TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of of sacrifices - کتاب: قربانی کے احکام ومسائل - Book 37 of Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Book 37 of Sahih Muslim, with 8 chapters and 63 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

63 Hadith · 8 Chapters
Chapter: The prohibition of eating sacrificial meat for more than three days, which applied at the beginning of Islam but was then abrogated, and now it is permissible to eat it as long as one wants.
ابتدا ئے اسلام میں تین دن کے بعد قربانی کا گو شت کھانے کی ممانعت تھی پھر اسے منسوخ کر کے جب تک چا ہے اس کو کھا نا جا ئز کر دیا گیا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ ثُمَّ قَالَ بَعْدُ كُلُوا وَتَزَوَّدُوا وَادَّخِرُوا
Jabir reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) forbade eating of the flesh of sacrificed animals beyond three (days). but afterwards said: Eat, make a provision, and keep it.
۔ ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت کھا نے سے منع فر ما یا تھا پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فر ما یا : " کھا ؤ اور زاددراہ بنا ؤ اور رکھو ۔ "
5104
Sahih
Chapter: The prohibition of eating sacrificial meat for more than three days, which applied at the beginning of Islam but was then abrogated, and now it is permissible to eat it as long as one wants.
ابتدا ئے اسلام میں تین دن کے بعد قربانی کا گو شت کھانے کی ممانعت تھی پھر اسے منسوخ کر کے جب تک چا ہے اس کو کھا نا جا ئز کر دیا گیا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ كِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كُنَّا لَا نَأْكُلُ مِنْ لُحُومِ بُدْنِنَا فَوْقَ ثَلَاثِ مِنًى فَأَرْخَصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كُلُوا وَتَزَوَّدُوا قُلْتُ لِعَطَاءٍ قَالَ جَابِرٌ حَتَّى جِئْنَا الْمَدِينَةَ قَالَ نَعَمْ
Jabir b. Abdullah reported: We did not eat the flesh of our sacrificial animals beyond three days in Mina. Then Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) permitted us saying: Eat and make it a provision (for journey). I asked 'Ata' whether Jabir had also said: Till we came to Medina. He said: Yes.
۔ ابن جریج نے کہا : ہمیں عطاء نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ( پہلے ) ہم منیٰ کے تین دنوں سے زیادہ اپنے اونٹوں کی قربانیوں کا گوشت نہیں کھاتے تھے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اجازت دے دی اور فرمایا : "" کھاؤ اور ساتھ لے جاؤ ۔ ( اور صدقہ کرو جس طرح دوسری احادیث میں ہے ۔ ) "" میں نے عطاء سے کہا : حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کہا تھا کہ یہاں تک کہ ہم مدینہ آگئے؟ ( مدینہ تک پہنچنے کے آٹھ دنوں تک بطور زاد راہ استعمال کرتے رہے؟ ) انھوں نے کہا : ہاں ۔
5105
Sahih
Chapter: The prohibition of eating sacrificial meat for more than three days, which applied at the beginning of Islam but was then abrogated, and now it is permissible to eat it as long as one wants.
ابتدا ئے اسلام میں تین دن کے بعد قربانی کا گو شت کھانے کی ممانعت تھی پھر اسے منسوخ کر کے جب تک چا ہے اس کو کھا نا جا ئز کر دیا گیا
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا لَا نُمْسِكُ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَزَوَّدَ مِنْهَا وَنَأْكُلَ مِنْهَا يَعْنِي فَوْقَ ثَلَاثٍ
Jabir b. 'Abdullah reported: We did not eat the flesh of sacrificed animals beyond three (days), but then Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) commanded us to make it a provision for journey and cat it (beyond three days).
زید بن ابی انیسہ نے عطاء بن ابی رباح سے ، انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم تین دن سے زیادہ قربانیوں کا گوشت نہیں رکھتے تھے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس میں سے زادراہ بنائیں اور اس سے کھائیں ، یعنی تین سے زیادہ ( دنوں تک )
5106
Sahih
Chapter: The prohibition of eating sacrificial meat for more than three days, which applied at the beginning of Islam but was then abrogated, and now it is permissible to eat it as long as one wants.
