۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پاس مال ہو اور وہ اس کے بارے میں کوئی وصیت کرنا چاہتا ہو تو اس کے لیے مناسب نہیں کہ وہ دو راتیں گزرنے دے، مگر اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہونی چاہیے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’جس مسلمان کے پاس مال ہو اور وہ اس میں وصیت کرنا چاہتا ہو تو اس کا یہ حق نہیں ہے کہ تین راتیں گزرنے پائیں، مگر اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی موجود ہونی چاہیے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سے میں نےیہ حدیث سنی تو میں نے ایک رات بھی نہ گزرنے دی، مگر میری وصیت میرے پاس لکھی ہوئی موجود رہی۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کونسا صدقہ سب سے افضل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضرور ضرور تجھے خبر دی جاتی ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ جب تو صدقہ کرے تو تو صحت مند ہو، لالچی ہو، زندگی کی امید ہو اور فقر و فاقے کا ڈر ہو، اور اس کام میں اتنی تاخیر نہ کر کہ جب جان حلق تک پہنچ جائے تو تو کہنا شروع کر دے کہ فلاں کو اتنا دے دو، فلاں کو اتنا دے دو، خبردار، وہ مال تو فلاں فلاں کا ہو چکا ہوتا ہے۔
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ موت کا غرغرہ طاری ہونے سے پہلے پہل صدقہ کر لینا چاہیے، اسی طرح خیر و بھلائی والی وصیت اس وقت سے پہلے تیار کر لینی چاہیے۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی ستر برس تک نیکوکار لوگوں والے عمل کرتا ہے، مگر جب وہ وصیت کرتا ہے اوراس میں ظلم کر جاتا ہے تواس کا خاتمہ بدتر عمل پر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ دوزخ میںداخل ہو جاتا ہے اورایک آدمی ستر برس تک برے لوگوں والے عمل کرتا ہے، مگر وہ وصیت کرنے میں عدل کر جاتا ہے، تو اس کا خاتمہ بہترین عمل پر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: {تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗیُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھَارُ خَالِدِیْنَ فِیْھَا وَذَالِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗوَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗیُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْھَا وَلَہُ عَذَابٌ مُہِیْنٌ۔} یہ حدیں اللہ تعالی کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ تعالی کی اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی فرمانبرداری کرے گا، اسے اللہ تعالی جنتوں میں لے جائے گا، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ اور جو شخص اللہ تعالی کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی مقررہ حدوں سے آگے نکلے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، ایسوں ہی کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔ (سورۂ نسائ: ۱۳، ۱۴)
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے، بہرحال وصیت کا شرعی اصولوں کے مطابق ہونا ضروری ہے، وگرنہ وہ ظلم ہو گی اور لواحقین پر فرض ہو گا کہ وہ اس پر عمل نہ کریں، مثلا: کسی ایک وارث کے حق میں وصیت کرنا، ایک تہائی مال سے زیادہ وصیت کرنا، قطع رحمی کی وصیت کرنا، یہ سب ظلم کی قسمیں ہیں۔
۔ ابو حبیبہ طائی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے بھائی نے کچھ مال صدقہ کرنے کی وصیت کی، میں نے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور ان سے دریافت کیا کہ میرے بھائی نے مجھے کچھ مال کا صدقہ کرنے کی وصیت کی تھی، اب میں وہ کس کو دوں، فقیروں کو یا مجاہدوں پر یا مسکینوں کو؟ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر یہ مال میرا ہوتا تو میں کسی کو مجاہدوں کے برابر نہ قرار دیتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص موت کے قریب جا کر غلام آزاد کرتا ہے یا صدقہ کرتا ہے، تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو پہلے خود سیر ہو تا ہے اور پھر دوسروںکو دیتا ہے۔ ابو حبیبہ نے کہا: مجھے بھی اس مال میں سے کچھ ملا تھا۔
