TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 7064 - Chapter: The Words Of Allah The Most High: And Allah Would Not Punish Them While You Are Amongst Them - Characteristics of the hypocrites and rulings convering them - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
Chapter: The Words Of Allah The Most High: And Allah Would Not Punish Them While You Are Amongst Them
اللہ تعالیٰ کا فرمان : اور اللہ ایسا نہیں کہ وہ ان لوگوں کو عذاب دے جبکہ آپ ان میں موجود ہوں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ الزِّيَادِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ أَبُو جَهْلٍ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنْ السَّمَاءِ أَوْ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ فَنَزَلَتْ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمْ اللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنْ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
Anas b. Malik reported that Abu Jahl said: O Allah, if he is true, then shower upon us the volley of stones from the sky or inflict upon us a grievous torment, and it was on this occasion that this verse was revealed: 'Allah would never torment them so long as you are amongst them. And Allah is not going to torment them as long as they seek forgiveness. And why is it that Allah should not torment them and they prevent people from coming to the sacred mosque.... (viii. 34) to the end.
شعبہ نے عبد الحمید زیادی سے روایت کی انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا : وہ کہہ رہے تھے کہ ابو جہل نے کہا : اے اللہ !اگر ( یہ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں ) یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ ۔ تو اس پر ( آیت ) نازل ہوئی : " اللہ تعالیٰ اس وقت ان پر ( اس طرح کا ) عذاب بھیجنے والا نہ تھا جبکہ آپ بھی ان میں موجود تھے اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے والا نہ تھا جب وہ ( علیحدگی میں ) استغفار کیے جارہے تھے ۔ اور انھیں کیا ہے کہ اللہ انھیں عذاب نہ دےجبکہ وہ ( ایمان لانے والوں کو ) مسجد حرام سے روکتے ہیں ۔ " آیت کے آخرتک ۔
7064
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

1,606
1
(22) CHAPTER. (Allah's Statement): “Not for you (O Muhammad , but for Allah) is the decision; whether He turns in mercy to (pardon) them or punishes them; verily, they are the Zalimun (polytheists, and wrong-doers, disobedients).” (V.3:128)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ” آپ کو اس امر میں کوئی اختیار نہیں ۔ اللہ خواہ ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب کرے پس بیشک وہ ظالم ہیں ۔
Sahih Bukhari
2
Chapter: The Saying of Allah Most High: ... And as for those who can fast with difficulty, they have) a choice either to fast or) to feed a Miskin (poor person) (for every day) is Abrogated by His saying: ... So whoever of you sights (the crescent on the first night of) the month (of Ramadan i.e. is present at his home), he must observe Sawm (fasts) that month ...
اللہ تعالیٰ کا فرمان :’’اور ان لوگوں پرجو اس کی طاقت رکھتے ہیں‘فدیہ ‘ایک مسکین کا کھانا ہے ‘‘اس کے فرمان :’’اور تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پالے وہ اس کے روزے رکھے ‘‘کی بنا پر منسوخ ہو گیا
Sahih Muslim
3
Chapter: The Words Of Allah The Most High: Verily, The Good Deeds Remove The Evil Deeds
اللہ تعالیٰ کا فرمان: نیکیاں گناہوں کو دور کر دیتی ہیں
Sahih Muslim
4
Chapter: The Words Of Allah The Most High: Verily, The Good Deeds Remove The Evil Deeds
اللہ تعالیٰ کا فرمان: نیکیاں گناہوں کو دور کر دیتی ہیں
Sahih Muslim
5
(26) CHAPTER: “Allah will destroy Riba (usury) and will give increase for Sadaqat (deeds of charity, alms). And Allah likes not the disbelievers, sinners!” (V.2:276)
۔ ( سورۃ البقرہ میں ) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ وہ سود کو مٹا دیتا ہے اور صدقات کو دو چند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نہیں پسند کرتا ہر منکر گنہگار کو
Sahih Bukhari
6
(4) CHAPTER. The Statement of Allah: “And Allah would not punish them while you (Muhammad ) are amongst them, nor will He punish them while they seek (Allah's) forgiveness.” (V.8:33)
آیت ( ( وما کان اللہ لیعذبھم ) ) الخ کی تفسیر
Sahih Bukhari
7
(43) CHAPTER. The Statement of Allah: “And it is not lawful for them to conceal what Allah has created in their wombs. (V.2:228)
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ عورتوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ اللہ نے ان کے رحموں میں جو پیدا کر رکھا ہے اسے وہ چھپا رکھیں کہ حیض آتا ہے یا حمل ہے ۔
Sahih Bukhari
8
(4) CHAPTER. Treatment with honey, And the Statement of Allah: Wherein is healing for men. (V.16:69)
شہد کے ذریعہ علاج کرنا اورفضائل شہد میں اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اس میں ( ہر مرض سے ) لوگوں کے لیے شفاء ہے ۔
Sahih Bukhari
9
(69) CHAPTER. The Staement of Allah: “O you who believe! Be afraid of Allah, and be with those who are true (in words and deeds).” (V.9:119) And what is forbidden as regards telling of lies.
اللہ تعالیٰ کا سورۃ الحجرات میں ارشاد فرمانا
Sahih Bukhari
10
(14) CHAPTER.(The Holy Verse) “Allah will not call you to account for that which is unintentional in your oaths ...”
سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ وہ تمہاری لغو قسموں کے بارے میں تم سے پکڑ نہیں کرے گا
Sahih Bukhari
11
(17) CHAPTER. The Statement of Allah: “Not for you (O Muhammad (p.b.u.h.), but for Allah) is the decision…” (V.3:128)
اللہ تعالیٰ کا فرمان سورۃ آلعمران میں کہ اے پیغمبر ! تجھ کو اس کام میں کوئی دخل نہیں آخر آیت تک ۔
Sahih Bukhari
12
(23) CHAPTER. The Statement of Allah: “The angels and the Ruh [Jibril (Gabriel)] ascend to Him...” (V.70:4) The Statement of Allah: To Him ascend (all) the goodly words… (V.35:10)
سورۃ المعارج میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ” فرشتے اور روح القدس اس کی طرف چڑھتے ہیں “ ۔
Sahih Bukhari
13
(26) CHAPTER. The Statement of Allah: “Verily, Allah grasps the heavens and the earth lest they move away from their places…” (V.35:41)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ فاطر میں یہ فرمان کہ بلاشبہ اللہ آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے وہ اپنی جگہ سے ٹل نہیں سکتے ۔
Sahih Bukhari
14
(35) CHAPTER. The Statement of Allah: “... They want to change Allah's Words...” (V.48:15)
اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن انبیاء اور دوسرے لوگوں سے کلام کرنا برحق ہے ۔
Sahih Bukhari
15
(46) CHAPTER. The Statement of Allah: “O Messenger (Muhammad (p.b.u.h.))! Proclaim (the Message) which has been sent down to you from your Lord. And if you do not, then you have not conveyed His Message...” (V.5:67)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ المائدہ میں فرمانا اے رسول ! تیرے پروردگار کی طرف سے جو تجھ پر اترا اس کو لوگوں تک پہنچا دے ۔
Sahih Bukhari
16
Chapter: Regarding the saying of Allah, the most High: And warn your tribe of near kindred.
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں۔
Sahih Muslim
17
Chapter: Clarifying that it does not matter whether the crescent is large or small, for Allah, the Most High, causes it to appear for long enough that people can see it, and if it is cloudy then thirty days should be completed
چاند کے چھوٹے اور بڑے ہونے کا اعتبار نہیں ‘اللہ تعالیٰ نے رؤیت کے لیے اسے بڑا کر دیا اگر اس کو چھپادیا جائے تو تیس (دن )مکمل کیے جائیں
Sahih Muslim
18
Chapter: The Standing and the Saying of Allah, The Most High: Then depart from the place whence all the people depart
وقوف (عرفہ )اور اللہ تعالیٰ کا فرمان :’’پھر تم وہاں سے (طواف کے لیے )چلو جہاں سے دوسرے لوگ چلیں
Sahih Muslim
19
Chapter: Ila', Keeping away from one's wives and giving them the choice, And the saying of Allah, The Most High: But if you help one another against him
ایلاء اور عورتوںسے علیحدگی اختیار کرنا اور انھیں اختیار دینا ‘نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان :’’اور اگر تم دونوں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کروگی ‘‘
Sahih Muslim
20
Chapter: The Jews' Asking The Prophet (SAW) About The Soul, And The Words Of Allah: And They Ask You Concerning The Ruh (The Spirit)
یہودیوں کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے متعلق سوال اور اللہ تعالیٰ کا فرمان : وہ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں
Sahih Muslim
21
Chapter: The Words Of Allah: Verily, Man Does Transgress Because He Considers Himself Self-Sufficient.
اللہ تعالیٰ کا فرمان :یقیناً انسان سرکشی کرتا ہے اس لیے کہ خود کو مستغنی سمجھتا ہے
Sahih Muslim
22
Chapter: Allah's Saying: Has Not The Time Come For The Hearts Of Those Who Believe To Be Affected By Allah's Reminder
فرمان باری تعالیٰ: کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کو یاد کرتے ہوئے گڑگڑائیں کی تفسیر
Sahih Muslim
23
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Crying Out Of Fear Of Allah, Most High
باب: اللہ تعالیٰ کے ڈر سے رونے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
ان لوگوں کا تذکرہ، جنہیں حوض کو ثر سے دھتکار دیا جائے گا، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
Musnad Ahmad
25
(17) CHAPTER. (The Statement of Allah) “But if they repent [by rejecting Shirk (polytheism) and accept Islamic Monotheism] and perform As-Salat (Iqamat-as-Salat) and give Zakat then leave their way free.” (V.9:5)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں کہ اگر وہ ( کافر ) توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ( یعنی ان سے جنگ نہ کرو )
Sahih Bukhari
26
(11) CHAPTER. The Prophet used to take care of the people in preaching by selecting a suitable time so that they might not run away (never made them averse or bored them with religious talk and knowledge all the time).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کی رعایت کرتے ہوئے نصیحت فرمانے اور تعلیم دینے کے بیان میں تاکہ انہیں ناگوار نہ ہو
Sahih Bukhari
27
(47) CHAPTER. The Statement of Allah: “And of knowledge you (mankind) have been given only a little.” (V. 17:85)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تشریح میں کہ تمہیں تھوڑا علم دیا گیا ہے
Sahih Bukhari
28
(28) CHAPTER. The Statement of Allah: “And instead (of thanking Allah) for the provision He gives you, you deny (Him by disbelief). (V. 56.82)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تشریح وتجعلون رزقکم انکم تکذبون
Sahih Bukhari
29
(29) CHAPTER. Except Allah nobody knows when it will rain.
اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو معلوم نہیں کہ بارش کب ہوگی
Sahih Bukhari
30
(6) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Allah frightens Ibadahu (His devotees or slaves) with Kusuf (eclipse).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سورج گرہن کے ذریعہ ڈراتا ہے
Sahih Bukhari
31
(10) CHAPTER. Whoever thinks that Allah has not made prostration of recitation (i.e., during the recitation of the Quran) compulsory.
اس شخص کی دلیل جس کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے سجدہ تلاوت کو واجب نہیں کیا
Sahih Bukhari
32
(32) CHAPTER. The statement of the Prophet : The deceased is punished because of the weeping (with wailing) of some of his relatives, if wailing was the custome of that dead person.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سےعذاب ہوتا ہے یعنی جب رونا ماتم کرنا میت کے خاندان کی رسم ہو ۔
Sahih Bukhari
33
(86) CHAPTER. Wha is said regarding the punishment in the grave.
عذاب قبر کا بیان اور اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ الانعام میں ) فرمایا
Sahih Bukhari
34
(49) CHAPTER. The Statement of Allah;
اللہ تعالیٰ کے فرمان
Sahih Bukhari
35
(37) CHAPTER. The Statement of Allah: “This is for him whose family is not present at the Al- Masjid-al-Haram (i.e. non-resident of Makkah). (V. 2:196)
اللہ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا تمتع یا قربانی کا حکم ان لوگوں کے لیے ہے جن کے گھر والے مسجدالحرام کے پاس نہ رہتے ہوں۔
Sahih Bukhari
36
(18) CHAPTER. The saying of Allah: … So enter houses through their proper doors … (V. 2:189)
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ گھروں میں دروازوں سے داخل ہوا کرو
Sahih Bukhari
37
(5) CHAPTER. The statement of Allah: … And whosoever of you is ill or has an ailment in his scalp, (necessitating shaving), he must pay a Fidya (ransom), of either observing Saum (fasts) (three days), or giving Sadaqa (charity - feeding six poor persons), or offer sacrifice (one sheep) ...” (V.2:196)
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اگر تم میں کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں ( جوؤں کی ) کوئی تکلیف ہو تو اسے روزے یا صدقے یا قربانی کا فدیہ دینا چاہئے یعنی اسے اختیار ہے اور اگر روزہ رکھنا چاہے تو تین دن روزہ رکھے
Sahih Bukhari
38
(9) CHAPTER. The statement of Allah: “… Then he should not have sexual relations (with his wife) … (V.2:197)
سورۃ بقررہ میں اللہ کا یہ فرمانا کہ حج میں شہوت کی باتیں نہیں کرنا چاہئے
Sahih Bukhari
39
(10) CHAPTER. The statement of Allah: “... nor commit sin nor dispute unjustly during Hajj … (V.2:197)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ بقررہ میں فرمانا کہ حج میں گناہ اور جھگڑا نہ کرنا چاہئے
Sahih Bukhari
40
(16) CHAPTER. The Statement of Allah: … And eat and drink until the white thread of dawn appears to you distinct from the black.”
۔ ( سورۃ البقرہ میں ) اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ
Sahih Bukhari
41
(1) CHAPTER. What has come in the Statement of Allah: Then when the (Jumuah) SaIat is ended, you may disperse through the land, and seek of the Bounty of Allah... And Allah is the Best of Providers. (V.62:10,11) And also His Statement: Eat not up your property among yourselves unjustly except it be a trade among yourselves unjustly except it be a trade amongst you, by mutual consent... (V.4:29)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے متعلق احادیث کہ
Sahih Bukhari
42
(12) CHAPTER. Allah's Statement: “...Spend of the good things which you have (legally) earned...” (V.2:267)
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اپنی پاک کمائی میں سے خرچ کرو ( البقرہ : 267 )
Sahih Bukhari
43
(23) CHAPTER. The Statement of Allah: “O you who believe! Eat not Riba (usury) doubled and multiplied.”(V.3:130)
اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ
Sahih Bukhari
44
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: ... To those also with whom you have made a pledge, give them their due portion by Wasiya (wills)... (V. 4.33)
اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ نساء میں ) یہ ارشاد کہ ” جن لوگوں سے تم نے قسم کھا کر عہد کیا ہے ، ان کا حصہ ان کو ادا کرو “
Sahih Bukhari
45
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “…No doubt! The curse of Allah is on the Zalimun (polytheists, oppressors, and the wrong-doers) (V.11:18)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ ہود میں یہ فرمانا کہ ” سن لو ! ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہے ۔ “
Sahih Bukhari
46
(15) CHAPTER. The Statement of Allah: “ Yet he is the most quarrelsome of the opponents...” (V.2:204)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا ” اور وہ بڑا سخت جھگڑالو ہے “
Sahih Bukhari
47
(25) CHAPTER. The Statement of Allah: “Verily, those who purchase a small gain at the cost of Allah's Covenant and their oaths.
اللہ تعالیٰ کا سورۃ آل عمران میں فرمان کہ ”جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ تھوڑی قیمت حاصل کرتے ہیں“۔ (آخر آیت تک)
Sahih Bukhari
48
(9) CHAPTER. The conditions which are not permissible in the legal punishments prescribed by Allah.
