TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

فرائض کے ابواب - فرائض کے ابواب - Book 106 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 106 of Musnad Ahmad, with 14 chapters and 49 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

49 Hadith · 14 Chapters
میراث کے موانع کا بیان
۔ (۶۳۳۷)۔ عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ أَنَّہُ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیْنَ تَنْزِلُ غَدًا إِنْ شَائَ اللّٰہُ؟ وَذٰلِکَ زَمَنَ الْفَتْحِ، فَقَالَ: ((ھَلْ تَرَکَ لَنَا عَقِیْلٌ مِنْ مَنْزِلٍ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((لَایَرِثُ الْکَافِرُ الْمُؤْمِنَ وَلَا الْمُؤْمِنُ الْکَافِرَ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((اَلْمُسْلِمُ۔)) بَدْلَ الْمُؤْمِنِ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۹۵)
۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر اللہ تعالی نے چاہا تو آپ کل مکہ میں کہاں اتریں گے؟ یہ فتح مکہ کے زمانے کی بات تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا عقیل نے ہمارے لئے کوئی جگہ چھوڑی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کافر مؤمن کا اورمؤمن کافر کا وارث نہیں بن سکتا۔
Takhreej
(۶۳۳۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۲۸۲، ۴۲۸۳، ومسلم: ۱۳۵۱(انظر: ۲۱۷۵۲)
Explanation
فوائد:… جب ابو طالب فوت ہوا تو اس کے دو بیٹے مسلمان ہونے کی وجہ سے اس کے ترکہ سے محروم رہے، ایک سیدنا علیb اور دوسرے سیدنا جعفر b اور اس کے دو بیٹے عقیل اور طالب اس کے ساتھ کفر پر قائم تھے، سو سارا ترکہ ان دونوں میں تقسیم کر دیا گیا، پھر جب غزوۂ بدر میں طالب مارا گیا تو عقیل ساری جائداد کا وارث بن گیا اور پھر اس کو بیچ دیا، بعد میں سیدنا عقیلb مسلمان ہو گئے تھے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کوئی کافر مسلمان کا اور کوئی مسلمان کافر کا وارث نہیں بن سکتا، کل موانع ارث تین ہیں: کفر، غلامی، قتل ۔
6337
Sahih
میراث کے موانع کا بیان
۔ (۶۳۳۸)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعْیَبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَتَوَارَثُ أَھْلُ مِلَّتَیْنِ شَتّٰی۔)) (مسند احمد: ۶۶۶۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو مختلف دینوں والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیںگے۔
Takhreej
(۶۳۳۸) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۲۹۱۱، وابن ماجہ: ۲۷۳۱(انظر: ۶۶۶۴)
Explanation
فوائد:… امام عظیم آبادی نے کہا: جمہور اہل علم کے نزدیک دو دینوں سے مراد اسلام اور کفر ہیں، اس طرح یہ حدیث سابق حدیث کے ہم معنی ہے، مختلف کفریہ ادیان والوں کا ایک دوسرے کا وارث بننا ثابت ہے، صرف امام اوزاعی اس حدیث کے عموم کے قائل ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ یہودی عیسائی کا اور عیسائییہودی کا وارث نہیں بنے گا، اسی طرح باقی ادیان والوں کی صورتحال ہو گی۔ (عون المعبود: ۲/ ۱۳۱۴)
6338
Sahih
میراث کے موانع کا بیان
۔ (۶۳۳۹)۔ عَنْ اَبِی الْأَسْوَدِ الدِّیَلِیِّ قَالَ: کَانَ مُعَاذٌ بِالْیَمَنِ فَارْتَفَعُوْا إِلَیْہِ فِیْیَہُوْدِیٍّ مَاتَ وَتَرَکَ أَخَاہُ مُسْلِمًا فَقَالَ مُعَاذٌ: إِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّ الْإِسْلَامَ یَزِیْدُ وَلَا یَنْقُصُ۔)) فَوَرَّثَہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۳۵۵)
