صحیح مسلم

Sahih Muslim

کتاب: رضاعت کے احکام ومسائل

The book of suckling

استبرائے رحم کے بعد جنگ میں قید ہونے والی لونڈی کے ساتھ مجامعت کرنا جائز ہے اور اگر اس کا شوہر تھا تز غلامی کی وجہ سے اس کا نکاح فسخ ہو گیا

Chapter: It is permissible to have intercourse with a female captive after it is established that she is not pregnant, and if she has a husband, then her marriage is annulled when she is captured

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ بَعَثَ جَيْشًا إِلَى أَوْطَاسَ، فَلَقُوا عَدُوًّا، فَقَاتَلُوهُمْ فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ، وَأَصَابُوا لَهُمْ سَبَايَا، فَكَأَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِهِنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: 24]، أَيْ: فَهُنَّ لَكُمْ حَلَالٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ

Abu Sa'id al-Khudri (Allah her pleased with him) reported that at the Battle of Hanain Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent an army to Autas and encountered the enemy and fought with them. Having overcome them and taken them captives, the Companions of Allah's Messenger (may peace te upon him) seemed to refrain from having intercourse with captive women because of their husbands being polytheists. Then Allah, Most High, sent down regarding that: And women already married, except those whom your right hands possess (iv. 24) (i. e. they were lawful for them when their 'Idda period came to an end).

یزید بن زُرَیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سعید بن ابوعروبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوخلیل صالح سے ، انہوں نے ابوعلقمہ ہاشمی سے اور انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حنین کے دن ( جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوطاس کی جانب ایک لشکر بھیجا ، ان کا دشمن سے سامنا ہوا ، انہوں نے ان ( دشمنوں ) سے لڑائی کی ، پھر ان پر غالب آ گئے اور ان میں سے کنیزیں حاصل کر لیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بعض لوگوں نے ان کے مشرک خاوندوں ( کی موجودگی ) کی بنا پر ان سے مجامعت کرنے میں حرج محسوس کیا ، اس پر اللہ عزوجل نے اس کے بارے میں ( یہ آیت ) نازل فرمائی : " اور شادی شدہ عورتیں ( بھی حرام ہیں ) سوائے ان ( لونڈیوں ) کے جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہوں ۔ " یعنی جب ان کی عدت پوری ہو جائے تو ( تمہاری لونڈیاں بن جانے کی بنا پر ) وہ تمہارے لیے حلال ہیں

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، أَنَّ أَبَا عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيَّ، حَدَّثَ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، حَدَّثَهُمْ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ يَوْمَ حُنَيْنٍ سَرِيَّةً، بِمَعْنَى حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْهُنَّ فَحَلَالٌ لَكُمْ، وَلَمْ يَذْكُرْ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ،

Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent a small army. The rest of the hadith is the same except this that he said: Except what your right hands possess out of them are lawful for you; and he did not mention when their 'idda period comes to an end .

عبدالاعلی نے ہمیں سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے قتادہ سے ، انہوں نے ابوخلیل سے روایت کی کہ ابوعلقمہ ہاشمی نے حدیث بیان کی ، انہیں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن ایک سریہ بھیجا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) یزید بن زریع کی حدیث کے ہم معنی ہے لیکن انہوں نے کہا : سوائے ان ( لونڈیوں ) کے جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہوں ، وہ تمہارے لیے حلال ہیں ۔ اور انہوں نے " جب ان کی عدت پوری ہو جائے " کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔ ( اس سریہ میں جو کنیزیں ہاتھ آئیں یہ واقعہ ان کے بارے میں ہے

وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

This hadith has been reported on the authority of AbuSa'id (al-Khudri) (Allah be pleased with him) through another chain of transmitters and the words are: They took captives (women) on the day of Autas who had their husbands. They were afraid (to have sexual intercourse with them) when this verse was revealed: And women already married except those whom you right hands posses (iv. 24)

شعبہ نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی

) وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: أَصَابُوا سَبْيًا يَوْمَ أَوْطَاسَ لَهُنَّ أَزْوَاجٌ، فَتَخَوَّفُوا، فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: 24

Likewise, the above hadith has been narrated through another chain.

شعبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوخلیل سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : اوطاس کے دن صحابہ کو لونڈیاں ملیں جن کے خاوند بھی تھے ، اس پر وہ ( ان سے تعلقات ، قائم کرتے ہوئے ) ڈرے ( کہ یہ گناہ نہ ہو ) اس پر یہ آیت نازل کی گئی : " اور شادی شدہ عورتیں ( بھی حرام ہیں ) سوائے ان ( لونڈیوں ) کے جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہو جائیں