TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of faith - کتاب: ایمان کا بیان - Book 2 of Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Book 2 of Sahih Muslim, with 86 chapters and 441 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

441 Hadith · 86 Chapters
اسلام ، احسان کی وضاحت ، تقدیر الہٰی کے اثبات پر ایمان واجب ہے ، تقدیر پر ایمان نہ لانےوالے سے براءت کی دلیل اور اس کے بارے میں سخت موقف
حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ كَهْمَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ - وَهَذَا حَدِيثُهُ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، قَالَ: كَانَ أَوَّلَ مَنْ قَالَ فِي الْقَدَرِ بِالْبَصْرَةِ مَعْبَدٌ الْجُهَنِيُّ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ حَاجَّيْنِ - أَوْ مُعْتَمِرَيْنِ - فَقُلْنَا: لَوْ لَقِينَا أَحَدًا مَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْنَاهُ عَمَّا يَقُولُ هَؤُلَاءِ فِي الْقَدَرِ، فَوُفِّقَ لَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ دَاخِلًا الْمَسْجِدَ، فَاكْتَنَفْتُهُ أَنَا وَصَاحِبِي أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ، وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ، فَظَنَنْتُ أَنَّ صَاحِبِي سَيَكِلُ الْكَلَامَ إِلَيَّ، فَقُلْتُ [ص:37]: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّهُ قَدْ ظَهَرَ قِبَلَنَا نَاسٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، وَيَتَقَفَّرُونَ الْعِلْمَ، وَذَكَرَ مِنْ شَأْنِهِمْ، وَأَنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنْ لَا قَدَرَ، وَأَنَّ الْأَمْرَ أُنُفٌ، قَالَ: «فَإِذَا لَقِيتَ أُولَئِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّي بَرِيءٌ مِنْهُمْ، وَأَنَّهُمْ بُرَآءُ مِنِّي»، وَالَّذِي يَحْلِفُ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ «لَوْ أَنَّ لِأَحَدِهِمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، فَأَنْفَقَهُ مَا قَبِلَ اللهُ مِنْهُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ» ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ، شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعَرِ، لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ، وَلَا يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ، حَتَّى جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ، وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا»، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَعَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ، وَيُصَدِّقُهُ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيمَانِ، قَالَ: «أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ»، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ، قَالَ: «أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ»، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ، قَالَ: «مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ» قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَتِهَا، قَالَ: «أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ»، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِيًّا، ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا عُمَرُ أَتَدْرِي مَنِ السَّائِلُ؟» قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ»
It is narrated on the authority of Yahya b. Ya'mur that the first man who discussed qadr (Divine Decree) in Basra was Ma'bad al-Juhani. I along with Humaid b. 'Abdur-Rahman Himyari set out for pilgrimage or for 'Umrah and said: Should it so happen that we come into contact with one of the Companions of the Messenger of Allah (peace be upon him) we shall ask him about what is talked about taqdir (Divine Decree). Accidentally we came across Abdullah ibn Umar ibn al-Khattab, while he was entering the mosque. My companion and I surrounded him. One of us (stood) on his right and the other stood on his left. I expected that my companion would authorize me to speak. I therefore said: Abu Abdur Rahman! There have appeared some people in our land who recite the Qur'an and pursue knowledge. And then after talking about their affairs, added: They (such people) claim that there is no such thing as Divine Decree and events are not predestined. He (Abdullah ibn Umar) said: When you happen to meet such people tell them that I have nothing to do with them and they have nothing to do with me. And verily they are in no way responsible for my (belief). Abdullah ibn Umar swore by Him (the Lord) (and said): If any one of them (who does not believe in the Divine Decree) had with him gold equal to the bulk of (the mountain) Uhud and spent it (in the way of Allah), Allah would not accept it unless he affirmed his faith in Divine Decree. He further said: My father, Umar ibn al-Khattab, told me: One day we were sitting in the company of Allah's Apostle (peace be upon him) when there appeared before us a man dressed in pure white clothes, his hair extraordinarily black. There were no signs of travel on him. None amongst us recognized him. At last he sat with the Apostle (peace be upon him) He knelt before him placed his palms on his thighs and said: Muhammad, inform me about al-Islam. The Messenger of Allah (peace be upon him) said: Al-Islam implies that you testify that there is no god but Allah and that Muhammad is the messenger of Allah, and you establish prayer, pay Zakat, observe the fast of Ramadan, and perform pilgrimage to the (House) if you are solvent enough (to bear the expense of) the journey. He (the inquirer) said: You have told the truth. He (Umar ibn al-Khattab) said: It amazed us that he would put the question and then he would himself verify the truth. He (the inquirer) said: Inform me about Iman (faith). He (the Holy Prophet) replied: That you affirm your faith in Allah, in His angels, in His Books, in His Apostles, in the Day of Judgment, and you affirm your faith in the Divine Decree about good and evil. He (the inquirer) said: You have told the truth. He (the inquirer) again said: Inform me about al-Ihsan (performance of good deeds). He (the Holy Prophet) said: That you worship Allah as if you are seeing Him, for though you don't see Him, He, verily, sees you. He (the enquirer) again said: Inform me about the hour (of the Doom). He (the Holy Prophet) remarked: One who is asked knows no more than the one who is inquiring (about it). He (the inquirer) said: Tell me some of its indications. He (the Holy Prophet) said: That the slave-girl will give birth to her mistress and master, that you will find barefooted, destitute goat-herds vying with one another in the construction of magnificent buildings. He (the narrator, Umar ibn al-Khattab) said: Then he (the inquirer) went on his way but I stayed with him (the Holy Prophet) for a long while. He then, said to me: Umar, do you know who this inquirer was? I replied: Allah and His Apostle knows best. He (the Holy Prophet) remarked: He was Gabriel (the angel). He came to you in order to instruct you in matters of religion.
کہمس سے ا بن بریدہ سے ، انہوں نے یحیی بن یعمر سےروایت کی ، انہوں نے کہا کہ سب سے پہلا شخص جس نے بصرہ میں تقدیر ( سے انکار ) کی بات کی ، معبد جہنی تھا میں ( یحیی ) اور حمید بن عبد الرحمن خمیری حج یا عمرے کے ارادے سے نکلے ، ہم نے ( آپس میں ) کہا : کاش! رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے کسی کے ساتھ ہماری ملاقات ہو جائے تو ہم ان سے تقدیر کے بارے میں ان ( آج کل کے ) لوگوں کی کہی ہوئی باتوں کے متعلق دریافت کر لیں ۔ توفیق الہٰی سے ہمیں حضرت عبد اللہ بن عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ مسجد میں داخل ہوتے ہوئے مل گئے ۔ میں اور میرے ساتھ نے ان کے درمیان میں لے لیا ، ایک ان کی دائیں طرف تھا اور دوسرا ان کی بائیں طرف ۔ مجھے اندازہ تھا کہ میرا ساتھی گفتگو ( کامعاملہ ) میرے سپرد کرے گا ، چنانچہ میں نے عرض کی : اے ابو عبدالرحمن ! ( یہ عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی کنیت ہے ) واقعہ یہ ہے کہ ہماری طرف کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوئے جو قرآن مجید پڑھتے ہیں اور علم حاصل کرتے ہیں ( اور ان کے حالات بیان کیے ) ان لوگوں کا خیال ہے کہ تقدیر کچھ نہیں ، ( ہر ) کام نئے سرے سے ہو رہا ہے ( پہلے اس بارے میں نہ کچھ طے ہے ، نہ اللہ کا اس کاعلم ہے ۔ ) ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : جب تمہاری ان لوگوں سے ملاقات ہو تو انہیں بتا دینا کہ میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں ۔ اس ( ذات ) کی قسم جس ( کے نام ) کے ساتھ عبد اللہ بن عمر حلف اٹھاتا ہے ! اگر ان میں سے کسی کو پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور وہ اسے خرچ ( بھی ) کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے اس کوقبول نہیں فرمائے گا یہاں تک کہ وہ تقدیر پر ایمان لے آئے ، پھر کہا : مجھے میرے والد عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے بتایا : ایک دن ہم رسول ا للہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ اچانک ایک شخص ہمارے سامنے نمودار ہوا ۔ اس کے کپڑے انتہائی سفید اوربا ل انتہائی سیاہ تھے ۔ اس پر سفر کا کوئی اثر دکھائی دیتا تھا نہ ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا تھا حتیٰ کہ وہ آ کر نبی اکرمﷺ کے پاس بیٹھ گیا اور اپنے گھٹنے آپ کے گھٹنوں سے ملا دیے ، اور اپنے ہاتھ آپﷺ کی را نوں پر رکھ دیے ، اور کہا : اے محمد ( ﷺ ) ! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کےلائق نہیں اور محمدﷺ اس کے رسول ہیں ، نماز کا اہتمام کرو ، زکاۃ ادا کرو ، رمضان کے روزے رکھو اور اگر اللہ کے گھر تک راستہ ( طے کرنے ) کی استطاعت ہو تو اس کا حج کرو ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : آپ نے سچ فرمایا ۔ ( حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ آپ سے پوچھتا ہے اور ( خود ہی ) آپ کی تصدیق کرتا ہے ۔ اس نے کہا : مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے ۔ آپ نے فرمایا : ’’یہ کہ تم اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور آخری دن ( یوم قیامت ) پر ایمان رکھو اور اچھی اور بری تقدیر پر بھی ایمان لاؤ ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : آپ نے درست فرمایا ۔ ( پھر ) اس نے کہا : مجھے احسان کے بارے میں بتائیے ۔ آپ نے فرمایا : یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : تومجھے قیات کے بارے میں بتائیے ۔ آپ نے فرمایا : ’’جس سے اس ( قیامت ) کے بارے میں سوال کیا جا رہا ہے ، وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : تو مجھے اس کی علامات بتا دیجیے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ ( علامات یہ ہیں کہ ) لونڈی اپنی مالکہ کو جنم دے اور یہ کہ تم ننگے پاؤں ، ننگے بدن ، محتاج ، بکریاں چرانے والوں کو دیکھو کہ وہ اونچی سے اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں ۔ ‘ ‘ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےکہا : پھر وہ سائل چلا گیا ، میں کچھ دیر اسی عالم میں رہا ، پھر آپ ﷺ نے مجھ سے کہا : ’’اے عمر !تمہیں معلوم ہے کہ پوچھنے والا کون تھا؟ ‘ ‘ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ آگاہ ہیں ۔ آپﷺ نے فرمایا : ’’وہ جبرئیل تھے ، تمہارے پاس آئے تھے ، تمہیں تمہارا دین سکھا رہے تھے ۔ ‘ ‘
93
Sahih
اسلام ، احسان کی وضاحت ، تقدیر الہٰی کے اثبات پر ایمان واجب ہے ، تقدیر پر ایمان نہ لانےوالے سے براءت کی دلیل اور اس کے بارے میں سخت موقف
) حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، قَالَ: لَمَّا تَكَلَّمَ مَعْبَدٌ بِمَا تَكَلَّمَ بِهِ فِي شَأْنِ الْقَدَرِ أَنْكَرْنَا ذَلِكَ، قَالَ: فَحَجَجْتُ أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ حَجَّةً، وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ كَهْمَسٍ وَإِسْنَادِهِ، وَفِيهِ بَعْضُ زِيَادَةٍ وَنُقْصَانُ أَحْرُفٍ.
