TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

غلام کی اور اس شخص کی میراث کا بیان جو کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہو - غلام کی اور اس شخص کی میراث کا بیان جو کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہو - فرائض کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 10 of فرائض کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 10 of 14 · 4 Hadith
۔ (۶۳۷۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَجُلٌ مَاتَ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَمْ یَتْرُکْ وَارِثًا اِلَّا عَبْدًا ھُوَ اَعْتَقَہُ فَأَعْطَاہُ مِیْرَاثَہُ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ عہد ِ نبوی میں ایک آدمی فوت ہو گیا اور کوئی وارث نہیں چھوڑا، البتہ اس کا ایک آزاد کیا ہوا غلام تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی میراث اس کو دے دے۔
Takhreej
(۶۳۷۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، عوسجہ لایعرف۔ أخرجہ ابوداود: ۲۹۰۵، وابن ماجہ: ۲۷۴۱، والترمذی: ۲۱۰۶ (انظر: ۱۹۳۰)
Explanation
فوائد:… غلام کے آزاد کنندہ کو عصبہ سببی کہتے ہیں، عصبہ نسبی کی عدم موجودگی میں عصبہ سببی ان کے قائم مقام ہوتے ہیں۔
6370
Zaeef
۔ (۶۳۷۱)۔ عَنِ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: تُوُفِّیَ رَجُلٌ مِنَ الْأَزْدِ فَلَمْ یَدَعْ وَارِثًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِلْتَمِسُوْا لَہُ وَارِثًا، اِلْتَمِسُوْا لَہُ ذَا رَحِمٍ۔)) قَالَ: فَلَمْ یُوْجَدْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِدْفَعُوْہُ اِلٰی أَکْبَرِ خُزَاعَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۳۲)
۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ از دقبیلے کا ایک آدمی فوت ہو گیا اور اس کا کوئی وارث نہ تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا کوئی وارث تلاش کرو، اس کا کوئی رشتہ دار تلاش کرو۔ لیکن کوئی قرابتدار نہ مل سکا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خزاعہ قبیلے کے سب سے بڑے کو یہ میراث دے دو۔
Takhreej
(۶۳۷۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابو بکر جبریل بن احمر الجملی لیس بالقوی۔ أخرجہ ابوداود: ۲۹۰۴، والنسائی: ۶۳۹۶ (انظر: ۲۲۹۴۴)
Explanation
فوائد:… یہ روایت ضعیف ہے، جب میت کا کوئی رشتہ دار نہیں ہو گا تو مال بیت المال میں جمع کر دیا جائے گا، یا حکمران کسی مصلحت کو سامنے رکھ کر مال کو تقسیم کر دے گا، جیسا کہ اگلی حدیث ِ مبارکہ میں ہے۔
6371
Zaeef
۔ (۶۳۷۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ مَوْلٰی لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَعَ مِنْ نَخْلَۃٍ فَمَاتَ وَتَرَکَ شَیْئًا وَلَمْ یَدَعْ وَلَدًا وَ لَاحَمِیْمًا فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَعْطُوْا مِیْرَاثَہُ رَجُلًا مِنْ أَھْلِ قَرْیَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۵۶۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ایک غلام کھجور سے گر کر فوت ہو گیا، اس کا کچھ ترکہ تو تھا، لیکن اس کی اولاد تھی نہ رشتہ دار، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی میراث کے بارے میں فرمایا: اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو۔
Takhreej
(۶۳۷۲) اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابوداود: ۲۹۰۲، وابن ماجہ: ۲۷۳۳، والترمذی: ۲۱۰۵ (انظر: ۲۵۰۵۴)
Explanation
فوائد:… بستی کے آدمی کا نہ ترکہ کے ساتھ کوئی تعلق ہے اور نہ وہ مستقل طور پر وارث بنتا ہے، دراصل جب آپa نے دیکھا کہ اس کا کوئی وارث موجود نہیں ہے تو یہ فیصلہ کر دیا کہ یہ ترکہ اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دیا جائے، آپa کا یہ فیصلہ بیت المال میں ترکہ جمع کروا دینے کے مترادف ہے، یعنی حکمران کویہ حق حاصل ہو گا کہ وہ جیسے چاہے فیصلہ کر دے۔
6372
Sahih
۔ (۶۳۷۳)۔ عَنْ تَمِیْمِ نِ الدَّارِیِّ قَالَتْ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا السُّنْۃُ فِی الرَّجُلِ مِنْ أَھْلِ الْکُفْرِ یُسْلِمُ عَلٰییَدِ الرَّجُلِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ؟ قَالَ: ((ھُوَ أَوْلَی النَّاسِ بِحَیَاتِہِ وَمَوْتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۷۷)
۔ سیدنا تمیم داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا کہ کافروں میں سے ایک آدمی کسی مسلمان کے ہاتھ پر مسلمان ہوتا ہے، اس کے بارے میں کیا طریقہ ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ مسلمان دوسروں کی بہ نسبت اس کی زندگی اور موت میں اس کا سب سے زیادہ حقدار ہو گا۔
Takhreej
(۶۳۷۳) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۲۹۱۸، والترمذی: ۲۱۱۲، وابن ماجہ: ۲۷۵۲ (انظر: ۱۶۹۵۳)
Explanation
فوائد:… سعید بن منصور کی روایت میںیہ الفاظ زیادہ ہیں: ((یَرِثُہٗ وَیَعْقِلُ عَنْہُ))… ’’وہ اس کا وارث بنے گا اور اس کی طرف سے دیت ادا کرے گا۔‘‘ لیکن اس کی سند میں احوص بن حکیم راوی ضعیف الحفظ ہے، لیکن اس کے بارے میں امام البانی نے کہا: فیستشھد بہ۔ (صحیحہ: ۲۳۱۶) امام عبد اللہ بن مبارک نے کہا: دوسرے ورثاء کی عدم موجودگی میں ایسا شخص وارث بنے گا۔ امام ثوری نے کہا: یہ وارث بنے گا اور یہ دوسروں سے زیادہ حقدار ہو گا۔ (مصنف عبد الرزاق: ۶/ ۲۰، ۹/ ۳۹) یاد رہے کہ سیدنا تمیم داریb ۹؁ھمیں مسلمان ہوئے، اس لیے اس حدیث کے منسوخ ہونے کا دعوی نہیں کرنا چاہیے۔
6373
Sahih

