۔ (۶۳۵۸)۔ عَنْ عَلِیٍّ رضی اللہ عنہ قَالَ: اِنَّکُمْ تَقْرَؤُونَ: {مِنْ بَعْدِ وَصِیِّۃِیُّوْصٰی بِہَا أَوْ دَیْنٍ} واَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَضٰی بِالدَّیْنِ قَبْلَ الْوَصِیَّۃِ وَأَنَّ أَعْیَانَ بَنِی الْأُمِّ یَتَوَارَثُوْنَ دُوْنَ بَنِی الْعَلَّاتِ، یَرِثُ الرَّجُلُ أَخَاہُ لِاَبِیْہِ وَأُمِّہِ دُوْنَ أَخِیْہِ لِاَبِیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۲)
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: تم لوگ یہ آیت پڑھتے ہو کہ (ترکہ تقسیم کیا جائے گا)میت کی طرف سے کی گئی وصیتیا قرض کے بعد جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصیت کو نافذ کرنے سے پہلے قرض ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ فیصلہبھی کیا ہے کہ (جب عینی اور علاتی بہن بھائی جمع ہو جائیں تو) حقیقی بہن بھائی وارث ہوں گے، نہ کہ علاتی، آدمی اپنے عینی بھائی کا وارث بنے گا، نہ کہ علاتی۔
Takhreej
(۶۳۵۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف الحارث الاعور۔ أخرجہ الترمذی: ۲۰۹۵، ۲۱۲۲، وابن ماجہ: ۲۷۳۹ (انظر: ۱۲۲۲)
Explanation
فوائد:… عینی اور علاتی بھائی عصبہ ہیں اور عصبہ کے وارث بننے کے دو قوانین ہیں، ایک درجۂ قرابت اور دوسرا قوت قرابت، سب سے پہلے درجۂ قرابت کو دیکھا جائے گا، ہر قریبی دور والے کو محجوب کر دے گا، اگر دو یا زائد فریقوں کا درجۂ قرابت ایک ہو تو قوتِ قرابت کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا، اگر سب افراد قوت میں برابر ہوئے تو سب کو وارث بنایا جائے گا، بصورتِ دیگر ہر قوی القرابہ، ضعیف القرابہ کو محجوب کر دے گا۔ عینی بھائی قوی القرابہ ہیں اور علاتی ضعیف القرابہ۔
6358
Zaeef