۔ ابو اسود دیلی کہتے ہیں کہ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمن میں تھے، لوگ ان کے پاس ایکیہودی کا مقدمہ لے کر آئے، وہ مر گیا تھا اور ایک مسلمان بھائی کو بطورِ وارث چھوڑا، سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اسلام اضافہ کرتا ہے، کمی نہیںکرتا۔ پھر انھوں نے اس مسلمان کو یہودی کا وارث بنایا۔
Takhreej
(۶۳۳۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، ابو الاسود الدیلی لایعرف لہ سماع من معاذ۔ أخرجہ ابوداود: ۲۹۱۲(انظر: ۲۲۰۰۵)
Explanation
فوائد:… راجح مسلک یہی ہے کہ مسلمان یہودی کا وارث نہیں بن سکتا، جیسا کہ اس باب کی پہلی دو احادیث سے پتہ چل رہا ہے۔
6339
Zaeef
میراث کے موانع کا بیان
۔ (۶۳۴۰)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَتَلَ رَجُلٌ اِبْنَہُ عَمَدًا فَرُفِعَ إِلٰی عُمَرَ بَنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَجَعَلَ عَلَیْہِ مِنَ الْإِبِلِ ثَلَاثِیْنَ حِقَّۃً وَثَلَاثِیْنَ جَذَعَۃً وَأَرْبَعِیْنَ ثَنِیَّۃً، وَقَالَ: لَا یَرِثُ الْقَاتِلُ، وَلَوْلَا أَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یُقْتَلُ وَالِدٌ بِوَلَدِہِ۔)) لَقَتَلْتُکَ۔ (مسند احمد: ۳۴۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنے بیٹے کو جان بوجھ کر قتل کردیا، جب اس کا مقدمہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پیش ہوا تو انہوں نے بطورِ دیت اس قاتل پر تیس حِقّوں، تیس جذعوں اور چالیس دو دانتے اونٹوں کا تعین کیا اور کہا: قاتل وارث نہیں بنتا، پھر کہا: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ والد کو اولاد کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ تو میں نے تجھے قصاصاً قتل کر دینا تھا۔
Takhreej
(۶۳۴۰) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۶۶۲،و الترمذی: ۱۴۰۰ (انظر: ۳۴۶)
Explanation
فوائد:… اگر باپ بیٹے کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو اس کو قصاصاً قتل نہیں کیا جا سکتا ہے، البتہ وہ دیت ادا کرے گا، جو قتل ہونے والے کے وارثوں میں تقسیم ہو گی اور ایسے باپ کو مقتول کے ترکہ اور دیت سے محروم کر دیا جائے گا، کیونکہ قاتل قتل کی وجہ سے اپنے مقتول کی میراث سے محروم ہو جاتا ہے۔
6340
Sahih
میراث کے موانع کا بیان
۔ (۶۳۴۱)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ عُمَرُ: لَوْلَا أَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیْسَ لِلْقَاتِلِ شَیْئٌ۔)) لَوَرَّثْتُکَ، قَالَ: وَدَعَا اَخَا الْمَقْتُوْلِ فَأَعْطَاہُ الْإِبِلَ۔ (مسند احمد: ۳۴۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگرمیں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ قاتل کو وراثت سے کچھ نہیں ملتا۔ تو میں تجھے مقتول بیٹے کا وارث قرار دیتا، پھر انھوں نے مقتول کے بھائی کو بلایا اور اسے اونٹ دے دئیے۔
Takhreej
(۶۳۴۱) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ البیھقی: ۶/ ۲۱۹، ومالک فی ’’المؤطأ‘‘: ۲/ ۸۶۷، والنسائی فی ’’الکبری‘‘: ۶۳۶۸ (انظر: ۳۴۷)
6341
Sahih
میراث کے موانع کا بیان