ابتدا ئے اسلام میں تین دن کے بعد قربانی کا گو شت کھانے کی ممانعت تھی پھر اسے منسوخ کر کے جب تک چا ہے اس کو کھا نا جا ئز کر دیا گیا
و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا نَتَزَوَّدُهَا إِلَى الْمَدِينَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Jabir reported: We made provision (out of the flesh of sacrificed animals for our journey) to Medina during the lifetime of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).
عمرو ( بن دینار ) نے عطاء سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں قربانیوں کا گوشت زاد راہ کے طور پر مدینہ تک ساتھ لے جاتے تھے ۔
5107
Sahih
Chapter: The prohibition of eating sacrificial meat for more than three days, which applied at the beginning of Islam but was then abrogated, and now it is permissible to eat it as long as one wants.
ابتدا ئے اسلام میں تین دن کے بعد قربانی کا گو شت کھانے کی ممانعت تھی پھر اسے منسوخ کر کے جب تک چا ہے اس کو کھا نا جا ئز کر دیا گیا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ لَا تَأْكُلُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ و قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَشَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ لَهُمْ عِيَالًا وَحَشَمًا وَخَدَمًا فَقَالَ كُلُوا وَأَطْعِمُوا وَاحْبِسُوا أَوْ ادَّخِرُوا قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى شَكَّ عَبْدُ الْأَعْلَى
Abu Sa'id al-Khudri reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having said: O people of Medina, do not eat the flesh of sacrificed animals beyond three days. Ibn al-Muthanni said: Three days. They (the Companions of the Holy Prophet) complained to the Messenger of Allah (may peace he upon him) that they had children and servants of theirs (to feed), whereupon he said: Eat, and feed others, and store, and make it a provision of food.
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں عبدالاعلیٰ نے جریری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابونضرہ سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نیز محمد بن مثنیٰ نے کہا : ہمیں عبدالاعلیٰ نے حدیث بیان کی ، ہمیں سعید نے قتادہ سے ، انھوں نے ابو نضرہ سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا : "" مدینہ والو!قربانیوں کا گوشت تین ( دنوں ۔ راتوں ) سے زیادہ نہ کھاتے رہو ۔ "" ابن مثنیٰ نے ( صراحت سے ) "" تین دن ( سے زیادہ ) "" کہا ۔ صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شکایت کی کہ ہمارے بال بچے اور نوکر چاکر ہیں ۔ آپ نے فرمایا : "" کھاؤ اور کھلاؤ اور روک کر رکھو یا ( فرمایا : ) ذخیرہ کرو ۔ "" ابن مثنیٰ نے کہا : عبدالاعلیٰ کو ( ان دو لفظوں میں ) شک ہے ( کہ آپ نے "" روک کررکھو "" فرمایا ، یا "" ذخیرہ کرو "" فرمایا )
5108
Sahih
Chapter: The prohibition of eating sacrificial meat for more than three days, which applied at the beginning of Islam but was then abrogated, and now it is permissible to eat it as long as one wants.
ابتدا ئے اسلام میں تین دن کے بعد قربانی کا گو شت کھانے کی ممانعت تھی پھر اسے منسوخ کر کے جب تک چا ہے اس کو کھا نا جا ئز کر دیا گیا
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ فَلَا يُصْبِحَنَّ فِي بَيْتِهِ بَعْدَ ثَالِثَةٍ شَيْئًا فَلَمَّا كَانَ فِي الْعَامِ الْمُقْبِلِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفْعَلُ كَمَا فَعَلْنَا عَامَ أَوَّلَ فَقَالَ لَا إِنَّ ذَاكَ عَامٌ كَانَ النَّاسُ فِيهِ بِجَهْدٍ فَأَرَدْتُ أَنْ يَفْشُوَ فِيهِمْ
Salama b. al-Akwa' reported Allah's Messenger (way peace be upon him) having said: He who sacrifices (animal) among you nothing should be left in his house (out of its flesh) on the morning of the third day. When it was the next year they (his Companions) said: Should we do this year as we did daring the previous year? Thereupon he said: Don't do that, for that was a year when the people were hard pressed (on account of poverty). so I wanted that the (flesh) might be distributed amongst them.
