TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 488 صحیح مسلم

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 13 in this chapter
Chapter: The Prophet (saws) will defer his supplication in order to intercede for his ummah
بنی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا کہ میں لوگوں میں سب سے پہلے ہو جنت کی سفارش کرنے والا اور تمام انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہونگے
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ زُهيْرٌ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهابٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ، وَأَرَدْتُ إِنْ شَاءَ اللهُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ»،
Abu Huraira reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: There is for every apostle a prayer, and I intend (if Allah so willed) that I would reserve my prayer for the intercession of my Ummah on the Day of Resurrection.
( مالک بن ا نس کے بجائے ) ابن شہاب کے بھتیجے نے ابن شہاب سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’یقیناً ہر نبی کی ایک دعا ہے ( جس کی قبولیت یقینی ہے ۔ ) میں نے ارادہ کیا ہے کہ ان شاءاللہ میں اپنی اس دعا کو قیامت کے روز اپنی امت کی سفارش کرنے کے لیے محفوظ رکھوں گا ۔ ‘ ‘
488
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

794
1
Chapter: Regarding the saying of the Prophet (saws): I will be the first of the people to intercede concerning Paradise, and I will be the Prophet with the Greatest Number of Followers.
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کافرمان ہے :’’میں لوگوں میں سب سے پہلا ہوں جوجنت کے بارے میں سفارش کرے گا، اور سب انبیاء سے میرے پیروکار زیادہ ہوں گے
Sahih Muslim
2
Chapter: What Has Been Related About The State of The Prophet (SAW): I Have Been Ordered To FIght The People Until They Say La Ilaha Illallah And Establish The Salah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لوگوں کے خلاف جنگ کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ: لا الہ الا اللہ کہیں، اور نماز قائم کریں“۔
Jam e Tirmazi
3
Chapter: The supplication of the Prophet (saws) for his ummah and his weeping out of compassion for them
نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی اپنی امت کے لیے دعا اور ان پر شفقت کرتے ہوئے آپ کا رونا
Sahih Muslim
4
(94) CHAPTER. The order of the Prophet that people should be calm and patient on proceeding (from Arafat) and the waving of his lash towards them.
عرفات سے لوٹتے وقت رسول اللہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کو سکون و اطمینان کی ہدایت کرنا اور کوڑے سے اشارہ کرنا
Sahih Bukhari
5
(5) CHAPTER. The statement of the Prophet to the Ansar: “You are from the most beloved people to me.”
انصار سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ تم لوگ مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو
Sahih Bukhari
6
(80) CHAPTER. The statement of the Prophet , “Make things easy for the people and do not make things difficult for them.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ آسانی کرو ، سختی نہ کرو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر تخفیف اور آسانی کو پسند فرمایا کرتے تھے
Sahih Bukhari
7
(27) CHAPTER. Something forbidden, by the Prophet (p.b.u.h.) is legally prohibited unless there is a proof that (later on) it was (made) legal. Similarly, his orders render things obigatory, as he said (to his Companions) when they finished their Ihram, Sleep with your wives.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے لوگوں کو منع کریں تو وہ حرام ہو گا مگر یہ کہ اس کی اباحت دلائل سے معلوم ہو جائے ۔
Sahih Bukhari
8
Chapter: The command to fight the people until they say La ilaha illallah Muhammad Rasul-Allah , and establish Salat, and pay the Zakat, and believe in everything that the prophet (saws) brought. Whoever does that, his life and his wealth are protected except by its right, and his secrets are entrusted to Allah, the most high. Fighting those who withhold Zakat or other than that is one of the duties of Islam and the Iman should be concerned with the Laws of Islam
لوگوں سے اس وقت تک لڑائی کرنے کا بیان جب تک وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار نہ کر لیں
Sahih Muslim
9
Chapter: The descent of 'Eisa bin Mariam to judge according to the Shari'ah of our Prophet Muhammad (saws); And how Allah has honored this Ummah; And clarifying the evidence that this religion will not be abrogated; and that a group from it will continue to adhere to the truth and prevail until the day of resurrection
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا ہمارے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی شریعت کے مطابق حاکم بن کر نازل ہونا‘
Sahih Muslim
10