۔ (۶۳۴۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: اَخَذَ عُمَرُ مِنَ الْإِبِلِ ثَلَاثِیْنَ حِقَّۃً وَثَلَاثِیْنَ جَذَعَۃً وَأَرْبَعِیْنَ ثَنِیَّۃً إِلٰی بَازِلِ عَامِہَا کُلُّہَا خَلِفَۃٌ، قَالَ: ثُمَّ دَعَا أَخَا الْمَقْتُوْلِ فَأَعْطَا ھَا إِیَّاہُ دُوْنَ اَبِیْہِ، وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیْسَ لِقَاتِلٍ شَیْئٌ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((مِیْرَاثٌ۔))۔ (مسند احمد: ۳۴۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تیس حِقّے، تیس جذعے اور چالیس ایسی اونٹنیاں لیں جو دو دانتے سے نویں سال میں داخل ہونے تک تھیں اور وہ ساری کی ساری حاملہ تھیں، پھر انھوں نے مقتول کے بھائی کو بلایایہ سارے اونٹ اسے دے دیئے اور باپ کو کچھ نہ دیا اور کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میراث میں سے قاتل کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔
Takhreej
(۶۳۴۲) تخریج: حسن لغیرہ ، وانظر الحدیث السابق۔ أخرجہ (انظر: ۳۴۸)
Explanation
فوائد:… ’’بازِل‘‘ ایسے اونٹ کو کہتے ہیں جو اپنی عمر کے نویں سال میں داخل ہو چکا ہو۔
6342
Sahih
مقتول کی دیت تمام ورثاء کے لیے ہونے کا اور اس حمل کی میراث کا بیان، جس نے پیدا ہونے کے بعد چیخ ماری ہو
۔ (۶۳۴۳)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا أَرَی الدِّیَۃَ اِلَّا لِلْعَصَبَۃِ لِأَنَّہُمْ یَعْقِلُوْنَ عَنْہُ، فَہَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْکُمْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ ذٰلِکَ شَیْئًا؟ فَقَامَ الضَّحَّاکُ بْنُ سُفْیَانَ الْکَلَابِیُّ وَکَانَ اسْتَعْمَلَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی الْأَعْرَابِ: کَتَبَ إِلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَۃَ أَشْیَمَ الضِّبَّابِیِّ مِنْ دِیَۃِ زَوْجِہَا، فَأَخَذَ بِذٰلِکَ عُمْرُ بْنُ الْخَطَّابِ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۳۷)
۔ سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میری رائے یہ ہے کہ دیت صرف عصبہ کو دی جائے، کیونکہیہی لوگ دیت بھرتے ہیں، کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں کوئی بات سنی ہے؟ سیدنا ضحاک بن سفیان کلابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو بدّو لوگوں کا عامل بنایا تھا، وہ کھڑے ہو ئے اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ تحریری حکم بھیجا تھا کہ میں اشیم ضبابی کی بیوی کو ان کے خاوند کی دیت سے وارث قرار دوں۔
Takhreej
(۶۳۴۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین
Explanation
فوائد:… خاوند بحیثیت ِ خاوند اپنی بیوی کا عصبہ نہیں ہوتا، اس لیے سیدنا عمر b نے چاہاکہ مقتولہ کی دیت میں سے خاوند کو کچھ نہ دیا جائے، کیونکہ قاتل کی دیت ادا کرنے والے عصبہ ہوتے ہیں، لیکن جب ان کو حدیث ِ مبارکہ کا علم ہوا کہ آپ a نے مقتولہ بیوی کی دیت میںسے اس کے خاوند کو اس کا حصہ دیا تھا، تو انھوں نے اپنے ارادے کو ترک کر دیا۔
6343
Sahih
مقتول کی دیت تمام ورثاء کے لیے ہونے کا اور اس حمل کی میراث کا بیان، جس نے پیدا ہونے کے بعد چیخ ماری ہو
۔ (۶۳۴۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ عُمَرَ قَالَ: الدِّیَۃُ لِلْعَاقِلِۃِ وَلَا تَرِثُ الْمَرْأَۃُ مِنْ دِیَۃِ زَوْجِہَا حَتّٰی أَخْبَرَہُ الضَّحَّاکُ بْنُ سُفْیَانَ الْکَلَابِیُّ: اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَتَبَ إِلَیَّ أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَۃَ اَشْیَمَ الْضِبَّابِیِّ مِنْ دِیَۃِ زَوْجِہَا فَرَجَعَ عُمَرُ عَنْ قَوْلِہِ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۳۸)
