۔ (۶۳۷۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَجُلٌ مَاتَ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَلَمْ یَتْرُکْ وَارِثًا اِلَّا عَبْدًا ھُوَ اَعْتَقَہُ فَأَعْطَاہُ مِیْرَاثَہُ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عہد ِ نبوی میں ایک آدمی فوت ہو گیا اور کوئی وارث نہیں چھوڑا، البتہ اس کا ایک آزاد کیا ہوا غلام تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی میراث اس کو دے دے۔
Takhreej
(۶۳۷۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، عوسجہ لایعرف۔ أخرجہ ابوداود: ۲۹۰۵، وابن ماجہ: ۲۷۴۱، والترمذی: ۲۱۰۶ (انظر: ۱۹۳۰)
Explanation
فوائد:… غلام کے آزاد کنندہ کو عصبہ سببی کہتے ہیں، عصبہ نسبی کی عدم موجودگی میں عصبہ سببی ان کے قائم مقام ہوتے ہیں۔
6370
Zaeef