صحیح مسلم

Sahih Muslim

کتاب: ایمان کا بیان

The book of faith

اپنے باپ سے دانستہ نسبت توڑنے والے کے ایمان کی حالت

Chapter: Clarifying the condition of the fath of one who knowingly denies his father

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، أنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ أَبِيهِ فَهُوَ كُفْرٌ»

It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) observed: Do not detest your fathers; he who detested his father committed infidelity.

حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اپنے آباء سے بے رغبتی نہ کرو ، چنانچہ جس شخص نے اپنے والد سے انحراف کیا تویہ ( عمل ) کفر ہے ۔ ‘ ‘ <ہیڈنگ 2> </ہیڈنگ 2>

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: لَمَّا ادُّعِيَ زِيَادٌ لَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ؟ إِنِّي سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ: سَمِعَ أُذُنَايَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: «مَنِ ادَّعَى أَبًا فِي الْإِسْلَامِ غَيْرَ أَبِيهِ، يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ» فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ: أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

It is reported on the authority of Sa'd b. Abi Waqqas: Both of my ears heard the Messenger of Allah saying this: He who claimed the fatherhood of anyone else besides his real father knowingly (committed a great sin) ;Paradise is forbidden to him. Abu Bakra asserted that he too heard it from the Messenger of Allah (may peace be upon him ).

خالد نے ابو عثمان سےنقل کیا کہ جب زیاد کی نسبت ( ابوسفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی طرف ہونے ) کا دعویٰ کیا گیا تھا تو میں جناب ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےملا اور پوچھا : یہ تم لوگوں نے کیا کیا ؟ میں نے سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ میرے دونوں کانوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’ جس نے اسلام کی حالت میں اپنے حقیقی باپ کے سوا کسی اور کو باپ بنانے کادعویٰ کیا اور وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں تو اس پر جنت حرام ہے ۔ ‘ ‘ اس پر حضرت ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : خود میں نے بھی رسول اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےیہی سنا ہے ۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَعْدٍ، وَأَبِي بَكْرَةَ كِلَاهُمَا، يَقُولُ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ»

Sa'd and Abu Bakra each one of them said: My ears heard and my hearing preserved it that Muhammad (peace and blessings be upon him) observed: He who claimed for another one his fatherhood besides his own father knowingly that he was not his father-to him Paradise is forbidden.

عاصم نے ابو عثمان سے اور انہوں نے حضرت سعد اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ وہ دونوں کہتے تھے : یہ بات میرے دونوں کانوں نے محمدﷺ سے سنی ( اورمیرے دل نے یاد رکھی ) کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے : ’’جس نے اپنے والد کے سوا کسی اور کو والد بنانے کا دعویٰ کیا ، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا والد نہیں ہے ، تو اس پر جنت حرام ہے ۔ ‘ ‘