۔ (دوسری سند) سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: دیت مرد کے عصبہ میں تقسیم ہوگی اور بیوی اپنے خاوند کی دیت میں سے کسی حصے کی وارث نہیں ہوگی، لیکن جب سیدنا ضحاک بن سفیان کلابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے تحریری فرمان بھیجا تھا کہ میں اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کی دیت کا وارث بنائوں، تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی رائے سے رجوع کر لیا تھا۔
Takhreej
(۶۳۴۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
6344
Sahih
مقتول کی دیت تمام ورثاء کے لیے ہونے کا اور اس حمل کی میراث کا بیان، جس نے پیدا ہونے کے بعد چیخ ماری ہو
۔ (۶۳۴۵)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی لِحَمْلِ بْنِ مَالِکٍ الْھُذَلِیِّ بِمِیْرَاثِہِ عَنِ امْرَأَتِہِ الَّتِیْ قَتَلَتْہَا الْأُخْرٰی وَقَضٰی فِی الْجَنِیْنِ الْمَقْتُوْلِ بِغُرَّۃٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَۃٍ، قَالَ: فَوَرِثَہَا بَعْلُہَا وَبَنُوْھَا قَالَ: وَکَانَ لَہُ مِنْ اِمْرَأَتَیْہِ کِلْتَیْہِمَا وَلَدٌ، اَلْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد:۲۳۱۵۹)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا حمل بن مالک ہزلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ان کی بیوی سے، جسے ان کی دوسری بیوی نے قتل کیا تھا، اس مقتولہ بیوی کی دیت سے وارث بنایا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پیٹ کا بچہ قتل کر دینے کی وجہ سے ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا تھا، اس طرح اس مقتولہ کا خاوند اور اس کے بیٹے اس کے وارث بن گئے، سیدنا حمل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی دونوں بیویوں سے اولاد تھی۔ الحدیث۔
Takhreej
(۶۳۴۵) تخریج: صحیح بالشواھد۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۶۴۳ (انظر: ۲۲۷۷۸)
Explanation
فوائد:… سیدنا حمل بن مالک bکی دو بیویاں تھیں، ایک بیوی نے دوسری کو قتل کر دیا، قتل ہونے والی خاتون حاملہ تھی، اس طرح اس کا بچہ بھی ضائع ہو گیا، اب مقتول عورت کی دیت الگ تھی اور اس کے ضائع ہو جانے والے بچے کی دیت الگ تھی، بچے کی دیت ایک غلام یا لونڈی تھی،ان دونوں کی دیت مقتول بیوی کے خاوند اور بیٹوں میں تقسیم کر دی گئی۔
6345
Sahih
مقتول کی دیت تمام ورثاء کے لیے ہونے کا اور اس حمل کی میراث کا بیان، جس نے پیدا ہونے کے بعد چیخ ماری ہو
۔ (۶۳۴۶)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی أَنَّ الْعَقْلَ مِیْرَاثٌ بَیْنَ وَرَثَۃِ الْقَتِیْلِ عَلٰی فَرَائِضِہِمْ۔ (مسند احمد: ۷۰۹۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ دیت، مقتول کے ورثاء کے حصوں کے بقدر ان کے درمیان تقسیم ہوگی۔
Takhreej
(۶۳۴۶) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۶۴۷(انظر: ۷۰۹۱)
Explanation
فوائد:… جس طرح میت کا ترکہ اس کے ورثاء میں ان کے حصوں کے بقدر تقسیم کیا جاتا ہے، اسی طرح مقتول کی دیت اس کے ورثاء میں تقسیم کی جاتی ہے۔
6346
Sahih
اس چیز کا بیان انبیائے کرام h کا وارث نہیں بنایا جاتا
۔ (۶۳۴۷)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّا مَعْشَرَ الْأَنْبِیَائِ لَا نُوْرَثُ، مَا تَرَکْتُ بَعْدَ مُؤْنَۃِ عَامِلِیْ وَنَفَقَۃِ نِسَائِیْ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۹۹۷۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم جو انبیاء کی جماعت ہیں،ہمارا کوئی وارث نہیں بنتا، میں اپنے عاملوں اور بیویوں کے اخراجات کے بعد جو کچھ چھوڑوں، وہ صدقہ ہو گا۔
Takhreej
(۶۳۴۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۷۷۶، ۳۰۹۶، ۶۷۲۹، ومسلم: ۱۷۶۰ (انظر: ۹۹۷۲)
