TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of gifts - کتاب: عطیہ کی گئی چیزوں کا بیان - Book 26 of Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Book 26 of Sahih Muslim, with 4 chapters and 41 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

41 Hadith · 4 Chapters
Chapter: It Is Disliked For A Man To Buy What He Gave In Charity From The One To Whom He Gave It
انسان نے جو کچھ صدقہ کیا اس کو اس شخص سے خریدنا مکروہ ہے جس پر وہ صدقہ کیا گیاتھا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ عَتِيقٍ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَأَضَاعَهُ صَاحِبُهُ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ بَائِعُهُ بِرُخْصٍ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: «لَا تَبْتَعْهُ، وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ، فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ
Umar b. Khattab (Allah be pleased with him) reported: I donated a pedigree horse in the path of Allah. Its possessor made it languish. I thought that he would sell it at a cheap price. I asked Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about it, whereupon he said: Don't buy it and do not get back your charity, for one who gets back the charity is like a dog who swallows its vomit.
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے ہمیں حدیث بیان کی : ہمیں مالک بن انس نے زید بن اسلم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے اللہ کی راہ میں ( جہاد کرنے کے لیے کسی کو ) ایک عمدہ گھوڑے پر سوار کیا ( اسے دے دیا ) تو اس کے ( نئے ) مالک نے اسے ضائع کر دیا ( اس کی ٹھیک طرح سے خبر گیری نہ کی ) ، میں نے خیال کیا کہ وہ اسے کم قیمت پر فروخت کر دے گا ، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : اسے مت خریدو اور نہ اپنا ( دیا ہوا ) صدقہ واپس لو کیونکہ صدقہ واپس لینے والا ایسے کتے کی طرح ہے جو قے ( چاٹنے کے لیے ) اس کی طرف لوٹتا ہے
4163
Sahih
Chapter: It Is Disliked For A Man To Buy What He Gave In Charity From The One To Whom He Gave It
انسان نے جو کچھ صدقہ کیا اس کو اس شخص سے خریدنا مکروہ ہے جس پر وہ صدقہ کیا گیاتھا
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ:لَا تَبْتَعْهُ وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ
This hadith has been narrated on the authority of Malik b. Anas with the same chain of transmitters but with this addition: Don't buy that even if he gives you for one dirham.
) عبدالرحمان بن مہدی نے ہمیں مالک بن انس سے اسی سند کے ساتھ ( یہ ) حدیث بیان کی اور اضافہ کیا : اسے مت خریدو ، چاہے وہ اسے تم کو ایک درہم میں دے
4164
Sahih
Chapter: It Is Disliked For A Man To Buy What He Gave In Charity From The One To Whom He Gave It
انسان نے جو کچھ صدقہ کیا اس کو اس شخص سے خریدنا مکروہ ہے جس پر وہ صدقہ کیا گیاتھا
حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَوَجَدَهُ عِنْدَ صَاحِبِهِ وَقَدْ أَضَاعَهُ، وَكَانَ قَلِيلَ الْمَالِ، فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «لَا تَشْتَرِهِ، وَإِنْ أُعْطِيتَهُ بِدِرْهَمٍ، فَإِنَّ مَثَلَ الْعَائِدِ فِي صَدَقَتِهِ، كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ
Zaid b. Aslam reported on the authority of his father that 'Umar (Allah be pleased with him) donated a horse in the path of Allah. He found that it had languished in the hand of its possessor, and he was a man of meagre resources He (Hadrat 'Umar) intended to buy it. He came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and made a mention of that to him, whereupon he said: Don't buy that even if you get it for a dirham for he who gets back the charity is like a dog which swallows its vomit.
روح بن قاسم نے ہمیں زید بن اسلم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا سواری کے طور پر دیا ، تو انہوں نے اسے اس کے مالک کے ہاں اس حال میں پایا کہ اس نے اسے ضائع کر دیا تھا اور وہ تنگ دست تھا ، چنانچہ انہوں ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا : " اسے مت خریدو ، چاہے وہ تمہیں ایک درہم میں دیا جائے ، صدقہ واپس لینے والے کی مثال اس کتے کے جیسی ہے جو اپنی قے میں لوٹ جاتا ہے ( چاٹتا ہے
4165
Sahih
Chapter: It Is Disliked For A Man To Buy What He Gave In Charity From The One To Whom He Gave It
انسان نے جو کچھ صدقہ کیا اس کو اس شخص سے خریدنا مکروہ ہے جس پر وہ صدقہ کیا گیاتھا
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ مَالِكٍ، وَرَوْحٍ أَتَمُّ وَأَكْثَرُ
This hadith has been narrated on the authority of Zaid b. Aslam with the same chain of transmitters but with this (change) that the hadith transmitted on the authority of Malik and Rauh (he was the son of Qisirn) is more complete and lengthy.