It is narrated on the authority of Yahya b. Ya'mur that when Ma'bad discussed the problem pertaining to Divine Decree, we refuted that. He (the narrator) said: I and Humaid b. Abdur-Rahman Himyari argued. And they carried on the conversation about the purport of the hadith related by Kahmas and its chain of transmission too, and there is some variation of words.
کہمس کے بجائے مطر وراق نےعبد اللہ بن بریدہ سے ، انہوں نے یحیی بن یعمر سے نقل کیا کہ جب معبد ( جہنی ) نے تقدیر کے بارے میں وہ ( سب ) کہا جو کہا ، تو ہم نے اسے سخت ناپسند کیا ( یحییٰ نے کہا ) میں اور حمید بن عبد الرحمٰن حمیری نے حج کیا .... اس کے بعد انہوں نے کہمس کے واسطے سے بیان کردہ حدیث کے مطابق حدیث بیان کی ، البتہ الفاظ میں کچھ کمی بیشی ہے
94
Sahih
اسلام ، احسان کی وضاحت ، تقدیر الہٰی کے اثبات پر ایمان واجب ہے ، تقدیر پر ایمان نہ لانےوالے سے براءت کی دلیل اور اس کے بارے میں سخت موقف
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَا: لَقِينَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، فَذَكَرْنَا الْقَدَرَ، وَمَا يَقُولُونَ فِيهِ، فَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ كَنَحْوِ حَدِيثِهِمْ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِيهِ شَيْءٌ مِنْ زِيَادَةٍ وَقَدْ نَقَصَ مِنْهُ شَيْئًا.
It is narrated on the authority of Yahya b. Ya'mur and Humaid b. 'Abdur-Rahman that they said: We met Abdullah b. 'Umar and we discussed about the Divine Decree, and what they talked about it and he narrated the hadith that has been transmitted by 'Umar (may Allah be pleased with him) from the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). There is a slight variation in that.
( عبد اللہ بن بریدہ کے ایک تیسرے شاگرد ) عثمان بن غیاث نے یحییٰ بن یعمر اور حمید بن عبد الرحمٰن دونوں سے روایت کی ، دونوں نےکہا : ہم عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ملے اور ہم سے تقدیر کی بات کی اور وہ لوگ ( منکرین تقدیر ) جو کچھ کہتے ہیں ، اس کا ذکر کیا ۔ اس کے بعد ( عثمان بن غیاث نے ) سابقہ راویوں کے مطابق حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے مرفوعاً روایت کی ۔ اس روایت میں کچھ الفاظ زیادہ ہیں اور کچھ انہوں نے کم کیے ہیں ۔
95
Sahih
اسلام ، احسان کی وضاحت ، تقدیر الہٰی کے اثبات پر ایمان واجب ہے ، تقدیر پر ایمان نہ لانےوالے سے براءت کی دلیل اور اس کے بارے میں سخت موقف
) وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ
The same hadith is mentioned through a different chain.
معتمر کے والد ( سلیمان بن طرخان ) نے یحییٰ بن یعمر سے ، انہوں نے عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ، انہوں نے حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کی جس طرح مذکورہ اساتذہ نے روایت کی ۔
96
Sahih
اسلام ، احسان کی وضاحت ، تقدیر الہٰی کے اثبات پر ایمان واجب ہے ، تقدیر پر ایمان نہ لانےوالے سے براءت کی دلیل اور اس کے بارے میں سخت موقف
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولُ اللهِ، مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: «أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكِتَابِهِ، وَلِقَائِهِ، وَرُسُلِهِ، وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الْآخِرِ»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: «الْإِسْلَامُ أَنْ تَعْبُدَ اللهَ، وَلَا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: «أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنَّكَ إِنْ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهَ، مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا: إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَةُ رَبَّهَا، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، وَإِذَا كَانَتِ الْعُرَاةُ الْحُفَاةُ رُءُوسَ النَّاسِ، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، وَإِذَا تَطَاوَلَ رِعَاءُ الْبَهْمِ فِي الْبُنْيَانِ، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللهُ، ثُمَّ تَلَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {إِنَّ اللهِ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} [لقمان: 34] قَالَ: ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُدُّوا عَلَيَّ الرَّجُلَ»، فَأَخَذُوا لِيَرُدُّوهُ، فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا جِبْرِيلُ جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ
Abu Huraira reported: One day the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) appeared before the public that a man came to him and said: Prophet of Allah, (tell me) what is Iman. Upon this he (the Holy Prophet) replied: That you affirm your faith in Allah, His angels, His Books, His meeting, His Messengers and that you affirm your faith in the Resurrection hereafter. He (again) said: Messenger of Allah, (tell me) what does al-Islam signify. He (the Holy Prophet) replied: Al-Islam signifies that you worship Allah and do not associate anything with Him and you establish obligatory prayer and you pay the obligatory poor-rate (Zakat) and you observe the fast of Ramadan. He (the inquirer) again said: Messenger of Allah, what does al-Ihsan imply? He (the Holy Prophet) replied: That you worship Allah as if you are seeing Him, and in case you fail to see Him, then observe prayer (with this idea in your mind) that (at least) He is seeing you. He (the inquirer ) again said: Messenger of Allah, when would there be the hour (of Doom)? He (the Holy Prophet) replied: The one who is asked about it is no better informed than the inquirer. I, however, narrate some of its signs (and these are): when the slave-girl will give birth to he master, when the naked, barefooted would become the chiefs of the people - these are some of the signs of (Doom). (Moreover) when the shepherds of the black (camels) would exult themselves in buildings, this is one of the signs of (Doom). (Doom) is one of the five (happenings wrapped in the unseen) which no one knows but Allah. Then he (the Messenger of Allah) recited (the verse): Verily Allah! with Him alone is the knowledge of the hour and He it is Who sends (down the rain) and knows that which is in the wombs and no person knows whatsoever he shall earn tomorrow, and a person knows not in whatsoever land he shall die. Verily Allah is Knowing, Aware. He (the narrator, Abu Huraira) said: Then the person turned back and went away. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Bring that man back to me. They (the Companions of the Prophet present there) went to bring him back, but they saw nothing there. Upon this the Messenger of Allah remarked: he was Gabriel, who came to teach the people their religion
اسماعیل بن ابراہیم ( ابن علیہ ) نے ابو حیان سے ، انہوں نے ابو زرعہ بن عمرو بن جریر سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ ایک دن لوگوں کے سامنے ( تشریف فرما ) تھے ، ایک آدمی آپﷺ کے پاس آیا اور پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’تم اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتاب ، ( قیامت کے روز ) اس سے ملاقات ( اس کے سامنے حاضری ) اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور آخری ( بار زندہ ہو کر ) اٹھنے پر ( بھی ) ایمان لے آؤ ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اسلام کیا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا : ’’اسلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ ، لکھی ( فرض کی ) گئی نمازوں کی ‎پابندی کرو ، فرض کی گئی زکاۃ ادا کرو ۔ اور رمضان کے روزے رکھو ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! احسان کیا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ یقیناً تمہیں دیکھ رہا ہے ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! قیامت کب ( قائم ) ہو گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’جس سے سوال کیا گیا ہے ، وہ ا س کے بارے میں پوچھنے والے سےزیادہ آگاہ نہیں ۔ لیکن میں تمہیں قیامت کی نشانیاں بتائے دیتا ہوں : جب لونڈی اپنا مالک جنے گی تو یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے ، اور جب ننگے بدن اور ننگے پاؤں والے لوگوں کے سردار بن جائیں گے تو یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے ، اور جب بھیڑ بکریاں چرانے والے ، اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے تو یہ اس کی علامات میں سے ہے ۔ ( قیامت کے وقت کا علم ) ان پانچ چیزوں میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے ‘ ‘ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے ، وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ارحام ( ماؤں کے پیٹوں ) میں کیا ہے ، کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا ، نہ کسی متنفس کویہ معلوم ہے کہ وہ زمین کے کس حصے میں فوت ہو گا ، بلاشبہ اللہ تعالیٰ علم والا خبردار ہے ۔ ‘ ‘ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : پھر وہ آدمی واپس چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اس آ دمی کو میرے پاس واپس لاؤ ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ اسے واپس لانے کے لیے بھاک دوڑ کرنےلگے تو انہیں کچھ نظر نہ آیا ، رسول اللہ نے فرمایا : ’’یہ جبریل ‌علیہ ‌السلام ‌ تھے جو لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے ۔ ‘ ‘
97
Sahih
اسلام ، احسان کی وضاحت ، تقدیر الہٰی کے اثبات پر ایمان واجب ہے ، تقدیر پر ایمان نہ لانےوالے سے براءت کی دلیل اور اس کے بارے میں سخت موقف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي رِوَايَتِهِ: «إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَةُ بَعْلَهَا» يَعْنِي السَّرَارِيَّ
This hadith is narrated to us on the authority of Muhammad b. 'Abdullah b. Numair, on the authority of Muhammad b. Bishr, on the authority of Abd Hayyan al-Taymi with the exception that in this narration (instead of the words (Iza Waladat al'amah rabbaha), the words are (Iza Waladat al'amah Ba'laha), i, e, when slave-girl gives birth to her master.
