TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام - قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام - Book 109 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 109 of Musnad Ahmad, with 38 chapters and 181 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

181 Hadith · 38 Chapters
مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
۔ (۶۴۴۰) عَنْ شَقِیْقٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَوَّلُ مَا یُقْضٰی بَیْنَ النَّاسِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِی الدِّمَائِ۔)) (مسند احمد: ۳۶۷۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روز قیامت لوگوں کے درمیان سب سے پہلے جو فیصلہ کیا جائے گا، وہ خونوںکے بارے میں ہوگا۔
Takhreej
(۶۴۴۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۵۳۳، ۶۸۶۴، ومسلم: ۱۶۷۸(انظر: ۳۶۷۴)
Explanation
فوائد:… حقوق اللہ میں سب سے پہلے نماز کا اور حقوق العباد میں سب سے پہلے خون کا محاسبہ کیا جائے گا اور جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے سامنے اس پر کئے گئے احسانات کا تذکرہ کرے گا تو سب سے پہلے صحت اور ٹھنڈے پانی کے بارے میں محاسبہ ہو گا،جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ حضرت ابوہریرۃb سے روایت ہے کہ رسول اللہ aنے فرمایا: ((اِنَّ اَوَّلَ مَا یُحَاسَبُ بِہِ الْعَبْدُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَنْ یُّقَالَ لَہٗ: اَلَمْاُصِحَّلَکَجِسْمَکَ،وَاُرْوِکَمِنَالْمَائِالْبَارِدِ؟))…’’روزِقیامت بندے کا سب سے پہلے محاسبہ یوں ہو گا کہ اسے کہا جائے گا: کیا میں نے تیرے جسم کو تندرست نہیں کیا تھا، کیا میں نے تجھے ٹھنڈے پانی سے سیراب نہیں کیا تھا۔‘‘ (ترمذی: ۲/ ۲۴۰،صحیحہ: ۵۳۹)
6440
Sahih
مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
۔ (۶۴۴۱)عَنْ اَبِیْ اِدْرِیْسَ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِیَۃَ (یَعْنِی ابْنَ اَبِیْ سُفْیَانَ) وَکَانَ قَلِیْلَ الْحَدِیْثِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقُوْلُ : ((کُلُّ ذَنْبٍ عَسَی اللّٰہُ أَنْ یَغْفِرَہُ اِلَّا الرَّجُلَ یَمُوْتُ کَافِرًا وَالرَّجُلَ یَقْتُلُ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۳۱)
۔ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ کم احادیث بیان کرنے والے تھے، سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہرگناہ معاف کر دے، مگر وہ آدمی جو کفر کی حالت میں مرتا ہے اور جو جان بوجھ کر مؤمن کو قتل کرتا
Takhreej
(۶۴۴۱) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ۔ أخرجہ النسائی: ۷/ ۸۱(انظر: ۱۶۹۰۷)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالی ہے: {اِنَّ الّذَیِنْ کَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَھُمْ کُفَّارٌ اُولٰئِکَ عَلَیْھِمْ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۔}… ’’بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور وہ اس حال میں ہی مر گئے کہ وہ کافر تھے، یہ وہ لوگ ہیں کہ جن پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔‘‘ (سورۂ بقرہ :۱۶۱) مومن کو قتل کرنا سنگین جرم ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَائُ ہٗجَھَنَّمُخَالِدًافِیْھَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ لَعَنَہٗوَاَعَدَّلَہٗعَذَابًاعَظِیْمًا۔}… ’’اور جس نے مومن کو قصدا قتل کیا اس کا بدلہ دوزخ ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا غصب ہوگا اور اس کی لعنت ہے اور اس نے اس کے لے بہت بڑا عذاب تیار کیا ہے۔‘‘ (سورۂ نسائ:۹۳) مذکورہ بالا دو جرائم میں اس اعتبار سے یکسانیت پائی جاتی ہے کہ توبہ تائب ہو جانے کی وجہ سے معاف ہو جاتے ہیں، لیکن اسی حالت میں مر جانے کی صورت میں کفر نا قابل معافی جرم ہے اور قتل قابل معافی، مومن کا قاتل ابدی جہنمی نہیں ہو گا، دوسری نصوص کی روشنی میں اس آیت کو سخت وعید پر محمول کیا جائے گا۔