فیان نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ، البتہ مالک اور روح کی حدیث زیادہ مکمل اور زیادہ ( مفصل ) ہے
4166
Sahih
Chapter: It Is Disliked For A Man To Buy What He Gave In Charity From The One To Whom He Gave It
انسان نے جو کچھ صدقہ کیا اس کو اس شخص سے خریدنا مکروہ ہے جس پر وہ صدقہ کیا گیاتھا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللهِ فَوَجَدَهُ يُبَاعُ، فَأَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَهُ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: «لَا تَبْتَعْهُ، وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ
Ibn 'Umar reported that 'Umar b. al-Khattib (Allah be pleased with him) donated a horse in the path of Allah and (later on) he found it being sold, and he decided to buy that. He asked the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about it. whereupon he (the Holy prophet) said: Don't buy that and do not get back what you gave in charity.
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا سواری کے طور پر دیا ، پھر انہوں نے اسے اس حالت میں پایا کہ اس کو فروخت کیا جا رہا تھا ، انہوں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے مت خریدو اور ( کبھی ) اپنا صدقہ واپس نہ لو
4167
Sahih
Chapter: It Is Disliked For A Man To Buy What He Gave In Charity From The One To Whom He Gave It
انسان نے جو کچھ صدقہ کیا اس کو اس شخص سے خریدنا مکروہ ہے جس پر وہ صدقہ کیا گیاتھا
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ رُمْحٍ، جَمِيعًا عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وحَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، كِلَاهُمَا عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Umar through another chain of transmitters.
لیث بن سعد اور عبیداللہ دونوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک کی حدیث کی طرح روایت کی
4168
Sahih
Chapter: It Is Disliked For A Man To Buy What He Gave In Charity From The One To Whom He Gave It
انسان نے جو کچھ صدقہ کیا اس کو اس شخص سے خریدنا مکروہ ہے جس پر وہ صدقہ کیا گیاتھا
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ رَآهَا تُبَاعُ، فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهَا، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ يَا عُمَرُ
Salim reported from Ibn Umar (Allah be pleased with them) that 'Umar donated a horse in the path of Allah and then found it being sold, and he decided to buy that. He asked Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) about it, whereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Umar, do not get back what you gave as charity.
سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی راہ میں سواری کے لیے ایک گھوڑا دیا ، پھر انہوں نے اسے دیکھا کہ فروخت کیا جا رہا ہے ۔ تو انہوں نے اس کو خریدنے کا ارادہ کر لیا ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے عمر! اپنا صدقہ واپس مت لو
4169
Sahih
Chapter: The Prohibition Of Taking Back One's Charity After It Has Been Accepted, Except In The Case Of What A Father Gives To A Son Or Grandson
قبضے میں دینے کے بعد صدقہ واپس لینا حرام ہے‘سوائے اس کے جو اپنی اولاد کو دے ‘وہ (اولاد)خواہ نیچے (مثلاً:بوتا وغیرہ )ہو
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَثَلُ الَّذِي يَرْجِعُ فِي صَدَقَتِهِ، كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَقِيءُ، ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ فَيَأْكُلُهُ
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having said this: He who gets back his charity is like a dog which vomits, and then returns to that and eats it.
عیسیٰ بن یونس نے ہمیں خبر دی : ہمیں اوزاعی نے ابوجعفر محمد بن علی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابن مسیب سے ، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " اس شخص کی مثال جو صدقہ واپس لیتا ہے اس کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے ، پھر اپنی قے کی طرف لوٹتا ہے اور کھاتا ہے
4170
Sahih
Chapter: The Prohibition Of Taking Back One's Charity After It Has Been Accepted, Except In The Case Of What A Father Gives To A Son Or Grandson
قبضے میں دینے کے بعد صدقہ واپس لینا حرام ہے‘سوائے اس کے جو اپنی اولاد کو دے ‘وہ (اولاد)خواہ نیچے (مثلاً:بوتا وغیرہ )ہو
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، يَذْكُرُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
This hadith is also reported through another chain.