جو شرطیں حدود اللہ میں جائز نہیں ہیں ان کا بیان
Sahih Bukhari
49
(8) CHAPTER. The Statement of Allah: “... After the payment of legacies he may have bequeathed or debts ...” (V.4:11)
اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ نساء میں ) یہ فرمانا کہ وصیت اور قرضے کی ادائیگی کے بعد حصے بٹیں گے
Sahih Bukhari
50
(9) CHAPTER. The explanation of the Statement of Allah: “… After payment of legacies that they may have bequeathed or debts ... (V.4:12)
اللہ تعالیٰ کے ( سورۃ نساء میں ) یہ فرمانے کی تفسیر کہ حصوں کی تقسیم وصیت اور دین کے بعد ہوگی
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

148
Sahih Bukhari
4648
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ هُوَ ابْنُ كُرْدِيدٍ صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْه ، قال : قَالَ أَبُو جَهْلٍ : اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ ، فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ، فَنَزَلَتْ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ { 33 } وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سورة الأنفال آية 32-33الْآيَةَ .
Narrated Anas bin Malik: Abu Jahl said, O Allah! If this (Qur'an) is indeed the Truth from You, then rain down on us a shower of stones from the sky or bring on us a painful torment. So Allah revealed:-- But Allah would not punish them while you were amongst them, nor He will punish them while they seek (Allah's) forgiveness... (8.33) And why Allah should not punish them while they turn away (men) from Al- Masjid-al-Haram (the Sacred Mosque of Mecca)... (8.33-34)
مجھ سے احمد بن نضر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے صاحب الزیادی عبدالحمید نے جو کردید کے صاحبزادے تھے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ابوجہل نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ کلام تیری طرف سے واقعی حق ہے تو ہم پر آسمانوں سے پتھر برسا دے یا پھر کوئی اور ہی عذاب درد ناک لے آ!“ تو اس پر آیت «وما كان الله ليعذبهم وأنت فيهم وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون * وما لهم أن لا يعذبهم الله وهم يصدون عن المسجد الحرام‏» ”حالانکہ اللہ ایسا نہیں کرے گا کہ انہیں عذاب دے، اس حال میں کہ آپ ان میں موجود ہوں اور نہ اللہ ان پر عذاب لائے گا اس حال میں کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔ ان لوگوں کے لیے کیا وجہ کہ اللہ ان پر عذاب ( ہی سرے سے ) نہ لائے درآں حالیکہ وہ مسجد الحرام سے روکتے ہیں۔“ آخر آیت تک۔
Sahih Bukhari
4649
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ صَاحِبِ الزِّيَادِيِّ ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ : اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ ، فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ، فَنَزَلَتْ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ { 33 } وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سورة الأنفال آية 32-33 .
Narrated Anas bin Malik: Abu Jahl said, O Allah! If this (Qur'an) is indeed the Truth from You), then rain down on us a shower of stones from the sky or bring on us a painful punishment. So there was revealed:-- 'But Allah would not punish them while you (Muhammad) were amongst them, nor will He punish them while they seek (Allah's) Forgiveness. And why Allah should not punish them while they stop (men) from Al-Masjid-al-Haram ..' (8.33-34)
ہم سے محمد بن نضر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے صاحب الزیادی عبدالحمید نے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوجہل نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ کلام تیری طرف سے واقعی حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا پھر کوئی اور ہی عذاب لے آ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وما كان الله ليعذبهم وأنت فيهم وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون * وما لهم أن لا يعذبهم الله وهم يصدون عن المسجد الحرام‏» ”حالانکہ اللہ ایسا نہیں کرے گا کہ انہیں عذاب دے اس حال میں کہ آپ ان میں موجود ہوں اور نہ اللہ ان پر عذاب لائے گا۔ اس حال میں کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔ ان لوگوں کو اللہ کیوں نہ عذاب کرے جن کا حال یہ ہے کہ وہ مسجد الحرام سے روکتے ہیں۔“ آخر آیت تک۔
Jam e Tirmazi
3082
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيَّ أَمَانَيْنِ لِأُمَّتِي وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ سورة الأنفال آية 33 وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ سورة الأنفال آية 33 فَإِذَا مَضَيْتُ تَرَكْتُ فِيهِمُ الِاسْتِغْفَارَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، ‏‏‏‏‏‏هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُهَاجِرٍ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ.