Chapter: The Intercession of the Prophet (saws) for Abu Talib and the reduction of his punishment as a result
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی ابو طالب کے لیے سفارش اور آپ کی وجہ سے ان کے لیے (عذاب میں ) تخفیف
Sahih Muslim
11
Chapter: The prayer and the supplication of the Prophet (saws) at night
رات کے وقت بنی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی نماز اور دعا
Sahih Muslim
12
Chapter: The Prophet saws foretold that the people will abandon Al-Madinah when it is the best it ever was
مدینہ کو بہترین حالت میں ہونے کے باوجود لوگوں کے اسے چھوڑدینے کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی پشین گوئی
Sahih Muslim
13
Chapter: The supplication of the Prophet (saws) and his steadfastness in the face of the hypocrites' persecution
منافقوں کی اذیت رسانی پر نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی دعا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا صبر
Sahih Muslim
14
Chapter: What Has Been Related From The Messenger Of Allah (saws) About Reconciliation
باب: لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About What The Prophet (saws) Ate Upon
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کس چیز پر کھاتے تھے؟
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About The Prophet (s.a.w) Saying: If You Knew What I Know Then You Would Laugh Little
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ جو مجھے معلوم ہے وہ اگر تمہیں معلوم ہو جائے تو بہت کم ہنسو گے اور بہت زیادہ روؤ گے​
Jam e Tirmazi
17
Chapter: About The Supplication Of The Prophet, And His Seeking Refuge At The End Of Every Salat
باب: نماز کے اخیر میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں اور معوذات کا بیان
Jam e Tirmazi
18
(13) CHAPTER. The statement of the Prophet I know Allah تعالیٰ better, than all of you do.”
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تفصیل کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں
Sahih Bukhari
19
(9) CHAPTER. The Statement of the Prophet : It is probable that a person who receives a piece of information indirectly may comprehend it better than he who has heard it directly from its source.”
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تفصیل میں کہ بسا اوقات وہ شخص جسے ( حدیث ) پہنچائی جائے سننے والے سے زیادہ ( حدیث کو ) یاد رکھ لیتا ہے ۔
Sahih Bukhari
20
(11) CHAPTER. The Prophet used to take care of the people in preaching by selecting a suitable time so that they might not run away (never made them averse or bored them with religious talk and knowledge all the time).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کی رعایت کرتے ہوئے نصیحت فرمانے اور تعلیم دینے کے بیان میں تاکہ انہیں ناگوار نہ ہو
Sahih Bukhari
21
(44) CHAPTER. When a religious learned man is asked, “Who is the most learned person,” it is better for him to attribute or entrust absolute knowledge to Allah and to say, “Allah is the Most Learned (than anybody else) .”
اس بیان میں کہ جب کسی عالم سے یہ پوچھا جائے کہ لوگوں میں کو ن سب سے زیادہ علم رکھتا ہے ؟ تو بہتر یہ ہے کہ اللہ کے حوالے کر دے یعنی یہ کہہ دے کہ اللہ سب سے زیادہ علم رکھتا ہے یا یہ کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کو ن سب سے بڑا عالم ہے ۔
Sahih Bukhari
22
(122) CHAPTER. The order of the Prophet to a person who did not perform his bowing perfectly that he should repeat his Salat (prayer).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کو نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم دینا جس نے رکوع پوری طرح نہیں کیا تھا
Sahih Bukhari
23
(17) CHAPTER. How the Prophet turned his back towards the people [while offering the SaIat (prayer) for rain].
استسقاء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف پشت مبارک کس طرح موڑی تھی ؟
Sahih Bukhari
24
(28) CHAPTER. (If) somebody prepared his shroud (before his death) (in the lifetime of the Prophet and the Prophet did not object to that).
ان کے بیان میں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنا کفن خود ہی تیار رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کسی طرح کا اعتراض نہیں فرمایا
Sahih Bukhari
25
(21) CHAPTER. To exhort one to give in charity and to intercede for the same purpose.
لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دلانا اور اس کے لیے سفارش کرنا
Sahih Bukhari
26
(7) CHAPTER. The Prophet used to be most generous in the month of Ramadan.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں سب سے زیادہ سخاوت کیا کرتے تھے
Sahih Bukhari
27
(4) CHAPTER. What grants the Prophet (p.b.u.h) gave from the land of Bahrain, and what he promised to give (some people) from the Bahrain money resources and from Al-Jizya. And to whom should the Fai (i.e., booty gained without fight) and the Jizya be distributed?