6441
Sahih
مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
۔ (۶۴۴۲) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: ((أَیُّیَوْمٍ أَعْظَمُ حُرْمَۃً؟)) قَالُوْا: یَوْمُنَا ھٰذا۔ قال: ((فَأَیُّ شَھْرٍ أَعْظَمُ حُرْمَۃً؟)) قَالْوْا: شَہَرُنَا ھٰذَا، قَالَ: ((فَأَیُّ بَلَدٍ أَعْظَمُ حرمۃ؟)) قَالَ: بَلَدُنَا ھٰذَا، قَالَ: ((فَاِنَّ دِمَائَ کُمْ وَأَمْوَالُکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَۃِیَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَہْرِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۱۸)
۔ سیدنا جابربن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں سے پوچھا: وہ کون سا دن ہے، جس کی حرمت سب سے زیادہ ہے؟ انہوں نے کہا: یہی ہمارا دن۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ کون سا مہینہ ہے، جس کی حرمت سب سے زیادہ ہے۔ انھوں نے کہا: یہی ہمارا ذوالحجہ کا مہینہ۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ کونسا شہر ہے، جس کی حرمت سب سے زیادہ ہے؟ انھوں نے کہا: یہی ہمارا شہر۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تمہارا خون اور تمہارا مال تم پر اسی طرح حرام ہیں، جس طرح تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس دن کی حرمت ہے۔
Takhreej
(۶۴۴۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۵/ ۲۷ (انظر: ۱۴۳۶۵)
Explanation
فوائد:… شریعت ِ مطہرہ کے نزدیک مسلمان کے خون، عزت اور مال کی جس قدر عظمت و حرمت زیادہ تھی، اتنا ہی ہمارے معاشرے کے افراد نے اس عظمت کو خوب پامال کیا ہے، آج مسلمان کی شان اس کے اسلام میں نہیں ہے، بلکہ ساری کی ساری عزت و غیرت کو مال و زر میں پنہاں سمجھ لیا گیا ہے، درہم و دینار والے کا وقار ہے اور مسکراہٹوں کے تبادلے ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہمارے معیار میں سب سے پہلے اسلام کی رو رعایت ہو، پھر دوسرے امور کو ترجیح دی جائے۔
6442
Sahih
مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
۔ (۶۴۴۳) عَنْ سَالِمِ بْنِ اَبِیْ الْجَعْدِ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ رَجُلٍ قَتَلَ مُؤْمِنًا ثُمَّ تَابَ وَآمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اھْتَدٰی؟ قَالَ: وَیْحَکَ وَأَنّٰی لَہُ الْھُدٰی؟ سَمِعْتُ نَبِیَّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَجِیْئُ الْمَقْتُوْلُ مُتَعَلِّقًا بِالْقَاتِلِیَقُوْلُ: یَارَبِّ! سَلْ ھٰذَا فِیْمَ قَتَلَنِیْ)) وَاللّٰہِ! لَقَدْ اَنْزَلَھَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلٰی نَبِیِّکُمْ وَمَا نَسَخَہَا بَعْدَ إِذْ أَنْزَلَھَا، قَالَ: وَیْحَکَ وَأَنّٰی لَہُ الْھُدٰی؟۔ (مسند احمد: ۱۹۴۱)
۔ سالم بن ابی جعد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کسی نے دریافت کیا کہ ایک آدمی ایک مؤمن کو قتل کرتا ہے، لیکن پھر توبہ کر لیتا ہے،ایمان لے آتا ہے، نیک عمل کرتا ہے اور ہدایتیافتہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا: بڑا افسوس ہے تجھ پر، ایسے قاتل کے لئے ہدایت کہاں سے آئے گی؟ میں نے تمہارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: مقتول اپنے قاتل کے ساتھ چمٹ کر آئے گا اور کہے گا: اے میر ے رب ! اس سے پوچھ کہ اس نے کس وجہ سے مجھے قتل کیا تھا۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالی نے تمہارے نبی پر اس آیت کو نازل کیا اور اس کو نازل کرنے کے بعد منسوخ نہیں کیا۔ بڑا فسوس ہے تجھ پر، ایسے قاتل کو ہدایت کہاں سے ملے گی؟
