It is narrated on the authority of Abu Huraira that when, the son of Adam recites the Ayat of Sajdah (prostration) and then falls down in prostration, the Satan goes into seclusion and weeps and says: Alas, and in the narration of Abu Kuraib the words are: Woe unto me, the son of Adam was commanded to prostrate, and he prostrated and Paradise was entitled to him and I was commanded to prostrate, but I refused and am doomed to Hell.
حضرت ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہو ں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جب ابن آدم سجدے کی آیت تلاوت کر کے سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتے ہوئے وہاں سے ہٹ جاتا ہے ، وہ کہتا ہے : ہائے اس کی ہلاکت ! ( اور ابوکریب کی روایت میں ہے ، ہائے میری ہلاکت! ) ابن آدم کو سجدے کا حکم ملا تو اس نے سجدہ کیا ، اس پر اسے جنت مل گئی اور مجھے سجدے کا حکم ملا تو میں نے انکار کیا ، سو میرے لیے آگ ہے ۔ ‘ ‘
A'mash narrated this hadith with the same chain of transmitters, with this change of words that he (the Satan) said: I disobeyed and I am doomed to Hell.
وکیع نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی ۔ فرق یہ ہے کہ وکیع نے ( فأبيت..... ’’ میں نے انکار کیا ‘ ‘ کے بجائے ) فعصيت فعلي النار ’’ میں نے نافرمانی کی تو میرے لیے جہنم ( مقدر ) ہوئی ‘ ‘ کہا ۔
It is narrated on the authority of Jabir that he heard the Apostle (may peace and blessings be upon him) saying. Verily between man and between polytheism and unbelief is the negligence of prayer.
ابو سفیان سےروایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ بے شک آدمی اورشرک و کفر کے درمیان ( فاصلہ مٹانے والا عمل ) نماز کا ترک ہے ۔ ‘ ‘
It is narrated on the authority of Abu Zubair that he heard Jabir b. 'Abdullah saying. I heard the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) observing this: Between man and polytheism and unbelief is the abandonment of salat.
ابو زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ آدمی اور شرک و کفر کے درمیان ( فاصلہ مٹانے والا عمل ) نماز چھوڑنا ہے ۔ ‘ ‘ ( اس روایت میں إن’’بےشک ‘ ‘ کا لفظ نہیں ، باقی وہی ہے ۔ )