۔ سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ نے موت کے قریب اپنے بیٹوں کو یہ وصیت کی کہ: اللہ تعالی سے ڈرتے رہنااور اپنے میں سے سب سے بڑے آدمی کو سردار مقرر کرنا، بیشک لوگ جب بڑے کو سردار مقرر کرتے ہیں، تو وہ اپنے باپ کا جانشین بنا لیتے ہیں اور جب مجھے موت آ جائے تو مجھ پر نوحہ نہ کرنا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نوحہ نہیں کیا گیا تھا۔
فوائد:… سیدنا قیس بن عاصم b موت کے بعد سے متعلقہ امور کے بارے میں وصیت کر رہے ہیں، خاندان کے بڑے لوگ یقینا بارعب ہوتے ہیں، ان کی باتیں تسلیم کی جاتی ہیں، لیکن بڑے لوگوں کو کبھی بھی درج ذیل حدیث سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔
حضرت انس بن مالک b بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہa نے فرمایا: ((اِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِیْحَ لِلْخَیْرِ،مَغَالِیْقَ لِلشَّرِّ، وَاِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِیْحَ لِلشَّرِّ،مَغَالِیْقَ لِلْخَیْرِ، فَطُوْبٰي لِمَنْ جَعَلَ اللّٰہُ مَفَاتِیْحَ الْخَیْرِ عَلٰییَدَیْہِ، وَوَیْلٌ لِّمَنْ جَعَلَ اللّٰہُ مَفَاتِیْحَ الشَّرِّ عَلٰییَدَیْہِ۔))… ’’بیشک بعض لوگ ایسے ہیں جو نیکی کا سرچشمہ اور برائی کی راہ روکنے والے ہیں اور بعض لوگ ایسے ہیں جو شرّ کا منبع اور نیکی کی راہ بند کرنے والے ہیں۔ اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کے ہاتھ پر خیر کی راہیں کھول دیں اور ہلاکت ہے اس آدمی کے لیے جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے شر کی راہیں کھول دیں ۔‘‘ (ابن ماجہ: ۲۳۷، صحیحہ:۱۳۳۲)
اللہ تعالیٰ بعض افراد کو ان کے خاندانوں میں خاص مقام و مرتبہ عطا کرتا ہے، خاندان کے افراد ان کو اپنے قبیلے کا سربراہ اورچاہتے نہ چاہتے ہوئے اپنے آپ کو ان کے فیصلوں کا پابند سمجھتے ہیں ۔ ایسے معزز لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے خاندانوں میں اچھے امور کو رواج دیں، شریعت کے مخالف امور کا خاتمہ کریں۔ اس میں تو سربراہ کا کوئی کمال نہیں ہے کہ اس کے ماتحت افراد اپنی من مانیاں کرتے رہیں اور اس کی حیثیت تماشائی کے سوا کچھ نہ ہو۔
اس حدیث میں ایسے سربراہوں کے لیے سخت وعید بیان کی گئی ہے، جن کی قیادت میں شادی بیاہ جیسے موقعوں پر شریعت کے مخالف امور کو بھرپور انداز میں ترجیح دی جاتی ہے۔
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، ہوا یوں کہ میں بیمار ہو گیا اور ایسے لگا کہ موت قریب آ گئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری تیمار داری کرنے کے لیے تشریف لائے، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں بہت زیادہ مال والا ہوں اور صرف میری ایک بیٹی میری وارث بننے والی ہے، تو کیا میں اپنے دو تہائی مال کی وصیت نہ کردوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: نصف مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: ایک تہائی مال کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، تیسرے کی ٹھیک ہے اور یہ بھی زیادہ ہے، اے سعد! اگر تو اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تو انہیں ایسی فقیری کی حالت میں چھوڑے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتے پھریں، اے سعد! اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر جو بھی خرچ کرو گے، اس کا اجر پاؤ گے، حتیٰ کہ وہ لقمہ جو تم اپنی بیوی کو کھلاتے ہو، اس میں بھی اجر پاؤ گے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں (اس بیماری کی وجہ سے) اپنے ساتھیوں کے بعد مکہ میں رہ جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو باقی رہ بھی جائے اور اللہ تعالی کی رضامندیتلاش کرنے کے لیے جو عمل بھی کرے گا تو اس کے ذریعے تیرے درجے بلند ہوں گے، ممکن ہے کہ تو زندہ رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تیرے ذریعے بعض لوگوں کو فائدہ پہنچائے اور بعض کو نقصان۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! میرے صحابہ کی ہجرت مکمل فرما دے اور ان کو ان کی ایڑیوں کے بل نہ لوٹا، لیکن بیچارہ سعد بن خولہ۔ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پر اس لیے ترس آتا تھا کہ وہ مکہ میں فوت ہو گئے تھے۔
