TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

وصیت کرنے پر رغبت دلانے، اس میںظلم کرنے کی ممانعت اور زندگی میں ہی اس کا اہتمام کرلینے کی فضیلت کا بیان - وصیت کرنے پر رغبت دلانے، اس میںظلم کرنے کی ممانعت اور زندگی میں ہی اس کا اہتمام کرلینے کی فضیلت کا بیان - وصیتوں کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of وصیتوں کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 4 · 6 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۶۳۱۸)۔ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَاحَقُّ امْرِیئٍیَبِیْتُ لَیْلَتَیْنِ وَلَہُ مَالٌ یُرِیْدُ أَنْ یُوْصِیَ فِیْہِ اِلَّا وَوَصِیَّتُہُ مَکْتُوْبَۃٌ عِنْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۵۱۱۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پاس مال ہو اور وہ اس کے بارے میں کوئی وصیت کرنا چاہتا ہو تو اس کے لیے مناسب نہیں کہ وہ دو راتیں گزرنے دے، مگر اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہونی چاہیے۔
Takhreej
(۶۳۱۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۷۳۸، ومسلم: ۱۶۲۷ (انظر: ۵۱۱۸)
6318
Sahih
۔ (۶۳۱۹)۔ عَنْ سَالِمٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا حَقُّ امْرِیئٍ مُسْلِمٍ لَہُ مَالٌ یُوْصِیْ فِیْہِیَبِیْتُ ثَلَاثًا اِلَّا وَوَصِیَّتُہُ عِنْدَہُ مَکْتُوْبَۃٌ۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَمَا بِتُّ لَیْلَۃً مُنْذُ سَمِعْتُہَا اِلَّا وَوَصِیَّتِیْ عِنْدِیْ مَکْتُوْبَۃٌ۔ (مسند احمد: ۶۱۰۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’جس مسلمان کے پاس مال ہو اور وہ اس میں وصیت کرنا چاہتا ہو تو اس کا یہ حق نہیں ہے کہ تین راتیں گزرنے پائیں، مگر اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی موجود ہونی چاہیے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب سے میں نےیہ حدیث سنی تو میں نے ایک رات بھی نہ گزرنے دی، مگر میری وصیت میرے پاس لکھی ہوئی موجود رہی۔
Takhreej
(۶۳۱۹) تخریج: انظر الحدیث السابق
6319
Sahih
۔ (۶۳۲۰)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَیُّ الصَّدَقَۃِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((لَتُنَبَّأَنَّ، أَنْ تَتَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِیْحٌ شَحِیْحٌ َتأْمُلُ الْبَقَائَ وَتَخَافُ الْفَقْرَ وَلَاتُمْہِلْ حَتّٰی اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ قُلْتَ: لِفُلَانٍ کَذَا وَلِفُـلَانٍ کَذَا، اَلاَ وَقَدْ کَانَ لِفُـلَانٍ۔)) (مسند احمد: ۷۴۰۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کونسا صدقہ سب سے افضل ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ضرور ضرور تجھے خبر دی جاتی ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ جب تو صدقہ کرے تو تو صحت مند ہو، لالچی ہو، زندگی کی امید ہو اور فقر و فاقے کا ڈر ہو، اور اس کام میں اتنی تاخیر نہ کر کہ جب جان حلق تک پہنچ جائے تو تو کہنا شروع کر دے کہ فلاں کو اتنا دے دو، فلاں کو اتنا دے دو، خبردار، وہ مال تو فلاں فلاں کا ہو چکا ہوتا ہے۔
Takhreej
(۶۳۲۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۴۱۹،و مسلم: ۱۰۳۲(انظر: ۷۴۰۷)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ موت کا غرغرہ طاری ہونے سے پہلے پہل صدقہ کر لینا چاہیے، اسی طرح خیر و بھلائی والی وصیت اس وقت سے پہلے تیار کر لینی چاہیے۔
6320
Sahih
