مسنداحمد

Musnad Ahmad

قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام

مسلمان کا خون کو جائز قرار دینے والے امور کا بیان

۔ (۶۴۶۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰن یَعْنِیْ ابْنَ مَہْدِیِّ ثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ مَسْرُوْقٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَامَ فِیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((وَالَّذِیْ لَا اِلٰہَ غَیْرُہ،! لَایَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ یَشْھَدُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنِّیْ مُحْمَدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ، اِلَّا ثَلَاثَۃَ نَفَرٍ، اَلتَّارِکُ الِْاسْلامَ، وَالْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَۃِ، وَالثَّیِّبِ الزَّانِی، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ۔)) قَالَ:الْاَعْمَشُ: فَحَدَّثْتُ بِہٖاِبْرَاہِیْمَ فَحَدَّثَنِیْ عَنِ الْاسود عَنْ عَائِشَۃَ بمِثْلہ۔ (مسند احمد: ۲۵۹۸۹)

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، جو آدمییہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالی ہی معبودِ برحق ہے اور میں محمد اللہ کا رسول ہوں، اس کا خون حلال نہیں ہے، ما سوائے تین افراد کے: (۱)اسلام کو چھوڑنے والا اور جماعت سے علیحدہ ہو جانے والا، (۲) شادی شدہ زانی اور (۳) جان کے عوض قتل کیا جانے والا۔

۔ (۶۴۶۲)عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَحِلُّ دَمُ اِمْرِئٍ مُسْلِمٍ یَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَّا بِاِحْدٰی ثَلَاثٍ، اَلثَّیِّبُ الزَّانِی، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالتَّارِکُ لِدِیْنِہِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَۃِ۔)) (مسند احمد: ۴۲۴۵)

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالی ہی معبودِ برحق ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، اس کا خون حلال نہیں ہے، ما سوائے تین صورتوں کے: (۱) شادی شدہ زانی، (۲) قتل کے عوض قتل کیا جانے والا اور (۳) دین کو چھوڑ کر جماعت سے الگ ہو جانے والا۔

۔ (۶۴۶۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَحِلُّ دَمُ اِمْرِئٍ مُسْلِمٍ اِلَّا رَجُلٌ قَتَلَ فَقُتِلَ، أَوْ رَجُلٌ زَنٰی بَعْدَ مَا أُحْصِنَ، أَوْ رَجُلٌ اِرْتَدَّ بَعْدَ اِسْلَامِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۳۱۴)

۔ سیدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان آدمی کا خون بہانا حلال نہیں ہے، ما سوائے اس آدمی کے جوکسی مسلمان کو قتل کر دے، تو اس کو قصاص میں قتل کیا جائے یا اس آدمی کے جو شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرتا ہے، یا اس آدمی کے جو اسلام لانے کے بعد مرتد ہو جاتا ہے۔

۔ (۶۴۶۴) وَعَنْہَا اَیْضًا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ یَقُوْلُ: ((مَنْ اَشَارَ بِحَدِیْدَۃٍ إِلٰی أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَیُرِیْدُ قَتْلَہُ فَقَدْ وَجَبَ دَمُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۶۸۲۵)

۔ سیدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے بھی روایت ہے کہ رسول اللہ V نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان کی جانب قتل کے ارادہ سے لوہے کے ساتھ اشارہ کیا تو اس کے خون کا ضیاع ثابت ہو جائے گا (یعنی اس کی حرمت ختم ہو جائے اور دفاع میں اس کو قتل کرنا جائز ہو جائے گا)۔

۔ (۶۴۶۵) عَنْ اَبِیْ سَوَّارٍ الْقَاضِیِّیَقُوْلُ عَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ الْأَسْلَمِیِّ قَالَ: أَغْلَظَ رَجُلٌ إِلٰی اَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: فَقَالَ أَبُوْ بَرْزَۃَ: أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَہَ؟ قَالَ: فَانْتَہَرَہُ وَقَالَ: مَا ھِیَ لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد:۵۴)

۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ بڑے سخت لہجے میں بات کی، سیدنا ابوبرزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں۔ لیکن سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو ڈانٹا اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد یہ چیز کسی کے لیے جائز نہیں ہے۔