ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنی اہلیہ سے زن و شو قائم کرنے سےپہلے یہ دعا پڑھ لے :’’ اللہ کے نام کے ساتھ ، اے اللہ ! ہمیں اور جو (اولاد) تو ہمیں عطا فرمائے اسے شیطان سے بچا ۔‘‘ تو اگر اس وقت ان کے لئے بچہ مقدر کر دیا گیا تو شیطان اسے کبھی نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کرب و تکلیف کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ اللہ عظیم و حلیم کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور عرش عظیم کے رب کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، آسمانوں کے ، زمین کے اور عرش کریم کے رب کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
سلیمان بن صرد ؓ بیان کرتے ہیں ، دو آدمی نبی ﷺ کی موجودگی میں گالی گلوچ کرنے لگے جبکہ ہم آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ اور ان میں سے ایک سخت غصے کی حالت میں دوسرے کو گالی دے رہا تھا اور اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں اگر وہ اس کلمہ کو پڑھ لے تو اس کا غصہ ختم ہو جائے گا ، وہ کلمہ یہ ہے : میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ صحابہ ؓ نے اس آدمی سے کہا : کیا تم نبی ﷺ کی بات نہیں سن رہے ؟ اس نے کہا : میں دیوانہ نہیں ہوں ! متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم مرغ کی آواز سنو تو اللہ سے اس کا فضل طلب کرو کیونکہ اس نے فرشتہ دیکھا ہے ، اور جب تم گدھے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کرو کیونکہ اس نے شیطان دیکھا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر پر روانہ ہونے کے لئے اپنے اونٹ پر سوار ہو جاتے تو آپ تین بار اللہ اکبر کہتے پھر یہ دعا پڑھتے :’’ پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لئے اسے مسخر کر دیا جبکہ ہم اس پر طاقت و قدرت نہیں رکھتے تھے ۔ اے اللہ ! ہم اس سفر میں تجھ سے نیکی و تقویٰ اور ایسے عمل کا سوال کرتے ہیں جسے تو پسند فرمائے ، اے اللہ ! یہ سفر ہم پر آسان کر دے اور اس کی دوری (لمبی مسافت کو ہمارے لئے) لپیٹ (کر قریب) دے ، اے اللہ ! اس سفر میں تو ہی ہمارا ساتھی ہے اور گھر میں نائب ہے ، اے اللہ ! میں سفر کی شدت و مشقت ، تکلیف دہ منظر اور اہل و مال میں بری واپسی سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ اور جب آپ ﷺ واپس آتے تو یہی دعا پڑھتے اور اس کے ساتھ یہ اضافہ فرماتے :’’ واپس لوٹنے والے ہیں ، توبہ کرنے والے ہیں ، عبادت کرنے والے ہیں ، اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن سرجس ؓ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ ﷺ سفر کرتے تو آپ سفر کی شدت و مشقت ، بری واپسی ، نفع کے بعد نقصان ، مظلوم کی بددعا اور اہل و مال میں برے منظر سے پناہ طلب کیا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
خولہ بنت حکیم ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص کسی جگہ پڑاؤ ڈالے اور یہ دعا پڑھے :’’ میں نے اللہ کے کامل کلمات کے ذریعے ، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ تو جب تک وہ اس جگہ قیام پذیر رہتا ہے کوئی چیز اسے نقصان نہیں پہنچاتی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! گزشتہ رات بچھو کے کاٹنے سے مجھے بہت تکلیف ہوئی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ سن لو ! اگر تم نے شام کے وقت یوں کہا ہوتا :’’ میں اللہ کے کامل کلمات کے ذریعے ، اس چیز کے شر سے ، جو اس نے پیدا فرمائی ، پناہ چاہتا ہوں تو وہ تمہیں نقصان نہ پہنچاتا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب سفر میں ہوتے اور سحری کا وقت ہوتا تو آپ ﷺ فرماتے :’’ سننے والے نے سن لیا کہ ہم نے اللہ کی حمد بیان کی ، اس کی نعمتیں ہم پر اچھی ہیں ، ہمارے رب ! ہماری اعانت فرما ، اور ہم پر مزید احسانات فرما ، ہم جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ کسی غزوہ یا حج یا عمرہ سے واپس تشریف لاتے تو آپ ہر بلند جگہ پر تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے ، پھر فرماتے : اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اسی کے لئے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ، واپس لوٹنے والے ، توبہ کرنے والے ، عبادت کرنے والے ، سجدہ کرنے والے ، اپنے رب کی حمد بیان کرنے والے ہیں ، اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا ۔ اپنے بندے کی نصرت فرمائی اور اس اکیلے نے لشکروں کو شکست دی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے غزوہ احزاب کے موقع پر مشرکین کے خلاف دعا کی تو عرض کیا :’’ اے اللہ ! کتاب اتارنے والے ، جلد حساب لینے والے ، اے اللہ ! لشکروں کو شکست دے ، اے اللہ ! انہیں خوب شکست دے اور انہیں ہلا کر رکھ دے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن بُسر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ میرے والد کے پاس تشریف لائے تو ہم نے کھانا اور کھجور ، گھی اور پنیر سے تیار کردہ حلوہ آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے اس سے تناول فرمایا ، پھر کھجوریں پیش کی گئیں تو آپ انہیں کھاتے اور گٹھلیاں اپنی دو انگلیوں کے درمیان پھینکتے جاتے ، آپ انگشت شہادت اور درمیانی انگلی اکٹھی کرتے تھے ، اور ایک دوسری روایت میں ہے ، آپ گٹھلیاں اپنی دونوں انگلیوں ، انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کی پشت پر پھینک رہے تھے ، پھر پانی پیش کیا گیا تو آپ نے اسے نوش فرمایا ، پھر میرے والد نے آپ کی سواری کی لگام پکڑتے ہوئے عرض کیا : ہمارے لئے اللہ سے دعا فرمائیں ، تو آپ ﷺ نے دعا فرمائی :’’ اے اللہ ! تو نے جو کچھ انہیں عطا کیا ہے اس میں برکت فرما ، ان کی مغفرت فرما اور ان پر رحم فرما ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
