TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

دعووں، گواہیوں اور قسم کی صورتوں وغیرہ کے ابواب مالوں اور خونوں جیسے معاملات میں جب مُدَّعِی کے پاس گواہ نہ ہو تو مُدّعٰی علیہ سے قسم لینے کا بیان - دعووں، گواہیوں اور قسم کی صورتوں وغیرہ کے ابواب مالوں اور خونوں جیسے معاملات میں جب مُدَّعِی کے پاس گواہ نہ ہو تو مُدّعٰی علیہ سے قسم لینے کا بیان - فقہ کی تیسری نوع: اقضیہ احکام فیصلوں اور شہادتوں کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 9 of فقہ کی تیسری نوع: اقضیہ احکام فیصلوں اور شہادتوں کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 9 of 12 · 3 Hadith
۔ (۶۴۱۵)۔ عَنِ ابْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ قَالَ: کَتَبَ اِلَیَّ ابْنُ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَوْ أَنَّ النَّاسَ أُعْطُوْا بِدَعْوَاھُمْ، اِدَّعَی نَاسٌ مِنَ النَّاسِ دِمَائَ نَاسٍ وَأَمْوَالَھِمْ وَلٰکِنَّ الْیَمِیْنَ عَلٰی الْمُدَّعٰی عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۳۱۸۸)
۔ ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مجھے یہ تحریر بھیجی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو ان کے دعووں کے مطابق دیا جائے تو وہ لوگوں کے خونوں اور مالوں کا دعوی کر دیں، لیکن قسم مُدَّعٰی علیہ پر ہو گی۔
Takhreej
(۶۴۱۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۵۱۴، ۲۶۶۸، ومسلم: ۱۷۱۱(انظر: ۳۱۸۸)
Explanation
فوائد:… یہ شریعت ِ اسلامیہ کا بڑا اہم اور سادہ قانون ہے کہ مدّعی اپنے دعوے پر گواہ پیش کرے، وگرنہ مُدّعٰی علیہ قسم اٹھا کر اس کے دعوے سے بری ہو جائے گا، لیکن اس کو چاہیے کہ وہ جھوٹی قسم سے مکمل اجتناب کرے، وگرنہ اگلی حدیث کا مصداق بن جائے گا، ایسے موقع پر حاکم کو چاہیے کہ وہ وعظ و نصیحت کرے اور آخرت کی اہمیت اور دنیا کی بے ثباتی بیان کرے۔
6415
Sahih
۔ (۶۴۱۶)۔ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَتَاہُ رَجُلَانِ یَخْتَصِمَانِ فِیْ أَرْضٍ فَقَالَ أَحَدُھُمَا: إِنَّ ھٰذَا اِنْتَزٰی عَلٰی أَرْضِیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ فِیْ الْجَاھِلِیَّۃِ (وَھُوَ امْرُؤُ الْقَیْسِ بْنُ عَابِسٍ الْکِنْدِیُّ وَخَصَمُہُ رَبِیْعَۃُ بْنُ عَبْدَانَ) فَقَالَ لَہُ: ((بَیِّنَتُکَ۔)) قَالَ: لَیْسَ لِیْ بَیِّنَۃٌ، قَالَ: ((یَمِیْنُہُ۔)) قَالَ: اِذًا یَذْھَبُ، قَالَ: ((لَیْسَ لَکَ اِلَّا ذٰلِکَ۔)) فَلَمَّا قَامَ لِیَحْلِفَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ اقْتَطَعَ أَرْضًا ظَالِمًا لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَھُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۰۶۹)
۔ سیدنا وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس دو آدمی آئے، ان کا زمین کا جھگڑا تھا، ایک امرء القیس بن عابس کندی تھا اور اس کا مقابل ربیعہ بن عبدان تھا، اول الذکر نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے جاہلیت میں میری زمین زبردستی چھین لی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کندی سے فرمایا: دلیل پیش کرو۔ وہ کہنے لگا: دلیل تو کوئی نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر مُدّعا علیہ قسم اٹھائے گا۔ اس نے کہا: وہ تو پھر میرا مال ہتھیا لے گا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ تیرے حق میں کچھ ہے ہی نہیں۔ پھر جب وہ قسم اٹھانے کے لیے کھڑا ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو ظلم کرتے ہوئے کسی کی زمین ہتھیا لے گا تو وہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔
Takhreej
(۶۴۱۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۳۹(انظر: ۱۸۸۶۳)
6416
Sahih
۔ (۶۴۱۷)۔ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ: خَاصَمْتُ ابْنَ عَمٍّ لِیْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ بِئْرٍ کَانَتْ لِیْ فِیْیَدِہِ، فَجَحَدَنِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَیِّنَتُکَ أَنَّھَا بِئْرُکَ وَاِلَّا فَیَمِیْنُہُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! مَا لِیْ بَیِّنَۃٌ، اِنْ تَجْعَلْھَا بِیَمِیْنِہِ تَذْھَبْ بِئْرِیْ، اِنَّ خَصْمِیْ امْرَؤٌ فَاجِرٌ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِؤٍ مُسْلِمٍ بِغَیْرِ حَقٍّ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَھُوَ عَلَیْہِ غَضْبَانُ۔)) وَقَرَأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {اِنَّ الَّذِیْنَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ} (آل عمران: ۷۷) الآیۃ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۹۱)
۔ سیدنا اشعث بن قیس کہتے ہیں: میرا ایک کنویں تھا اور اس کے معاملے میں میرا اپنے چچا زاد بھائی سے جھگڑا تھا، اس نے یہ کنواں مجھے واپس کرنے سے انکار کر دیا تھا، میںیہ مقدمہ لے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: دلیل لاؤ کہ یہ کنواں تمہارا ہے، وگرنہ وہ قسم اٹھا لے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس دلیل تو نہیں ہے اور میرا مقابل فاجر اور فاسق آدمی ہے،اس لیے اگرآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قسم کی روشنی میں فیصلہ کیا تو وہ میرا کنواں ہتھیا لے گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کسی مسلمان کا مال نا حق ہتھیائے گا وہ اس حال میں اللہ تعالی سے ملاقات کرے گا کہ وہ اس سے ناراض ہو گا۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {اِنَّ الَّذِیْنَیَشْتَرُوْنَ بِعَہْدِ اللّٰہِ وَاَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِکَ لَا خَلَاقَ لَھُمْ فِیْ الآخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْھِمْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔}… بے شک جو لوگ اللہ تعالی کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے، اللہ تعالی نہ تو ان سے بات چیت کرے گا نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
Takhreej
(۶۴۱۷) أخرجہ بنحوہ البخاری: ۲۳۵۶، ۴۵۴۹، ۶۶۷۶، ۶۶۷۷، ومسلم: ۱۳۸(انظر: ۲۱۸۴۸)
6417
Sahih