Takhreej
(۶۴۴۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ النسائی: ۷/ ۸۵، وابن ماجہ: ۲۶۲۱، وأخرج بنحوہ الترمذی: ۳۰۲۹ (انظر: ۱۹۴۱)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن عباس bکی مراد یہ آیت ہے: {وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَائُ ہٗجَھَنَّمُخَالِدًافِیْھَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ لَعَنَہٗوَاَعَدَّلَہٗعَذَابًاعَظِیْمًا۔} … ’’اور جس نے مومن کو قصدا قتل کیا اس کا بدلہ دوزخ ہے اس میں ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا غصب ہوگا اور اس کی لعنت ہے اور اس نے اس کے لے بہت بڑا عذات تیار کیا ہے۔‘‘ (سورۂ نسائ:۹۳)
6443
Sahih
مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
۔ (۶۴۴۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: یَا ابْنَ عَبَّاسٍ! اَرَاَیْتَ رُجَلًا قَتَلَ مُؤْمِنًا؟ قَالَ: ثَکِلَتْہُ أُمُّہُ، وَأَنّٰی لَہُ التَّوْبَۃُ؟ وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الْمَقْتُوْلَ یَجِیْئُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ مُتَعَلِّقًا رَأْسَہُ بِیَمِیْنِہِ، أَوْ قَالَ: بِشَمَالِہِ، آخِذًا صَاحِبَہُ بِیَدِہِ الْأُخْرٰی تَشْخَبُ أَوْدَاجُہُ دَمًا فِیْ قِبَلِ عَرْشِ الرَّحْمٰنِ فَیَقُوْلُ: رَبِّ! سَلْ ھٰذَا فِیْمَ قَتَلَنِیْ؟)) (مسند احمد: ۲۶۸۳)
۔ (دوسری سند) ایک آدمی، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا : اے ابن عباس!اس آدمی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، جو مومن کو قتل کر دیتا ہے؟ انھوں نے کہا:اس کی ماں اسے گم پائے، اس کے لیے توبہ کہاں سے آئے گی، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو یہ فرمایا ہے کہ بیشکمقتول قیامت والے دن اپنے دائیںیا بائیں کے ساتھ اپنے سر کو پکڑ کر اور دوسرے ہاتھ سے اپنے قاتل کو پکڑ کر رحمن کے عرش کی طرف لائے گا،جبکہ اس کی رگیں خون بہا رہی ہوں گی، اور وہ کہے گا: اے میرے ربّ! اس سے پوچھو، اس نے مجھے کیوں قتل کیا تھا۔
Takhreej
(۶۴۴۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… یہ نظریہ سیدنا ابن عباس bکا تھا، لیکن بعد والے اہل علم نے ان کے ساتھ اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ توبہ سے قاتل کا گناہ زائل ہو سکتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ توبہ کے ذریعے تو کفر و شرک جیسے جرائم معاف ہو جاتے ہیں، ان سے ہلکے درجے کے گناہ معاف کیوں نہیں ہوں گے۔ اہل سنت نے سورۂ نساء کی اس آیت کا یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ اگر کوئی آدمی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرنے کے بعد اور توبہ کیے بغیر مر جاتا ہے تو اس کی معافی پھر بھی ممکن ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا: {اَنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖوَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذَالِکَ لِمَنْ یَّشَائُ} (النسائ:۴۸) ’’بیشک اللہ تعالی اس جرم کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اس کے علاوہ جو گناہ ہو، وہ جس کیلئے چاہے معاف کر دیتا ہے۔‘‘
6444
Sahih
مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
۔ (۶۴۴۵) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سِبَابُ الْمُسْلِمِ أَخَاہُ فُسُوْقٌ وَقِتَالُہُ کُفْرٌ وَحُرْمَۃُ مَالِہِ کَحُرْمَۃِ دَمِہِ۔)) (مسند احمد: ۴۲۶۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان کا اپنے بھائی کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے اور مسلمان کے مال کی حرمت اس کے خون کی حرمت کی مانند ہے۔