طلحہ بن عبیداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب چاند دیکھتے تو آپ یہ دعا پڑھتے تھے :’’ اے اللہ ! تو اسے امن و ایمان اور سلامتی و اسلام کے ساتھ ہم پر طلوع فرما ، (اے چاند !) میرا اور تیرا رب اللہ ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
عمر بن خطاب ؓ اور ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص کسی مصیبت زدہ شخص کو دیکھ کر یہ دعا پڑھتا ہے :’’ ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے مجھے اس چیز سے عافیت دی جس میں تجھے مبتلا کیا ہے ، اور اس نے مجھے اپنی بہت سی مخلوق پر بہت زیادہ فضیلت دی ۔‘‘ تو اسے وہ مصیبت و بیماری نہیں پہنچے گی خواہ وہ کوئی بھی ہو ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابن ماجہ نے عبداللہ بن عمر ؓ سے اسے روایت کیا ہے ، اور امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اور عمرو بن دینار راوی قوی نہیں ۔ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص بازار میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھتا ہے : اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لئے بادشاہت اور حمد ہے ، وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے ، وہ زندہ ہے کبھی مرے گا نہیں ، ہر قسم کی خیرو بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے ، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔‘‘ تو اللہ اس کے لئے دس لاکھ نیکیاں لکھ لیتا ہے ، اس کی دس لاکھ خطائیں معاف کر دیتا ہے ، اس کے دس لاکھ درجات بلند کر دیتا ہے اور اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنا دیتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اور شرح السنہ میں ’’ جو شخص بازار میں جائے ‘‘ کے الفاظ کے بجائے ’’ جس نے کسی بڑے تجارتی مرکز میں یہ دعا پڑھی ۔‘‘ کے الفاظ ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و شرح السنہ ۔
معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے ایک آدمی کو ان الفاظ کے ساتھ دعا کرتے ہوئے سنا :’’ اے اللہ ! میں تجھ سے اتمام نعمت کا سوال کرتا ہوں ۔‘‘ تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کون سی چیز اتمام نعمت ہے ؟‘‘ اس نے کہا : دعا جس کے ذریعے میں خیر (مال کثیر) کی امید کرتا ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اتمام نعمت تو جنت میں داخلہ اور جہنم سے خلاصی ہے ۔‘‘ اور آپ نے کسی دوسرے آدمی کو دعا کرتے ہوئے سنا :’’ اے جلال و اکرام والے !‘‘ تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہاری دعا قبول ہو گئی ، اب سوال کرو ۔‘‘ اسی طرح نبی ﷺ نے ایک آدمی کو دعا کرتے ہوئے سنا :’’ اے اللہ ! میں تجھ سے صبر کا سوال کرتا ہوں ۔‘‘ تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے اللہ سے مصیبت مانگی ہے ، اس سے عافیت کا سوال کرو ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اسکی بے مقصد اور بے ہودہ باتیں زیادہ ہو جائیں اور پھر وہ اٹھنے سے پہلے یہ دعا :’’ اے اللہ ! تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے ، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ پڑھتا ہے تو اس کی اس مجلس میں ہونے والی خطائیں معاف کر دی جاتی ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و البیھقی ۔
علی ؓ سے روایت ہے کہ ان کی سواری کے لئے ایک جانور لایا گیا ، جب انہوں نے رکاب میں پاؤں رکھا تو کہا :’’ بسم اللہ ۔‘‘ جب اس کی پشت پر براجمان ہو گئے تو کہا :’’ الحمدللہ ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے تابع کر دیا جبکہ ہم تو اس کی قدرت نہیں رکھتے تھے ، اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں ۔‘‘ پھر انہوں نے تین مرتبہ ’’ الحمدللہ ‘‘ تین مرتبہ ’’ اللہ اکبر ‘‘ کہا ، پھر کہا :’’ پاک ہے تو ، میں نے ہی اپنی جان پر ظلم کیا ، پس مجھے بخش دے ، کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخشتا ۔‘‘ پھر وہ مسکرائے ، ان سے پوچھا گیا ، امیرالمومنین ! آپ کس چیز سے مسکرائے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا جس طرح میں نے کیا ، پھر آپ مسکرائے تو میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ کس چیز سے مسکرائے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تیرا رب اپنے اس بندے سے بہت خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے :’’ میرے رب ! میرے گناہ معاف کر دے ۔‘‘ رب تعالیٰ فرماتا ہے :’’ وہ جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی اور گناہ معاف نہیں کرتا ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ کسی شخص کو الوداع کرتے تو آپ اس کا ہاتھ تھامے رکھتے حتیٰ کہ وہ آدمی خود نبی ﷺ کا ہاتھ چھوڑ دیتا ، اور آپ ﷺ یہ دعا پڑھتے :’’ میں تمہارے دین ، تمہاری امانت اور تمہارے آخری عمل کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ تیرے عملوں کے خاتمے کو ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ، اور ان دونوں (ابوداؤد ، ابن ماجہ) کی روایت میں ((وَآخِرَ عَمَلِکَ)) کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