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بحرین سے ( مجاہدین کو کچھ معاش ) دینا اور بحرین کی آمدنی اور جزیہ میں سے کسی کو کچھ دینے کا وعدہ کرنا اس کا بیان اور اس کا کہ جو مال کافروں سے بن لڑے ہاتھ آئے یا جزیہ وہ کن لوگوں کو تقسیم کیا جائے ۔
Sahih Bukhari
28
(11) CHAPTER. Allah's Statement: “And tell them about the guests (the angels) of Ibrahim (Abraham).” (V.15:51).
اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحجر میں فرمایا ‘ اے پیغمبر ! ان لوگوں کو ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں کا قصہ سنائیے ۔
Sahih Bukhari
29
(15) CHAPTER. The story of the Ethiopians, and the saying of Prophet (p.b.u.h), O Bani Arfida!
حبشہ کے لوگوں کا بیان اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرماناکہ اے بنی ارفدہ ۔
Sahih Bukhari
30
(11) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Accept the good (deeds) of the good-doers amongst them, and excuse the wrong-doers amongst them.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ” انصار کے نیک لوگوں کی نیکیوں کو قبول کرو اور ان کے غلط کاروں سے درگزر کرو “
Sahih Bukhari
31
(16) CHAPTER. The intercession of the Prophet for Barira's husband.
بریرہ رضیاللہعنہا کے شوہر کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سفارش کرنا ۔
Sahih Bukhari
32
(3) CHAPTER. The people most prone to trials are Prophets, and then the most pious people, and then the less pious and so on.
بلاؤں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش انبیاء کی ہوتی ہے اس کے بعد درجہ بدرجہ دوسرے بند گان خدا کی ہوتی رہتی ہے ۔
Sahih Bukhari
33
(29) CHAPTER. The invocation of the Prophet , “O Allah! (Let me join) the Highest Companions. (See Quran V.4:69)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مرضالموت میں دعا کرنا کہ یا اللہ ! مجھ کو آخرت میں رفیق اعلیٰ ( ملائکہ اور انبیاء ) کے ساتھ ملا دے ۔
Sahih Bukhari
34
(3) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Our (i.e., Messengers') property is not to be inherited, and whatever we leave (after our death), is Sadaqa (to be spent in charity).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ۔ جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے
Sahih Bukhari
35
(3) CHAPTER. The statement of Prophet : “The destruction of my followers will be through the hands of foolish young men.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمایا کہ میری امت کی تباہی چند بیوقوف لڑکوں کے ہاتھوں ہو گی
Sahih Bukhari
36
(5) CHAPTER. Wasat (the legacy - advice) of the Prophet (p.b.u.h.) to the Arab delegates that they should convey the religious knowledge to those whom they had left behind.
وفود عرب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ وصیت کہ ان لوگوں کو جو موجود نہیں ہیں دین کی باتیں پہنچا دیں ۔
Sahih Bukhari
37
(14) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.), “Certainly you (Muslims!) will follow the ways of those who were before you (i.e., Jews and Christians).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ اے مسلمانو ! تم اگلے لوگوں کی چال پر چلو گے
Sahih Bukhari
38
(16) CHAPTER. The Prophet (p.b.u.h.) mentioned and recommended that the religious learned men should not differ. What common opinions the people of the two Haram (sanctuaries) of Makkah and Al-Madina had.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عالموں کے اتفاق کرنے کا جو ذکر فرمایا ہے اس کی ترغیب دی ہے اور مکہ اور مدینہ کے عالموں کے اجماع کا بیان
Sahih Bukhari
39
(20) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.): “No person has more Ghaira than Allah.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ” اللہ سے زیادہ غیرتمند اور کوئی نہیں “ ۔
Sahih Bukhari
40
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “... They want to change Allah's Words...” (V.48:15)
اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن انبیاء اور دوسرے لوگوں سے کلام کرنا برحق ہے ۔
Sahih Bukhari
41
Chapter: Clarifying the words of the prophet (saws): Insulting A Muslim is an evil action and fighting him is disbelief (Kufr)
نبی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا فرمان ہے : ’’ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے ‘‘
Sahih Muslim
42
Chapter: The Saying of the prophet (saws): Whoever bears weapons against us is not one of us.
نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کافرمان :’’ جس نے ہمارے خلاف اسلحہ اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ‘‘
Sahih Muslim
43
Chapter: The Saying of the prophet (saws): Whoever deceives us is not one of us.
نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا فرمان :’’ جس نے ہمیں دھوکا دیا ، وہ ہم میں سے نہیں ‘‘
Sahih Muslim
44
Chapter: Obligation of believing that the message of our Prophet Muhammad (saws) is for all people, and the abrogation of all other religions
اس بات پر ایمان واجب ہے کہ ہمارے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ تمام انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور آپ کی شریعت کے ذریعے سے باقی سب شریعتیں منسوخ کر دی گئیں
Sahih Muslim
45
Chapter: The Meaning of the Saying of Allah, The Mighty and Sublime: And indeed he saw him at a second descent (another time) ; And did the prophet (saws) see his lord on the night of the Isra?
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کاقول ہے :’’ وہ نور ہے ، میں اسے کہاں سے دیکھوں !‘‘ ایک اور قول ہے :’’ میں نے نور دیکھا‘‘
Sahih Muslim
46
Chapter: The saying of the Prophet (saws): Light, How could I see Him? and: I saw Light
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا فرمان:’’ اللہ نہیں سوتا اور یہ کہ اس کا حجاب نو ر ہے ، اگر وہ اس (حجاب) کو ہٹا دے تو اس کے رخ انور کی تجلیات اس کے منتہائے نظر تک ساری مخلوقات کو راکھ کر دیں ‘‘
Sahih Muslim
47
Chapter: It Is Recommended For The One Who Hears The Mu'adhdhin To Repeat His Words, Then To Send Salat Upon The Prophet (saws) And Ask Allah To Grant Him Al-Wasilah
اذان) سننے والے کے لیے مؤذن کے مانند کلمات کہنا مستحب ہے، پھر وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ پر درود پڑھے، پھر اللہ سے آپ کے لیے وسیلہ مانگے
Sahih Muslim
48
Chapter: Sending Salat Upon The Prophet (saws) After The Tashah-hud
تشہد (کے الفاظ کہنے) کے بعد نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ پر درود پڑھنا
Sahih Muslim
49
Chapter: Night prayers and the number of rak`ah offered by the Prophet (saws) at night, and that Witr is one rak`ah, and a one-rak`ah prayer is correct
رات کی نماز ‘رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی رات کی (نماز کی)رکعتوں کی تعداد اور اس بات کا بیان کہ وتر ایک رکعت ہے اور ایک رکعت صحیح نماز ہے
Sahih Muslim
50
Chapter: The prophet (saws) asked his Lord for permission to visit the grave of his mother
بنی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا اپنے رب سے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کے لیے اجازت مانگنا
Sahih Muslim
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,926
Sahih Muslim
205
وَحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
Imam Muslim has reported this hadith by Hasan b. 'Ali al-Halwani and other traditions.
صفوان بن سلیم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عطاء بن یسار سے اور حمید بن عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہون نے نبی ﷺ سے یہ روایت بیان کی ۔
Sahih Muslim
393
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَأَمَّكُمْ؟
It is narrated on the authority of Abu Huraira that he heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: What would you do when the son of Mary would descend and lead you?
ابن شہاب کے بھتیجے نے اپنے چچا ( ابن شہاب ) کے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے یہ روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تم کیسے ہو گے جب مریم کے بیٹے تمہارے درمیان اتریں گے اور تمہاری پیشوائی کریں گے ؟ ‘ ‘ ( جب امامت کرائیں گے تو بھی امت کے ایک فرد کی حیثیت سے کرائیں گے ۔ )
Sahih Muslim
563
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، ح وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
It has been transmitted by Abu Huraira and Abu Sa'id al-Khudri (both of them the reputed Companions of the Holy Prophet) that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said like that.
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو ادریس خولانی نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ اور حضرت ابوسعیدخدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ دونوں سے سنا کہہ رہے تھے : رسول اللہ نے فرمایا...... اسی ( پچھلی حدیث کی ) طرح ۔
Sahih Muslim
1226
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَبَا سَعِيدٍ، أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ
Abu Huraira and Abu Sa'id narrated that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) saw sputum, and the rest of the hadith is the same.