( ابن علیہ کے بجائے ) محمد بن بشر نےکہا : ہمیں ابو حیان نے سابقہ سند سے وہی حدیث بیان کی ، البتہ ان کی روایت میں : إذا ولدت الأمة بعلها ’’ جب لونڈی اپنا مالک جنے گی ‘ ‘ ( رب کی جگہ بعل ، یعنی مالک ) کے الفاظ ہیں ۔ ( أمة سے مملوکہ ) لونڈیاں مراد ہیں ۔
98
Sahih
اسلام ، احسان کی وضاحت ، تقدیر الہٰی کے اثبات پر ایمان واجب ہے ، تقدیر پر ایمان نہ لانےوالے سے براءت کی دلیل اور اس کے بارے میں سخت موقف
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَلُونِي»، فَهَابُوهُ أَنْ يَسْأَلُوهُ، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَجَلَسَ عِنْدَ رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: «لَا تُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ»، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: «أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكِتَابِهِ، وَلِقَائِهِ، وَرُسُلِهِ، وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ»، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: «أَنْ تَخْشَى اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنَّكَ إِنْ لَا تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ»، قَالَ: صَدَقْتَ. قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ؟ قَالَ: مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا: إِذَا رَأَيْتَ الْمَرْأَةَ تَلِدُ رَبَّهَا، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، وَإِذَا رَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الصُّمَّ الْبُكْمَ مُلُوكَ الْأَرْضِ، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، وَإِذَا رَأَيْتَ رِعَاءَ الْبَهْمِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ مِنَ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللهُ ، ثُمَّ قَرَأَ: {إِنَّ اللهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللهِ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} [لقمان: 34] قَالَ: ثُمَّ قَامَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُدُّوهُ عَلَيَّ»، فَالْتُمِسَ، فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا جِبْرِيلُ، أَرَادَ أَنْ تَعَلَّمُوا إِذْ لَمْ تَسْأَلُوا
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Ask me (about matters pertaining to religion), but they (the Companions of the Holy Prophet) were too much overawed out of profound respect for him to ask him (anything). In the meanwhile a man came there, and sat near his knees and said: Messenger of Allah, what al-lslam is? -to which he (the Holy Prophet) replied: You must not associate anything with Allah, and establish prayer, pay the poor-rate (Zakat) and observe (the fasts) of Ramadan. He said: You (have) told the truth. He (again) said: Messenger of Allah, what al-Iman (the faith) is? He (the Holy Prophet) said: That you affirm your faith in Allah, His angels, His Books, His meeting, His Apostles, and that you believe in Resurrection and that you believe in Qadr (Divine Decree) in all its entirety, He (the inquirer) said: You (have) told the truth. He (again) said: Messenger of Allah, what al-Ihsan is? Upon this he (the Holy Prophet) said: (Al-Ihsan implies) that you fear Allah as if you are seeing Him, and though you see Him not, verily He is seeing you. He (the inquirer) said: You (have) told the truth. He (the inquirer) said: When there would be the hour (of Doom)? (Upon this) he (the HolyProphet said: The one who is being asked about it is no better informed than the inquirer himself. I, however, narrate some of its signs (and these are): when you see a slave (woman) giving birth to her master - that is one of the signs of (Doom) ; when you see barefooted, naked, deaf and dumb (ignorant and foolish persons) as the rulers of the earth - that is one of the signs of the Doom. And when you see the shepherds of black camels exult in buildings - that is one of the signs of Doom. The (Doom) is one of the five things (wrapped) in the unseen. No one knows them except Allah. Then (the Holy Prophet) recited (the folowing verse): Verily Allah! with Him alone is the knowledge of the hour and He it is Who sends down the rain and knows that which is in the wombs and no person knows whatsoever he shall earn on morrow and a person knows not in whatsoever land he shall die. Verily Allah is Knowing, Aware. He (the narrator, Abu Huraira) said: Then the person stood up an (made his way). The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Bring him back to me. He was searched for, but they (the Companions of the Holy Prophet) could not find him. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) thereupon said: He was Gabriel and he wanted to teach you (things pertaining to religion) when you did not ask (them yourselves).
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’مجھ سے ( دین کے بارے میں ) پوچھ لو ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ آپ ﷺ سے اتنے مرعوب ہوئے کہ سوال نہ کر سکے ، تب ایک آدمی آیا اور آپ ﷺ کے دونوں گھٹنوں کے قریب بیٹھ گیا ، پھر کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! اسلام کیا ؟ آپ نے فرمایا : ’’ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ، نماز کا اہتمام کرو ، زکاۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : آپ نے سچ فرمایا ۔ ( پھر ) پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’یہ کہ تم اللہ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتاب ، ( قیات کے روز ) اس سے ملاقات اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ ، مرنے کے بعد اٹھنے پر ایمان لاؤ اور ہر ( امر کی ) تقدیر پر ایمان لاؤ ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : آپ نے درست فرمایا ۔ ( پھر ) کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! احسان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’تم اللہ تعالیٰ سےاس طرح ڈرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو ، پھر اگر تم اسے نہیں رہے تو وہ یقینا ً تمہیں دیکھ رہا ہے ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : آپ نے صحیح فرمایا : ( پھر ) پوچھا : اے اللہ کے رسول ! قیامت کب قائم ہو گی ؟ آپ نے جواب دیا : ’’جس سے قیامت کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے ، وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ۔ میں تمہیں اس کی علامات بتائے دیتا ہوں : جب دیکھو کہ عورت اپنے آقا کو جنم دیتی ہے تو یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے اور جب دیکھو کہ ننگے پاؤں اور ننگے بدن والے ، گونگے اور بہرے زمین کے بادشاہ ہیں تو یہ اس کی علامات میں سے ہے اور جب دیکھو کہ بھیڑ بکریوں کے چروا ہے اونچی سے اونچی عمارات بنانے میں باہم مقابلہ کر رہے ہیں تو یہ بھی اس کی نشانیوں میں سے ہے ۔ یہ ( قیامت کا وقوع ) غیب کی ان پانچ چیزوں میں سے ہے ۔ جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ ‘ ‘ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے ، وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ارحام ( ماؤں کے پیٹوں ) میں کیا ہےاور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ آنے والے کل میں کیا کرے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ ( کہاں ) کس زمین میں فوت ہو گا ...... ‘ ‘ سورت کے آخر تک ۔ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : پھر وہ آدمی کھڑا ہو گیا ( اور چلا گیا ) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اسے میرے پاس واپس لاؤ ۔ ‘ ‘ اسے تلاش کیا گیا تو وہ انہیں ( صحابہ کرام کو ) نہ ملا ۔ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ یہ جبریل تھے ، انہوں نے چاہا کہ تم نہیں پوچھ رہے تو تم ( دین ) سیکھ لو ( انہوں نے آکر تمہاری طرف سے سوال کیا
99
Sahih
Chapter: Explaining the prayers which are one of the pillars of Islam
نمازوں کا بیان ، یہ اسلام کے ارکان میں سے ایک ہے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرُ الرَّأْسِ، نَسْمَعُ دَوِيَّ صَوْتِهِ، وَلَا نَفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ، وَاللَّيْلَةِ» فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ؟ قَالَ: «لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ، وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ»، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ فَقَالَ: «لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ»، وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: «لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ»، قَالَ: فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ، وَهُوَ يَقُولُ: وَاللهِ، لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا، وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ
It is reported on the authority of Talha b. 'Ubaidullah that a person with dishevelled hair, one of the people of Nejd, came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). We heard the humming of his voice but could not fully discern what he had been saying, till he came nigh to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). It was then (disclosed to us) that he was asking questions pertaining to Islam. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Five prayers during the day and the night. (Upon this he said: Am I obliged to say any other (prayer) besides these? He (the Holy Prophet, ) said: No, but whatever you observe voluntarily, out of your own free will, and the fasts of Ramadan. The inquirer said: Am I obliged to do anything else besides this? He (the Holy Prophet) said: No, but whatever you do out of your own free will. And the Messenger of Allah told him about the Zakat (poor-rate). The inquirer said: Am I obliged to pay anything else besides this? He (the Holy Prophet) said: No, but whatever you pay voluntarily out of your own free will. The man turned back and was saying: I would neither make any addition to this, nor will decrease anything out of it. The Prophet remarked: He is successful, if he is true to what he affirms.