فوائد:… نبی کریمa کی پیشین گوئی پوری ہوئی اور سیدنا سعد b نے اس بیماری سے شفایاب ہوکر اتنی طویل زندگی پائی کہ وہ عراق وغیرہ کی فتح میں شریک ہوئے، ان کی وجہ سے کئی مسلمانوں کو دین و دنیا میں فائدہ ہوا اور کئی کافروں کو اسی قسم کا نقصان ہوا، اس وقت تو ان کیصرف ایک بیٹی تھی، لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کو کثیر اولاد سے نوازا حافظ ابن حجرk نے ان کے نو بیٹوں اور بارہ بیٹیوں کا تذکرہ کیا ہے۔
بہرحال اس حدیث ِ مبارکہ سے مسئلہ یہ سمجھ آیا کہ آدمی کو ایک تہائی مال سے زائد وصیت کرنے کا اختیار نہیں ہے، آپa کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک تہائی کی مقدار بھی زیادہ ہے، اس سے بھی کم وصیت کرنی چاہیے۔
۔ ابو عبد الرحمن سلمی سے مروی ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: مال کے تیسرے حصے سے وصیت کا طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے جاری فرمایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیمار داری کے لئے میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تو نے وصیت کی ہے؟ میں نے عرض کی: جی کی ہے اورسارا مال فقیروں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے مقرر کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح نہ کر۔ میں نے کہا: میرے سارے وارث مال دار ہیں، تو پھر دو تہائی مال کی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: نصف مال کی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: ایک تہائی مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ایک تہائی کی کر سکتے ہیں، لیکنیہ بھی زیادہ ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: کاش کہ لوگ ایک تہائی کی بجائے ایک چوتھائی مال کی وصیت کرنا اختیار کر لیتے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نے فرمایا تھا: تیسرے حصے کی وصیت کرنا بھی زیادہ ہے۔
Takhreej
(۶۳۲۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۲۹(انظر: ۲۰۳۴)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے رشتہ داروں کے حقوق کا اندازہ کر لینا چاہیے، بعض بے اولاد سرمایہ دار لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنے سرمائے کے بارے میں اس وجہ سے بھی پریشان رہتے ہیں کہ ان کے بعد اس سرمائے کو فلاں فلاں آدمیوں میں تقسیم کر دیا جائے گا، ایسے افراد کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں کچھ مقدار اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کر دیں، کچھ مقدار کے بارے میں وصیت کر دیں اور باقی ترکہ کو اللہ تعالی کے حکم پر راضی ہو کر وارثوں میں تقسیم ہونے دیں، اس مقام پر ان کے دل میں کوئی تنگی نہیں ہونی چاہیے، وگرنہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ آدمی اللہ تعالی کے احکام کو ناپسند کر رہا ہے۔
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں وفات کے وقت اپنے مالوں میں سے ایک تہائی کا صدقہ کر دینے کی اجازت دے دی ہے۔
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی نے موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دئیے، جبکہ ان کے علاوہ اس کا کوئی اور مال بھی نہیں تھا، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ اس کی نمازِ جنازہ ہی نہ پڑھائوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان غلاموں کو بلایا اور ان کے تین حصے کر کے (قرعہ کے ذریعے) دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔
۔ (دوسری سند) ایک آدمی نے موت کے وقت چھ غلام آزاد کئے، اس کے وارث بدو لوگوں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے کیے سے آگاہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا واقعی اس نے ایسا کیا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا تو میں نے ان شاء اللہ اس کی نماز جنازہ ہی نہیں پڑھنی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غلاموں کے درمیان قرعہ ڈالا اور ان میں سے دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔
Takhreej