( سفیان کے بجائے ) یونس اور ابراہیم نے ابن شہاب سے ، انھوں نے حمید بن عبدالرحمن سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ اور ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہما دونوں نے انھیں خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے بلغم ملا تھوک دیکھا ........ ( ٖآگے ) ابن عینہ کی حدیث کے مانند ہے ۔
Sahih Muslim
6142
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ، إِذْ قَالَ: {رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى، قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي} [البقرة: 260]، وَيَرْحَمُ اللهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ لَبْثِ يُوسُفَ لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: We have more claim to doubt than Ibrahim (peace be upon him) when he said, My Lord, show me how thou wilt quicken the dead. He said: Believeth thou not? He said: Yes, but that my heart rest at ease (the Holy Qur'an. 260). May Lord have mercy on Lot that he wanted a strong support and had I stayed in the prison as long as Yusuf stayed I would have responded to him who invited me.
یو نس نے ابن شہاب سے خبر دی ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہم حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کی نسبت شک کرنے کے زیادہ حق دار تھےجب انھوں نے کہا تھا : اے میرے رب! مجھے دکھا تو کس طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے ۔ اللہ نے ان سے پو چھا : کیا آپ کو یقین نہیں ؟تو انھوں نے کہا : کیوں نہیں ! مگر صرف اس لیے ( دیکھنا چاہتا ہوں ) کہ میرے دل کو مزید اطمینان ہو جا ئے ۔ اور اللہ تعا لیٰ حضرت لوط علیہ السلام پر رحم کرے !وہ ایک مضبوط سہارے کی پناہ لیتے تھے ۔ اور اگر میں قید خانے میں اتنا لمبا عرصہ رہتا جتنا عرصہ حضرت یو سف علیہ السلام رہے تو میں بلا نے والے کی بات مان لیتا ( بلاوا ملتے ہی جیل سے باہر آجا تا ۔ )
Sunnan Abu Dawood
1013
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ بَلَغَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏بِهَذَا الْخَبَرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَلَمْ يَسْجُدِ السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تُسْجَدَانِ إِذَا شَكَّ حَتَّى لَقَاهُ النَّاسُ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ:‏‏‏‏ وَأَخْبَرَنِي بِهَذَا الْخَبَرِ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،‏‏‏‏وَالْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَن أَبِيه جَمِيعًا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ سَجَدَ السَّجْدَتَيْنِ . قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَرَوَاهُ الزُّبَيْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ فِيهِ:‏‏‏‏ وَلَمْ يَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ .
Ibn Shihab (al-Zuhr) reported on the authority of Abu Bakr bin Sulaiman bin Abi Hathmah that the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم did not make two prostrations when are made when one is doubtful until the people met him. Abu Dawud said; this tradition has also been transmitted by al-Zahidi from al-zuhr from Abu Bakr bin Sulaiman bin Abi HAthman from thre prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. This version goes: he did not make two prostrations on account of forgetfulness.
ابن شہاب سے روایت ہے کہ ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ نے انہیں خبر دی کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سجدوں کو جو شک کی وجہ سے کئے جاتے ہیں نہیں کیا یہاں تک کہ لوگوں نے آپ کو ان کی یاددہانی کرائی۔ ابن شہاب کہتے ہیں: اس حدیث کی خبر مجھے سعید بن مسیب نے ابوہریرہ کے واسطے سے دی ہے، نیز مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن، ابوبکر بن حارث بن ہشام اور عبیداللہ بن عبداللہ نے بھی خبر دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یحییٰ بن ابوکثیر اور عمران بن ابوانس نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے اور علاء بن عبدالرحمٰن نے اپنے والد سے روایت کیا ہے اور ان سبھوں نے اس واقعہ کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے لیکن اس میں انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ آپ نے دو سجدے کئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زبیدی نے زہری سے، زہری نے ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے اور ابوبکر بن سلیمان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ آپ نے سہو کے دونوں سجدے نہیں کئے۔
Sunnan Abu Dawood
4505
