۔ سیدنایعلی بن امیہ اور سلمہ بن امیہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم غزوۂ تبوک میںرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے ساتھ ایک اور دوست بھی تھا، اس کی اور ایک مسلمان کی آپس میں لڑائی ہو گئی، اس آدمی نے دوسرے کے بازو پرکاٹا، اس نے اس کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا اور اس کا اگلا دانت گرا دیا، اس آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر دیت کا مطالبہ کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کو سانڈ کی طرح کاٹتا ہے اور پھر آکر دیت کا مطالبہ کرتا ہے، اس کے لیے کوئی دیت نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی دیت کو باطل قرار دیا۔
۔ (دوسری سند) سیدنایعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تنگی والے لشکر یعنی غزوۂ تبوک میں شریک ہوا، یہ غزوہ میرے ان اعمال میں سے ہے، جن پر مجھے سب سے زیادہ اعتماد ہے، میرا ایک مزدور تھا، وہ ایک آدمی سے لڑپڑا، ان میں سے ایک نے دوسرے کو کاٹا، دوسرے نے اپنی انگلی کھینچی، جس سے اس کادانت گرگیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شکایت لے کر گیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں دیئے رکھتا اور تو سانڈ کی طرح اس کو چباتا رہتا۔
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یعلی بن عینیہیا ابن امیہ کی ایک آدمی سے لڑائی ہوگئی، ایک نے دوسرے کے ہاتھ پر کاٹا، اس نے بچانے کے لیے اپنا ہاتھ کھینچا، جس کی وجہ سے کاٹنے والے کا ایکیا دو دانت گر پڑے، جب یہ دونوں جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے ایک آدمی اپنے بھائی کو سانڈ کی مانند کاٹتا ہے، کوئی دیت نہیں ہے ایسے آدمی کے لیے۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی دیت کو باطل قرار دیا اور فرمایا: کیا تو چاہتا تھا کہ سانڈ کی طرح اپنے بھائی کے گوشت کو چبائے؟