۔ (۶۳۱۸)۔ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((مَاحَقُّ امْرِیئٍیَبِیْتُ لَیْلَتَیْنِ وَلَہُ مَالٌ یُرِیْدُ أَنْ یُوْصِیَ فِیْہِ اِلَّا وَوَصِیَّتُہُ مَکْتُوْبَۃٌ عِنْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۵۱۱۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پاس مال ہو اور وہ اس کے بارے میں کوئی وصیت کرنا چاہتا ہو تو اس کے لیے مناسب نہیں کہ وہ دو راتیں گزرنے دے، مگر اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہونی چاہیے۔
Takhreej
(۶۳۱۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۷۳۸، ومسلم: ۱۶۲۷ (انظر: ۵۱۱۸)
6318
Sahih