TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مسلمان کا خون کو جائز قرار دینے والے امور کا بیان - مسلمان کا خون کو جائز قرار دینے والے امور کا بیان - قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 38 · 5 Hadith
۔ (۶۴۶۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰن یَعْنِیْ ابْنَ مَہْدِیِّ ثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ مَسْرُوْقٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَامَ فِیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((وَالَّذِیْ لَا اِلٰہَ غَیْرُہ،! لَایَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ یَشْھَدُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنِّیْ مُحْمَدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ، اِلَّا ثَلَاثَۃَ نَفَرٍ، اَلتَّارِکُ الِْاسْلامَ، وَالْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَۃِ، وَالثَّیِّبِ الزَّانِی، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ۔)) قَالَ:الْاَعْمَشُ: فَحَدَّثْتُ بِہٖاِبْرَاہِیْمَ فَحَدَّثَنِیْ عَنِ الْاسود عَنْ عَائِشَۃَ بمِثْلہ۔ (مسند احمد: ۲۵۹۸۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، جو آدمییہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالی ہی معبودِ برحق ہے اور میں محمد اللہ کا رسول ہوں، اس کا خون حلال نہیں ہے، ما سوائے تین افراد کے: (۱)اسلام کو چھوڑنے والا اور جماعت سے علیحدہ ہو جانے والا، (۲) شادی شدہ زانی اور (۳) جان کے عوض قتل کیا جانے والا۔
Takhreej
(۶۴۶۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۸۷۸، ومسلم: ۱۶۷۶(انظر: )
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ اسلام تین افراد کو قتل کرنے کا حکم دیتا ہے: مرتدّ، شادی شدہ زانی اور مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرنے والا ، لیکن ان حدود کے نفاذ کا تعلق اسلامی حکمران اور خلیفہ سے ہے، کوئی آدمی انفرادی طور پر یہ کاروائی نہیں کر سکتا۔
6461
Sahih
۔ (۶۴۶۲)عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَحِلُّ دَمُ اِمْرِئٍ مُسْلِمٍ یَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَّا بِاِحْدٰی ثَلَاثٍ، اَلثَّیِّبُ الزَّانِی، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالتَّارِکُ لِدِیْنِہِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَۃِ۔)) (مسند احمد: ۴۲۴۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالی ہی معبودِ برحق ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، اس کا خون حلال نہیں ہے، ما سوائے تین صورتوں کے: (۱) شادی شدہ زانی، (۲) قتل کے عوض قتل کیا جانے والا اور (۳) دین کو چھوڑ کر جماعت سے الگ ہو جانے والا۔
Takhreej
(۶۴۶۲) تخریج: انطر الحدیث السابق
6462
Sahih
۔ (۶۴۶۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَحِلُّ دَمُ اِمْرِئٍ مُسْلِمٍ اِلَّا رَجُلٌ قَتَلَ فَقُتِلَ، أَوْ رَجُلٌ زَنٰی بَعْدَ مَا أُحْصِنَ، أَوْ رَجُلٌ اِرْتَدَّ بَعْدَ اِسْلَامِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۳۱۴)
۔ سیدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان آدمی کا خون بہانا حلال نہیں ہے، ما سوائے اس آدمی کے جوکسی مسلمان کو قتل کر دے، تو اس کو قصاص میں قتل کیا جائے یا اس آدمی کے جو شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرتا ہے، یا اس آدمی کے جو اسلام لانے کے بعد مرتد ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۶۴۶۳) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۷/ ۹۱ (انظر: ۲۵۷۹۴)
6463
Sahih
۔ (۶۴۶۴) وَعَنْہَا اَیْضًا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ یَقُوْلُ: ((مَنْ اَشَارَ بِحَدِیْدَۃٍ إِلٰی أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَیُرِیْدُ قَتْلَہُ فَقَدْ وَجَبَ دَمُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۶۸۲۵)