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے جو شخص قربانی کرے تو تین دن کے بعد اس کے گھر میں ( اس گوشت میں سے ) کوئی چیز نہ رہے ۔ " جب اگلے سال ( میں عید کادن ) آیاتو صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا ہم اسی طرح کریں جس طرح پچھلے سال کیاتھا؟آپ نے فرمایا : " نہیں ، وہ ایسا سال تھا کہ اس میں لوگ سخت ضرورت مند تھے تو میں نے چاہا کہ ( قربانی کا گوشت ) ان میں پھیل ( کر ہر ایک تک پہنچ ) جائے ۔ "
5109
Sahih
Chapter: The prohibition of eating sacrificial meat for more than three days, which applied at the beginning of Islam but was then abrogated, and now it is permissible to eat it as long as one wants.
ابتدا ئے اسلام میں تین دن کے بعد قربانی کا گو شت کھانے کی ممانعت تھی پھر اسے منسوخ کر کے جب تک چا ہے اس کو کھا نا جا ئز کر دیا گیا
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِيَّتَهُ ثُمَّ قَالَ يَا ثَوْبَانُ أَصْلِحْ لَحْمَ هَذِهِ فَلَمْ أَزَلْ أُطْعِمُهُ مِنْهَا حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ
Thauban reported that Allah's Messenger (way peace be upon him) slaughtered his sacrificial animal and then said: Thauban, make his meat usable (for journey), and I continuously served him that until he arrived in Medina.
معن بن عیسیٰ نے کہا : ہمیں معاویہ بن صالح نے ابوزاہریہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے جبیر بن نفیر سے ، انھوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنے قربانی کے جانوروں میں سے ) قربانی کا ایک جانور ذبح کرکے فرمایا : "" ثوبان! اس کے گوشت کو درست کرلو ( ساتھ لے جانے کے لیے تیار کرلو ۔ ) "" پھرمیں وہ گوشت آپ کو کھلاتا رہا یہاں تک کہ آپ مدینہ تشریف لے آئے ۔
5110
Sahih
Chapter: The prohibition of eating sacrificial meat for more than three days, which applied at the beginning of Islam but was then abrogated, and now it is permissible to eat it as long as one wants.
ابتدا ئے اسلام میں تین دن کے بعد قربانی کا گو شت کھانے کی ممانعت تھی پھر اسے منسوخ کر کے جب تک چا ہے اس کو کھا نا جا ئز کر دیا گیا
و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ كِلَاهُمَا عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
This hadith has been narrated on the authority of Mu'awiya b. Salih with the same chain of transmitters.
زید بن حباب اور عبدالرحمان بن مہدی دونوں نے معاویہ بن صالح سے اسی سند کے ساتھ رویت کی ۔
5111
Sahih
Chapter: The prohibition of eating sacrificial meat for more than three days, which applied at the beginning of Islam but was then abrogated, and now it is permissible to eat it as long as one wants.
ابتدا ئے اسلام میں تین دن کے بعد قربانی کا گو شت کھانے کی ممانعت تھی پھر اسے منسوخ کر کے جب تک چا ہے اس کو کھا نا جا ئز کر دیا گیا
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْهِرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَصْلِحْ هَذَا اللَّحْمَ قَالَ فَأَصْلَحْتُهُ فَلَمْ يَزَلْ يَأْكُلُ مِنْهُ حَتَّى بَلَغَ الْمَدِينَةَ
Thauban, the freed slave of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), reported: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to me on the occasion of Hajjat-al-Wada' (the Farewell Pilgrimage): Make the flesh usable. So I made it usable (for him) and he ate it constantly until he reached Medina. This hadith has been narrated on the authority of Yabya b. Hamza with the same chain of transmitters, but he did not say: On the occasion of Hajjat-al-Wada'.
