TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Chapter: Expiation must be offered by one who declares his wife to be unlawful for him but does not intend divorce thereby - جس نے اپنی بیوی کو حرام ٹھہرالیااور طلاق کی نیت نہ کی اس پرکفارہ واجب ہے - The book of divorce - Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Chapter 3 of The book of divorce in Sahih Muslim. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 9 · 5 Hadith
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي الدَّسْتَوَائِيَّ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْحَرَامِ: «يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا»، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ} [الأحزاب: 21] حَسَنَةٌ
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported about (declaring of one's woman) unlawful as an oath which must be atoned, and Ibn 'Abbas said: Verily, there is in the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) a model pattern for you.
ہشام ، یعنی دستوائی ( کپڑے والے ) سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے یحییٰ بن کثیر نے یعلیٰ بن حکیم سے حدیث بیان کرتے ہوئے لکھ بھیجا ، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، وہ ( بیوی کو اپنے اوپر ) حرام کرنے کے بارے میں کہا کرتے تھے : یہ قسم ہے جس کا وہ کفارہ دے گا ۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : "" یقینا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی زندگی ) میں بہترین نمونہ ہے
3676
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: «إِذَا حَرَّمَ الرَّجُلُ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ، فَهِيَ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا»، وَقَالَ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ} [الأحزاب: 21] حَسَنَةٌ
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported: When a man declares his wife unlawful for himself that is an oath which must be atoned, and he said: There is in the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) a noble pattern for you.
معاویہ بن سلام نے ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث بیان کی کہ یعلیٰ بن حکیم نے انہیں خبر دی ، انہیں سعید بن جبیر نے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا : انہوں نے کہا : جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لے تو یہ قسم ہے جس کا وہ کفارہ دے گا ، اور کہا : " بلاشبہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی زندگی ) میں بہترین نمونہ ہے
3677
Sahih
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ، يُخْبِرُ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ، تُخْبِرُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا، قَالَتْ: فَتَوَاطَأْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا، فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَلَنْ أَعُودَ لَهُ»، فَنَزَلَ: {لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ} [التحريم: 1] إِلَى قَوْلِهِ: {إِنْ تَتُوبَا} [التحريم: 4] لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ، {وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا} [التحريم: 3]، لِقَوْلِهِ: «بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا
A'isha (Allah be pleased with her) narrated that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to spend time with Zainab daughter of Jahsh and drank honey at her house. She ('A'isha further) said: I and Hafsa agreed that one whom Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) would visit first should say: I notice that you have an odour of the Maghafir (gum of mimosa). He (the Holy Prophet) visited one of them and she said to him like this, whereupon he said: I have taken honey in the house of Zainab bint Jabsh and I will never do it again. It was at this (that the following verse was revealed): 'Why do you hold to be forbidden what Allah has made lawful for you... (up to). If you both ('A'isha and Hafsa) turn to Allah up to: And when the Prophet confided an information to one of his wives (lxvi. 3). This refers to his saying: But I have taken honey.
