۔ (۶۴۶۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰن یَعْنِیْ ابْنَ مَہْدِیِّ ثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ مَسْرُوْقٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَامَ فِیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: ((وَالَّذِیْ لَا اِلٰہَ غَیْرُہ،! لَایَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ یَشْھَدُ
اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنِّیْ مُحْمَدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ، اِلَّا ثَلَاثَۃَ نَفَرٍ، اَلتَّارِکُ الِْاسْلامَ، وَالْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَۃِ، وَالثَّیِّبِ الزَّانِی، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ۔)) قَالَ:الْاَعْمَشُ: فَحَدَّثْتُ بِہٖاِبْرَاہِیْمَ فَحَدَّثَنِیْ عَنِ الْاسود عَنْ عَائِشَۃَ بمِثْلہ۔ (مسند احمد: ۲۵۹۸۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، جو آدمییہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالی ہی معبودِ برحق ہے اور میں محمد اللہ کا رسول ہوں، اس کا خون حلال نہیں ہے، ما سوائے تین افراد کے: (۱)اسلام کو چھوڑنے والا اور جماعت سے علیحدہ ہو جانے والا، (۲) شادی شدہ زانی اور (۳) جان کے عوض قتل کیا جانے والا۔
Takhreej
(۶۴۶۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۸۷۸، ومسلم: ۱۶۷۶(انظر: )
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ اسلام تین افراد کو قتل کرنے کا حکم دیتا ہے: مرتدّ، شادی شدہ زانی اور مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرنے والا ، لیکن ان حدود کے نفاذ کا تعلق اسلامی حکمران اور خلیفہ سے ہے، کوئی آدمی انفرادی طور پر یہ کاروائی نہیں کر سکتا۔
6461
Sahih