ابو مسہر نے کہا : ہمیں یحییٰ بن حمزہ نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے زبیدی نے عبدالرحمان بن جبیر بن نفیر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر مجھ سے فرمایا : " اس گوشت کو ( ساتھ لے جانے کے لئے ) درست کرلو ۔ " انھوں نے کہا : پھر میں نے اس کو تیار کیا اورآپ اس گوشت کو تناول فرماتے رہے یہاں تک کہ مدینہ پہنچ گئے ۔
5112
Sahih
Chapter: The prohibition of eating sacrificial meat for more than three days, which applied at the beginning of Islam but was then abrogated, and now it is permissible to eat it as long as one wants.
ابتدا ئے اسلام میں تین دن کے بعد قربانی کا گو شت کھانے کی ممانعت تھی پھر اسے منسوخ کر کے جب تک چا ہے اس کو کھا نا جا ئز کر دیا گیا
و حَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَقُلْ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
Same as Hadees 5112
محمد بن مبارک نے کہا : " ہمیں یحییٰ بن حمزہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور " حجۃ الوداع میں " کے الفاظ نہیں کہے ۔ "
5113
Sahih
Chapter: The prohibition of eating sacrificial meat for more than three days, which applied at the beginning of Islam but was then abrogated, and now it is permissible to eat it as long as one wants.
ابتدا ئے اسلام میں تین دن کے بعد قربانی کا گو شت کھانے کی ممانعت تھی پھر اسے منسوخ کر کے جب تک چا ہے اس کو کھا نا جا ئز کر دیا گیا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ أَبِي سِنَانٍ و قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مُحَارِبٍ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ أَبُو سِنَانٍ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ فَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ كُلِّهَا وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا
Abdullah b. Buraida reported on the authority of his father that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said this: I prohibited you from visiting the graves, but (now) you may visit them, and I prohibited you (from eating) the flesh of sacrific- ed animals beyond three days, but now keep it as long as you like. I prohibited you from the use of Nabidh except (that preoared) in dry waterskins. Now drink (Nabidh prepared in any utensil), but do not drink when it becomes intoxicant.
ابو سنان ضرار بن مرہ نے محارب بن دثار سے ، انھوں نے عبداللہ بن بریدہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے ( پہلے ) تم کو قبروں کی زیارت سے منع کیاتھا ، ( اب ) تم زیارت کرلیا کرو اور میں نے ( پہلے ) تم کو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا ، ( اب ) تمہارا جب تک کے لئے جی چاہے قربانی کاگوشت رکھو ۔ اور میں نے تم کو مشک کے علاوہ ( ہر قسم کے برتن میں ) نبیذ پینے سے منع یا تھا ، اب تم ہر طرح کے برتنوں میں پیو اور نشہ آور چیز نہ پیو ۔ "
5114
Sahih
Chapter: The prohibition of eating sacrificial meat for more than three days, which applied at the beginning of Islam but was then abrogated, and now it is permissible to eat it as long as one wants.
ابتدا ئے اسلام میں تین دن کے بعد قربانی کا گو شت کھانے کی ممانعت تھی پھر اسے منسوخ کر کے جب تک چا ہے اس کو کھا نا جا ئز کر دیا گیا
و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي سِنَانٍ
Ibn Buraida, on the authority of his father, reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having said this: I used to forbid you. The rest of the hadith is the same.
علقمہ بن مرثد نے ابن بریدہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے پہلے تمھیں منع کیا تھا ۔ " پھر ابن سنان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
5115
Sahih
Chapter: Fara' and 'Atirah
کسی مادہ جانور کا پہلو ٹھابچہ اور رجب کے شروع میں جانور ذبح کرنا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ زَادَ ابْنُ رَافِعٍ فِي رِوَايَتِهِ وَالْفَرَعُ أَوَّلُ النِّتَاجِ كَانَ يُنْتَجُ لَهُمْ فَيَذْبَحُونَهُ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: (The sacrifice of Fara' and 'Atira) has no (sanction in Islam). Ibn Rafi' made this addition in his narration that Fara' means the first-born young one of a camel.