Narrated Abu Burdah bin Abi Musa: from his father, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Allah sent down two guarantees of safety for the benefit of my Ummah: And Allah would not punish them while you are among them, nor will He punish them while they seek forgiveness (8:33). So when I pass, I leave seeking forgiveness among them until the Day of Resurrection.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے لیے اللہ نے مجھ پر دو امان نازل فرمائے ہیں ( ایک ) «وما كان الله ليعذبهم وأنت فيهم» ”تمہارے موجود رہتے ہوئے اللہ انہیں عذاب سے دوچار نہ کرے گا“ ( الأنفال: ۳۳ ) ، ( دوسرا ) «وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون» ”دوسرے جب وہ توبہ و استغفار کرتے رہیں گے تو بھی ان پر اللہ عذاب نازل نہ کرے گا“ ( الأنفال: ۳۳ ) ، اور جب میں ( اس دنیا سے ) چلا جاؤں گا تو ان کے لیے دوسرا امان استغفار قیامت تک چھوڑ جاؤں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے۔ ۲- اسماعیل بن مہاجر حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں۔
Mishkat
2267
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً يَطُوفُونَ فِي الطُّرُقِ يَلْتَمِسُونَ أَهْلَ الذِّكْرِ فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَنَادَوْا: هَلُمُّوا إِلَى حَاجَتِكُمْ قَالَ: «فَيَحُفُّونَهُمْ بِأَجْنِحَتِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا» قَالَ: فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ: مَا يَقُولُ عِبَادِي؟ قَالَ: يَقُولُونَ: يُسَبِّحُونَكَ وَيُكَبِّرُونَكَ وَيُحَمِّدُونَكَ وَيُمَجِّدُونَكَ قَالَ: فَيَقُولُ: هَلْ رَأَوْنِي؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: لَا وَاللَّهِ مَا رَأَوْكَ قَالَ فَيَقُولُ: كَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: لَوْ رَأَوْكَ كَانُوا أَشَدَّ لَكَ عِبَادَةً وَأَشَدَّ لَكَ تَمْجِيدًا وَأَكْثَرَ لَكَ تَسْبِيحًا قَالَ: فَيَقُولُ: فَمَا يَسْأَلُونَ؟ قَالُوا: يسألونكَ الجنَّةَ قَالَ: يَقُول: وَهل رأوها؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا رَأَوْهَا قَالَ: فَيَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ قَالَ: يقولونَ: لَو أنَّهم رأوها كَانُوا أَشد حِرْصًا وَأَشَدَّ لَهَا طَلَبًا وَأَعْظَمَ فِيهَا رَغْبَةً قَالَ: فممَّ يتعوذون؟ قَالَ: يَقُولُونَ: مِنَ النَّارِ قَالَ: يَقُولُ: فَهَلْ رَأَوْهَا؟ قَالَ: يَقُولُونَ: «لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا رَأَوْهَا» قَالَ: يَقُولُ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ قَالَ: «يَقُولُونَ لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ مِنْهَا فِرَارًا وَأَشَدَّ لَهَا مَخَافَةً» قَالَ: فَيَقُولُ: فَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ قَالَ: يَقُولُ مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ: فِيهِمْ فُلَانٌ لَيْسَ مِنْهُمْ إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ قَالَ: هُمُ الْجُلَسَاءُ لَا يَشْقَى جَلِيسُهُمْ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ قَالَ: إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّارَةً فُضْلًا يَبْتَغُونَ مَجَالِسَ الذِّكْرِ فَإِذَا وَجَدُوا مَجْلِسًا فِيهِ ذِكْرٌ قَعَدُوا معَهُم وحفَّ بعضُهم بَعْضًا بأجنحتِهم حَتَّى يملأوا مَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَإِذَا تَفَرَّقُوا عَرَجُوا وَصَعِدُوا إِلَى السَّمَاءِ قَالَ: فَيَسْأَلُهُمُ اللَّهُ وَهُوَ أَعْلَمُ: مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ؟ فَيَقُولُونَ: جِئْنَا مِنْ عِنْدِ عِبَادِكَ فِي الْأَرْضِ يُسَبِّحُونَكَ وَيُكَبِّرُونَكَ وَيُهَلِّلُونَكَ وَيُمَجِّدُونَكَ وَيَحْمَدُونَكَ وَيَسْأَلُونَكَ قَالَ: وَمَاذَا يَسْأَلُونِي؟ قَالُوا: يَسْأَلُونَكَ جَنَّتَكَ قَالَ: وَهَلْ رَأَوْا جَنَّتِي؟ قَالُوا: لَا أَيْ رَبِّ قَالَ: وَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا جَنَّتِي؟ قَالُوا: وَيَسْتَجِيرُونَكَ قَالَ: وَمِمَّ يَسْتَجِيرُونِي؟ قَالُوا: مِنْ نَارِكَ قَالَ: وَهَلْ رَأَوْا نَارِي؟ قَالُوا: لَا. قَالَ: فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا نَارِي؟ قَالُوا: يَسْتَغْفِرُونَكَ قَالَ: فَيَقُولُ: قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ فَأَعْطَيْتُهُمْ مَا سَأَلُوا وَأَجَرْتُهُمْ مِمَّا اسْتَجَارُوا قَالَ: يَقُولُونَ: رَبِّ فِيهِمْ فُلَانٌ عَبْدٌ خَطَّاءٌ وَإِنَّمَا مَرَّ فَجَلَسَ مَعَهُمْ قَالَ: «فَيَقُولُ وَلَهُ غَفَرْتُ هم الْقَوْم لَا يشقى بهم جليسهم»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کے کچھ فرشتے ہیں جو اہل ذکر کو تلاش کرتے ہوئے راستوں میں چکر لگاتے رہتے ہیں ، جب وہ کچھ لوگوں کو اللہ کا ذکر کرتے ہوئے پا لیتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیں ، اپنے مقصد (اہل ذکر) کی طرف آؤ ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ اپنے پروں کے ذریعے انہیں گھیر لیتے ہیں اور آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ان کا رب ان سے پوچھتا ہے ، حالانکہ وہ انہیں بہتر جانتا ہے ، میرے بندے کیا کہتے ہیں ؟