۔ سیدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے بھی روایت ہے کہ رسول اللہ V نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان کی جانب قتل کے ارادہ سے لوہے کے ساتھ اشارہ کیا تو اس کے خون کا ضیاع ثابت ہو جائے گا (یعنی اس کی حرمت ختم ہو جائے اور دفاع میں اس کو قتل کرنا جائز ہو جائے گا)۔
Takhreej
(۶۴۶۴) تخریج: اسنادہ ضعیف۔ أخرجہ الحاکم: ۲/ ۱۵۸ (انظر: ۲۶۲۹۴)
Explanation
فوائد:… ممکن ہے کہ جس آدمی کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہو، وہ اپنے دفاع کے ارادے سے آگے بڑھے اور اشارہ کرنے والا قتل ہو جائے اور اس کے جسم کا کوئی اور نقصان ہو جائے، ایسی صورت میں اس کا خون یا نقصان رائیگاں ہو جائے گا اور اس کو دیتیا قصاص لینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہو گا۔
6464
Zaeef
۔ (۶۴۶۵) عَنْ اَبِیْ سَوَّارٍ الْقَاضِیِّیَقُوْلُ عَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ الْأَسْلَمِیِّ قَالَ: أَغْلَظَ رَجُلٌ إِلٰی اَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: فَقَالَ أَبُوْ بَرْزَۃَ: أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَہَ؟ قَالَ: فَانْتَہَرَہُ وَقَالَ: مَا ھِیَ لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد:۵۴)
۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ بڑے سخت لہجے میں بات کی، سیدنا ابوبرزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں۔ لیکن سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو ڈانٹا اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد یہ چیز کسی کے لیے جائز نہیں ہے۔
Takhreej
(۶۴۶۵) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۴۳۶۳، والنسائی: ۷/۱۰۸(انظر: ۵۴)
Explanation
فوائد:… اس موقوف حدیث کا پس منظر یہ ہے: عَنْ أَبِی بَرْزَۃَ، قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ، فَتَغَیَّظَ عَلٰی رَجُلٍ، فَاشْتَدَّ عَلَیْہِ، فَقُلْتُ: تَأْذَنُ لِییَا خَلِیفَۃَ رَسُولِ اللَّہِ! أَضْرِبُ عُنُقَہُ؟ قَالَ: فَأَذْہَبَتْ کَلِمَتِی غَضَبَہُ، فَقَامَ، فَدَخَلَ، فَأَرْسَلَ إِلَیَّ، فَقَالَ: مَا الَّذِی قُلْتَ آنِفًا؟ قُلْتُ: اِئْذَنْ لِی أَضْرِبُ عُنُقَہُ، قَالَ: أَکُنْتَ فَاعِلًا لَوْ أَمَرْتُکَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: لَا وَاللَّہِ، مَا کَانَتْ لِبَشَرٍ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: ہَذَا لَفْظُ یَزِیدَ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: أَیْ لَمْ یَکُنْ لِأَبِی بَکْرٍ أَنْ یَقْتُلَ رَجُلًا إِلَّا بِإِحْدَی الثَّلَاثِ الَّتِی قَالَہَا رَسُولُ اللَّہV: ((کُفْرٌ بَعْدَ إِیمَانٍ، أَوْ زِنًا بَعْدَ إِحْصَانٍ، أَوْ قَتْلُ نَفْسٍ بِغَیْرَ نَفْسٍ۔)) وَکَانَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یَقْتُلَ۔ سیدنا ابو برزہ b سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو بکر bکے پاس تھا، ان کو ایک شخص پر غصہ آیا، اس نے جواباً سخت جملے کہے، میں نے کہا: اے خلیفۂ رسول! کیا آپ مجھے اجازت دیں گے کہ میں اس کو قتل کر دوں؟ میری اس بات سے سیدنا ابوبکر b کا غصہ تھم گیا اور وہ کھڑے ہو کر گھر چلے گئے، پھر مجھے بلا بھیجا اور کہا: تو نے ابھی کیا کہا تھا؟ میں نے کہا: جی میں نے کہا تھا کہ آپ مجھے اجازت دیں، میں اس کی گردن اڑا دیتا ہوں، انھوں نے کہا: اگر میں تجھے حکم دے دیتا تو کیا تو نے ایسا کر دینا تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! محمد a کے بعد یہ حق کسی کو حاصل نہیں ہے۔ امام احمد بن حنبل نے اس جملے کا مفہوم بیان کرتے ہوئے کہا: یعنی سیدنا ابو بکر b کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی کو قتل کرے ، ماسوائے ان تین صورتوں کے، جو رسول اللہ a نے بیان کی ہیں، آپ a نے فرمایا: ’’ایمان کے بعد کفر، شادی کے بعد زنا اور کسی نفس کے بغیر کسی جان کو ناحق قتل کرنا۔‘‘ یہ حق صرف نبی کریمa کا تھا کہ آپ a ایسے شخص کو قتل کر سکتے تھے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ a کی شانِ اقدس میں گستاخی کی سزا قتل ہے۔