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی ، ابو بکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے ہمیں سفیان بن عینیہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے زہری سے روایت کی ، انھوں نے سعید ( بن مسیب ) سے ، انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےاور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، نیز محمد بن رافع اور عبد بن حمید نے کہا : ہمیں عبدالرزاق نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی ، انھوں نے ابن مسیب سے ، انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" نہ جانور کا پہلوٹھا بچہ ذبح کرنا ( واجب/جائز ) ہے ، نہ رجب کے شروع میں جانور قربان کرنا درست ہے ۔ "" ابن رافع نے اپنی روایت میں اضافہ کیا : فرع سے مراد پہلوٹھی کا بچہ تھا ، جب وہ جنم پاتا تو وہ اسے ذبح کرتے تھے ۔
5116
Sahih
Chapter: When the first ten days of Dhul-Hijjah begin, it is forbidden for the one who wants to offer a sacrifice to remove anything from his hair, nails or skin
جب ذوالحجہ کا(پہلا) عشرہ شروع ہوجائے تو جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے،اس کے لیے بال اور ناخن کٹوانے کی ممانعت
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دَخَلَتْ الْعَشْرُ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعَرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا قِيلَ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ بَعْضَهُمْ لَا يَرْفَعُهُ قَالَ لَكِنِّي أَرْفَعُهُ
Umm Salama reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having said this: When any one of you intending to sacrifice the animal enters in the month (of Dhu'l-Hijja) he should not get his hair or nails touched (cut). It was said to Sufyan that some of the (scholars) did not deem this hadith to be Maffu'. He said: But I deem it as Marfu' (i. e. chain of narration traceable right up to the Holy Prophet).
ابن ابی عمر مکی نے کہا : ہمیں سفیان نے عبدالرحمان بن حمید بن عبدالرحمان بن عوف سے حدیث سنائی : انھوں نے سعید بن مسیب سے سنا ، وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث روایت کررہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جب عشرہ ( ذوالحجہ ) شروع ہوجائے اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتاہو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ کاٹے ۔ "" سفیان سے کہا گیا کہ بعض راوی اس حدیث کو مرفوعاً ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) بیان نہیں کرتے ( حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا قول بتاتے ہیں ) ، انھوں نے کہا : لیکن میں اس کو مرفوعاً بیان کرتا ہوں ۔
5117
Sahih
Chapter: When the first ten days of Dhul-Hijjah begin, it is forbidden for the one who wants to offer a sacrifice to remove anything from his hair, nails or skin
جب ذوالحجہ کا(پہلا) عشرہ شروع ہوجائے تو جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے،اس کے لیے بال اور ناخن کٹوانے کی ممانعت
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ تَرْفَعُهُ قَالَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَعِنْدَهُ أُضْحِيَّةٌ يُرِيدُ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَأْخُذَنَّ شَعْرًا وَلَا يَقْلِمَنَّ ظُفُرًا
Umm Salama reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: If anyone of you intends to offer sacrifice he should not get his hair cut or nails trimmed.