‘‘ فرمایا :’’ وہ عرض کرتے ہیں : وہ تیری تسبیح و تکبیر اور تیری حمد و ثنا بیان کرتے ہیں ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ فرماتا ہے : کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے ؟ وہ عرض کرتے ہیں : نہیں ، اللہ کی قسم ! انہوں نے تجھے نہیں دیکھا ۔‘‘ فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو پھر ان کی کیفیت کیسی ہو ؟‘‘ فرمایا :’’ وہ عرض کرتے ہیں ، اگر وہ تجھے دیکھ لیں تو وہ تیری خوب عبادت کریں ، خوب شان و عظمت بیان کریں اور تیری بہت زیادہ تسبیح بیان کریں ۔‘‘ فرمایا ، وہ پوچھتا ہے :’’ وہ (مجھ سے) کیا مانگ رہے ہیں ؟ وہ عرض کرتے ہیں ، وہ تجھ سے جنت مانگ رہے ہیں ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ پوچھتا ہے ، کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے ؟ تو وہ عرض کرتے ہیں : نہیں ، اللہ کی قسم ! اے رب ! انہوں نے اسے نہیں دیکھا ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ پوچھتا ہے : اگر وہ اسے دیکھ لیں تو پھر کیسی کیفیت ہو ؟‘‘ فرمایا :’’ وہ عرض کرتے ہیں ، اگر وہ اسے دیکھ لیں تو وہ اس کی بہت زیادہ خواہش ، چاہت اور رغبت رکھیں ۔‘‘ فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے : وہ کس چیز سے پناہ طلب کرتے ہیں ؟‘‘ فرمایا :’’ وہ عرض کرتے ہیں : جہنم سے ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ پوچھتا ہے : کیا انہوں نے اسے دیکھا ہے ؟‘‘ فرمایا :’’ وہ عرض کرتے ہیں : نہیں ، اللہ کی قسم ! اے رب ! انہوں نے اسے نہیں دیکھا ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ پوچھتا ہے : اگر وہ اسے دیکھ لیں تو پھر کیسی کیفیت ہو ؟‘‘ فرمایا :’’ وہ عرض کرتے ہیں : اگر وہ اسے دیکھ لیں تو وہ اس سے بہت دور بھاگیں اور اس سے بہت زیادہ ڈریں گے ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا ہے ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک فرشتہ عرض کرتا ہے : ان میں فلاں شخص ایسا ہے جو کہ ان (یعنی اہل ذکر) میں سے نہیں ، وہ تو کسی ضرورت کے تحت آیا تھا ، فرمایا : وہ ایسے بیٹھنے والے ہیں کہ ان کا ہم نشین محروم نہیں رہ سکتا ۔‘‘ اور مسلم کی روایت میں ہے :’’ اللہ کے کچھ فاضل فرشتے ہیں جو چکر لگاتے رہتے ہیں اور وہ ذکر کی مجالس تلاش کرتے ہیں ، جب وہ ذکر کی کوئی مجلس پا لیتے ہیں تو وہ بھی ان کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں ، اور اپنے پروں کے ذریعے انہیں گھیر لیتے ہیں حتیٰ کہ وہ ان (ذاکرین) کے اور آسمان دنیا کے مابین خلا کو بھر دیتے ہیں ، جب وہ (ذاکرین) مجلس سے اٹھ جاتے ہیں ، تو وہ فرشتے آسمان کی طرف چڑھ جاتے ہیں ، فرمایا : تو اللہ ان سے پوچھتا ہے ، حالانکہ وہ (ان کے احوال کو) جانتا ہے ، تم کہاں سے آئے ہو ؟ وہ عرض کرتے ہیں ، ہم زمین سے تیرے ان بندوں کے پاس سے آئے ہیں جو تیری تسبیح و تکبیر اور تہلیل و تحمید بیان کرتے ہیں اور تجھ سے مانگتے ہیں ، فرمایا : وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں ؟ وہ عرض کرتے ہیں ، وہ تجھ سے تیری جنت مانگتے ہیں ، فرمایا : کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے ؟ وہ عرض کرتے ہیں ، اے رب ! نہیں ، فرمایا : اگر وہ میری جنت دیکھ لیں تو پھر کیسی کیفیت ہو ؟ وہ عرض کرتے ہیں ، وہ تجھ سے پناہ طلب کرتے ہیں ، فرمایا : وہ مجھ سے کس چیز سے پناہ طلب کر رہے تھے ؟ وہ عرض کرتے ہیں ، تیری جہنم سے ، فرمایا : کیا انہوں نے میری جہنم کو دیکھا ہے ؟ وہ عرض کرتے ہیں ، نہیں ، فرمایا : اگر وہ میری جہنم کو دیکھ لیں تو پھر کیسی کیفیت ہو ؟ وہ عرض کرتے ہیں : وہ تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں ۔‘‘ فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں نے انہیں بخش دیا ، انہوں نے جو مانگا میں نے دے دیا اور انہوں نے جس چیز سے پناہ طلب کی ، میں نے انہیں اس سے پناہ دے دی ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ (فرشتے) عرض کرتے ہیں : رب جی ! ان میں ایک ایسا گناہ گار شخص ہے کہ بس وہ گزر رہا تھا اور ان کے ساتھ بیٹھ گیا ۔‘‘ فرمایا :’’ اللہ رب العزت کہتے ہیں : میں نے اسے بھی بخش دیا ، وہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کا ہم نشین محروم نہیں رہ سکتا ۔‘‘ رواہ البخاری (۶۴۰۸) و مسلم ۔
Sahih Muslim
6839
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَلَائِكَةً سَيَّارَةً فُضُلًا يَتَتَبَّعُونَ مَجَالِسَ الذِّكْرِ فَإِذَا وَجَدُوا مَجْلِسًا فِيهِ ذِكْرٌ قَعَدُوا مَعَهُمْ وَحَفَّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِأَجْنِحَتِهِمْ حَتَّى يَمْلَئُوا مَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَإِذَا تَفَرَّقُوا عَرَجُوا وَصَعِدُوا إِلَى السَّمَاءِ قَالَ فَيَسْأَلُهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ فَيَقُولُونَ جِئْنَا مِنْ عِنْدِ عِبَادٍ لَكَ فِي الْأَرْضِ يُسَبِّحُونَكَ وَيُكَبِّرُونَكَ وَيُهَلِّلُونَكَ وَيَحْمَدُونَكَ وَيَسْأَلُونَكَ قَالَ وَمَاذَا يَسْأَلُونِي قَالُوا يَسْأَلُونَكَ جَنَّتَكَ قَالَ وَهَلْ رَأَوْا جَنَّتِي قَالُوا لَا أَيْ رَبِّ قَالَ فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا جَنَّتِي قَالُوا وَيَسْتَجِيرُونَكَ قَالَ وَمِمَّ يَسْتَجِيرُونَنِي قَالُوا مِنْ نَارِكَ يَا رَبِّ قَالَ وَهَلْ رَأَوْا نَارِي قَالُوا لَا قَالَ فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا نَارِي قَالُوا وَيَسْتَغْفِرُونَكَ قَالَ فَيَقُولُ قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ فَأَعْطَيْتُهُمْ مَا سَأَلُوا وَأَجَرْتُهُمْ مِمَّا اسْتَجَارُوا قَالَ فَيَقُولُونَ رَبِّ فِيهِمْ فُلَانٌ عَبْدٌ خَطَّاءٌ إِنَّمَا مَرَّ فَجَلَسَ مَعَهُمْ قَالَ فَيَقُولُ وَلَهُ غَفَرْتُ هُمْ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ
Abu Huraira reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying Allah has mobile (squads) of angels, who have no other work (to attend to but) to follow the assemblies of Dhikr and when they find such assemblies in which there is Dhikr (of Allah) they sit in them and some of them surround the others with their wings till the space between them and the sky of the world is fully covered, and when they disperse (after the assembly of Dhikr is adjourned) they go upward to the heaven and Allah, the Exalted and Glorious, asks them although He is best informed about them: Where have you come from? They say: We come from Thine servants upon the earth who had been glorifying Thee (reciting Subhan Allah), uttering Thine Greatness (saying Allah o-Akbar) and uttering Thine Oneness (La ilaha ill Allah) and praising Thee (uttering al-Hamdu Lillah) and begging of Thee. Be would say: What do they beg of Me? They would say: They beg of Thee the Paradise of Thine. He (God) would say: Have they seen My Paradise? They said: No, our Lord. He would say: (What it would be then) if they were to see Mine Paradise? They (the angels) said: They seek Thine protection. He (the Lord) would say: Against what do they seek protection of Mine? They (the angels) would say: Our Lord, from the Hell-Fire. He (the Lord) would say: Have they seen My Fire? They would say: No. He (the Lord) would say: What it would be if they were to see My Fire? They would say: They beg of Thee forgiveness. He would say: I grant pardon to them, and confer upon them what they ask for and grant them protection against which they seek protection. They (the angels) would again say: Our Lord, there is one amongst them such and such simple servant who happened to pass by (that assembly) and sat there along with them (who had been participating in that assembly). He (the Lord) would say: I also grant him pardon, for they are a people the seat-fellows of whom are in no way unfortunate.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " اللہ تبارک و تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو ( اللہ کی زمین میں ) چکر لگاتے رہتے ہیں ، وہ اللہ کے ذکر کی مجلسیں تلاش کرتے ہیں ، جب وہ کوئی ایسی مجلس پاتے ہیں جس میں ( اللہ کا ) ذکر ہوتا ہے تو ان کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں ، وہ ایک دوسرے کو اپنے پروں سے اس طرح ڈھانپ لیتے ہیں کہ اپنے اور دنیا کے آسمان کے درمیان ( کی وسعت کو ) بھر دیتے ہیں ۔ جب ( مجلس میں شریک ہونے والے ) لوگ منتشر ہو جاتے ہیں تو یہ ( فرشتے ) بھی اوپر کی طرف جاتے ہیں اور آسمان پر چلے جاتے ہیں ، کہا : تو اللہ عزوجل ان سے پوچھتا ہے ، حالانکہ وہ ان کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والا ہے : تم کہاں سے آئے ہو؟ وہ کہتے ہیں : ہم زمین میں ( رہنے والے ) تیرے بندوں کی طرف سے ( ہو کر ) آئے ہیں جو تیری پاکیزگی بیان کر رہے تھے ، تیزی بڑائی کہہ رہے تھے اور صرف اور صرف تیرے ہی معبود ہونے کا اقرار کر رہے تھے اور تیری حمد و ثنا کر رہے تھے اور تجھی سے مانگ رہے تھے ، فرمایا : وہ مجھ سے کیا مانگ رہے تھے؟ انہوں نے کہا : وہ آپ سے آپ کی جنت مانگ رہے تھے ۔ فرمایا : کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے؟ انہوں نے کہا : پروردگار! ( انہوں نے ) نہیں ( دیکھی ) ، فرمایا : اگر انہوں نے میری جنت دیکھی ہوتی کیا ہوتا! ( کس الحاح و زاری سے مانگتے! ) وہ کہتے ہیں : اور وہ تیری پناہ مانگ رہے تھے ، فرمایا : وہ کس چیز سے میری پناہ مانگ رہے تھے؟ انہوں نے کہا : تیری آگ ( جہنم ) سے ، اے رب! فرمایا : کیا انہوں نے میری آگ ( جہنم ) دیکھی ہے؟ انہوں نے کہا : اے رب! نہیں ( دیکھی ) ، فرمایا : اگر وہ میری جہنم دیکھ لیتے تو ( ان کا کیا حال ہوتا! ) وہ کہتے ہیں : وہ تجھ سے گناہوں کی بخشش مانگ رہے تھے ، تو وہ فرماتا ہے : میں نے ان کے گناہ بخش دیے اور انہوں نے جو مانگا میں نے انہیں عطا کر دیا اور انہوں نے جس سے پناہ مانگی میں نے انہیں پناہ دے دی ۔ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : وہ ( فرشتے ) کہتے ہیں : پروردگار! ان میں فلاں شخص بھی موجود تھا ، سخت گناہ گار بندہ ، وہاں سے گزرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گیا تھا ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : تو اللہ ارشاد فرماتا ہے : میں نے اس کو بھی بخش دیا ۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کی وجہ سے ان کے ساتھ بیٹھ جانے والا بھی محروم نہیں رہتا ۔ "