۔ (۶۳۲۱)۔ عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَھْلِ الْخَیْرِ سَبْعِیْنَ سَنَۃً فَاِذَا أَوْصٰی حَافَ فِیْ وَصِیَّتِہٖ فَیُخْتَمُ لَہُ بِشَّرِ عَمَلِہِ فَیَدْخُلُ النَّارَ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَھْلِ الشَّرِّ سَبْعِیْنَ سَنَۃً فَیَعْدِلُ فِیْ وَصِیَّتِہِ فَیُخْتَمُ لَہُ بِخَیْرِ عَمَلِہِ فَیَدْخُلُ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ: ثُمَّ یَقُوْلُ أَبُوْہُرَیْرَۃَ: وَاقْرَئُ وْا إِنْ شِتْمُ: {تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ} اِلٰی قَوْلِہِ: {وَلَہُ عَذَابٌ مُہِیْنٌ} (مسند احمد: ۷۷۲۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی ستر برس تک نیکوکار لوگوں والے عمل کرتا ہے، مگر جب وہ وصیت کرتا ہے اوراس میں ظلم کر جاتا ہے تواس کا خاتمہ بدتر عمل پر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ دوزخ میںداخل ہو جاتا ہے اورایک آدمی ستر برس تک برے لوگوں والے عمل کرتا ہے، مگر وہ وصیت کرنے میں عدل کر جاتا ہے، تو اس کا خاتمہ بہترین عمل پر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ پھر سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: {تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗیُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھَارُ خَالِدِیْنَ فِیْھَا وَذَالِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗوَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗیُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْھَا وَلَہُ عَذَابٌ مُہِیْنٌ۔} یہ حدیں اللہ تعالی کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ تعالی کی اور اس کے رسول ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی فرمانبرداری کرے گا، اسے اللہ تعالی جنتوں میں لے جائے گا، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ اور جو شخص اللہ تعالی کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی مقررہ حدوں سے آگے نکلے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، ایسوں ہی کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔ (سورۂ نسائ: ۱۳، ۱۴)
Takhreej
(۶۳۲۱) تخریج: اسنادہ ضعیف۔ أخرجہ مختصرا ابوداود: ۲۸۶۷، والترمذی: ۲۱۱۷ (انظر: ۷۷۴۲)
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے، بہرحال وصیت کا شرعی اصولوں کے مطابق ہونا ضروری ہے، وگرنہ وہ ظلم ہو گی اور لواحقین پر فرض ہو گا کہ وہ اس پر عمل نہ کریں، مثلا: کسی ایک وارث کے حق میں وصیت کرنا، ایک تہائی مال سے زیادہ وصیت کرنا، قطع رحمی کی وصیت کرنا، یہ سب ظلم کی قسمیں ہیں۔
6321
Zaeef
۔ (۶۳۲۲)۔ عَنْ اَبِیْ حَبِیْبَۃَ الطَّائِیِّ قَالَ: أَوْصٰی اِلَیَّ اَخِیْ بِطَائِفَۃٍ مِنْ مَالِہِ قَالَ: فَلَقِیْتُ أَبَا الدَّرْدَائِ فَقُلْتُ: اِنَّ أَخِیْ أَوْصَانِیْ بِطَائِفَۃٍ مِنْ مَالِہِ فَأَیْنَ أَضَعُہُ؟ أَفِیْ الْفُقَرَائِ أَوْ فِی الْمُجَاہِدِیْنَ أَوْ فِی الْمَسَاکِیْنِ؟ قَالَ: أَمَّا أَنَا فَلَوْ کُنْتُ لَمْ أَعْدِلْ بِالْمُجَاھِدِیْنَ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَثَلُ الَّذِیْیُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ (وَفِیْ لَفْظٍ: مَثَلُ الَّذِیْیُعْتِقُ أَوْ یَتَصَدَّقُ عِنْدَ مَوْتِہِ) مَثَلُ الَّذِیْیُہْدِیْ اِذَا شَبِعَ)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: قَالَ اَبُوْ حَبِیْبَۃَ: فَأَصَابَنِیْ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئٌ۔ (مسند احمد:۲۲۰۶۲)
۔ ابو حبیبہ طائی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے بھائی نے کچھ مال صدقہ کرنے کی وصیت کی، میں نے سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملاقات کی اور ان سے دریافت کیا کہ میرے بھائی نے مجھے کچھ مال کا صدقہ کرنے کی وصیت کی تھی، اب میں وہ کس کو دوں، فقیروں کو یا مجاہدوں پر یا مسکینوں کو؟ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر یہ مال میرا ہوتا تو میں کسی کو مجاہدوں کے برابر نہ قرار دیتا۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص موت کے قریب جا کر غلام آزاد کرتا ہے یا صدقہ کرتا ہے، تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو پہلے خود سیر ہو تا ہے اور پھر دوسروںکو دیتا ہے۔ ابو حبیبہ نے کہا: مجھے بھی اس مال میں سے کچھ ملا تھا۔