اسحاق بن ابراہیم نے کہا : سفیان نے ہمیں خبر دی ، کہا : مجھے عبدالرحمان بن حمید بن عبدالرحمان بن عوف نے سعید بن مسیب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مرفوعاً روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب عشرہ ( ذوالحجہ ) شروع ہوجائے تو جس شخص کے پاس قر بانی ہو اور وہ قربانی کرنے کا ارادہ رکھتاہو ، وہ اپنے بال اتارے نہ ناخن تراشے ۔ "
5118
Sahih
Chapter: When the first ten days of Dhul-Hijjah begin, it is forbidden for the one who wants to offer a sacrifice to remove anything from his hair, nails or skin
جب ذوالحجہ کا(پہلا) عشرہ شروع ہوجائے تو جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے،اس کے لیے بال اور ناخن کٹوانے کی ممانعت
و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ
Umm Salama reported (these words) directly from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ): If anyone has in his possession a sacrificial animal to offer as a sacrifice (on 'Id al-Adha), he should not get his hair cut and nails trimmed after he has entered the first days of Dhu'l Hijja
یحییٰ بن کثیر عنبری ابو غسان نے کہا : ہمیں شعبہ نے مالک بن انس سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عمر بن مسلم سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے ، انھوں نے ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کاا رادہ رکھتا ہو ، وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو ( نہ کاٹے ) اپنے حال پر رہنے دے ۔ "
5119
Sahih
Chapter: When the first ten days of Dhul-Hijjah begin, it is forbidden for the one who wants to offer a sacrifice to remove anything from his hair, nails or skin
جب ذوالحجہ کا(پہلا) عشرہ شروع ہوجائے تو جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے،اس کے لیے بال اور ناخن کٹوانے کی ممانعت
و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ الْهَاشِمِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمَرَ أَوْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
This hadith has been narrated on the authority of 'Amr b. Muslim with the same chain of transmitters.
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے مالک بن انس سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے عمر یا عمرو بن مسلم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
5120
Sahih
Chapter: When the first ten days of Dhul-Hijjah begin, it is forbidden for the one who wants to offer a sacrifice to remove anything from his hair, nails or skin
جب ذوالحجہ کا(پہلا) عشرہ شروع ہوجائے تو جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے،اس کے لیے بال اور ناخن کٹوانے کی ممانعت
و حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو اللَّيْثِيُّ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ فَإِذَا أُهِلَّ هِلَالُ ذِي الْحِجَّةِ فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ شَيْئًا حَتَّى يُضَحِّيَ
Umm Salama, the wife of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) to have said: He who has a sacrificial animal with him whom (he intends) to offer as sacrifice, and he enters the month of Dhu'I-Hijja, he should not get his hair cut or nails trimmed until he has sacrificed the animal.
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں محمد بن عمر ولیثی نے عمر بن مسلم بن عمارہ بن اُکیمہ لیثی سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے سعید بن مسیب کو یہ کہتے ہوئے سنا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا ، وہ کہہ رہی تھیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص کے پاس ذ بح کرنے کے لئے کوئی ذبیحہ ہوتو جب ذوالحجہ کا چاند نظر آجائے ، وہ ہرگز اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے ، یہاں تک کہ قربانی کرلے ( پھر بال اور ناخن کاٹے ۔ ) "
5121
Sahih
Chapter: When the first ten days of Dhul-Hijjah begin, it is forbidden for the one who wants to offer a sacrifice to remove anything from his hair, nails or skin
جب ذوالحجہ کا(پہلا) عشرہ شروع ہوجائے تو جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے،اس کے لیے بال اور ناخن کٹوانے کی ممانعت
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَمَّارٍ اللَّيْثِيُّ قَالَ كُنَّا فِي الْحَمَّامِ قُبَيْلَ الْأَضْحَى فَاطَّلَى فِيهِ نَاسٌ فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَمَّامِ إِنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَكْرَهُ هَذَا أَوْ يَنْهَى عَنْهُ فَلَقِيتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي هَذَا حَدِيثٌ قَدْ نُسِيَ وَتُرِكَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مُعَاذٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو
Amr b. Muslim b. 'Ammar al-Laithi reported: While we were in a bathroom just before 'Id al-Adha some of the persons tried to remove the hair with the help of hair-removing chemicals. Thereupon some of the people owning the bath (or some of the people sitting therein) said that Sa'id b. Musayyib did not approve of it, or he prohibited it. Then I met Sa'id b. Musayyib and made a mention of that to him, whereupon he said: O my nephew, this is the hadith which has been forgotten, and abandoned. Umm Salama, the wife of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), narrated to me Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having said as narrated above.