Takhreej
(۶۴۴۵) تخریج:أخرجہ دون الفقرۃ الاخیرۃ البخاری: ۴۸، ومسلم: ۶۴، وھذہ الفقرۃ صحیحۃ بالشواھد (انظر: ۴۲۶۲)
6445
Sahih
مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
۔ (۶۴۴۶) عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہ،۔ (مسند احمد: ۱۵۱۹)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی ایک حدیث ِنبوی بیان کی ہے۔
Takhreej
(۶۴۴۶) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ النسائی: ۷/ ۱۲۱، ابن ماجہ: ۳۹۴۱(انظر: ۱۵۱۹)
6446
Sahih
مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
۔ (۶۴۴۷) عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَنْ یَزَالَ الْمَرْئُ فِیْ فُسْحَۃٍ مِنْ دِیْنِہِ مَالَمْ یُصِبْ دَمًا حَرَامًا۔)) (مسند احمد: ۵۶۸۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اس وقت تک دین کے معاملے میںیعنی نیکیاں کرنے میں وسعت میں رہتا ہے، جب تک حرام خون بہانے کا ارتکاب نہیں کرتا۔
Takhreej
(۶۴۴۷) تخریج:أخرجہ البخاری: ۶۸۶۲ (انظر: ۵۶۸۱)
Explanation
فوائد:… ویسے تو ہر قسم کے شرّ سے خیر والے معاملات متأثر ہو جاتے ہیں، لیکن قتل ایسا سنگین جرم ہے کہ اس سے نیکیوں کا سلسلہ تنگ ہو جاتا ہے، الا یہ کہ خلوص دل سے توبہ کر لی جائے، جیسا کہ سو افراد کے قاتل کا واقعہ مشہور ہے۔
6447
Sahih
مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
۔ (۶۴۴۸) عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ یَعْنِی الْیَزَنِیَّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْقَاتِلِ وَالْآمِرِ، قَالَ: ((قُسِّمَتِ النَّارُ سَبْعِیْنَ جُزْئً فَلِلْآمِرِ تِسْعٌ وَسِتُّوْنَ وَلِلْقَاتِلِ جُزْئٌ وَحَسْبُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۵۴)
۔ مرثد بن عبد اللہ یزنی ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قاتل اور قتل کا حکم دینے والے کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دوزخ کو ستر حصوں میں تقسیم کی گیا، قتل کا حکم دینے والے کے لئے انہتر حصے ہوں گے اور قاتل کے لئے ایک حصہ ہو گا اور وہی اس کے لیے کافی ہو گا۔
Takhreej
(۶۴۴۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن اسحاق مدلس وقد عنعنہ۔ أخرجہ البیھقی فی ’’الشعب‘‘: ۵۳۶۰ (انظر: ۲۳۰۶۶)
6448
Zaeef
مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
۔ (۶۴۴۹) عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: ((یَا جَرِیْرُ! اسْتَنْصِتِ النَّاسَ۔)) ثُمَّ قَالَ فِیْ خُطْبَتِہِ: ((لَا تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۸۱)
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اے جریر! لوگوں کو خاموش کراؤ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا: میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارتے پھرو۔
Takhreej
(۶۴۴۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۲۱، ۴۴۰۵، ۷۰۸۰، ومسلم: ۶۵(انظر: ۱۹۱۶۷)
Explanation
فوائد:… مسلمان کا قتل ، ترکِ نماز کی طرح کفریہ عمل ہے، اس سے ایمان اور اسلام میں بہت بڑا نقص پیدا ہو جاتا ہے، لیکن ایسا کرنے والا اعتقادی کافر نہیں ہو گا، جس کی سزا ہمیشہ کے لیے آگ ہو گی۔
6449
Sahih
مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
۔ (۶۴۵۰) عَنْ خَرَشَۃَ بْنِ الْحَارِثِ وَکَانَ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَایَشْہَدَنَّ أَحَدُکُمْ قَتِیْلًا لَعَلَّہ، أَنْ یََکُوْنَ قَدْ قُتِلَ ظُلْمًا فَیُصِیْبَہُ السُّخْطُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۶۳)