Takhreej
(۶۳۲۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابی حبیبۃ الطائی۔ أخرجہ ابوداود: ۳۹۶۸، والترمذی: ۲۱۲۳، والنسائی: ۶/۲۳۸ (انظر: ۲۱۷۱۹)
Explanation
فوائد:… موت کے قریبیعنی موت کی علامتیں ظاہر ہونے سے قبل بھی صدقہ کرنا درست ہے، البتہ پسندیدہ قانون وہی ہے جو حدیث نمبر (۶۳۲۰)میں گزر چکا ہے۔
6322
Zaeef
۔ (۶۳۲۳)۔ عَنْ حَکِیْمِ بْنِ قَیْسِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ اَبِیْہِ أَنَّہُ أَوْصٰی وَلَدَہُ عِنْدَ مَوْتِہِ قَالَ: اِتَّقُوْا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَسَوِّدُوْا أَکْبَرَکُمْ، فَاِنَّ الْقَوْمَ اِذَا سَوَّدُوْا أَکْبَرَھُمْ خَلَفُوْا أَبَاھُمْ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ، وَاِذَا مُتُّ فَـلَا تَنُوْحُوْا عَلَیَّ فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یُنَحْ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۰۸۸۸)
۔ سیدنا قیس بن عاصم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے موت کے قریب اپنے بیٹوں کو یہ وصیت کی کہ: اللہ تعالی سے ڈرتے رہنااور اپنے میں سے سب سے بڑے آدمی کو سردار مقرر کرنا، بیشک لوگ جب بڑے کو سردار مقرر کرتے ہیں، تو وہ اپنے باپ کا جانشین بنا لیتے ہیں اور جب مجھے موت آ جائے تو مجھ پر نوحہ نہ کرنا، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نوحہ نہیں کیا گیا تھا۔
Takhreej
(۶۳۲۳) تخریج: اسنادہ محتمل للتحسین۔ أخرجہ النسائی: ۴/ ۱۶ (انظر: ۲۰۶۱۲)
Explanation
فوائد:… سیدنا قیس بن عاصم b موت کے بعد سے متعلقہ امور کے بارے میں وصیت کر رہے ہیں، خاندان کے بڑے لوگ یقینا بارعب ہوتے ہیں، ان کی باتیں تسلیم کی جاتی ہیں، لیکن بڑے لوگوں کو کبھی بھی درج ذیل حدیث سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ حضرت انس بن مالک b بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہa نے فرمایا: ((اِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِیْحَ لِلْخَیْرِ،مَغَالِیْقَ لِلشَّرِّ، وَاِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِیْحَ لِلشَّرِّ،مَغَالِیْقَ لِلْخَیْرِ، فَطُوْبٰي لِمَنْ جَعَلَ اللّٰہُ مَفَاتِیْحَ الْخَیْرِ عَلٰییَدَیْہِ، وَوَیْلٌ لِّمَنْ جَعَلَ اللّٰہُ مَفَاتِیْحَ الشَّرِّ عَلٰییَدَیْہِ۔))… ’’بیشک بعض لوگ ایسے ہیں جو نیکی کا سرچشمہ اور برائی کی راہ روکنے والے ہیں اور بعض لوگ ایسے ہیں جو شرّ کا منبع اور نیکی کی راہ بند کرنے والے ہیں۔ اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کے ہاتھ پر خیر کی راہیں کھول دیں اور ہلاکت ہے اس آدمی کے لیے جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے شر کی راہیں کھول دیں ۔‘‘ (ابن ماجہ: ۲۳۷، صحیحہ:۱۳۳۲) اللہ تعالیٰ بعض افراد کو ان کے خاندانوں میں خاص مقام و مرتبہ عطا کرتا ہے، خاندان کے افراد ان کو اپنے قبیلے کا سربراہ اورچاہتے نہ چاہتے ہوئے اپنے آپ کو ان کے فیصلوں کا پابند سمجھتے ہیں ۔ ایسے معزز لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے خاندانوں میں اچھے امور کو رواج دیں، شریعت کے مخالف امور کا خاتمہ کریں۔ اس میں تو سربراہ کا کوئی کمال نہیں ہے کہ اس کے ماتحت افراد اپنی من مانیاں کرتے رہیں اور اس کی حیثیت تماشائی کے سوا کچھ نہ ہو۔ اس حدیث میں ایسے سربراہوں کے لیے سخت وعید بیان کی گئی ہے، جن کی قیادت میں شادی بیاہ جیسے موقعوں پر شریعت کے مخالف امور کو بھرپور انداز میں ترجیح دی جاتی ہے۔
6323
Sahih