عبید بن عمیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، وہ بتا رہی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے ہاں ٹھہرتے اور ان کے پاس سے شہد نوش فرماتے تھے : کہا : میں اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے اتفاق کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( پہلے ) تشریف لائیں ، وہ کہے : مجھے آپ سے مغافیر کی بو محسوس ہو رہی ہے ۔ کیا آپ نے مغافیر کھائی ہے؟آپ ان میں سے ایک کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کے سامنے یہی بات کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلکہ میں نے زینب بنت حجش کے ہاں سے شہد پیا ہے ۔ اور آئندہ ہرگز نہیں پیوں گا ۔ " اس پر ( قرآن ) نازل ہوا : " آپ کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے " اس فرمان تک : " اگر تم دونوں توبہ کرو ۔ " ۔ ۔ یہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہا کے لیے کہا گیا ۔ ۔ " اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی سے راز کی بات کہی " اس سے مراد ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ) ہے : " بلکہ میں نے شہد پیا ہے <انڈر لائن > </انڈر لائن >
3678
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ، فَكَانَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ دَارَ عَلَى نِسَائِهِ، فَيَدْنُو مِنْهُنَّ، فَدَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ، فَاحْتَبَسَ عِنْدَهَا أَكْثَرَ مِمَّا كَانَ يَحْتَبِسُ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ، فَقِيلَ لِي: أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةٌ مِنْ قَوْمِهَا عُكَّةً مِنْ عَسَلٍ، فَسَقَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ شَرْبَةً، فَقُلْتُ: أَمَا وَاللهِ لَنَحْتَالَنَّ لَهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَوْدَةَ، وَقُلْتُ: إِذَا دَخَلَ عَلَيْكِ، فَإِنَّهُ سَيَدْنُو مِنْكِ، فَقُولِي لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ: «لَا»، فَقُولِي لَهُ: مَا هَذِهِ الرِّيحُ؟ وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ أَنْ يُوجَدَ مِنْهُ الرِّيحُ، فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ: «سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ»، فَقُولِي لَهُ: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، وَسَأَقُولُ ذَلِكِ لَهُ، وَقُولِيهِ أَنْتِ يَا صَفِيَّةُ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى سَوْدَةَ قَالَتْ: تَقُولُ سَوْدَةُ: وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ كِدْتُ أَنْ أُبَادِئَهُ بِالَّذِي قُلْتِ لِي، وَإِنَّهُ لَعَلَى الْبَابِ فَرَقًا مِنْكِ، فَلَمَّا دَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ قَالَ: «لَا»، قَالَتْ: فَمَا هَذِهِ الرِّيحُ؟ قَالَ: «سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ»، قَالَتْ: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيَّ، قُلْتُ لَهُ: مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَى صَفِيَّةَ، فَقَالَتْ بِمِثْلِ ذَلِكَ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَا أَسْقِيكَ مِنْهُ؟ قَالَ: «لَا حَاجَةَ لِي بِهِ»، قَالَتْ: تَقُولُ سَوْدَةُ: سُبْحَانَ اللهِ، وَاللهِ لَقَدْ حَرَمْنَاهُ، قَالَتْ: قُلْتُ لَهَا: اسْكُتِيقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، بِهَذَا سَوَاءً.
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported about (declaring of one's woman) unlawful as an oath which must be atoned, and Ibn 'Abbas said: Verily, there is in the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) a model pattern for you.
ابواسامہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میٹھی چیز اور شہد کو پسند فرماتے تھے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تو اپنی تمام ازواج کے ہاں چکر لگاتے اور ان کے قریب ہوتے ، ( ایسا ہوا کہ ) آپ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تو ان کے ہاں آپ اس سے زیادہ ( دیر کے لیے ) رکے جتنا آپ ( کسی بیوی کے پاس ) رکا کرتے تھے ۔ ان ( حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا ) کو ان کے خاندان کی کسی عورت نے شہد کا ( بھرا ہوا ) ایک برتن ہدیہ کیا تھا تو انہوں نے اس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد پلایا ۔ میں نے ( دل میں ) کہا : اللہ کی قسم! ہم آپ ( کو زیادہ دیر قیام سے روکنے ) کے لیے ضرور کوئی حیلہ کریں گی ، چنانچہ میں نے اس بات کا ذکر حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے کیا ، اور کہا : جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے ہاں تشریف لائیں گے تو تمہارے قریب ہوں گے ، ( اس وقت ) تم ان سے کہنا : اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھائی ہے؟ وہ تمہیں جواب دیں گے ، نہیں! تو تم ان سے کہنا : یہ بو کیسی ہے؟ ۔ ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بات انتیائی گراں گزرتی تھی کہ آپ سے بو محسوس کی جائے ۔ ۔ اس پر وہ تمہیں جواب دیں گے : مجھے حفصہ نے شہد پلایا تھا ، تو تم ان سے کہنا ( پھر ) اس کی مکھی نے عرفط ( بوٹی ) کا رس چوسا ہو گا ۔ میں بھی آپ سے یہی بات کہوں گی اور صفیہ تم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی کہنا! جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے ، ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : سودہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! آپ ابھی دروازے پر ہی تھے کہ میں تمہاری ملامت کے ر سے آپ کو بلند آواز سے وہبات کہنے ہی لگی تھی جو تم نے مجھ سے کہی تھی ، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریب ہوئے تو حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" نہیں ۔ "" انہوں نے کہا : تو یہ بو کیسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" مجھے حفصہ نے شہد پلایا تھا ۔ "" انہوں نے کہا : پھر اس کی مکھی نے عرفط کا رس چوسا ہو گا ۔ اس کے بعد جب آپ میرے ہاں تشریف لائے ، تو میں نے بھی آپ سے یہی بات کہی ، پھر آپ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے ، تو انہوں نے بھی یہی بات کہی ، اس کے بعد آپ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ( دوبارہ ) تشریف لائے تو انہوں نے عرض کی : کیا آپ کو شہد پیش نہ کروں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" نہیں ، مجھے اس کی ضرورت نہیں ۔ "" ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : سودہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں ، سبحان اللہ! اللہ کی قسم! ہم نے آپ کو اس سے محروم کر دیا ہے ۔ تو میں نے ان سے کہا : خاموش رہیں ۔ ابواسحاق ابراہیم نے کہا : ہمیں حسن بن بشر بن قاسم نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں ابواسامہ نے بالکل اسی طرح حدیث بیان کی
3679
Sahih
وحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported: When a man declares his wife unlawful for himself that is an oath which must be atoned, and he said: There is in the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) a noble pattern for you.
علی بن مسہر نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی
3680
Sahih

Chapters

9
01
Chapter: The prohibition of divorcing a menstruating woman without her consent; If a man breaks this rule, it still counts as a divorce, and he should be ordered to take her back
حائضہ کو اس کی رضا مندی کے بغیر طلاق دینا حرام ہے اور اگر کسینے (اس حکم کی )مخالفت کی تو طلاق واقع ہو جائے گی اور اسے رجوع کرنے کا حکم دیا جائے گا
21 Hadith
02
Chapter: Threefold Divorce
تین طلاقیں
3 Hadith
03
Chapter: Expiation must be offered by one who declares his wife to be unlawful for him but does not intend divorce thereby
جس نے اپنی بیوی کو حرام ٹھہرالیااور طلاق کی نیت نہ کی اس پرکفارہ واجب ہے
5 Hadith
04
Chapter: Giving one's wife the choice does not count as a divorce, unless it is intended as such
طلاق دینے کی نیت کیے بغیر محض بیوی کو اختیار دے دینے سے طلاق واقع نہیں ہو تی
10 Hadith
05
Chapter: Ila', Keeping away from one's wives and giving them the choice, And the saying of Allah, The Most High: But if you help one another against him
ایلاء اور عورتوںسے علیحدگی اختیار کرنا اور انھیں اختیار دینا ‘نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان :’’اور اگر تم دونوں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کروگی ‘‘
6 Hadith
06
Chapter: The woman who has been irrevocably divorced is not entitled to spending
جس عورت کو طلاق بائنہ دی گئی ہو اسے خرچہ نہیں دیا جاتا
24 Hadith
07
Chapter: It is permissible for a woman who is observing 'Iddah after an irrevocable divorce or the death of her husband to go out during the day if she needs to
طلاق بائن کی عدت گزرنے والی اور جس کا شوہر فوت ہوگیا ہو ‘اس کے لیے اپنی کسی ضرورت کے تحت دن کے وقت گھر سے نکلنا جائز ہے
1 Hadith
08
Chapter: The 'Iddah of a woman whose husband had died, and the like, ends when she gives birth.
بیوی ہو یا دوسر ی(مطلقہ )وضع حمل پر اس کی عدت ختم ہو جائے گی
3 Hadith
09
Chapter: The Obligation to mourn during the 'Iddah following the death of one's husband, but it is forbidden to mourn for more than three days in other cases
وفات کی عدت میں سوگ ضروری ہے اس کے علاوہ تین دن سے زیادہ سوگ منانا حرام ہے
18 Hadith
No chapter matched that.