Chapters

14
01
میراث کے موانع کا بیان
6 Hadith
02
مقتول کی دیت تمام ورثاء کے لیے ہونے کا اور اس حمل کی میراث کا بیان، جس نے پیدا ہونے کے بعد چیخ ماری ہو
4 Hadith
03
اس چیز کا بیان انبیائے کرام h کا وارث نہیں بنایا جاتا
5 Hadith
04
اصحاب الفروض سے ابتداء کرنے اور ان سے بچ جانے والی میراث کو عصبہ میں تقسیم کرنے کا بیان
4 Hadith
05
بہنوں کا بیٹیوں کی وجہ سے عصبہ بننے اورپوتی کے ساتھ بیٹی کا حصہ مقرر ہونے کا بیان
2 Hadith
06
عینی بھائیوں کی وجہ سے علاتی بھائیوں کے ساقط ہو جانے کا بیان
1 Hadith
07
دادیوں اور نانیوں کی میراث کا بیان
3 Hadith
08
جدّ کی وراثت کا بیان
6 Hadith
09
ذوی الارحام کی میراث کا بیان
2 Hadith
10
غلام کی اور اس شخص کی میراث کا بیان جو کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہو
4 Hadith
11
لعان اور زنا والی اولاد کا اپنی ماؤں کا اور ان کی ماؤں کا ان کا وارث بننا اور ایسی اولاد کا باپ سے منقطع ہو جانا
3 Hadith
12
اس شخص کا بیان جو اپنے وارث کو میراث سے محروم کرنا چاہے
1 Hadith
13
ولاء کی وجہ سے میراث کا بیان
5 Hadith
14
کلالہ کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.