۔ (۶۴۱۵)۔ عَنِ ابْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ قَالَ: کَتَبَ اِلَیَّ ابْنُ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((لَوْ أَنَّ النَّاسَ أُعْطُوْا بِدَعْوَاھُمْ، اِدَّعَی نَاسٌ مِنَ النَّاسِ دِمَائَ نَاسٍ وَأَمْوَالَھِمْ وَلٰکِنَّ
الْیَمِیْنَ عَلٰی الْمُدَّعٰی عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۳۱۸۸)
۔ ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مجھے یہ تحریر بھیجی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو ان کے دعووں کے مطابق دیا جائے تو وہ لوگوں کے خونوں اور مالوں کا دعوی کر دیں، لیکن قسم مُدَّعٰی علیہ پر ہو گی۔
Takhreej
(۶۴۱۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۵۱۴، ۲۶۶۸، ومسلم: ۱۷۱۱(انظر: ۳۱۸۸)
Explanation
فوائد:… یہ شریعت ِ اسلامیہ کا بڑا اہم اور سادہ قانون ہے کہ مدّعی اپنے دعوے پر گواہ پیش کرے، وگرنہ مُدّعٰی علیہ قسم اٹھا کر اس کے دعوے سے بری ہو جائے گا، لیکن اس کو چاہیے کہ وہ جھوٹی قسم سے مکمل اجتناب کرے، وگرنہ اگلی حدیث کا مصداق بن جائے گا، ایسے موقع پر حاکم کو چاہیے کہ وہ وعظ و نصیحت کرے اور آخرت کی اہمیت اور دنیا کی بے ثباتی بیان کرے۔
6415
Sahih