ابن مبارک نے ہمیں اوزاعی سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے ( ابوجعفر ) محمد بن ( زین العابدین ) علی بن حسین رحمہم اللہ سے سنا ، وہ اسی سند سے اسی طرح بیان کر رہے تھے
4171
Sahih
Chapter: The Prohibition Of Taking Back One's Charity After It Has Been Accepted, Except In The Case Of What A Father Gives To A Son Or Grandson
قبضے میں دینے کے بعد صدقہ واپس لینا حرام ہے‘سوائے اس کے جو اپنی اولاد کو دے ‘وہ (اولاد)خواہ نیچے (مثلاً:بوتا وغیرہ )ہو
وحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو، أَنَّ مُحَمَّدَ ابْنَ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
A hadith like this is reported on the authority of Muhammad son of Fatima (Allah be pleased with her) daughter of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).
یحییٰ بن ابی کثیر نے ہمیں حدیث بیان کی : مجھے عبدالرحمان بن عمرو نے حدیث بیان کی کہ انہیں فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند ( پڑپوتے ) ، محمد ( الباقر ) نے یہ حدیث اسی سند کے ساتھ انہی کی حدیث کی طرح بیان کی
4172
Sahih
Chapter: The Prohibition Of Taking Back One's Charity After It Has Been Accepted, Except In The Case Of What A Father Gives To A Son Or Grandson
قبضے میں دینے کے بعد صدقہ واپس لینا حرام ہے‘سوائے اس کے جو اپنی اولاد کو دے ‘وہ (اولاد)خواہ نیچے (مثلاً:بوتا وغیرہ )ہو
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّمَا مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ، ثُمَّ يَعُودُ فِي صَدَقَتِهِ، كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَقِيءُ، ثُمَّ يَأْكُلُ قَيْئَهُ
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported: I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say: The similitude of one who gives a charity and then gets it back is like that of a dog which vomits and then eats its vomit.
بکیر سے روایت ہے کہ انہوں نے سعید بن مسیب سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : اس شخص کی مثال جو صدقہ کرتا ہے ، پھر اپنے صدقے کو واپس لے لیتا ہےاس کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے پھر اپنی قے کھاتا ہے
4173
Sahih
Chapter: The Prohibition Of Taking Back One's Charity After It Has Been Accepted, Except In The Case Of What A Father Gives To A Son Or Grandson
قبضے میں دینے کے بعد صدقہ واپس لینا حرام ہے‘سوائے اس کے جو اپنی اولاد کو دے ‘وہ (اولاد)خواہ نیچے (مثلاً:بوتا وغیرہ )ہو
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: One who gets back the gift is like one who eats vomit.
شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ سعید بن مسیب سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : اپنے ہبہ کو واپس لینے والا اپنی قے کی طرف لوٹنے والے کی طرح ہے
4174
Sahih
Chapter: The Prohibition Of Taking Back One's Charity After It Has Been Accepted, Except In The Case Of What A Father Gives To A Son Or Grandson
قبضے میں دینے کے بعد صدقہ واپس لینا حرام ہے‘سوائے اس کے جو اپنی اولاد کو دے ‘وہ (اولاد)خواہ نیچے (مثلاً:بوتا وغیرہ )ہو
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
This hadith has been narrated on the authority of Qatada with the same chain of transmitters.
سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی
4175
Sahih
Chapter: The Prohibition Of Taking Back One's Charity After It Has Been Accepted, Except In The Case Of What A Father Gives To A Son Or Grandson
قبضے میں دینے کے بعد صدقہ واپس لینا حرام ہے‘سوائے اس کے جو اپنی اولاد کو دے ‘وہ (اولاد)خواہ نیچے (مثلاً:بوتا وغیرہ )ہو
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ، كَالْكَلْبِ يَقِيءُ، ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ
Abdullah b. Tawus reported on the authority of his father who reported from Ibn Abas (Allah be pleased with them) who reported from Allah's Messenger 'may peace be upon him) that he said: One who gets back his gift is like a dog which vomits and then swallows that vomit.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " اپنا ہبہ واپس لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے ، پھر اپنی قے کی طرف لوٹتا ہے
4176
Sahih
Chapter: It Is Disliked To Favor Some Of One's Children Over Others In Gift-Giving
اولاد میں سے کسی کو تحفہ دینے میں فوقیت دینا نا پسندیدہ ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، يُحَدِّثَانِهِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا كَانَ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ مِثْلَ هَذَا؟» فَقَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَارْجِعْهُ»
Nu'man b. Bashir reported that his father brought him to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: I have donated this slave of mine to my son. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Have you donated to every one of your sons (a slave) like this? He said: No. Thereupon Allah's Messenger (may peace he upon him) said: Then take him back.
