مسنداحمد

Musnad Ahmad

قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام

قصاص لینے کا مستحق ہونے کے بعد معاف کر دینے والے کی فضیلت کا بیان

۔ (۶۵۶۴)۔ عَنْ اَبِی السَّفَرِ قَالَ: کَسَرَ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ سِنَّ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَاسْتَعْدٰی عَلَیْہِ مُعَاوِیَۃَ فَقَالَ الْأَنْصَارِیُّ: اِنَّ ھٰذَا دَقَّ سِنِّیْ، قَالَ مُعَاوِیَۃ: کَلَّا اِنَّا سَنُرْضِیْکَ، قَالَ: فَلَمَّا اَلَحَّ عَلَیْہِ الْأَنْصَارِیُّّ قَالَ مُعَاوِیَۃُ: شَأْنَکَ بِصَاحِبِکَ؟ وَأَبُو الدَّرْدَائِ جَالِسٌ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یُصَابُ بِشَیْئٍ فِیْ جَسَدِہِ یَتَصَدَّقُ بِہِ اِلَّا رَفَعَہُ اللّٰہُ بِہِ دَرَجَۃً وَحَطَّ عَنْہُ بِہِ خَطِیْئَۃً۔)) قَالَ: فَقَالَ الْأَنْصَارِیُّ: اَنْتَ سَمِعْتَ ھٰذَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ سَمِعَتْہُ أُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِیْ،یَعْنِیْ فَعَفَا عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۲۸۰۸۴)

۔ ابو سفر کہتے ہیں: قریش کے ایک آدمی نے ایک انصاری آدمی کا دانت توڑ دیا، وہ فریاد رسی کے لیے سیدنا امیر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، انصاری نے کہا: اس نے میرا دانت توڑ دیا ہے، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یقینا ہم تجھے راضی کر دیں گے، جب انصاری نے قصاص لینے پر اصرار کیا تو سیدنا امیر معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تیرا معاملہ تیرے ساتھی کے سپرد ہے، سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے انھوںنے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بھی اپنے جسم میں لگ جانے والے زخم کو معاف کر دیتا ہے، اللہ تعالی اس کا درجہ بلند کر دیتا ہے اور اس کا گناہ خطا مٹا دیتا ہے۔ انصاری نے کہا: کیا تم نے یہ حدیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا : جی ہاں! میرے کانوں نے سنی ہے او میرے دل نے اس کو یاد کیاہے، پس اس انصاری نے قریشی کو معاف کر دیا۔

۔ (۶۵۶۵)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ رَجُلٍ یُجْرَحُ فِیْ جَسَدِہِ جِرَاحِۃٌ فَیَتَصَدَّقُ بِہَا اِلَّا کَفَّرَ اللّٰہُ عَنْہُ مِثْلَ مَاتَصَدَّقَ بِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۰۷۷)

۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو اس کے جسم میں زخم لگایا جاتا اور وہ معاف کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی معافی کے بقدر اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔

۔ (۶۵۶۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: مَا رُفِعَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمْرٌ فِیْہِ الْقِصَاصُ اِلَّا أَمَرَ فِیْہِ بِالْعَفْوِ۔ (مسند احمد: ۱۳۲۵۲)

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جب بھی قصاص والا معاملہ پیش کیا جاتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہلے معاف کرنے کا حکم دیتے۔