Silsila Sahih
3702
عَنْ أَخْشَنِ السَّدُوسِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! أَوْ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَوْ أَخْطَأْتُمْ حَتَّى تَمْلَأَ خَطَايَاكُمْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتُمُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَغَفَرَ لَكُمْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! أَوْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَوْ لَمْ تُخْطِئُوا لَجَاءَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِقَوْمٍ يُخْطِئُونَ ثُمَّ يَسْتَغْفِرُونَ اللهَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ.
) اخشن سدوسی رحمہ اللہ سے مروی ہے، انہوں نے كہا: میں انس بن مالك رضی اللہ عنہ كے پاس آیا ۔ انہوں نے كہا كہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے! یا فرمایا: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم كی جان ہے! اگر تم اتنی خطائیں كرو كہ زمین و آسمان كا خلا پر ہو جائے، پھر تم اللہ عزوجل سے استغفار كرو تو وہ تمہیں بخش دے گا۔ اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں محمد كی جان ہے! یا فرمایا: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم خطائیں نہ كروتو اللہ عزوجل ایسی قوم كو لے آئے گا جو خطائیں كرے گی، پھر اللہ سے استغفار كریں گی، اور اللہ تعالیٰ انہیں بخش دے گا۔
Jam e Tirmazi
91
حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ يُغْسَلُ الْإِنَاءُ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ أَوْ أُخْرَاهُنَّ بِالتُّرَابِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا وَلَغَتْ فِيهِ الْهِرَّةُ غُسِلَ مَرَّةً . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يُذْكَرْ فِيهِ إِذَا وَلَغَتْ فِيهِ الْهِرَّةُ غُسِلَ مَرَّةً. وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ.
Abu Hurairah narrated that : the Prophet said: Wash the vessel the dog has drunk from seven times: the first or the last of them with dirt. And when the cat drinks out of it, wash it once.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن میں جب کتا منہ ڈال دے تو اسے سات بار دھویا جائے، پہلی بار یا آخری بار اسے مٹی سے دھویا جائے ۱؎، اور جب بلی منہ ڈالے تو اسے ایک بار دھویا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ ۳- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے کئی سندوں سے اسی طرح مروی ہے جن میں بلی کے منہ ڈالنے پر ایک بار دھونے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، ۳- اس باب میں عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Jam e Tirmazi
133
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ،‏‏‏‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُوَاكَلَةِ الْحَائِضِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ وَاكِلْهَا . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَمْ يَرَوْا بِمُوَاكَلَةِ الْحَائِضِ بَأْسًا، ‏‏‏‏‏‏وَاخْتَلَفُوا فِي فَضْلِ وَضُوئِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ بَعْضُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَكَرِهَ بَعْضُهُمْ فَضْلَ طَهُورِهَا.
Abdullah bin Sa'd narrated: I asked the Prophet about eating with a menstruating woman. He said: Eat with her.
عبداللہ بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے حائضہ کے ساتھ کھانے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”اس کے ساتھ کھاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن سعد رضی الله عنہما کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں عائشہ اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا یہی قول ہے: یہ لوگ حائضہ کے ساتھ کھانے میں کوئی حرج نہیں جانتے۔ البتہ اس کے وضو کے بچے ہوئے پانی کے سلسلہ میں ان میں اختلاف ہے۔ بعض لوگوں نے اس کی اجازت دی ہے اور بعض نے اس کی طہارت سے بچے ہوئے پانی کو مکروہ کہا ہے۔
Jam e Tirmazi
223
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ أَبُو غَسَّانَ الْعَبَرِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيل الْكَحَّالِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏مَرْفُوعٌ هُوَ صَحِيحٌ مُسْنَدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَوْقُوفٌ إِلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يُسْنَدْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Buraidah Al-Aslami narrated that : the Prophet said: Give glad tiding to those who walk to the Masajid in the dark; of a complete light on the Day of Resurrection.
بریدہ اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اندھیرے میں چل کر مسجد آنے والوں کو قیامت کے دن کامل نور ( بھرپور اجالے ) کی بشارت دے دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