مسنداحمد

Musnad Ahmad

قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام

کیا حرم یا دیگر مساجد میںقصاصیا حدیں لگائی جا سکتی ہیں؟

۔ (۶۵۷۴)۔عَنْ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تُقَامُ الْحُدُوْدُ فِی الْمَسَاجِدِ وَلَا یُسْتَقَادُ فِیْہَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۶۴)

۔ سیدنا حکیم بن حزام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسجدوں میں نہ حدیں لگائی جائیں اور نہ قصاص لیا جائے۔

۔ (۶۵۷۵)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖقَالَ: قَالَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ أَعْدَی النَّاسِ عَلَی اللّٰہِ مَنْ قَتَلَ فِی الْحَرْمِ، أَوْ قَتَلَ غَیْرَ قَاتِلِہِ، أَوْ قَتَلَ بِذُحُوْلِ الْجَاھِلِیَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۶۹۳۳)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ زیادتی کرنے والا وہ شخص ہے جو حرم میں قتل کرے، یا غیر قاتل کو قتل کر دے، یا جاہلیت کا انتقام لے۔

۔ (۶۵۷۶)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ مَکَّۃَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلٰی رَأْسِہِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَہُ جَائَ رَجُلٌ وَقَالَ: اِبْنُ خَطْلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْکَعْبَۃِ فَقَالَ: ((اقْتُلُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۹۶۲)

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ والے سال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ میں داخل ہوئے جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر پر خود تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اتارا تو ایک آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: ابن خطل کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہے، آپ نے فرمایا: اس کو قتل کردو۔