مالک بن انس نے ابو سہیل سے ، اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے حضرت طلحہ بن عبیداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےسنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اہل نجد میں سے ایک آدمی آیا ، اس کے بال پراگندہ تھے ، ہم اس کی ہلکی سی آواز سن رہے تھے لیکن جوکچھ وہ کہہ رہا تھا ہم اس کو سمجھ نہیں رہے تھے حتی کہ وہ رسو ل اللہ ﷺ کے قریب آ گیا ، وہ آپ سے اسلام کے بارے میں پوچھ رہا تھا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’دن اور رات میں پانچ نمازیں ( فرض ) ہیں ۔ ‘ ‘ اس نے پوچھا : کیا ان کے علاوہ ( اور نمازیں ) بھی میرے ذمے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ’’نہیں : الا یہ کہ تم نفلی نماز پڑھو اور ماہ رمضان کے روزے ہیں ۔ ‘ ‘ اس نے پوچھا : کیا میرے ذمے اس کے علاوہ بھی ( روزے ) ہیں ؟ فرمایا : ’’نہیں ، الا یہ کہ تم نفلی روزے رکھو ۔ ‘ ‘ پھر رسول اللہ ﷺ اسے زکاۃ کے بارے میں بتایا تو اس نے سوال کیا : کیا میرے ذمے اس کےسوا بھی کچھ ہے ؟ آپ نے جواب دیا : ’’نہیں ، سوائے اس کے کہ تم اپنی مرضی سے ( نفلی صدقہ ) دو ۔ ‘ ‘ ( حضرت طلحہ نے ) کہا : پھر وہ آدمی واپس ہوا تو کہہ رہا تھا : اللہ کی قسم ! میں نے اس پر کوئی اضافہ کروں گا نہ اس میں کوئی کمی کروں گا ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’یہ فلاح پا گیا اگر اس نے سچ کر دکھایا ۔ ‘ ‘
100
Sahih
Chapter: Explaining the prayers which are one of the pillars of Islam
نمازوں کا بیان ، یہ اسلام کے ارکان میں سے ایک ہے
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْلَحَ، وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ، أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ
Another hadith, the like of which has been narrated by Malik (b. Anas) (and mentioned above) is also reported by Talha b. 'Ubaidullah, with the only variation that the Prophet remarked: By his father, he shall succeed if he were true (to what he professed), or: By his father, he would enter heaven if he were true (to what he professed).
اسماعیل بن جعفر نے ابو سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نےحضرت طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے ، مالک سے حدیث کی طرح روایت کی ، سوائے اس کے کہ کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’کامیاب ہوا ، اس کے باپ کی قسم ! اگر اس نے سچ کر دکھایا ِ ‘ ‘ یا ( فرمایا : ) ’’جنت میں داخل ہو گا ، اس کے باپ کی قسم ! اگر اس نے سچ کر دکھایا ۔ ‘ ‘
101
Sahih
ارکان اسلام کے بارے میں سوال
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: نُهِينَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ، فَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ الْعَاقِلُ، فَيَسْأَلَهُ، وَنَحْنُ نَسْمَعُ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَتَانَا رَسُولُكَ فَزَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللهَ أَرْسَلَكَ، قَالَ: «صَدَقَ»، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ؟ قَالَ: «اللهُ»، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ قَالَ: «اللهُ»، قَالَ: فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ، وَجَعَلَ فِيهَا مَا جَعَلَ؟ قَالَ: «اللهُ»، قَالَ: فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَاءَ، وَخَلَقَ الْأَرْضَ، وَنَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِنَا، وَلَيْلَتِنَا، قَالَ: «صَدَقَ»، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا زَكَاةً فِي أَمْوَالِنَا، قَالَ: «صَدَقَ»، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي سَنَتِنَا، قَالَ: «صَدَقَ»، قَالَ: فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ، آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا حَجَّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا، قَالَ: «صَدَقَ»، قَالَ: ثُمَّ وَلَّى، قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَا أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ، وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ
It is reported on the authority of Anas b. Malik that he said: We were forbidden that we should ask anything (without the genuine need) from the Holy Prophet. It, therefore, pleased us that an intelligent person from the dwellers of the desert should come and asked him (the Holy Prophet) and we should listen to it. A man from the dwellers of the desert came (to the Holy Prophet) and said: Muhammad, your messenger came to us and told us your assertion that verily Allah had sent you (as a prophet). He (the Holy Prophet) remarked: He told the truth. He (the bedouin) said: Who created the heaven? He (the Holy Prophet) replied: Allah. He (the bedouin again) said: Who created the earth? He (the Holy Prophet) replied: Allah. He (the bedouin again) said: Who raised these mountains and who created in them whatever is created there? He (the Holy Prophet) replied: Allah. Upon this he (the bedouin) remarked: By Him Who created the heaven and created the earth and raised mountains thereupon, has Allah (in fact) sent you? He (the Holy Prophet) said: Yes. He (the bedouin) said: Your messenger also told us that five prayers (had been made) obligatory for us during the day and the night. He (the Holy Prophet) remarked: He told you the truth. He (the bedouin) said: By Him Who sent you, is it Allah Who ordered you about this (i. e. prayers)? He (the Holy Prophet) said: Yes. He (the bedouin) said: Your messenger told us that Zakat had been made obligatory in our riches. He (the Holy Prophet) said. He has told the truth. He (the bedouin) said: By Him Who sent you (as a prophet), is it Allah Who ordered you about it (Zakat)? He (the Holy Prophet) said: Yes. He (the bedouin) said: Your messenger told us that it had been made obligatory for us to fast every year during the month of Ramadan. He (the Holy Prophet) said: He has told the truth. He (the bedouin) said: By Him Who sent you (as a prophet), is it Allah Who ordered you about it (the fasts of Ramadan)? He (the Holy Prophet) said: Yes. He (the bedouin) said: Your messenger also told us that pilgrimage (Hajj) to the House (of Ka'bah) had been made obligatory for him who is able to undertake the journey to it. He (the Holy Prophet) said: Yes. The narrator said that he (the bedouin) set off (at the conclusion of this answer, but at the time of his departure) remarked: 'By Him Who sent you with the Truth, I would neither make any addition to them nor would I diminish anything out of them. Upon this the Prophet remarked: If he were true (to what he said) he must enter Paradise.