6465
Sahih

Chapters

38
01
مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
13 Hadith
02
مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے والے کی وعید کا بیان
8 Hadith
03
مسلمان کا خون کو جائز قرار دینے والے امور کا بیان
5 Hadith
04
ذمیوں اورمعاہدہ والوں کے قتل کے حرام ہونے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
4 Hadith
05
خود کشی کرنے پر وعید کا بیان، وہ جس چیز سے مرضی خود کشی کرے
8 Hadith
06
نفس کی حفاظت کرنے اوراسے ہلاکت سے بچانے کے واجب ہونے کا بیان
3 Hadith
07
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
13 Hadith
08
گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
8 Hadith
09
چھپکلی کو قتل کرنے کے مستحب ہونے اور اس کو مارنے والے کے اجر و ثواب کا بیان
6 Hadith
10
کتوں کو قتل کرنے اور انہیں پالنے کا بیان کتوں کو قتل کرنے کے حکم اور اس کے سبب کا بیان
7 Hadith
11
کالے سیاہ کتے کے علاوہ باقی کتوں کو قتل نہ کرنے کی رخصت کا بیان
4 Hadith
12
اس چیز کا بیان کہ اِس رخصت کے بعد کون سے کتے پالنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
5 Hadith
13
جس گھر میں کتا یا تصویر ہو، اس میں فرشتوں کے داخل نہ ہونے کا بیان
6 Hadith
14
ان حیوانات کا بیان، جن کا قتل کرنا جائز نہیں ہے
2 Hadith
15
حیوانیا انسان کو باندھ کر قتل کرنے یا اذیت والی چیز سے قتل کرنے اور پھر انسان کا مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
10 Hadith
16
ہر روح والی چیز کو آگ سے جلانے کی ممانعت کا بیان
3 Hadith
17
قصاص کے ابواب قتل عمد پر قصاص کے ثابت ہونے اور اس کے مستحق کو قصاص اور دیت میں اختیار دینے کا بیان
3 Hadith
18
اس چیز کا بیان کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور آزاد کو غلام کے بدلے قتل کیے جانے کا مسئلہ
5 Hadith
19
مرد کو عورت کے بدلے اور عورت کو عورت کے بدلے قتل کرنے اور بھاری آلے سے قتل کرنے اور قاتل کو اسی انداز میں قتل کرنے کا بیان، جس میں اس نے کیا ہو
4 Hadith
20
والدین کو اولاد کے بدلے میں قتل نہ کرنے اور ایک مقتول کے قصاص میں دو افراد کو قتل کرنے کا بیان
4 Hadith
21
حکمرانوں سے قصاص لیے جانے کا بیان، الا یہ کہ مستحق صلح کر لے یا معاف کر دے
3 Hadith
22
قصاص لینے کا مستحق ہونے کے بعد معاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
23
دانت توڑنے کے قصاص کا بیان
2 Hadith
24
کان کا بعض حصہ کاٹنے میں قصاص لینے کا بیان
1 Hadith
25
اس چیز کا بیان کہ ایک آدمی کسی کا ہاتھ کاٹنے کے لیے منہ میں ڈالے اور وہ اپنا ہاتھ کھینچے جس کے نتیجے میں اس کے سامنے والا دانت گر جائے
3 Hadith
26
زخم کے درست ہونے سے پہلے قصاص لینے کی ممانعت کا بیان
1 Hadith
27
کیا حرم یا دیگر مساجد میںقصاصیا حدیں لگائی جا سکتی ہیں؟
3 Hadith
28
قسامہ کا بیان
3 Hadith
29
دیت کے ابواب نفس، اعضاء اور اعضاء کی منفعتوں کی دیت کا جامع تذکرہ اور اس میں قتل خطا، قتل عمد اور قتل شبہ عمد کا بیان
3 Hadith
30
شبہ عمد کے مقتول کی دیت کا بیان
6 Hadith
31
محض قتلِ خطا کی دیت کا بیان
4 Hadith
32
قتل کے علاوہ اعضا اور زخموں وغیرہ کی دیت کا بیان
6 Hadith
33
ذمیوں اور مکاتَب کی دیت کا بیان
6 Hadith
34
جنین کی دیت کا بیان
5 Hadith
35
اس شخص کا بیان کہ جس کے والد کو از راہِ خطا قتل کر دیا گیا اور پھر اس نے اس کی دیت کو مسلمانوں پر خیرات کر دیا
1 Hadith
36
قتل کا سبب بننے کی وجہ سے دیت کے واجب ہونے کا بیان اورگڑھے میں گرنے والوں کا واقعہ
1 Hadith
37
عاقلہ اور دیت کی ذمہ داری اٹھانے والوں کا بیان
5 Hadith
38
کسی شخص کا دوسرے کے جرم کی وجہ سے مؤاخذہ نہیں ہو گا، اگرچہ وہ اس کا سب سے قریبی رشتہ دار ہو
4 Hadith
No chapter matched that.