امام مالک نے ابن شہاب سے اور انہوں نے حمید بن عبدالرحمان اور محمد بن نعمان بن بشیر سے روایت کی ، وہ دونوں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے کہا : ان کے والد انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا : میں نے اپنے اس بیٹے کو غلام تحفے میں دیا ہے جو میرا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم نے اپنے سب بچوں کو اس جیسا تحفہ دیا ہے؟ " انہوں نے کہا : نہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے واپس لو
4177
Sahih
Chapter: It Is Disliked To Favor Some Of One's Children Over Others In Gift-Giving
اولاد میں سے کسی کو تحفہ دینے میں فوقیت دینا نا پسندیدہ ہے
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: أَتَى بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا، فَقَالَ: «أَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَارْدُدْهُ»
Nu'man b. Bashir reported: My father brought me to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: I have donated this slave to my son. whereupon he said: Have you made (such) donation to every one or your sons? He said: No. Thereupon he (the-Holy Prophet) said: Then take him back.
ابراہیم بن سعد نے ہمیں ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن اور محمد بن نعمان سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے والد مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا : میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام تحفے میں دیا ہے ۔ تو آپ نے پوچھا : " کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو ( ایسا ) تحفہ دیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : " اسے واپس لو
4178
Sahih
Chapter: It Is Disliked To Favor Some Of One's Children Over Others In Gift-Giving
اولاد میں سے کسی کو تحفہ دینے میں فوقیت دینا نا پسندیدہ ہے
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَابْنُ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَمَّا يُونُسُ، وَمَعْمَرٌ، فَفِي حَدِيثِهِمَا: «أَكُلَّ بَنِيكَ»، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ، وَابْنِ عُيَيْنَةَ: «أَكُلَّ وَلَدِكَ»، وَرِوَايَةُ اللَّيْثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ بَشِيرًا، جَاءَ بِالنُّعْمَانِ
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with different chains of transmitters and a slight variation of words.
) ابن عیینہ ، لیث بن سعد ، یونس اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، البتہ یونس اور معمر کی حدیث میں " تمام بیٹوں کو " کے الفاظ ہیں اور لیث اور ابن عیینہ کی حدیث میں " تمام اولاد کو " ہے اور محمد بن نعمان اور حمید بن عبدالرحمان سے روایت کردہ لیث کی روایت ( یوں ) ہے کہ حضرت بشیر رضی اللہ عنہ ( اپنے بیٹے ) نعمان رضی اللہ عنہ کو لے کر آئے
4179
Sahih
Chapter: It Is Disliked To Favor Some Of One's Children Over Others In Gift-Giving
اولاد میں سے کسی کو تحفہ دینے میں فوقیت دینا نا پسندیدہ ہے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ، قَالَ: وَقَدْ أَعْطَاهُ أَبُوهُ غُلَامًا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا هَذَا الْغُلَامُ؟» قَالَ: أَعْطَانِيهِ أَبِي، قَالَ: «فَكُلَّ إِخْوَتِهِ أَعْطَيْتَهُ كَمَا أَعْطَيْتَ هَذَا؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَرُدَّهُ
Nu'man b. Bashir reported that his father had donated a slave to him. Allah's Apostle (may peace he upon him) said: Who is this slave (how have you come to possess it)? Thereupon he (Nu'man b. Bashir) said: My father has donated it to me, whereupon he said: Have all brothers (of yours) been given this gift as given to you? He said: No. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Then return him.
عروہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہمیں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ان کے والد نے انہیں ایک غلام دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : " یہ کیسا غلام ہے؟ " انہوں نے کہا : یہ میرے والد نے مجھے دیا ہے ۔ ( پھر ) آپ نے ( نعمان رضی اللہ عنہ کے والد سے ) پوچھا : " تم نے اس کے تمام بھائیوں کو بھی اسی طرح عطیہ دیا ہے جیسے اس کو دیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : " اسے واپس لو
4180
Sahih
Chapter: It Is Disliked To Favor Some Of One's Children Over Others In Gift-Giving
اولاد میں سے کسی کو تحفہ دینے میں فوقیت دینا نا پسندیدہ ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: تَصَدَّقَ عَلَيَّ أَبِي بِبَعْضِ مَالِهِ، فَقَالَتْ أُمِّي عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ: لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ عَلَى صَدَقَتِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفَعَلْتَ هَذَا بِوَلَدِكَ كُلِّهِمْ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «اتَّقُوا اللهَ، وَاعْدِلُوا فِي أَوْلَادِكُمْ»، فَرَجَعَ أَبِي، فَرَدَّ تِلْكَ الصَّدَقَةَ
Nu'man b. Bashir reported: My father donated to me some of his property. My mother Amra bint Rawaha said: I shall not be pleased (with this act) until you make Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) a witness to it. My father went to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in order to make him the witness of the donation given to me. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to him: Have you done the same with every son of yours? He said: No. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Fear Allah, and observe equity in case of your children. My father returned and got back the gift.
