے وہ شخص گناہ سے باز رہتا ہے ، لیکن پھر گناہ کر لیتا ہے اور کہتا ہے ، رب جی ! میں گناہ کر بیٹھا ہوں اسے معاف فرما دے ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : کیا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخش سکتا ہے اور اس پر مؤاخذہ بھی کر سکتا ہے ؟ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا ، پھر جس قدر اللہ چاہتا ہے وہ باز رہتا ہے ، لیکن پھر گناہ کر بیٹھتا ہے تو کہتا ہے ، رب جی ! میں ایک اور گناہ کر بیٹھا ہوں ، مجھے معاف فرما دے ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، کیا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ معاف کر سکتا ہے اور اس پر مؤاخذہ بھی کر سکتا ہے ؟ میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا ، وہ جو چاہے سو کرے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۷۵۰۷) و مسلم
جندب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیث بیان کی کہ کسی آدمی نے کہا : اللہ کی قسم ! اللہ فلاں شخص کو معاف نہیں کرے گا ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ کون ہے جو مجھ پر قسم اٹھاتا ہے کہ میں فلاں شخص کو معاف نہیں کروں گا ، میں نے اسے تو معاف کر دیا اور تیرے اعمال ضائع کر دیے ۔‘‘ یا جیسے آپ ﷺ نے فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔
شداد بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سیدالاستغفار یوں ہے کہ تم کہو : اے اللہ ! تو میرا رب ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، تو نے مجھے پیدا فرمایا ، میں تیرا بندہ ہوں ، میں اپنی استطاعت کے مطابق تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں ، میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، آپ کے جو انعامات مجھ پر ہیں میں ان کا اقرار کرتا ہوں ، اور اپنے گناہوں کا بھی اقرار کرتا ہوں ، مجھے بخش دے ، کیونکہ صرف تو ہی گناہ معاف کر سکتا ہے ۔‘‘ اور آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص ان کلمات پر یقین رکھتے ہوئے دن کے وقت انہیں پڑھے اور وہ اسی روز شام ہونے سے پہلے فوت ہو جائے تو وہ شخص جنتی ہے ، اور جو شخص ان کلمات پر یقین رکھتے ہوئے شام کے وقت انہیں پڑھے اور وہ صبح ہونے سے پہلے فوت ہو جائے تو وہ جنتی ہے ۔‘‘ رواہ البخاری (۲۳۰۶) ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ابن آدم ! جب تک تو مجھ سے دعا کرتا رہے گا اور مجھ سے (بخشش کی) امید رکھے گا تو میں تمہیں معاف کرتا رہوں گا خواہ تمہارے گناہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں اس کی مجھے کوئی پرواہ نہیں ، ابن آدم ! اگر تیرے گناہ آسمان کے ابر (کناروں) تک پہنچ جائیں ، پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں تمہیں معاف کر دوں گا اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ، ابن آدم ! اگر تو زمین کے بھرنے کے برابر گناہ کر کے میرے پاس آئے لیکن تو نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو ، تو میں اتنی ہی مقدار میں مغفرت لے کر تمہارے پاس آؤں گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۵۴۰) ۔
وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَقَالَ التِّرْمِذِيّ: هَذَا حَدِيث حسن غَرِيب
امام احمد اور امام دارمی نے اسے ابوذر ؓ سے روایت کیا ہے ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ حسن ، رواہ احمد (۵ / ۱۶۷ ح ۲۱۸۰۴ ، ۵ / ۱۷۲ ح ۲۱۵۰۵) و الدارمی (۲ / ۳۲۲ ح ۲۷۹۱) ۔
ابن عباس ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جو شخص یہ جانتا ہے کہ میں گناہ معاف کرنے پر قادر ہوں تو میں اسے معاف کر دیتا ہوں ، اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ، بشرطیکہ اس نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ (۱۴ / ۳۸۸ ح ۴۱۹۱) و الحاکم (۴ / ۲۶۲) ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص استغفار پر دوام اختیار کر لیتا ہے تو اللہ اس کی ہر تنگی دور فرما دیتا ہے ، ہر غم سے خلاصی دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد(۱ / ۲۴۸ ح ۲۲۴۳) و ابوداؤد (۱۵۱۸) و ابن ماجہ (۳۸۱۹) ۔
ابوبکر صدیق ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص مغفرت طلب کرتا ہے وہ مصر (گناہ پر دوام اختیار کرنے والوں میں سے) نہیں خواہ وہ دن میں ستر مرتبہ وہی گناہ دہرائے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی (۳۵۵۹) و ابوداؤد (۱۵۱۴) ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آدم ؑ کی ساری اولاد خطاکار ہے ، اور بہتر خطاکار وہ ہیں جو توبہ کرنے والے ہیں ۔‘‘ اسناد ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۴۹۹) و ابن ماجہ (۲۴۵۱) و الدارمی (۲ / ۳۰۳ ح ۲۷۳۰) و صححہ الحاکم (۴ / ۲۴۴) ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے ، اگر وہ توبہ کر لے اور مغفرت طلب کر لے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے ، اور اگر وہ گناہ میں بڑھتا چلا جائے تو وہ نکتے بھی بڑھتے چلے جاتے ہیں حتیٰ کہ وہ اس کے دل پر غالب آ جاتے ہیں ، یہی وہ زنگ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے :’’ ہرگز نہیں ، بلکہ ان کے اعمال کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ احمد (۲ / ۲۹۷ ح ۷۹۳۹) و الترمذی (۳۳۳۴) و ابن ماجہ (۴۲۴۴) و صححہ ابن حبان (۱۷۷۱ ، ۲۴۴۸) و الحاکم (۲ / ۵۱۷) ۔