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي أَبِي، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي يَحْيَى. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِيأَبُو دَاوُدَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ:‏‏‏‏ إِمَّا أَنْ يُودَى، ‏‏‏‏‏‏أَوْ يُقَادَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شَاةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْتُبْ لِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الْعَبَّاسُ:‏‏‏‏ اكْتُبُوا لِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اكْتُبُوا لِأَبِي شَاةٍ ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ اكْتُبُوا لِي يَعْنِي خُطْبَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Narrated Abu Hurairah: When Makkah was conquered, the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم got up and said: If a relative of anyone is killed, he will have a choice between two: he (the slayer) will either pay the blood-wit or he will be killed. A man of the Yemen called Abu Shah stood up and said: Write for me, Messenger of Allah. The narrator al-Abbas (b. al-Walid) said: Write to me, (you people). The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: Write (you people), for Abu Shah. These are the wordings of the tradition of Ahmad. Abu Dawud said: Write (you people), for me, that is, the address of the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا: جس کا کوئی قتل کیا گیا تو اسے اختیار ہے یا تو دیت لے لے، یا قصاص میں قتل کرے یہ سن کر یمن کا ایک شخص کھڑا ہوا جسے ابوشاہ کہا جاتا تھا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے یہ لکھ دیجئیے ( عباس بن ولید کی روایت «اکتب لی» کے بجائے «اکتبوا لی» یہ صیغۂ جمع ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو شاہ کے لیے لکھ دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «اکتبوا لی» سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ ہے۔
Jam e Tirmazi
316
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي أُمَامَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي ذَرٍّ،‏‏‏‏ وَكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، نَحْوَ رِوَايَةِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَصْحَابِنَا، ‏‏‏‏‏‏اسْتَحَبُّوا إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ الْمَسْجِدَ أَنْ لَا يَجْلِسَ حَتَّى يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُ عُذْرٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ خَطَأٌ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي بِذَلِكَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ.
Abu Qatadah narrated that : Allah's Messenger said: When one of you comes to the Masjid, then let him perform two Rak'ah before sitting.
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد آئے تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوقتادہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن عجلان اور دیگر کئی لوگوں نے عامر بن عبداللہ بن زبیر سے بھی یہ حدیث روایت کی ہے جیسے مالک بن انس کی روایت ہے، ۳- سہیل بن ابی صالح ۲؎ نے یہ حدیث بطریق: «عامر بن عبد الله بن الزبير عن عمرو بن سليم الزرقي عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے روایت کی ہے، ۴ - یہ حدیث غیر محفوظ ہے اور صحیح ابوقتادہ کی حدیث ہے، اس باب میں جابر، ابوامامہ، ابوہریرہ، ابوذر اور کعب بن مالک سے بھی احادیث آئی ہیں، ہمارے اصحاب کا عمل اسی حدیث پر ہے: انہوں نے مستحب قرار دیا ہے کہ جب آدمی مسجد میں داخل ہو تو جب تک دو رکعتیں نہ پڑھ لے، نہ بیٹھے الا یہ کہ اس کے پاس کوئی عذر ہو، ۵- علی بن مدینی کہتے ہیں: سہیل بن ابی صالح کی حدیث میں غلطی ہوئی ہے۔
Jam e Tirmazi
1211
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحَرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ، ‏‏‏‏‏‏قُلْنَا:‏‏‏‏ مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ الْمَنَّانُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي أُمَامَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Abu Dharr: That the Prophet (ﷺ) said: There are three whom Allah will not look at on the Day of Judgement, nor will He purify them, and theirs is a painful punishment. We said: Who are they O Messenger of Allah ? For they have indeed failed and are lost! He sai: The Mannan, the one whose Izar hangs (below the ankels) and the one who promotes his merchandise with false oath. [He said:] There are narrations on this topic from Ibn Mas'ud, Abu Hurairah, Abu Umamah bin Tha'labah, 'Imran bin Husain, and Ma'qil bin Yasar [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Abu Dharr is a Hasan Sahih Hadith.
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین لوگ ایسے ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ ( رحمت کی نظر سے ) نہیں دیکھے گا، نہ انہیں ( گناہوں سے ) پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا“، ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ یہ تو نقصان اور گھاٹے میں رہے، آپ نے فرمایا: ”احسان جتانے والا، اپنے تہبند ( ٹخنے سے نیچے ) لٹکانے والا ۱؎ اور جھوٹی قسم کے ذریعہ اپنے سامان کو رواج دینے والا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوذر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابوہریرہ، ابوامامہ بن ثعلبہ، عمران بن حصین اور معقل بن یسار رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