(۶۳۲۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… مرنے والے کی جو وصیت اور شرط شرعی احکام کے مخالف ہو گی، اس کو مردود اور بے اثر سمجھا جائے گا، اسی وجہ سے آپ a نے اس میت کے فیصلے کو ردّ کردیا اور ایک تہائی کی گنجائش کے مطابق دو غلاموں کو آزاد کر دیا اور چار کو ورثاء میں تقسیم کر دیا۔
۔ سیدنا ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۶۳۳۰) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ سعید بن منصور فی ’’سننہ‘‘: ۴۰۹، والطحاوی فی ’’شرح المشکل‘‘: ۷۴۰ (انظر: ۲۲۸۹۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میںیہ بات بھی ہے کہ آپ a نے فرمایا: ’’اگر مجھے اس کے دفن سے پہلے پتہ چلتا تو میں اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہونے دیتا۔‘‘
۔ حنظلہ بن حذیم کہتے ہیں میرے دادا سیدنا حنیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سیدنا حذیم رضی اللہ عنہ سے کہا: اے میرے بیٹے! میرے تمام بیٹوں کو ایک جگہ جمع کرو، میں انہیں وصیت کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے انہیں اکٹھا کیا، پس سیدنا حنیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں سب سے پہلی وصیتیہ کرتا ہوں کہ جو یتیم میری کفالت میںہے، میں اسے سو اونٹ دیتا ہوں، ہم جاہلیت میں اس عطیہ کو مطیبہ کہتے تھے۔ سیدنا حذیم رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابا جان! میرے بھائی کہہ رہے ہیں کہ جب تک ہمارا باپ زندہ ہے ہم اس چیز پر برقار رہیں گے، لیکن جب وہ فوت ہو جائے گا تو ہم یہ عطیہ واپس لے لیں گے۔ سیدنا حنیفہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: تو پھر میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔سیدنا حذیم رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اس پر راضی ہو گئے، پس سیدنا حذیم، سیدنا حنیفہ، سیدنا حنظلہ اور سیدنا حذیم کے پیچھے بیٹھنے والا ایک غلام روانہ ہو گئے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اے ابو حذیم! کس لئے آئے ہو؟ سیدنا حنیفہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا حذیم رضی اللہ عنہ کی ران پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا: یہ حذیم آنے کا سبب بنا ہے، تفصیلیہ ہے کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ اب موت اچانک بھی آ سکتی ہے، اس لئے میں نے وصیت کرنے کا ارادہ کیا اور کہا: میری پہلی وصیتیہ ہے کہ میں اپنے زیر کفالت بچے کو سو اونٹ دیتا ہوں، ہم دورِ جاہلیت میں اس عطیے کو مطیَّبہ کہتے تھے۔ یہ بات سنتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غضبناک ہو گئے اور غصے کے آثار چہرے پر دکھائے دینے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے تو بیٹھے ہوئے تھے، لیکن اب گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور فرمایا: نہیں ، نہیں، نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہوگا، پانچ اونٹ صدقہ کر دے یا دس، نہیں تو پندرہ یا پھر بیس، وگرنہ پچیس، اگر مزید گنجائش نکالنی ہو تو تیس، وگرنہ پینتیس اور اگر بہت زیادہ کرنا ہو تو چالیس۔ پھر انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو الوداع کہا، یتیم بچے کے پاس ایک لاٹھی تھی، وہ اس کے ذریعے اونٹ کو ضرب لگاتا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یتیم کی لاٹھی کتنی بڑی ہو گئی ہے۔ سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب بٹھایا اور کہا: میرے بعض بیٹے داڑھی والے ہیں اور اس کے بغیر ہیں اور یہ سب سے چھوٹا ہے، اس کے لئے دعا تو فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ میں برکت دے یا تجھ میں برکت کی جائے۔ ذیال کہتے ہیں: میں نے خود دیکھا کہ سیدنا حنظلہ کے پاس ایسے انسان لائے جاتے، جن کے چہر پر ورم ہوتا، اس طرح ایسے حیوان لائے جاتے، جن کے تھن سوجے ہوئے ہوتے تھے، لیکن جب وہ اپنے ہاتھ پر تھوکتے اور بسم اللہ کہتے اوراپنا ہاتھ اپنے سر کے اس مقام پر رکھتے، جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھا تھا اور پھر وہ ہاتھ اس ورم والی جگہ پر پھیر دیتے۔ ذیال کہتے ہیں: پس وہ ورم ختم ہو جاتا تھا۔
