صحیح مسلم

Sahih Muslim

کتاب: حیض کا معنی و مفہوم

The book of menstruation

خصوصی ایام میں عورت کے لیےجائز ہے کہ وہ اپنے خاوند کا سر دھوئے اور اسے کنگھی کرے، اس کا جھوٹا پا ک ہے ، اس کی گود میں سر رکھنا اور اس (عالم) میں قرآن پڑھنا جائز ہے

Chapter: It is permissible for a menstruating woman to wash her husband’s head, and comb his hair; her leftovers are pure (tahir); and regarding reclining in her lap and reciting Qur’an

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: «إِنْ كُنْتُ لَأَدْخُلُ الْبَيْتَ لِلْحَاجَةِ، وَالْمَرِيضُ فِيهِ، فَمَا أَسْأَلُ عَنْهُ إِلَّا وَأَنَا مَارَّةٌ، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُدْخِلُ عَلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَأُرَجِّلُهُ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ، إِذَا كَانَ مُعْتَكِفًا» وقَالَ ابْنُ رُمْحٍ: إِذَا كَانُوا مُعْتَكِفِينَ

Amra daughter of 'Abd al-Rahman reported: 'A'isha, wife of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed: When I was (in I'tikaf), I entered the house for the call of nature, and while passing I inquired after the health of the sick (in the. family), and when the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was (in I'tikaf), he put out his head towards me, while he himself was in the mosque, and I combed his hair; and he did not enter the house except for the call of nature so long as he was In I'tikaf; and Ibn Rumh stated: As long as they (the Prophet and his wives) were among the observers of I'tikaf.

قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے ، انہوں نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عروہ اور عمرہ بنت عبد الرحمن سے روایت کی کہ رسول اللہﷺکی زوجہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : ( جب میں اعتکاف میں ہوتی تو ) قضائے حاجت کے لیے گھر میں داخل ہوتی ، اس میں کوئی بیمارہوتا تو میں بس گزرتے گزرتے ہی اس سے ( حال ) پوچھ لیتی اوراگر رسول اللہ ﷺ مسجدسے میرے پاس ( حجرے میں ) سر داخل فرماتے تو میں اس میں کنگھی کر دیتی ، جب آپ اعتکاف میں ہوتے تو گھر میں کسی ( حقیقی ) ضرورت کے بغیر داخل نہ ہوتے ۔ ابن رمح نے ( ’’جب آپ ﷺ معتکف ہوتے ‘ ‘ کے بجائے ) ’’جب سب لوگ اعتکاف میں ہوتے ‘ ‘ کہا ۔

وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْرِجُ إِلَيَّ رَأْسَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ، وَهُوَ مُجَاوِرٌ، فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ»

A'isha, the wife of the Apostle (may peace he upon him), reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) put out from the mosque his head for me as he was in I'tikaf, and I washed it in the state that I was menstruating.

محمدبن عبد الرحمن بن نوفل نے عروہ بن زبیر سے ، انہوں نے رسول اللہﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ حالت اعتکاف میں مسجد سے میری طرف سر نکالتے تو میں ایام خصوصی میں ہوتے ہوئے اس کو دھو دیتی ۔

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ هِشَامٍ، أَخْبَرَنَا عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي، فَأُرَجِّلُ رَأْسَهُ وَأَنَا حَائِضٌ»

Urwa reported it from 'A'isha that she observed: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) inclined his head towards me (from the mosque) while I was in my apartment and I combed it in a state of menstruation.

ہشام نے کہا : عروہ بن ہمیں حضرت عائشہ ؓ سے خبر دی کہ انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ ( اعتکاف کی حالت میں ) اپنا سر میرے قریب کر دیتے جبکہ میں اپنے حجرے میں ہوتی اور میں حیض کی حالت میں آپ کے سر میں کنگھی کر دیتی تھی ۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كُنْتُ أَغْسِلُ رَأْسَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِضٌ»

Al-Aswad narrated it from 'A'isha that she observed: I used to wash the head of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), while I was in a state of menstruation.

اسود نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نےکہا : میں ایام مخصوصہ میں رسول اللہ ﷺ کاسر دھودیتی تھی ۔

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، - قَالَ: يَحْيَى، أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ - حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ»، قَالَتْ فَقُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقَالَ: «إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ»

A'isha reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to me: Get me the mat from the mosque. I said: I am menstruating. Upon this he remarked: Your menstruation is not in your hand.

اعمش نے ثابت بن عبید سے ، انہوں نے قاسم بن محمد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، کہا : رسول ا للہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : ’’مجھے مسجد میں سے جائے نماز پکڑا دو ۔ ‘ ‘ کہا : میں نے عرض کی : میں حائضہ ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’تمہار ا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ ‘ ‘

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، وَابْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنَاوِلَهُ الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَقُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقَالَ: «تَنَاوَلِيهَا فَإِنَّ الْحَيْضَةَ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ»

A'isha reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) ordered me that I should get him the mat from the mosque. I said: I am menstruating. He (the Holy Prophet) said: Do get me that, for menstruation is not in your hand.

حجاج اور ابن ابی غنیہ نے ثابت سے ، انہوں نے قاسم بن محمد سے ، انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں مسجدسے آپ کو جائے نماز پکڑا دوں ، میں نےعرض کی : میں حائضہ ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’حیض تمہارےہاتھ میں نہیں ہے ۔ ‘ ‘

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كَامِلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ يَا عَائِشَةُ: نَاوِلِينِي الثَّوْبَ فَقَالَتْ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقَالَ: «إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ» فَنَاوَلَتْهُ

Abu Huraira reported: While the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was in the mosque, he said: O 'A'isha, get me that garment. She said: I am menstruating. Upon this he remarked: Your menstruation is not in your hand, and she, therefore, got him that.