ہاشم بن قاسم ابونضر نے کہا : ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے ثابت کے حوالے سے یہ حدیث سنائی ، انہوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ سے ( غیر ضروری طور پر ) کسی چیز کے بارے میں سوال کرنے سے روک دیا گیا تو ہمیں بہت اچھا لگتا تھا کہ کوئی سمجھ دار بادیہ نشیں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے سوال کرے اور ہم ( بھی جواب ) سنیں ، چنانچہ ایک بدوی آیا اور کہنے لگا ، اے محمد ( ﷺ ) ! آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا تھا ، اس نے ہم سے کہا کہ آپ نے فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اس نے سچ کہا ۔ ‘ ‘ اس نے پوچھا : آسمان کس نے بنایا ہے ؟ آپ نے جواب دیا : ’’ اللہ نے ۔ ‘ ‘ اس نےکہا : زمین کس نےبنائی ؟ آپ نے فرمایا : ’’اللہ نے ۔ ‘ ‘ اس نے سوال کیا : یہ پہاڑ کس نے گاڑے ہیں اور ان میں جو کچھ رکھا ہے کس نے رکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ اللہ نے ۔ ‘ ‘ بدوی نے کہا : اس ذات کی قسم ہے جس نے آسمان بنایا ، زمین بنائی اور یہ پہاڑ نصب کیے ! کیا اللہ ہی نے آپ کو ( رسول بنا کر ) بھیجا ہے ؟ آپ نے جواب دیا : ’’ ہاں! ‘ ‘ اس نے کہا : آپ کے قاصد نے بتایا ہے کہ ہمارے دن او رات میں پانچ نمازیں ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’اس نے درست کہا ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے ! کیا اللہ ہی نے آپ کو اس کاحکم دیا ہے ؟ آپ نے جواب دیا : ’’ہاں ! ‘ ‘ اس نے کہا : آپ کو ایلچی کا خیال ہے کہ ہمارے ذمے ہمارے مالوں کی زکاۃ ہے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اس نے سچ کہا ۔ ‘ ‘ بدوی نے کہا : ا س ذات کی قسم جس نے آپ کو رسول بنا یا ! کیا اللہ ہی نے آپ کو یہ حکم دیا ہے ؟ آپ نے جواب دیا : ’’ہاں ! ‘ ‘ اعرابی نے کہا : آپ کو ایلچی کا خیال ہے کہ ہمارے سال میں ہمارے ذمے ماہ رمضان کے روزے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اس نے صحیح کہا ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے ! کیا للہ ہی نے آپ کو اس کاحکم دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ! ‘ ‘ وہ کہنے لگا : آپ کے بھیجے ہوئے ( قاصد ) کا خیال ہے کہ ہم پر بیت اللہ کا حج فرض ہے ، اس شخص پر جو اس کے راستے ( کو طے کرنے ) کی استطاعت رکھتا ہو ۔ آپ نے فرمایا ، ’’ اس نے سچ کہا ۔ ‘ ‘ ( حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ) پھر وہ واپس چل پڑا اور ( چلتے چلتے ) کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں ان پر کوئی اضافہ کروں گا نہ ان میں کوئی کمی کروں گا ۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’اگر اس نے سچ کر دکھایا تو یقیناً جنت میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘
102
Sahih
ارکان اسلام کے بارے میں سوال
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: كُنَّا نُهِينَا فِي الْقُرْآنِ أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ <قرآن> </قرآن>
It is narrated on the authority of Thabit that Anas said: We were forbidden in the Holy Qur'an that we should ask about anything from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and then Anas reported the hadith in similar words.
بہزنے کہا : ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے ثابت سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہون نےکہا : ہمیں قرآن مجید میں اس بات سے منع کر دیا گیا کہ ( بلاضرورت ) کسی چیز کے بارے میں آپ سے سوال کریں .... اس کے بعد ( بہزنے ) اسی کی مانند حدیث بیان کی ۔
103
Sahih
ایمان جس کے ذریعے سے آدمی جنت میں داخل ہوتا ہے او رجس شخص نے ( نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی طرف سے ) دیے گئے حکم کو مضبوطی سے تھام لیا ، وہ جنت میں داخل ہو گا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ أَنَّ أَعْرَابِيًّا عَرَضَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ، فَأَخَذَ بِخِطَامِ نَاقَتِهِ - أَوْ بِزِمَامِهَا ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ - أَوْ يَا مُحَمَّدُ - أَخْبِرْنِي بِمَا يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ، وَمَا يُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ، قَالَ: فَكَفَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَظَرَ فِي أَصْحَابِهِ، ثُمَّ قَالَ: «لَقَدْ وُفِّقَ، أَوْ لَقَدْ هُدِيَ»، قَالَ: كَيْفَ قُلْتَ؟ قَالَ: فَأَعَادَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعْبُدُ اللهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ، دَعِ النَّاقَةَ
It is narrated on the authority of Abu Ayyub Ansari that once during the journey of the Prophet (may peace of Allah be upon him) a bedouin appeared before him and caught hold of the nosestring of his she-camel and then said, Messenger of Allah (or Muhammad), inform me about that which takes me near to Paradise and draws me away from the Fire (of Hell). He (the narrator) said: The Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stopped for a while and cast a glance upon his companions and then said: He was afforded a good opportunity (or he had been guided well). He (the Holy Prophet) addressing the bedouin said: (Repeat) whatever you have uttered. He (the bedouin) repeated that. Upon this the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) remarked: The deed which can draw you near to Paradise and take you away from Hell is, that you worship Allah and associate none with Him, and you establish prayer and pay Zakat, and do good to your kin. After having uttered these words, the Prophet asked the bedouin to release the nosestring of his she-camel.
عمر و بن عثمان نے کہا : ہمیں موسیٰ بن طلحہ نےحدیث سنائی ، انہوں نےکہا : مجھےحضرت ابوایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےحدیث سنائی کہ رسول ا للہ ﷺ ایک سفر میں تھے جب ایک اعرابی ( دیہاتی ) آپ کے سامنے آ کھڑا ہوا ، اس نے آپ کی اونٹنی کی مہار یانکیل پکڑ لی ، پھر کہا : اے اللہ کے رسول ! ( یا اے محمد! ) مجھے وہ بات بتائیے جو مجھے جنت کے قریب اور آگ سے دور کر دے ۔ ابو ایوب نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ رک گئے ، پھر اپنے ساتھیوں پر نظر دوڑائی ، پھر فرمایا ، ’’اس کو توفیق ملی ) ( یا ہدایت ملی ) ‘ ‘ پھر بدوی نے پوچھا : ’’تم نے کیا بات کی ؟ ‘ ‘ اس نے اپنی بات دہرائی تو نبی ا کرمﷺ نے فرمایا : ’’تم اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ، نماز قائم کرو ، زکاۃ ادا کرو اورصلہ رحمی کرو ۔ ( اب ) اونٹنی کو چھوڑ دو ۔ ‘ ‘
104
Sahih
ایمان جس کے ذریعے سے آدمی جنت میں داخل ہوتا ہے او رجس شخص نے ( نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی طرف سے ) دیے گئے حکم کو مضبوطی سے تھام لیا ، وہ جنت میں داخل ہو گا
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَأَبُوهُ عُثْمَانَ، أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ
This hadith is transmitted by Muhammad b. Hatim on the authority of Abu Ayyub Ansari.
محمد بن عثمان بن عبد اللہ بن موہب اور ان کے والد عثمان دونوں موسیٰ بن طلحہ سے سنا وہ حضرت ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے سابقہ حدیث کی مانند بیان کرتے تھے ۔
105
Sahih
ایمان جس کے ذریعے سے آدمی جنت میں داخل ہوتا ہے او رجس شخص نے ( نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی طرف سے ) دیے گئے حکم کو مضبوطی سے تھام لیا ، وہ جنت میں داخل ہو گا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ أَعْمَلُهُ يُدْنِينِي مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ، قَالَ: «تَعْبُدُ اللهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصِلُ ذَا رَحِمِكَ» فَلَمَّا أَدْبَرَ، قَالَ رَسُولُ اللهَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ تَمَسَّكَ بِمَا أُمِرَ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ» وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ إِنْ تَمَسَّكَ بِهِ
It is narrated on the authority of Abu Ayyub that a man came to the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Direct me to a deed which draws me near to Paradise and takes me away from the Fire (of Hell). Upon this he (the Holy Prophet) said: You worship Allah and never associate anything with Him, establish prayer, and pay Zakat, and do good to your kin. When he turned his back, the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) remarked: If he adheres to what he has been ordered to do, he would enter Paradise.
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی او رابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں ابو احوص نے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابو اسحاق سے ، انہوں نے موسیٰ بن طلحہ سے او رانہوں حضرت ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک آدمی نبی ﷺ کےپاس آیا اور پوچھا : مجھے کوئی ایسا کام بتائیے جس پر میں عمل کروں تو وہ مجھے جنت کے قریب اور آگ سے دور کر دے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ یہ کہ تو اللہ کی بندگی کرے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے ، نماز کی پابندی کرے ، زکاۃ ادا کرے اور اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرے ۔ ‘ ‘ جب وہ پیٹھ پھیر کر چل دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اگر اس نے ان چیزوں کی پابندی کی جن کا اسے حکم دیا گیا ہے تو جنت میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘ ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے ، ’’اگر اس نے اس کی پابندی کی ( تو جنت میں داخل ہو گا ۔ ) ‘ ‘
106
Sahih
ایمان جس کے ذریعے سے آدمی جنت میں داخل ہوتا ہے او رجس شخص نے ( نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی طرف سے ) دیے گئے حکم کو مضبوطی سے تھام لیا ، وہ جنت میں داخل ہو گا
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولِ اللهِ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، قَالَ: «تَعْبُدُ اللهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ»، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا شَيْئًا أَبَدًا، وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنَّ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا
It is reported on the authority of Abu Huraira that a bedouin came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Messenger of Allah, direct me to a deed by which I may be entitled to enter Paradise. Upon this he (the Holy Prophet) remarked: You worship Allah and never associate anything with Him, establish the obligatory prayer, and pay the Zakat which is incumbent upon you, and observe the fast of Ramadan. He (the bedouin) said: By Him in Whose hand is my life, I will never add anything to it, nor will I diminish anything from it. When he (the bedouin) turned his back, the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: He who is pleased to see a man from the dwellers of Paradise should catch a glimpse of him.
حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے ایسا عمل بتائیے کہ جب میں اس پر عمل کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں ۔ آپ نے فرمایا : ’’تم اللہ کی بندگی کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ، نماز قائم کرو جو تم پر لکھ دی گئی ہے ، فرض زکاۃ ادا کرو او ررمضان کے روزے رکھو ۔ ‘ ‘ وہ کہنے لکا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں نہ کبھی اس پر کسی چیز کا اضافہ کروں گا اور نہ اس میں گمی کروں گا ۔ جب وہ واپس جانے لگا تو نبی اکریم ﷺ نے فرمایا : ’’جسے اس بات سے خوشی ہو کہ وہ ایک جنتی آدمی دیکھے تو وہ اسے دیکھ لے ۔ ‘ ‘
107
Sahih
ایمان جس کے ذریعے سے آدمی جنت میں داخل ہوتا ہے او رجس شخص نے ( نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی طرف سے ) دیے گئے حکم کو مضبوطی سے تھام لیا ، وہ جنت میں داخل ہو گا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ الْمَكْتُوبَةَ، وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ، وَأَحْلَلْتُ الْحَلَالَ، أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ»
It is narrated on the authority of Jabir that Nu'man b. Qaufal came to the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Would I enter Paradise if I say the obligatory prayers and deny myself that which is forbidden and treat that as lawful what has been made permissible (by the Shari'ah)? The Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) replied in the affirmative.
ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو سفیان سے اور انہوں نے حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس نعمان بن قوقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ آئے اور کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ کیا فرماتے ہیں کہ جب میں فرض نماز ادا کروں ، حرام کو حرام اور حلال کو حلال سمجھوں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا : ’’ہاں! ‘ ‘
108
Sahih
ایمان جس کے ذریعے سے آدمی جنت میں داخل ہوتا ہے او رجس شخص نے ( نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی طرف سے ) دیے گئے حکم کو مضبوطی سے تھام لیا ، وہ جنت میں داخل ہو گا
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، وَالْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، وَأَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ: يَا رَسُولَ اللهِ، بِمِثْلِهِ، وَزَادَا فِيهِ، وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا
A similar hadith is narrated on Jabir's authority in which the following words are added: I will do nothing more.
شیبان نے اعمش سے ، انہوں نے ابو صالح اور ابو سفیان سے اور انہوں نے حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نعمان بن قوقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے عرض کی : اے اللہ کےرسول !..... پھر اس سابقہ روایت کی طرح ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا : اور اس پر کسی چیز کا اضافہ نہ کروں گا ۔
109
Sahih
ایمان جس کے ذریعے سے آدمی جنت میں داخل ہوتا ہے او رجس شخص نے ( نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی طرف سے ) دیے گئے حکم کو مضبوطی سے تھام لیا ، وہ جنت میں داخل ہو گا
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ، وَصُمْتُ رَمَضَانَ، وَأَحْلَلْتُ الْحَلَالَ، وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ، وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا، أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: وَاللهِ لَا أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا
It is narrated on the authority of Jabir that a man once said to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ): Shall I enter Paradise in case I say the obligatory prayers, observe the (fasts) of Ramadan and treat that as lawful which has been made permissible (by the Shari'ah) and deny myself that what is forbidden, and make no addition to it? He (the Holy Prophet) replied in the affirmative. He (the inquirer) said: By Allah, I would add nothing to it.
سلمہ بن شبیب ‘ حسن بن اعین ‘ معقل یعنی عبد اللہ ‘ ابوالزبیر ‘ جابر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اگر میں فرض نماز پڑھتا رہوں اور ‌رمضان ‌كے ‌روزے ‌ركھوں ‌اور حلال کو حلال سمجھوں ‌اور ‌حرام ‌كو ‌حرام ‌، ‌اس ‌سے ‌زیادہ ‌كچھ ‌نہ ‌كروں تو آپﷺ کی کیا رائے ہے کہ کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤ نگا؟تو آپﷺ نے فرمایا ہاں!اس شخص نے عرض کیا اللہ کی قسم میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کرونگا ۔
110
Sahih
اسلام کے (بنیادی ) ارکان اور اس کے عظیم ستونوں کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ الْأَحْمَرَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسَةٍ، عَلَى أَنْ يُوَحَّدَ اللهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ، وَالْحَجِّ»، فَقَالَ رَجُلٌ: الْحَجُّ، وَصِيَامُ رَمَضَانَ، قَالَ: «لَا، صِيَامُ رَمَضَانَ، وَالْحَجُّ» هَكَذَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
It is narrated on the authority of ('Abdullah) son of Umar (may Allah be pleased with them) that the Prophet (may peace of Allah be upon him) said: (The superstructure of) al-Islam is raised on five (pillars), i. e. the oneness of Allah, the establishment of prayer, payment of Zakat, the, fast of Ramadan, Pilgrimage (to Mecca). A person said (to 'Abdullah b. Umar the narrator): Which of the two precedes the other-Pilgrimage or the fasts of Rarnadan? Upon this he (the narrator) replied: No (it is not the Pilgrimage first) but the fasts of Ramadan precede the Pilgrimage.
ابو خالد سلیمان بن حیان احمر نے ابومالک اشجعی سے ، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے : اللہ کو یکتا قرار دینے ، نمازقائم کرنے ، زکاۃ ادا کرنے ، رمضان کے روزے رکھنے اور حج کرنے پر ۔ ‘ ‘ ایک شخص نے کہ : حج کرنے اور رمضان کے روزے رکھنے پر ؟ ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : نہیں ! رمضان کے روزے رکھنے اور حج کرنے پر ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات اسی طرح ( اسی ترتیب سے ) سنی تھی ۔
111
Sahih
اسلام کے (بنیادی ) ارکان اور اس کے عظیم ستونوں کا بیان
وحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ السُّلَمِيُّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ، عَلَى أَنْ يُعْبَدَ اللهُ، وَيُكْفَرَ بِمَا دُونَهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ»
It is narrated on the authority of ('Abdullah) son of 'Umar, that the Prophet (may peace of Allah be upon him) said: (The superstructure of) al-Islam is raised on five (pillars), i. e. Allah (alone) should be worshipped, and (all other gods) beside Him should be (categorically) denied. Establishment of prayer, the payment of Zakat, Pilgrimage to the House, and the fast of Ramadan (are the other obligatory acts besides the belief in the oneness of Allah and denial of all other gods).
یحییٰ بن زکریا نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے سعد بن طارق ( ابو مالک اشجعی ) نے حدیث بیان کی ۔ وہ حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ نبیﷺ نے فرمایا : ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس پر کہ اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کے سوا ہر کسی کی عبادت سے انکار کیا جائے ، نماز قائم کرنے ، زکاۃ دینے ، بیت اللہ کاحج کرنے اور رمضان کے روزے رکھنے پر
112
Sahih

Chapters

86
01
اسلام ، احسان کی وضاحت ، تقدیر الہٰی کے اثبات پر ایمان واجب ہے ، تقدیر پر ایمان نہ لانےوالے سے براءت کی دلیل اور اس کے بارے میں سخت موقف
7 Hadith
02
Chapter: Explaining the prayers which are one of the pillars of Islam
نمازوں کا بیان ، یہ اسلام کے ارکان میں سے ایک ہے
2 Hadith
03
ارکان اسلام کے بارے میں سوال
2 Hadith
04
ایمان جس کے ذریعے سے آدمی جنت میں داخل ہوتا ہے او رجس شخص نے ( نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی طرف سے ) دیے گئے حکم کو مضبوطی سے تھام لیا ، وہ جنت میں داخل ہو گا
7 Hadith
05
اسلام کے (بنیادی ) ارکان اور اس کے عظیم ستونوں کا بیان
4 Hadith
06
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ پر ایمان ، دینی احکام پر عمل ، اس کی طرف دعوت ، اس کے بارے میں سوال کرنے ، دین کے تحفظ اور جن لوگوں تک دین نہ پہنچا ہو ان تک پہنچانے کا حکم
6 Hadith
07
Chapter: Calling people to the twin declaration of faith and the laws of Islam
توحید و رسالت کی شہادت اور اسلام کے شرعی احکام کی دعوت دینا
3 Hadith
08
Chapter: The command to fight the people until they say La ilaha illallah Muhammad Rasul-Allah , and establish Salat, and pay the Zakat, and believe in everything that the prophet (saws) brought. Whoever does that, his life and his wealth are protected except by its right, and his secrets are entrusted to Allah, the most high. Fighting those who withhold Zakat or other than that is one of the duties of Islam and the Iman should be concerned with the Laws of Islam
لوگوں سے اس وقت تک لڑائی کرنے کا بیان جب تک وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار نہ کر لیں
8 Hadith
09
اس بات کی دلیل کہ موت کے قریب اس وقت تک اسلام لانا صحیح ہے جب تک حالت نزع (جان کنی) طاری نہیں ہوئی اور مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کی اجازت منسوخ ہے ، اور اس بات کی دلیل کہ شرک پر مرنے والا جہنمی ہے اور جہنم سے اسے کوئی ’’وسیلہ‘‘ بھی نجات نہیں دلوا سکے گا
5 Hadith
10
Chapter: The evidence that one who dies believing in tawhid will definitely enter paradise
اس بات کی دلیل کہ جو شخص توحید پر فوت ہوا ، وہ لازماً جنت میں داخل ہو گا
14 Hadith
11
اس بات کی دلیل کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے رب ، اسلام کے دین اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے رسول ہونے پر راضی ہوا وہ مومن ہے ، چاہے کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو
2 Hadith
12
۔ ایمان کی شاخوں کا بیان ، اعلیٰ کو ن سی ہے اور ادنیٰ کون سی ؟ حیا کی فضیلت اور وہ ایمان کا حصہ ہے
6 Hadith
13
Chapter: A phrase that sums up Islam
اسلام کے جامع اوصاف
6 Hadith
14
Chapter: Clarifying the superiority of Islam, and what part of it is best
اسلام میں افضیلت کے مدارج کی وضاحت اور اسلام کا سب سے افضل کام کون سا ہے ؟
7 Hadith
15
Chapter: Clarifying the prohibition of annoying one's neighbor
پڑوسی کوتکلیف پہنچانے کی حرمت
2 Hadith
16
Chapter: Encouragement to honor one's neighbor and guest, and the obligation to remain silent unless one has something good to say, and the fact that all of that is part of faith
ہمسائے اور مہمان کی تکریم اور خیر کی بات کہنے یا خاموش رہنے کی ترغیب ، یہ سب امور ایمان کا حصہ ہیں
3 Hadith
17
Chapter: Clarifying that forbidding evil is part of faith, faith increases and decreases; Enjoying what is good and forbidding what is evil are obligatory
برائی سے روکنا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان گھٹتا بڑھتا ہے ، نیز نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا فرض ہے
17 Hadith
18
Chapter: Clarifying that no one will enter paradise but the believers; loving the believers is part of faith and spreading Salam is a means of attaining that
جنت میں مومنوں کے سوا کوئی داخل نہ ہو گا مومنوں سے محبت کرنا ایمان کا حصہ ہے اور اسلام کوعام کرنے اس محبت کے حصول کا ایک ذریعہ ہے
2 Hadith
19
Chapter: Clarifying that the religion is sincerity
دین خیر خواہی ( اور خلوص) کا نام ہے
7 Hadith
20
Chapter: Clarifying that faith decreases because of disobedience and negating it from the one committing the act of disobedience, with the meaning of negating its completion
گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے ایمان میں کمی کا بیان اور یہ کہ گناہوں میں ملوث ہونےوالے سے ایمان کی نفی کا مطلب ، کمال ایمان کی نفی ہے
7 Hadith
21
Chapter: The characteristics of the hypocrite
منافق کی خصلتوں کا بیان
5 Hadith
22
Chapter: Clarifying the condition of faith for one who says to his muslim brother: O Kafir (Disbeliever).