۔ سیدنا عمرو بن خارجہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری جگالی کر رہی تھی اوراس کا لعاب میرے کندھوں پر بہہ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے میراث سے ہر انسان کا حصہ مقرر کر دیا ہے، اس لیے کسی وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔
فوائد:… ایک تہائی مال کی وصیت کا تعلق اس آدمی سے ہے، جو وارث نہ بن رہا ہو، مرنے والے کو کسی وارث کے حق میں اس کے شرعی حصے سے زیادہ وصیت کرنے کی اجازت نہیں ہے، اگر وہ ایسا کرے گا تو اس کی وصیت کو ردّ کر دیا جائے گا۔
۔ سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے حجۃ الوداع والے سال خطبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے ہرحقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، پس وارث کے لئے وصیت جائز نہیں ہے۔ … الحدیث
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! توہرگز یتیم کے مال کی سرپرستی قبول نہ کرنا اور نہ ہی دو شخصوں کے درمیان قاضی بننا۔
Takhreej
(۶۳۳۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۸۲۶(انظر: ۲۱۵۶۳)
Explanation
فوائد:… یتیم کی کفالت اور قضا کا شعبہ بہترین اعمال ہیں،لیکن ان کے کمال زہد و تقوی اور عدل و انصاف کی ضرورت ہے، ان بڑی ذمہ داریوں کو سامنے رکھ کر آپ a نے سیدنا ابو ذر b کو ان اعمال سے دور رہنے کا مشورہ دیا، اس چیز کا بڑا امکان ہوتا ہے کہ فیصلہ کرتے وقت قاضی کا رجحان کسی ایک فریق کی طرف ہو جائے اور یتیم کی کفالت کرتے کرتے اس کا مال استعمال کر لیا جائے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: میرے پاس کوئی مال نہیں ہے، البتہ ایکیتیم میری سرپرستی میں ہے تو کیا میں اس کا مال لے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ نے فرمایا: اپنے یتیم کے مال سے کھاسکتے ہو، لیکن نہ اس میں اسراف ہو، نہ فضول خرچی، نہ مال کو جمع کرنے والے ہو اور اپنے مال کو بچانے والے ہو۔ یا فرمایا: نہ اس کے مال کے ذریعے اپنے مال کو بچانے والے ہو۔
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سرپرست اپنے یتیم کے مال کے اضافے اور اصلاح کے لیے جو محنت کر رہا ہو، وہ اس مال سے اس کا عوض لے سکتا ہے، لیکنیہ اجرت معروف طریقے کے مطابق ہونی چاہیے، بہتر یہ ہے کہ ایسا سرپرست معاشرے یا خاندان کے عدل و انصاف اور فہم و فراست والے دو افراد سے اپنی اجرت کا تعین کروا لے، تاکہ اس کا نفس مختلف حیل و حجت کرنے سے محفوظ ہو جائے، باقی ہدایات حدیث میں ہی بیان کر دی گئی ہیں۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جائو مگر اچھے طریقے کے ساتھ۔ تو لوگوں نے یتیموں کے مال اپنے مالوں سے علیحدہ کر دئیے، (لیکن اس وجہ سے یہ خرابی پیدا ہو گئی کہ) یتیم کا کھانا خراب ہو جاتا اور گوشت میں بدبو پیداہوجاتی اور اس طرح اس کا مال ضائع ہو جاتا، پس جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کی گئی تو یہ حکم نازل ہوا کہ اگر تم ان یتیموں کو اپنے ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہی تو ہیں اور اللہ تعالیٰ اصلاح کرنے والے میں سے فساد کرنے والے کو جانتا ہے۔
Takhreej
(۶۳۳۶) اسنادہ ضعیف، عطاء بن السائب کان قد اختلط۔ أخرجہ ابوداود: ۲۸۷۱(انظر: ۳۰۰۰)
Explanation
فوائد:… حافظ ابن کثیر نے کہا: مجاہد، عطائ، شعبی، ابن ابی لیلی، قتادہ اور کئی سلف و خلف نے ان دو آیتوں کا یہی شان نزول بیان کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر: ۱/ ۳۷۵)
حدیث میں مذکورہ پہلی آیت کا تقاضا یہ ہے کہ جس یتیم کی کفالت تمہاری ذمہ داری قرار پائے، تو اس کی ہر طرح خیر خواہی کرنا تمہارا فرض ہے، اس کو وراثت سے جو مال ملا ہے، اس وقت تک پورے خلوص سے اس کی حفاظت کی جائے، جب تک وہ بلوغت اور شعور کی عمر کو نہ پہنچ جائے، یہ نہ ہو کہ کفالت کے نام پر اس کی عمرِ شعور سے پہلے ہی اس کے مال یا جائیداد کو ٹھکانے لگا دیا جائے۔ جب صحابہ کرام نے یہ ہدایات سنیں تو انھوں نے اپنے آپ کو ہر قسم کی وعید اور تہمت سے بچانے کے لیےیتیم کا مال و متاع ہی سرے سے الگ الگ کر دیا، لیکن اس سے یتیم کے مال کا نقصان ہونے لگ گیا، پھر اللہ تعالی نے دوسری آیت نازل کر کے وضاحت کی کہ بغرض اصلاح و بہتری ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا لو۔