6347
Sahih
اس چیز کا بیان انبیائے کرام h کا وارث نہیں بنایا جاتا
۔ (۶۳۴۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَقْتَسِمُ وَرَثَتِیْ دِیْنَارًا (وَفِیْ لَفْظٍ: وَلَادِرْھَمًا) مَا تَرَکْتُہُ بَعْدَ نَفَقَۃِ نِسَائِیْ وَمُؤْنَۃِ عَامِلِیْ (یَعْنِیْ عَامِلِ أَرْضِہِ) فَہُوَ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۸۸۷۹)
۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے وارث دینار و درہم کی صورت میں میری میراث سے حاصل نہیں کر سکتے، میں اپنی بیویوں اور زمین کے عاملوں کے خرچے کے بعد جو کچھ ترک کر کے جاؤں، وہ صدقہ ہو گا۔
Takhreej
(۶۳۴۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
6348
Sahih
اس چیز کا بیان انبیائے کرام h کا وارث نہیں بنایا جاتا
۔ (۶۳۴۹)۔ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ أَنَّ فَاطِمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ لِاَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَنْ یَرِثُکَ اِذَا مِتَّ؟ قَالَ: وَلَدِیْ وَأَھْلِیْ، قَالَتْ: فَمَا لَنَا لَانَرِثُ االنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّ النَّبِیَّ لَایُوْرَثُ۔)) وَلٰکِنِّیْ أَعُوْلُ مَنْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعُوْلُ وَأُنْفِقُ عَلٰی مَنْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُنْفِقُ۔ (مسند احمد: ۶۰)
۔ سیدنا ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: جب آپ فوت ہوں گے تو آپ کا وارث کون ہوگا؟ انہوں نے کہا: میری اولاد اور میری بیوی، سیدہ نے کہا: پھر ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے وارث کیوں نہیںبن سکتے؟ انہوں نے کہا:کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاکہ بیشک نبی کا وارث نہیں بنا جاتا۔ ہاں میں (ابو بکر) ان کی کفالت کروں گا کہ جن کی کفالت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیا کرتے تھے اور میں ہر اس شخص پر خرچ کروں گا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس پر خرچ کیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۶۳۴۹) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الترمذی: ۱۶۰۹(انظر: ۶۰)
6349
Sahih
اس چیز کا بیان انبیائے کرام h کا وارث نہیں بنایا جاتا
۔ (۶۳۵۰)۔ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ اَزْوَاجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حِیْنَ تُوُفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَرَدْنَ أَنْ یُرْسِلْنَ عُثْمَانَ إِلٰی اَبِیْ بَکْرٍ یَسْأَلْنَہُ مِیْرَاثَہُنَّ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقَالَتْ لَھُنَّ عَائِشَۃُ: أَوَ لَیْسَ قَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا نُوْرَثُ، مَا تَرَکْنَاہُ فَہُوَ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۶۷۹۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وفات پاگئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ازواج مطہرات نے چاہا کہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف بھیجیں، تاکہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنی میراث کا مطالبہ کر سکیں، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان سے کہا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ ہمارے وارث نہیں بنتے، ہم جو کچھ چھوڑکر جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے۔