Chapters

12
01
قاضی کے فیصلے میں درستی اور خطا دونوں کے امکان، مجتہد قاضی کے اجر اور اس کے فیصلہ کرنے کی کیفیت کا بیان
6 Hadith
02
قضا اور امارت کی حرص رکھنے کی کراہت کا بیان
5 Hadith
03
ظالم حاکموں کی مذمت اور مُنصِف حکمرانوں کی فضیلت کا بیان
6 Hadith
04
حاکم کو رشوت سے منع کرنے کا بیان
5 Hadith
05
قضا اور قاضی کے آداب کا بیان فریقین کا کلام سن لینے سے پہلے فیصلہ کر دینے سے ممانعت کا بیان
1 Hadith
06
غصے کی حالت میں فیصلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
2 Hadith
07
فریقین کا قاضی کے سامنے بیٹھنے کا بیان
1 Hadith
08
باطل چیز پر جھگڑنے والے کے گناہ کا بیان، اگرچہ بظاہر اس کے لیے فیصلہ کر دیا گیا ہو اور اس چیز کا بیان کہ کیا قاضی اپنے علم کی روشنی میں فیصلہ کر سکتا ہے یا نہیں
3 Hadith
09
دعووں، گواہیوں اور قسم کی صورتوں وغیرہ کے ابواب مالوں اور خونوں جیسے معاملات میں جب مُدَّعِی کے پاس گواہ نہ ہو تو مُدّعٰی علیہ سے قسم لینے کا بیان
3 Hadith
10
ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ فیصلہ کرنے والے کا بیان
4 Hadith
11
جب فریقین کسی چیز کی ملکیت کا دعوی کریں اور ان کے پاس کوئی گواہ نہ ہو تو قرعہ کے ذریعے فیصلہ کرنے کابیان، اسی طرح اس چیز کی وضاحت کہ اگر دونوں کے پاس گواہ تو ہوں، لیکن متعارض ہوں
3 Hadith
12
رسول اللہ a کے کیے ہوئے چند متفرق فیصلہ جات
2 Hadith
No chapter matched that.