۔ سیدنا خرشہ بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ صحابہ میں سے تھے، سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی کسی کے قتل کے وقت حاضر نہ ہو، کیونکہ ہوسکتا ہے اسے ظلماً قتل کیا جا رہا ہو اور اس طرح حاضر ہونے والے کو بھی اللہ تعالی کی ناراضگی پہنچ جائے۔
Takhreej
(۶۴۵۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن لھیعۃ سییء الحفظ۔ أخرجہ البزار: ۳۳۳۷، والطبران فی ’’الکبیر‘‘: ۴۱۸۱ (انظر: ۱۷۵۲۲)
Explanation
فوائد:… اس موضوع سے متعلقہ اسلامی ہدایات واضح ہیں، اگر اسلام کے قوانین کے مطابق قتل کیا جا رہا ہو، تو وہاں ٹھہرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، جیسے قاتل اور مرتدّ کو قتل کرنا اور اگر ظلماً قتل کیا جا رہا ہے تو ایسا کرنے سے عملی طور پر اور یہ طاقت نہ ہونے کی صورت میں زبان سے روکا جائے، وگرنہ دل سے برا سمجھا جائے اور جس مقام میںیہ ظلم کیا جا رہا ہے، اس شرّ والی جگہ سے دور رہا جائے۔
6450
Zaeef
مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
۔ (۶۴۵۱) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا اِلَّا کَانَ عَلَی ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ کِفْلٌ مِنْ دِمِہَا لِأَنَّہُ کَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ۔)) (مسند احمد: ۳۶۳۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نفس کو بھی ظلماً قتل کیا جاتا ہے، اس کے ناحق خون کا حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے پر بھی ہوتا ہے، کیونکہ وہ پہلا شخص ہے، جس نے سب سے پہلے نا حق قتل کا طریقہ جاری کیا۔
Takhreej
(۶۴۵۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۳۳۵، ۷۳۲۱، ومسلم: ۱۶۷۷(انظر: ۳۶۳۰)
Explanation
فوائد:… سورۂ مائدہ میں ہابیل اور قابیل کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، قابیل وہ پہلا شخص ہے، جس نے سب سے پہلے ناحق قتل کیا، چونکہ اس نے اس جرم کا آغاز کیا، اس لیے اس قسم کے ہر مجرم کی وجہ سے قابیل بھی گنہگار ہو تا ہے۔ اس واقعہ سے ہمیںیہ سبق حاصل کرنا چاہیے کہ ہم کسی شرّ والے کام کا سبب نہ بنیں، بلکہ امورِ خیر کو رواج دے کر اپنے لیے صدقہ جاریہ بنائیں۔
6451
Sahih
مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
۔ (۶۴۵۲) وَعَنْہُ اَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ رَجُلٌ قَتَلَہُ نَبِیٌّ أَوْ قَتَلَ نَبَیًّا وَإِمَامُ ضَلَالَۃٍ وَ مُمَثِّلٌ مِنَ الْمُمَثِّلِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۳۸۶۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روز قیامت لوگوں میں سے سب سے زیادہ سخت عذاب اس آدمی کو ہوگا، جسے نبی نے قتل کیایا جس نے نبی کو قتل کیا ہو اور ضلالت و گمراہی کا پیشوا اور تصویریں بنانے والا۔
Takhreej
(۶۴۵۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۳۳۵، ۷۳۲۱، ومسلم: ۱۶۷۷(انظر: ۳۶۳۰)
Explanation
فوائد:… انبیائے کرام کا سلسلہ منقطع ہو جانے کی وجہ سے ہم مستقل طور پر پہلے دو جرائم سے محفوظ ہو گئے ہیں، ہاں مسلمان کو چاہیے کہ وہ کسی کی گمراہی کا سبب نہ بنے، اگر خیر و بھلائی والے امور کو نافذ کر سکتا ہے تو ٹھیک، وگرنہ خاموشی اور لوگوں کے امور سے کنارہ کشی اختیار کرے، اس طرح تصویریں بنانے سے بھی باز رہے جو کہ اس دور کا سب سے بڑا فتنہ ہے، ہمارے بچوں کی تعلیم کے آغاز میں ہییہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور آگے چل کر ایک مستقل شعبہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے، فَاِلَی اللّٰہِ الْمُشْکَیٰ (بس اللہ تعالی کی طرف ہیشکوہ ہے)، ہم اللہ تعالی سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
6452
Sahih
مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے والے کی وعید کا بیان