حصین نے شعبی سے ، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے والد نے اپنے مال میں سے مجھے ہبہ کیا ( یہاں صدقہ ہبہ کے معنی میں ہے ) تو میری والدہ عمرہ بنت رواحہ نے کہا : میں راضی نہیں ہوں گی یہاں تک کہ تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا لو ۔ میرے والد مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو مجھ پر کیے گئے صدقہ ( ہبہ ) پر گواہ بنائیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : " کیا تم نے یہ ( سلوک ) اپنے تمام بچوں کے ساتھ کیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم سب اللہ سے ڈرو اور اپنے بچوں کے مابین عدل کرو ۔ " چنانچہ میرے والد واپس آئے اور وہ صدقہ ( ہبہ ) واپس لے لیا
4181
Sahih
Chapter: It Is Disliked To Favor Some Of One's Children Over Others In Gift-Giving
اولاد میں سے کسی کو تحفہ دینے میں فوقیت دینا نا پسندیدہ ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ، أَنَّ أُمَّهُ بِنْتَ رَوَاحَةَ، سَأَلَتْ أَبَاهُ بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ مِنْ مَالِهِ لِابْنِهَا، فَالْتَوَى بِهَا سَنَةً ثُمَّ بَدَا لَهُ، فَقَالَتْ: لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا وَهَبْتَ لِابْنِي، فَأَخَذَ أَبِي بِيَدِي وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أُمَّ هَذَا بِنْتَ رَوَاحَةَ أَعْجَبَهَا أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَى الَّذِي وَهَبْتُ لِابْنِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بَشِيرُ ‍ أَلَكَ وَلَدٌ سِوَى هَذَا؟» قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: «أَكُلَّهُمْ وَهَبْتَ لَهُ مِثْلَ هَذَا؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَلَا تُشْهِدْنِي إِذًا، فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ
Nu'man b. Bashir reported that his mother bint Rawaha asked his (Nu'man's) father about donating some gifts from his property to his son. He deferred the matter by one year, and then set forth to do that. She (Nu'man's mother) said: I shall not be pleased unless you call Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as witness to what you confer as a gift on your son. (Nu'man said): So father took hold of my hand and I was at that time a boy, and came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). and said: Allah's Messenger, the mother of this son (of mine), daughter of Rawaha wishes that I should call you witness to what I confer as gift to her son. Allah's Messenger (may pease be upon him) said: Bashir, have you any other son besides this (son of yours)? He said: Yes. He (the Holy Prophet) said: Have you given gifts to all of them like this? He said: No. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Then call me not as witness, for I cannot be witness to an injustice.
ابوحیان تیمی نے ہمیں شعبی سے حدیث بیان کی : مجھے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ان کی والدہ ، ( عمرہ ) بنت رواحہ نے ان کے والد سے ، ان کے مال میں سے ، اپنے بیٹے کے لیے ( باغ ، زمین وغیرہ ) کچھ ہبہ کیے جانے کا مطالبہ کیا ، انہوں نے اسے ایک سال تک التوا میں رکھا ، پھر انہیں ( اس کا ) خیال آیا تو انہوں ( والدہ ) نے کہا : میں راضی نہیں ہوں گی یہاں تک کہ تم اس پر ، جو تم نے میرے بیٹے کے لیے ہبہ کیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا لو ۔ اس پر میرے والد نے میرا ہاتھ تھاما ، میں ان دنوں بچہ تھا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! اس کی والدہ بنت رواحہ کو یہ پسند ہے کہ میں آپ کو اس چیز پر گواہ بناؤں جو میں نے اس کے بیٹے کو دی ہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : بشیر! کیا اس کے سوا بھی تمہارے بچے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں! آپ نے پوچھا : کیا ان سب میں سے ہر ایک کو تم نے اسی طرح ہبہ کیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیںآپ نے فرمایا : پھر مجھے گواہ نہ بناؤ ، میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا
4182
Sahih