اس شخص کے ایمان کی حالت جو اپنے مسلمان بھائی کو ’’ اے کافر!‘‘ کہہ کر پکارے
3 Hadith
23
Chapter: Clarifying the condition of the fath of one who knowingly denies his father
اپنے باپ سے دانستہ نسبت توڑنے والے کے ایمان کی حالت
3 Hadith
24
Chapter: Clarifying the words of the prophet (saws): Insulting A Muslim is an evil action and fighting him is disbelief (Kufr)
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا فرمان ہے : ’’ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے ‘‘
2 Hadith
25
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے فرمان : ’’میرے بعد دوبارہ کافر نہ ہو جاناکہ ایک دوسر ے کی گردنین مارنے لگو ‘‘ کامفہوم
4 Hadith
26
Chapter: Use of the word Kufr with regard to slandering people's lineage and wailing
کسی کے نسب پر طعن کرنے اور نوحہ کرنے پر کفر کا اطلاق
4 Hadith
27
Chapter: Use of the word Kufr with regard to slandering people's lineage and wailing
اس شخص کا کفر جویہ کہے کہ ہمیں ستاروں کےطلوع ہونے سے بارش ملی
4 Hadith
28
Chapter: Evidence that love of the Ansar and Ali (r.a.) is a part of faith and a sign thereof; Hating them is a sign of hypocrisy
اس بات کی دلیل کہ انصار اور حضرت علی سے محبت ایمان اور اس کی علامات میں سے ہے اور ان سے بغض و نفرت نفاق کی علامات میں سے ہے
6 Hadith
29
Chapter: Clarifying that faith decreases with shortcoming in obedience, and the word Kufr may be used with regard to matters other than dsbelief in Allah, such as ingratitude for blessings and not fulfilling one's duties
اللہ کی اطاعت میں کمی کی وجہ سے ایمان میں کمی ہو جاتی ہے ، نیز اللہ تعالیٰ کے ساتھ صریح کفر کے علاوہ دوسرے امور،مثلاً : اس کی نعمتوں اور حقوق کے کفران (ناشکری) کو بھی کفر سے تعبیر کیا گیا ہے
3 Hadith
30
Chapter: Clarifying the usage of the word Kafir for one who abandons Salat
نماز چھوڑنے والے پر لفظ کفر کا اطلاق کرنا
4 Hadith
31
Chapter: Clarifying that faith in Allah most high is the best of deeds
اللہ تعالیٰ پرایمان لانا سب سے افضل عمل ہے
9 Hadith
32
Chapter: Clarifying that Shirk is the worst of sins, and the worst sins after Shirk
شرک تمام گناہوں سے بدتر ہے ، اس کے بعد بڑے بڑے گناہ کون سے ہیں ؟
2 Hadith
33
Chapter: The major sins and the most serious of them
۔ کبیرہ گناہ اور ان میں سے بھی سب سے بڑے گناہوں کا بیان
6 Hadith
34
Chapter: The prohibition of pride and definition of it
تکبر کی حرمت کا بیان
3 Hadith
35
Chapter: The evidence that the one who dies not associating anything with Allah will enter paradise, and the one who dies as idolator will enter the fire
جو شخص اس حالت میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرایا ، وہ جنت میں داخل ہو گا اور اگر شرک کی حالت میں مر گیا تو آگ میں داخل ہو گا
6 Hadith
36
Chapter: The prohibition of killing a disbeliever after he says La ilaha illallah
کافر کے لا إله إلا الله کہہ دینے کے بعد اسے قتل کر نا حرام ہے
6 Hadith
37
Chapter: The Saying of the prophet (saws): Whoever bears weapons against us is not one of us.
نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کافرمان :’’ جس نے ہمارے خلاف اسلحہ اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ‘‘
3 Hadith
38
Chapter: The Saying of the prophet (saws): Whoever deceives us is not one of us.
نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا فرمان :’’ جس نے ہمیں دھوکا دیا ، وہ ہم میں سے نہیں ‘‘
2 Hadith
39
Chapter: The prohibition of striking one's checks, tearing one's garment and calling with the calls of Jahilliyyah
رخسار پٹینے ، گریبان چاک کرنے اور جاہلیت کا بلاوا دینے کی حرمت
6 Hadith
40
Chapter: Clarifying the emphatic prohibition of An-Namimah (Malicious Gossip)
چغل خوری کی شدید حرمت
9 Hadith
41
Chapter: Clarifying the emphatic prohibition against killing oneself; The one who kills himself with something will be punished with it in the fire; And that no one will enter Paradise but a muslim
خود کشی کی شدید حرمت، خود کشی کرنے والا جس چیز سے اپنے آپ کو قتل کرے گا جہنم میں اسی کے ذریعے سے اس کوعذاب دیا جائے گا اور جنت میں (عطا کیے گئے جسم سمیت) صرف مسلمان روح ہی داخل ہو گی
9 Hadith
42
Chapter: Emphatic prohibition against stealing from the spoils of war; and that no one will enter paradise except the believers
مال غنیمت میں خیانت کی شدید حرمت اور یہ کہ جنت میں مومن ہی داخل ہوں گے
2 Hadith
43
Chapter: The evidence that the one who kills himself is not considered a disbeliever
اس امر کی دلیل کہ ( ہر) خودکشی کرنے والا کافر نہیں بن جاتا
1 Hadith
44
Chapter: Regarding the wind which will come just before the resurrection and take the soul of anyone who has any fath in his heart
وہ ہوا جو قیامت کے قریب چلے گی ، ہر اس شخص کی روح قبض کر لے گی جس کے دل میں کچھ نہ کچھ ایمان ہو گا
1 Hadith
45
Chapter: Encouragement to hasten to do good deeds before the emergence of the Fitnah
فتنوں کے ظاہر ہونے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرنے کی ترغیب
1 Hadith
46
Chapter: The believer's fear that his good deeds may be lost
مومن کا اس بات سے ڈرنا کہ اس کے عمل ضائع نہ ہو جائیں
7 Hadith
47
Chapter: Will a person be punished for his actions during the Jahlilliyyah?