۔ (۶۴۵۳) عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَمَلَ عَلَیْنَا السِّلَاحَ فَلَیْسَ مِنَّا۔)) (مسند احمد: ۴۴۶۷)
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے خلاف ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔
Takhreej
(۶۴۵۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۸۷۴، ومسلم: ۹۸(انظر: ۴۴۶۷)
Explanation
فوائد:… قتل کی سنگینی کا تقاضا یہی ہے کہ کسی مسلمان پر ہتھیار نہ اٹھایا جائے، وہ از راہِ مذاق ہو یا کسی دوسرے ناپاک ارادے کی وجہ سے، اس کی ایک وجہ درج ذیل حدیث میں بیان کی گئی ہے: سیدنا ابوہریرہb سے مروی ہے کہ رسول اللہ a نے فرمایا: ((لَا یُشِیْرُ أَحَدُکُمْ إِلَی أَخِیہِ بِالسِّلَاحِ، فَإِنَّہُ لَا یَدْرِی أَحَدُکُمْ لَعَلَّ الشَّیْطَانَیَنْزِعُ فِییَدِہِ، فَیَقَعُ فِی حُفْرَۃٍ مِنْ نَارٍ۔))… ’’تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی کی طرف اسلحہ کے ساتھ اشارہ نہ کرے، کیونکہ وہ اس بات کو تو نہیں جانتا ہے کہ ممکن ہے کہ شیطان اس کے ہاتھ سے کھینچ کر (اس کے بھائی کو مار دے) اور اس طرح وہ جہنم کے گڑھے میں جا گرے۔‘‘ (صحیح بخاری: ۷۰۷۲، صحیح مسلم: ۲۶۱۷)
6453
Sahih
مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے والے کی وعید کا بیان
۔ (۶۴۵۴) وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۸۳۴۱)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Takhreej
(۶۴۵۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۰۱(انظر: ۸۳۵۹)
6454
Sahih
مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے والے کی وعید کا بیان
۔ (۶۴۵۵) عَنْ اَیَّاسِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ اَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِہٖ۔ (مسنداحمد: ۱۶۶۱۴)
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۶۴۵۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۹۹(انظر: ۱۶۵۰۰)
Explanation
فوائد:… اس روایت میں ’’سَلّ‘‘ کے الفاظ ہیں، جس کے معانی سونتنے کے ہیں۔
6455
Sahih
مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے والے کی وعید کا بیان
۔ (۶۴۵۶) عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لِجَہَنَّمَ سَبْعَۃُ اَبْوَابٍ، بَابٌ مِنْہَا لِمَنْ سَلَّ سَیْفَہُ عَلٰی اُمَّتِیْ۔)) أَوْ قَالَ: ((اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔)) (مسند احمد: ۵۶۸۹)
۔ فوائد:… اس روایت میں سَلّ کے الفاظ ہیں، جس کے معانی سونتنے کے ہیں۔
Takhreej
(۶۴۵۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، جنید مجھول الحال، وذکر ابو حاتم ان روایتہ عن ابن عمر مرسلۃ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۱۲۳(انظر: ۵۶۸۹)
6456
Zaeef
مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے والے کی وعید کا بیان
۔ (۶۴۵۷) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سُمَیْرَۃَ قَالَ: کُنْتُ أَمْشِیْ مَعَ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ فَاِذَا نَحْنُ بِرَأْسٍ مَنْصُوْبٍ عَلٰی خَشَبَۃٍ، قَالَ: فَقَالَ: شَقِیَ قَاتِلُ ھٰذَا، قَالَ: قُلْتُ: اَنْتَ تَقُوْلُ ھٰذَا، یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ؟ فَشَدَّ یَدَہُ مِنِّیْ، وَقَالَ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰن: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِذَا مَشَی الرَّجُلُ مِنْ أُمَّتِیْ إِلَی الرَّجُلِ لِیَقْتُلَہَ فَلْیَقُلْ ھٰکَذَا فَالْمَقْتُوْلُ فِیْ الْجَنَّۃ وَالْقَاتِلُ فِیْ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۵۷۰۸)