Takhreej
(۶۳۵۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۷۳۰، ومسلم: ۱۷۵۸ (انظر: ۲۶۲۶۰)
6350
Sahih
اس چیز کا بیان انبیائے کرام h کا وارث نہیں بنایا جاتا
۔ (۶۳۵۱)۔ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ لِعَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ وَطَلْحَۃَ وَالزُّبِیْرِ وَسَعْدٍ: نَشَدْتُّکُمْ بِاللّٰہِ الَّذِیْ تَقُوْمُ السَّمَائُ وَالْأَرْضُ بِہٖأَعَلِمْتُمْاَنَّرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّا لَا نُوْرَثُ، مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ؟)) قَالُوْا: اللّٰہُمَّ نَعَمْ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۰)
۔ سیدنا مالک بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عبد الرحمن بن عوف، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور سیدنا سعد سے مخاطب ہو کر کہا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ جس کے حکم کے آسرے پر آسمان و زمین قائم ہیں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ ہماری وراثت نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے۔ ان سب نے کہا: جی ہاں، ہم نے سنا ہے۔
Takhreej
(۶۳۵۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۷۳۰، ومسلم: ۱۷۵۸ (انظر: ۲۶۲۶۰)
Explanation
فوائد:… تمام احادیث ِ مبارکہ کا تقاضا یہ ہے کہ انبیائے کرام hکا ترکہ ان کے ورثاء میں تقسیم نہیں کیا جاتا، وہ سارے کا سارا از خود صدقہ ہو جاتا ہے، البتہ اس ترکہ میں سے ان افراد کی کفالت کی جائے گی، جن کے رسول اللہa کفیل تھے۔
6351
Sahih
اصحاب الفروض سے ابتداء کرنے اور ان سے بچ جانے والی میراث کو عصبہ میں تقسیم کرنے کا بیان
۔ (۶۳۵۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْحِقُوْا الْفَرَائِضَ بِأَھْلِہَا، فَمَا بَقِیَ فَہُوَ لِأَوْلٰی رَجُلٍ ذَکَرٍ)) (مسند احمد: ۲۶۵۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مقررہ حصے ان کے حقداروں کو دو، پھر جو بچ جائے، وہ قریبی مذکر رشتہ دار کے لیے ہو گا۔
Takhreej
(۶۳۵۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۷۴۶، ومسلم: ۱۶۱۵(انظر: ۲۶۵۷)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں اصحاب الفروض اور عصبہ کی ترتیب بیان کی گئی ہے، ترکہ سب سے پہلے اصحاب الفروض میں تقسیم کیا جائے گا، ان سے جو مال بچ جائے گا، وہ عصبہ میں تقسیم ہو گا۔ اصحاب الفروض وہ رشتہ دار ہیں کہ شریعت نے جن کے حصے مقرر کر دیئے ہیں،یہ کل بارہ افراد ہیں، مثلا بیٹی، بہن، ماں، بیوی، خاوند، باپ وغیرہ۔
6352
Sahih
اصحاب الفروض سے ابتداء کرنے اور ان سے بچ جانے والی میراث کو عصبہ میں تقسیم کرنے کا بیان
۔ (۶۳۵۳)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِقْسِمُوْا الْمَالَ بَیْنَ أَھْلِ الْفَرَائِضِ عَلٰی کِتَابِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فَمَا تَرَکَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلٰی ذَکَرٍ۔)) (مسند احمد: ۲۸۶۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق مال کو اصحاب الفروض میں تقسیم کرو، مقررہ حصوں سے جو کچھ بچ جائے، وہ قریبی مذکر رشتہ دار کے لیے ہو گا۔
Takhreej
(۶۳۵۳) تخریج: انظر الحدیث السابق
6353
Sahih
اصحاب الفروض سے ابتداء کرنے اور ان سے بچ جانے والی میراث کو عصبہ میں تقسیم کرنے کا بیان