حضرت ابو ہریرہ ﷺ سے روایت ہے ، انہو ں نے کہا : ایک بار رسول اللہ ﷺ مسجد میں موجود تھے تو آپ نے فرمایا : ’’اے عائشہ ! مجھے ( نماز کا ) کپڑا پکڑا دو ۔ ‘ ‘ تو انہوں نے کہا : میں حائضہ ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ ‘ ‘ چنانچہ انہوں نے آپ کو کپڑا پکڑا دیا ۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كُنْتُ أَشْرَبُ وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ أُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ، فَيَشْرَبُ، وَأَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ أُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ» وَلَمْ يَذْكُرْ زُهَيْرٌ فَيَشْرَبُ

A'isha reported: I would drink when I was menstruating, then I would hand it (the vessel) to the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he would put his mouth where mine had been, and drink, and I would eat flesh from a bone when I was menstruating, then hand it over to the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he would put his mouth where mine had been. Zuhair made no mention of (the Holy Prophet's) drinking.

ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں وکیع نے مسعر اور سفیان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے مقدام بن شریح سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں ایام مخصوصہ کے دوران میں پانی پی کر نبی اکرمﷺ کو پکڑا دیتی تو آپ اپنا منہ میرے منہ کی جگہ پر رکھ کر پانی پی لیتے ، اور میں دانتوں کےساتھ ہڈی سےگوشت نوچتی جبکہ میرے مخصوص ایام ہوتے ، پھر وہ ( ہڈی ) نبی ﷺ کو دیتی تو آپ میرے منہ والی جگہ پر اپنا منہ رکھتے ( اور بوٹی توڑتے ۔ ) زہیر نے فیشرب ( پانی پینے ) کا لفظ ذکر نہیں کیا ۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّكِئُ فِي حِجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ، فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ»

A'isha reported: The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) would recline in my lap when I was menstruating, and recite the Qur'an.

صفیہ بنت شیبہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : میں حیض کی حالت میں ہوتی تو رسول اللہ ﷺ میری گود کو تکیہ بناتے اور قرآن پڑھتے

وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ فِيهِمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهَا، وَلَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ فَسَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ} [البقرة: 222] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا النِّكَاحَ» فَبَلَغَ ذَلِكَ الْيَهُودَ، فَقَالُوا: مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ مِنْ أَمْرِنَا شَيْئًا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ، فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ الْيَهُودَ تَقُولُ: كَذَا وَكَذَا، فَلَا نُجَامِعُهُنَّ؟ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا، فَخَرَجَا فَاسْتَقْبَلَهُمَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمَا فَسَقَاهُمَا، فَعَرَفَا أَنْ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا

Thabit narrated it from Anas: Among the Jews, when a woman menstruated, they did not dine with her, nor did they live with them in their houses; so the Companions of the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) asked The Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and Allah, the Exalted revealed: And they ask you about menstruation; say it is a pollution, so keep away from woman during menstruation to the end (Qur'an, ii. 222). The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Do everything except intercourse. The Jews heard of that and said: This man does not want to leave anything we do without opposing us in it. Usaid b. Hudair and Abbad b. Bishr came and said: Messenger of Allah, the Jews say such and such thing. We should not have, therefore, any contactwith them (as the Jews do). The face of the Messenger of Allah (way peace be upon him) underwent such a change that we thought he was angry with them, but when they went out, they happened to receive a gift of milk which was sent to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He (the Holy Prophet) called for them and gave them drink, whereby they knew that he was not angry with them.

حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت ہے کہ یہودی ، جب ان کی کوئی عورت حائضہ ہوتی تو نہ وہ اس کے ساتھ کھانا کھاتے اور نہ اس کے ساتھ گھر ہی میں اکٹھے رہتے ۔ چنانچہ نبی اکرمﷺ کے صحابہ نے آپ سے اس بارے میں پوچھا ، اس پر اللہ تعالیٰ نےآیت تاری : ’’یہ آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں ، آپ فرما دیجیے ، یہ اذیت ( کاوقت ) ہے ، اس لیے محیض ( مقام حیض ) میں عورتوں ( کے ساتھ مجامعت ) سے دور ہو ‘ ‘ آخر تک ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جماع کے سوا سب کچھ کرو ۔ ‘ ‘ یہودیوں تک یہ بات پہنچی تو کہنے لگے : یہ آدمی ہمارے دین کی ہر بات کی مخالفت ہی کرنا چاہتا ہے ۔ ( یہ سن کر ) اسید بن حضیر اور عباد بن بشر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دونوں نے کہا : اے اللہ کے رسول! یہود اس اس طرح کہتے ہیں تو یکا ہم ان ( عورتوں ) سے جماع بھی نہ کر لیا کریں ؟ اس پر رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا حتی کہ ہم نے سمجھا کہ آپ دونوں سے ناراض ہو گئے ہیں ۔ وہ دونوں نکل گئے ، آگے سے رسول اللہ ﷺ کے لیے دودھ کا ہدیہ آرہا تھا ، آپ نے کسی کو ان کے پیچھے بھیجا اور ان کو ( بلواکر ) دودھ پلایا ، وہ سمجھ گئے کہ آپ ان سے ناراض نہیں ہوئے ۔