۔ عبد الرحمن بن سمیرہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ چل رہا تھا، اچانک ہم نے ایک سر دیکھا، جس کو ایک لکڑی پر لٹکایا گیا تھا، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس کا قاتل بد بخت ہوا، میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! کیا تم یہ کہہ رہے ہو؟ انھوں نے اپنا ہاتھ مجھ سے چھڑاتے ہوئے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں سے جب کوئی آدمی دوسرے کو قتل کرنے چلتا ہے تو قتل ہونے والا (آدم علیہ السلام کے بیٹے کی طرح) اس طرح کہے (اور ہاتھ نہ بڑھائے)، کیونکہ وہ مقتول جنت میں ہوگا اور قاتل دوزخ میں۔
Takhreej
(۶۴۵۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد الرحمن بن سمیرۃ لم یرو عنہ غیر عون بن ابی جحیفۃ، ولم یؤثر توثیقہ عن احد غیر ابن حبان۔ أخرجہ ابوداود: ۴۲۶۰(انظر: ۵۷۰۸)
Explanation
فوائد:… ممکن ہے ہابیل کے طرز عمل کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہو۔ اس نے کہا تھا: اگر تو اپنا ہاتھ میری طرف اس لیے پھیلائے گا کہ تو مجھے قتل کرے تو میں کبھی بھی اپنا ہاتھ تیری طرف پھیلانے والا نہیں تاکہ میں تجھے قتل کروں۔ (مائدہ: ۲۸) (عبداللہ رفیق)
6457
Zaeef
مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے والے کی وعید کا بیان
۔ (۶۴۵۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَأَی رَأْسًا فَقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا یَمْنَعُ أَحَدَکُمْ إِذَا جَائَ ہُ مَنْ یُرِیْدُ قَتْلَہُ أَنْ یَکُوْنَ مِثْلَ ابْنِ آدَمَ، الْقَاتِلُ فِیْ النَّارِ وَالْمَقْتُوْلُ فِیْالْجَنَّۃِ)) (مسند احمد: ۵۷۵۴)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک سر دیکھا اورکہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی تم میں سے کسی کو قتل کرنے کا ارادہ کر لے تو کون سی چیز اس کے لیے اس سے مانع ہو گی کہ وہ آدم کے بیٹے کی طرح ہو جائے، کیونکہ قاتل دوزخ میں ہو گا اورمقتول جنت میں۔
Takhreej
(۶۴۵۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… حدیث کا آخری جملہ ’’مقتول جنت میں ہو گا اور قاتل دوزخ میں‘‘ شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔ ایسی احادیث کا تعلق فتنوں کے زمانے سے ہے، جن میں ظلم و ستم سہہ جانے میں عافیت ہو گی اور انتقامی کاروائی کرنے سے بڑا فساد پھیل جائے گا۔ ہماری شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان کو حکیم، دانا اور عاقبت اندیش ہونا چاہیے اور ہر اقدام سے پہلے اس کے انجام پر بار بار غور کرنا چاہیے، غیرت صرف اس چیز کا نام نہیں ہے کہ ایک وقت میں غیظ و غضب کے تمام تقاضے پورے کر دیئے جائیں اور پھر نسلیں اس کا انجام بد بھگتتی رہیں۔ یہ اسلامی تعلیمات ہی ہیں کہ مال و جان کے تحفظ کے لیے لڑنا درست ہے اور ایسے میں کام آ جانے والا شہید ہے، لیکن پر فتن دور میں صبر کر لینا بھی اسلامی احکام کا تقاضا ہی ہے، کئی افراد کو دیکھا گیا ہے کہ انھوں نے ایک گالی اور طعن پر صبر نہ کر سکنے کی وجہ سے خاندانوں کو اجاڑ دیا اور اپنی عزتوں کو اپنے ہاتھوں لٹا دیا۔
6458
Zaeef
مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے والے کی وعید کا بیان
۔ (۶۴۵۹) عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمَلَائِکَۃُ تَلْعَنُ أَحَدَکُمْ إِذَا أَشَارَ بِحَدِیْدَۃٍ وَاِنْ کَانَ أَخَاہُ لِأَبِیْہِ وَأُمِّہِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۵۶۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی لوہے کے ساتھ دوسرے کی طرف اشارہ کرتا ہے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں، اگرچہ وہ اس کا حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو۔
Takhreej
(۶۴۵۹) تخریج: أخرجہ مسلم: (انظر: )