۔ (۶۳۵۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: جَائَ تِ امْرَأَۃُ سَعْدِ بْنِ الرَبِیْعِ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاِبْنَتَیْہَا مِنْ سَعْدٍ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَبَیْعِ قُتِلَ أَبُوْھُمَا مَعَکَ فِیْ اُحُدٍ شَہِیْدًا وَاِنَّ عَمَّہُمَا أَخَذَ مَالَھُمَا فَلَمْ یَدَعْ لَھُمَا مَالًا وَلَا یُنْکَحَانِ اِلَّا وَلَھُمَا مَالٌ، قَالَ: فَقَالَ: ((یَقْضِی اللّٰہُ فِیْ ذٰلِکَ۔)) فَنَزَلَتْ اٰیَۃُ الْمِیْرَاثِ، فَأَرْسَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی عَمِّہِمَا، فَقَالَ: ((أَعْطِ ابْنَتَیْ سَعْدِ الثُّلُثَیْنِ وَأُمَّہُمَا الثُّمُنَ وَمَا بَقِیَ فَہُوَ لَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۵۸)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ربیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی اپنی دو بیٹیاں لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! یہ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دو بیٹیاں ہیں، ان کا باپ جنگ احد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ شہید ہو چکا ہے، اب ان کے چچا نے تمام مال سمیٹلیا ہے، ظاہر ہے اگر ان بیٹیوں کے پاس مال نہ ہوا تو کوئی آدمی ان سے نکاح کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس بارے میں اللہ تعالیٰ کو ئی فیصلہ فرمائے گا۔ پھر میراث والی آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان بچیوں کے چچا کو بلایا اورفرمایا: سعد کی بیٹیوں کو دوتہائی اور ان کی ماں کو آٹھواں حصے دے، پھر جو کچھ بچ جائے وہ تیرا ہے۔
Takhreej
(۶۳۵۴) اسنادہ محتمل للتحسین۔ أخرجہ ابوداود: ۲۸۹۱، ۲۸۹۲، وابن ماجہ: ۲۷۲۰ (انظر: ۱۴۷۹۸)
Explanation
فوائد:… جب میت کی دو یا زائد بیٹیاں ہوں تو ان کو دو تہائی ملتا ہے، جب خاوند کی اولاد ہو تو اس کی بیوی کو آٹھواں حصہ ملتا ہے، چچا عصبہ ہے، اس لیے دو قسم کے اصحاب الفروض سے جو کچھ بچے گا، وہ چچا کو ملے گا۔
6354
Sahih
اصحاب الفروض سے ابتداء کرنے اور ان سے بچ جانے والی میراث کو عصبہ میں تقسیم کرنے کا بیان
۔ (۶۳۵۵)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ زَوْجٍ وَأُخْتٍ لِأُمٍّ وَأَبٍ فَاَعْطَی الزَّوْجَ النِّصْفَ، وَالْاُخْتَ النِّصْفَ، فَکُلِّمَ فِیْ ذٰلِکَ فَقَالَ: سَیِّدُنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی بِذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۱۹۷۸)
۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے میت کے خاونداور حقیقی بہن کے بارے میں سوال کیا گیا، پس انھوں نے نصف خاوند کو اور نصف بہن کو دیا اور جب ان سے اس بارے میں بات کی گئی تو انھوں نے کہا: ہمارے سردار رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے ہی فیصلہ کیا تھا۔
Takhreej
(۶۳۵۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابی بکر بن عبد اللہ، ولانقطاعہ فان مکحولا وعطیۃ وضمرۃ وراشدا لم یسمع واحد منھم من زید بن ثابت (انظر: ۲۱۶۳۹)
Explanation
فوائد:… یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن مسئلہ ایسے ہی ہے کہ جب کسی مسئلہ میں خاوند اور عینی بہن جمع ہو جائیں تو خاوند کو بھی نصف ملے گا اور بہن کو بھی نصف۔
6355
Zaeef
بہنوں کا بیٹیوں کی وجہ سے عصبہ بننے اورپوتی کے ساتھ بیٹی کا حصہ مقرر ہونے کا بیان