کیا جاہلیت کے اعمال پر مؤاخذہ ہو گا؟
2 Hadith
48
Chapter: Clarifying the ruling of the action of an unbeliever if he accepts Islam after it
کافر کے اعمال کا حکم جب وہ ان کے بعد اسلام لے آئے
4 Hadith
49
Chapter: Sincerity of Faith and its Purity
سچا ایمان اور اخلاص
2 Hadith
50
Chapter: Allah allows a person's thoughts and whatever occurs in his heart so long as they do not become established
اللہ تعالیٰ نے ان باتون سے جو دل ہی دل میں خود سے کی جاتی ہے اور دل میں آنے والے خیالات سے اگر وہ دل میں جاگزیں نہ ہو جائیں تو درگزر فرمایا ہے
6 Hadith
51
Chapter: If a person thinks of doing a good deed it will be recorded for him, and if he thinks of doing a bad deed it will not be recorded for him
بندہ جب نیکی کاقصد کرتا ہے تو وہ لکھ لی جاتی ہے اور جب برائی کا قصد کرتا ہے تووہ نہیں لکھی جاتی
5 Hadith
52
Chapter: Clarifying the Waswasah (Whispers, Bad Thoughts) with regard to faith, and what the one who experiences that should say
ایمان میں وسوسے کا بیان اور جو اسے محسوس کرے وہ کیاکہے
14 Hadith
53
Chapter: Warning of the Fire for the one who swears a false oath in order to unlawfully take the right of another muslim
جس نے جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مارا اس کےلیے آگ کی وعید
6 Hadith
54
Chapter: The evidence that the blood of one who aims to seize other people's wealth without right may be shed, if he is killed he will be in the fire, and the one who is killed defending his property is a martyr
اس بات کی دلیل کہ کوئی شخص دوسرے کا مال ناحق چھیننا چاہے تو اس کے خون کا قصاص نہ ہو گا اور اگر (ایسا کرتے ہوئے ) وہ مارا گیا تو جہنم میں جائے گا اور جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کر دیا گیا وہ شہید ہے
3 Hadith
55
Chapter: One in charge of a matter, who cheats his subjects, deserves the fire
اپنی رعایا سے دھوکا کرنےوالا حکمران آگ کا مستحق ہے
4 Hadith
56
Chapter: The disappearance of honesty and faith from some hearts and the appearance of fitnah in some hearts
بعض دلوں سے امانت اور ایمان کا اٹھا لیا جانا اور فتنوں کا دلوں پر ڈالا جانا
5 Hadith
57
Chapter: Clarifying that Islam started as something strange, and will revert to being something strange, and it will retreat between the two Masajid
۔ اسلام کی ابتدا اس حالت میں ہوئی کہ وہ اجنبی تھا اور عنقریب پھر اپنے ابتدائی دور کے مانند اجنبی ہو جائے گا اور جو مسجدوں کے درمیان سمٹ آئے گا
3 Hadith
58
Chapter: The Disappearance of Faith at the End of Time
آخری زمانے میں ایمان کا رخصت ہو جانا
2 Hadith
59
Chapter: Permissibility of concealing one's faith in the case of fear
خوف زدہ انسان کے لیے ایمان کا چھپانا درست ہے
1 Hadith
60
Chapter: Being kind to one for whose faith there is concern because it is weak; Prohibition of attributing Faith to someone without definitive evidence
ایسے شخص کی تالیف قلب کرنا، جس کے ایمان کے بارے میں اس کی کمزوری کی وجہ سے خوف ہو اور قطعی دلیل کے بغیر کسی کے ایمان کے بارے میں حتمی بات کہنے کی ممانعت
4 Hadith
61
Chapter: Increasing the heart's tranquility with the appearance evidence
دلائل کا سامنے آنا اطمینان قلب میں (جو ایمان کا بلند ترین ہے ) اضافے کا باعث ہے
3 Hadith
62
Chapter: Obligation of believing that the message of our Prophet Muhammad (saws) is for all people, and the abrogation of all other religions
اس بات پر ایمان واجب ہے کہ ہمارے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ تمام انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور آپ کی شریعت کے ذریعے سے باقی سب شریعتیں منسوخ کر دی گئیں
5 Hadith
63
Chapter: The descent of 'Eisa bin Mariam to judge according to the Shari'ah of our Prophet Muhammad (saws); And how Allah has honored this Ummah; And clarifying the evidence that this religion will not be abrogated; and that a group from it will continue to adhere to the truth and prevail until the day of resurrection
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا ہمارے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی شریعت کے مطابق حاکم بن کر نازل ہونا‘
6 Hadith
64
Chapter: Clarifying the time when faith will no longer be accepted
وہ دور جس میں ایمان قبول نہیں کیا جائے گا
7 Hadith
65
Chapter: The beginning of the revelation to the messenger of Allah (saws)
رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی طرف وحی کی ابتدا
8 Hadith
66
Chapter: The night journey on which the messenger of Allah (saws) was taken up into the heavens and the prayers were enjoined
رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کو رات کے وقت آسمانوں پر لے جانا اور نمازوں کی فرضیت
14 Hadith
67
Chapter: Mentioning Al-Masih Son of Mariam and Al-Masih ad-Dajjal
مسیح ابن مریم اور مسیح دجال (جھوٹےمسیح) کا تذکرہ
6 Hadith
68
Chapter: About (The Lote-Tree of the Utmost Boundary)
سدرۃ ا لمنتہیٰ کا ذکر
2 Hadith
69
Chapter: The Meaning of the Saying of Allah, The Mighty and Sublime: And indeed he saw him at a second descent (another time) ; And did the prophet (saws) see his lord on the night of the Isra?
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کاقول ہے :’’ وہ نور ہے ، میں اسے کہاں سے دیکھوں !‘‘ ایک اور قول ہے :’’ میں نے نور دیکھا‘‘
10 Hadith
70
Chapter: The saying of the Prophet (saws): Light, How could I see Him? and: I saw Light
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا فرمان:’’ اللہ نہیں سوتا اور یہ کہ اس کا حجاب نو ر ہے ، اگر وہ اس (حجاب) کو ہٹا دے تو اس کے رخ انور کی تجلیات اس کے منتہائے نظر تک ساری مخلوقات کو راکھ کر دیں ‘‘
2 Hadith
71
Chapter: The saying of the Prophet (saws): Allah does not sleep and His veil is light, and if he were to remove it, the splendour of his face would burn all of his creation, as far as hs sght reaches .
آخرت میں مومن اپنے رب سبحانہ وتعالیٰ کا دیدار کریں گے
3 Hadith
72
Chapter: Affirming that the believers will see their Lord, Glorious is he and most high, in the hereafter
وؤیت الہٰی کس کس طریقے سے ہو گی ؟
9 Hadith
73
Chapter: Intercession and bringing those who believed in tawhid out of the Fire
شفاعت کااثبات اور اہل توحید کاآگ سے نکالا جانا
4 Hadith
74
Chapter: The Last of the people of the Fire to be brought out of it
سب سے آخر میں دوزخ سے نکلنے والا
3 Hadith
75
Chapter: The Status of the Lowest people in paradise
اہل جنت میں سے جوشخص سب سے نچلے درجے ہو گا
19 Hadith
76
Chapter: Regarding the saying of the Prophet (saws): I will be the first of the people to intercede concerning Paradise, and I will be the Prophet with the Greatest Number of Followers.
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کافرمان ہے :’’میں لوگوں میں سب سے پہلا ہوں جوجنت کے بارے میں سفارش کرے گا، اور سب انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہوں گے
4 Hadith
77
Chapter: The Prophet (saws) will defer his supplication in order to intercede for his ummah
بنی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا کہ میں لوگوں میں سب سے پہلے ہو جنت کی سفارش کرنے والا اور تمام انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہونگے
13 Hadith
78
Chapter: The supplication of the Prophet (saws) for his ummah and his weeping out of compassion for them
نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی اپنی امت کے لیے دعا اور ان پر شفقت کرتے ہوئے آپ کا رونا
1 Hadith
79
Chapter: Regarding the saying of Allah, the most High: And warn your tribe of near kindred.
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
9 Hadith
80
Chapter: The Intercession of the Prophet (saws) for Abu Talib and the reduction of his punishment as a result
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی ابو طالب کے لیے سفارش اور آپ کی وجہ سے ان کے لیے (عذاب میں ) تخفیف
4 Hadith
81
Chapter: The least severely punished of the people of the Fire
اہل جہنم میں سب سے کم عذاب والے شخص
4 Hadith
82
Chapter: The evidence that whoever dies upon disbelief, no good deed will benefit him
اس بات کی دلیل کہ کفر پر مرنے والے شخص کو اس کے عمل فائدہ نہ پہنچائیں گے
1 Hadith
83
Chapter: Allegiance to the believers, and forsaking others and disavowing them
مومنوں سے موالات اور غیر مسلموں سے برائت اور لاتعلقی کا بیان۔
1 Hadith
84
Chapter: The Evidence that groups of Muslims will enter Paradise without being called to account, and without being punished
اس بات کی دلیل کہ مسلمانوں میں سے بعض گروہ حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہو جائیں گے
9 Hadith
85
Chapter: Clarifying that this ummah will form half of the People of Paradise
اہل جنت میں سے آدھے اس امت سے ہوں گے
3 Hadith
86
Chapter: Allah will say to Adam: Bring out the Portion of the Fire; Nine Hundred and Ninety-Nine Out of Every Thousand.
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا قول کہ اللہ تعالیٰ حضرت آدم سے فرمائے گا دوزخ میں بھیجنے کے لیے ہر ہزار(1000) میں سے نو سو ننانوے (999) الگ کر دو
2 Hadith
No chapter matched that.