ابواسامہ نے کہا : مجھے محمد بن عمرو نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عمرو بن مسلم بن عمارہ لیثی نے حدیث بیان کی ، کہا : عیدالاضحیٰ سے کچھ پہلے حمام میں تھے ، بعض لوگوں نے چونے سے اپنے بال صاف کیے ، اہل حمام میں سے کسی شخص نے کہا : سعید بن مسیب اس فعل ( عیدالاضحیٰ کی نماز پڑھنے اور قربانی کرنے سے پہلے جسم پر سے بال وغیرہ کاٹنے یا مونڈنے ) کو مکروہ قرار دیتے ہیں یا اس سے منع کرتے ہیں ۔ میری سعید بن مسیب سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا ۔ انھوں نے کہا : بھتیجے!یہ حدیث بھلا دی گئی اور ترک کردی گئی ہے ۔ ، ( یہ پابندی ملحوظ نہیں رکھی جاتی ویسے ) مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ ۔ آگے محمد بن عمر و سے معاذ کی حدیث کےہم معنی حدیث بیان کی ۔
5122
Sahih
Chapter: When the first ten days of Dhul-Hijjah begin, it is forbidden for the one who wants to offer a sacrifice to remove anything from his hair, nails or skin
جب ذوالحجہ کا(پہلا) عشرہ شروع ہوجائے تو جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے،اس کے لیے بال اور ناخن کٹوانے کی ممانعت
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَخِي ابْنِ وَهْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُسْلِمٍ الْجُنْدَعِيِّ أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ وَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ
Amr b. Muslim al-Jundani reported that Ibn Musayyib had told him that it was Umm Salama, the wife of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), who had informed him of that as narrated above.
سعید بن ابی ہلال نے عمرو بن مسلم جندعی سے روایت کی کہ حضرت سعید بن مسیب نے انھیں خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انھیں بتایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیا ( پھر ) ان سب کی حدیث کے ہم معنی ( حدیث بیان کی ۔ )
5123
Sahih

Chapters

8
01
Chapter: The time for sacrifice
قربانی کا وقت
18 Hadith
02
Chapter: The age of sacrificial animals
قربانی کے جا نوروں کی عمریں
5 Hadith
03
Chapter: It is recommended to select a good animal for the sacrifice and to slaughter it oneself, not delegating it to anyone else, and to say the name of Allah, and to say the Takbir
اچھی قربانی کرنا کسی کو وکیل بنا ئے بغیر خود ذبح کرنا مستحب ہے اور بسم اللہ اور تکبیر پڑھنا
5 Hadith
04
Chapter: The permissibility of slaughtering with anything that makes the blood flow, except teeth and other bones
دانت اور ہر قسم کے ہڈی کے سوا ہر تیز چیز سے ،جو خون بہانے والی ہے،ذبح کرنا جائز ہے
5 Hadith
05
Chapter: The prohibition of eating sacrificial meat for more than three days, which applied at the beginning of Islam but was then abrogated, and now it is permissible to eat it as long as one wants.
ابتدا ئے اسلام میں تین دن کے بعد قربانی کا گو شت کھانے کی ممانعت تھی پھر اسے منسوخ کر کے جب تک چا ہے اس کو کھا نا جا ئز کر دیا گیا
19 Hadith
06
Chapter: Fara' and 'Atirah
کسی مادہ جانور کا پہلو ٹھابچہ اور رجب کے شروع میں جانور ذبح کرنا
1 Hadith
07
Chapter: When the first ten days of Dhul-Hijjah begin, it is forbidden for the one who wants to offer a sacrifice to remove anything from his hair, nails or skin
جب ذوالحجہ کا(پہلا) عشرہ شروع ہوجائے تو جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے،اس کے لیے بال اور ناخن کٹوانے کی ممانعت
7 Hadith
08
Chapter: The prohibition of slaughtering a sacrifice for anything other than Allah, and the one who does that is cursed
غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے کی ممانعت اور ذبح کرنے والے پر لعنت
3 Hadith
No chapter matched that.