6459
Sahih

Chapters

38
01
مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
13 Hadith
02
مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے والے کی وعید کا بیان
8 Hadith
03
مسلمان کا خون کو جائز قرار دینے والے امور کا بیان
5 Hadith
04
ذمیوں اورمعاہدہ والوں کے قتل کے حرام ہونے اور اس معاملے میں سختی کا بیان
4 Hadith
05
خود کشی کرنے پر وعید کا بیان، وہ جس چیز سے مرضی خود کشی کرے
8 Hadith
06
نفس کی حفاظت کرنے اوراسے ہلاکت سے بچانے کے واجب ہونے کا بیان
3 Hadith
07
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
13 Hadith
08
گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
8 Hadith
09
چھپکلی کو قتل کرنے کے مستحب ہونے اور اس کو مارنے والے کے اجر و ثواب کا بیان
6 Hadith
10
کتوں کو قتل کرنے اور انہیں پالنے کا بیان کتوں کو قتل کرنے کے حکم اور اس کے سبب کا بیان
7 Hadith
11
کالے سیاہ کتے کے علاوہ باقی کتوں کو قتل نہ کرنے کی رخصت کا بیان
4 Hadith
12
اس چیز کا بیان کہ اِس رخصت کے بعد کون سے کتے پالنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
5 Hadith
13
جس گھر میں کتا یا تصویر ہو، اس میں فرشتوں کے داخل نہ ہونے کا بیان
6 Hadith
14
ان حیوانات کا بیان، جن کا قتل کرنا جائز نہیں ہے
2 Hadith
15
حیوانیا انسان کو باندھ کر قتل کرنے یا اذیت والی چیز سے قتل کرنے اور پھر انسان کا مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان
10 Hadith
16
ہر روح والی چیز کو آگ سے جلانے کی ممانعت کا بیان
3 Hadith
17
قصاص کے ابواب قتل عمد پر قصاص کے ثابت ہونے اور اس کے مستحق کو قصاص اور دیت میں اختیار دینے کا بیان
3 Hadith
18
اس چیز کا بیان کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور آزاد کو غلام کے بدلے قتل کیے جانے کا مسئلہ
5 Hadith
19
مرد کو عورت کے بدلے اور عورت کو عورت کے بدلے قتل کرنے اور بھاری آلے سے قتل کرنے اور قاتل کو اسی انداز میں قتل کرنے کا بیان، جس میں اس نے کیا ہو
4 Hadith
20
والدین کو اولاد کے بدلے میں قتل نہ کرنے اور ایک مقتول کے قصاص میں دو افراد کو قتل کرنے کا بیان
4 Hadith
21
حکمرانوں سے قصاص لیے جانے کا بیان، الا یہ کہ مستحق صلح کر لے یا معاف کر دے
3 Hadith
22
قصاص لینے کا مستحق ہونے کے بعد معاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
23
دانت توڑنے کے قصاص کا بیان
2 Hadith
24
کان کا بعض حصہ کاٹنے میں قصاص لینے کا بیان
1 Hadith
25
اس چیز کا بیان کہ ایک آدمی کسی کا ہاتھ کاٹنے کے لیے منہ میں ڈالے اور وہ اپنا ہاتھ کھینچے جس کے نتیجے میں اس کے سامنے والا دانت گر جائے
3 Hadith
26
زخم کے درست ہونے سے پہلے قصاص لینے کی ممانعت کا بیان
1 Hadith
27
کیا حرم یا دیگر مساجد میںقصاصیا حدیں لگائی جا سکتی ہیں؟
3 Hadith
28
قسامہ کا بیان
3 Hadith
29
دیت کے ابواب نفس، اعضاء اور اعضاء کی منفعتوں کی دیت کا جامع تذکرہ اور اس میں قتل خطا، قتل عمد اور قتل شبہ عمد کا بیان
3 Hadith
30
شبہ عمد کے مقتول کی دیت کا بیان
6 Hadith
31
محض قتلِ خطا کی دیت کا بیان
4 Hadith
32
قتل کے علاوہ اعضا اور زخموں وغیرہ کی دیت کا بیان
6 Hadith
33
ذمیوں اور مکاتَب کی دیت کا بیان
6 Hadith
34
جنین کی دیت کا بیان
5 Hadith
35
اس شخص کا بیان کہ جس کے والد کو از راہِ خطا قتل کر دیا گیا اور پھر اس نے اس کی دیت کو مسلمانوں پر خیرات کر دیا
1 Hadith
36
قتل کا سبب بننے کی وجہ سے دیت کے واجب ہونے کا بیان اورگڑھے میں گرنے والوں کا واقعہ
1 Hadith
37
عاقلہ اور دیت کی ذمہ داری اٹھانے والوں کا بیان
5 Hadith
38
کسی شخص کا دوسرے کے جرم کی وجہ سے مؤاخذہ نہیں ہو گا، اگرچہ وہ اس کا سب سے قریبی رشتہ دار ہو
4 Hadith
No chapter matched that.