۔ (۶۳۵۶)۔ عَنْ ھُزَیْلِ بْنِ شُرَحْبِیْلٍ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ أَبَا مُوْسَی الْأَشْعَرِیَّ عَنْ اِمْرَأَۃٍ تَرَکَتْ اِبْنَتَہَا وَاِبْنَتَ اِبْنِہَا وَأُخْتَہَا، فَقَالَ: النِّصْفُ لِلْاِبْنَۃِ وَلِلْأُخْتِ النِّصْفُ وَقَالَ: ائْتِ ابْنَ مَسْعُوْدٍ فَاِنَّہُ سَیُتَابِعُنِیْ، قَالَ: فَأَتَوْا ابْنَ مَسْعُوْدٍ فَأَخْبَرُوْہُ بِقَوْلِ اَبِیْ مُوْسٰی، فَقَالَ: لَقَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ لَأَقْضِیَنَّ فِیْہَا بِقَضَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (قَالَ شُعْبَۃُ: وَجَدْتُ ھٰذَا الْحَرْفَ مَکُتْوَبًا، لَأَقْضِیَنَّ فِیْہَا بِقَضَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) لِلْاِبْنَۃِ النِّصْفُ وَلِاِبْنَۃِ الْاِبْنِ السُّدُسُ تَکْمِلَۃَ الثُّلُثَیْنِ وَمَا بَقِیَ فَلِلْأُخْتِ، فَأَتَوْا أَبَا مُوْسٰی فَأَخْبَرُوْہُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ، فَقَالَ اَبُوْ مُوْسٰی: لَاتَسْأَلُوْنِیْ عَنْ شَیْئٍ مَادَامَ ھٰذَا الْحِبْرُ بَیْنَ اَظْہُرِکُمْ۔ (مسند احمد: ۴۴۲۰)
۔ ہزیل بن شرحبیل کہتے ہیں ایک آدمی نے سیدناابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا کہ ایک عورت فوت ہو گئی ہے اور اس نے اپنے ورثاء میں ایک بیٹی، ایک پوتی اور ایک بہن چھوڑی ہے، ان کو اس کی وراثت سے کتنا حصہ ملے گا؟ انھوں نے کہا: مال کا ایک نصف بیٹی کو اور ایک نصف بہن کو ملے گا اور پوتی محروم رہے گی، اور ساتھ ہی کہنے لگے کہ تم سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس چلے جاؤ، وہ بھی میرے ساتھ اتفاق کریں گے، پس وہ گیا اور جب سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فیصلے سے آگاہ کیا تو انہوں نے کہا: اگر میں بھییہی فیصلہ کر دوں تو میں تو گمراہ ہو جاؤں گا اور راہ راست والا نہ رہوں گا، میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کروں گا اوروہ یہ ہے کہ بیٹی کو جائیداد کا نصف، پوتی کو چھٹا حصہ ملے گا، تاکہ اولاد میں مال کا دو تہائی پورا ہو جائے اور جو مال باقی بچے گا، وہ بہن کو دیا جائے، پھر سائل نے آکر سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ والے فتویٰ سے آگاہ کیا،یہ سند کر ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب تک یہ علم کا سمندر تمہارے اندر موجود ہے، مجھ سے کوئی سوال نہ کیا کرو۔
Takhreej
(۶۳۵۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۷۳۶ (انظر: ۴۴۲۰)
6356
Sahih

Chapters

14
01
میراث کے موانع کا بیان
6 Hadith
02
مقتول کی دیت تمام ورثاء کے لیے ہونے کا اور اس حمل کی میراث کا بیان، جس نے پیدا ہونے کے بعد چیخ ماری ہو
4 Hadith
03
اس چیز کا بیان انبیائے کرام h کا وارث نہیں بنایا جاتا
5 Hadith
04
اصحاب الفروض سے ابتداء کرنے اور ان سے بچ جانے والی میراث کو عصبہ میں تقسیم کرنے کا بیان
4 Hadith
05
بہنوں کا بیٹیوں کی وجہ سے عصبہ بننے اورپوتی کے ساتھ بیٹی کا حصہ مقرر ہونے کا بیان
2 Hadith
06
عینی بھائیوں کی وجہ سے علاتی بھائیوں کے ساقط ہو جانے کا بیان
1 Hadith
07
دادیوں اور نانیوں کی میراث کا بیان
3 Hadith
08
جدّ کی وراثت کا بیان
6 Hadith
09
ذوی الارحام کی میراث کا بیان
2 Hadith
10
غلام کی اور اس شخص کی میراث کا بیان جو کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہو
4 Hadith
11
لعان اور زنا والی اولاد کا اپنی ماؤں کا اور ان کی ماؤں کا ان کا وارث بننا اور ایسی اولاد کا باپ سے منقطع ہو جانا
3 Hadith
12
اس شخص کا بیان جو اپنے وارث کو میراث سے محروم کرنا چاہے
1 Hadith
13
ولاء کی وجہ سے میراث کا بیان
5 Hadith
14
کلالہ کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.