مسنداحمد

Musnad Ahmad

قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام

قسامہ کا بیان

۔ (۶۵۷۷)۔ عَنْ بُشَیْرِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ اَبِیْ حَثْمَۃَ قَالَ: خَرَجَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ سَہْلٍ اَخُوْ بَنِیْ حَارِثَۃَیَعْنِی فِیْ نَفَرٍ مِنْ بَنِیْ حَارِثَۃَ إِلٰی خَیْبَرَیَمْتَارُوْنَ مِنْہَا تَمَرًا، قَالَ: فَعُدِیَ عَلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَہْلٍ فَکُسِرَتْ عُنُقُہُ ثُمَّ طُرِحَ فِیْ مَنْہَرٍ مِنْ مَنَاھِرِ عُیُوْنِ خَیْبَرَ وَفَقَدَہُ أَصْحَابُہُ فَالْتَمَسُوْہُ حَتّٰی وَجَدُوْہُ فَغَیَّبُوْہُ، قَالَ: ثُمَّ قَدِمُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَأَقْبَلَ أَخُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنُ سَہْلٍ وَاِبْنَا عَمِّہِ حُوَیِّصَۃُ وَمُحَیِّصَۃُ وَھُمَا کَانَا أَسَنَّ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَکَانَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ ذَا قَدَمٍ مِنَ الْقَوْمِ وَصَاحِبُ الدَّمِ فَتَقَدَّمَ لِذٰلِکَ، فَکَلَّمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ اِبْنَیْ عَمِّہِ حُوَیِّصَۃَ وَمُحَیِّصَۃَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْکُبَرَ الْکُبَرَ۔)) فَاسْتَأْخَرَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ وَتَکَلَّمَ حُوَیِّصَۃُ، ثُمَّ تَکَلَّمَ مُحَیِّصَۃُ، ثُمَّ تَکَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ، فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عُدِیَ عَلٰی صَاحِبِنَا فَقُتِلَ وَلَیْسَ بِخَیْبَرَ عَدُوٌّ اِلَّا یَہُوْدَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُسَمُّوْنَ قَاتِلَکُمْ تَحْلِفُوْنَ عَلَیْہِ خَمْسِیْنَیَمِیْنًْا ثُمَّ نُسْلِمُہُ؟)) قَالَ: فَقَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا کُنَّا لِنَحْلِفَ عَلٰی مَا لَمْ نَشْہَدْ، قَالَ: ((فَیَحْلِفُوْنَ لَکُمْ خَمْسِیْنَیَمِیْنًا وَیَبْرَؤُنَ مِنْ دَمِ صَاحِبِکُمْ؟)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَاکُنَّا لِنَقْبَلَ اِیْمَانَیَہُوْدَ، مَاھُمْ فِیْہِ مِنَ الْکُفْرِ أَعْظَمُ مِنْ أَنْ یَحْلِفُوْا عَلٰی إِثْمٍ، قَالَ: فَوَدَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِہِ مِائَۃَ نَاقَۃٍ، قَالَ: یَقُوْلُ سَہْلٌ: مَا أَنْسٰی بَکَرَۃً مِنْہَا حَمْرَائَ رَکَضَتْنِیْ وَأَنَا أَحُوْزُھَا۔ (مسند احمد: ۱۶۱۹۴)

۔ سیدنا سہل بن ابی حثمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے بنوحارثہ کے بھائی عبداللہ، بنوحارثہ کے چند افراد کے ہمراہ کھجوروں کا غلہ لینے خیبر کی جانب نکلے، سیدنا عبداللہ بن سہل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی گردن توڑ دی گئی (یعنی ان کو قتل کر دیا گیا اور خیبر کے چشموں میں سے ایک چشمہ کے پانی کے بہائو کیجگہ پر پھینک دیا گیا، جب انہوں نے اپنے ساتھی کو گم پایا تو اس کی تلاش میں نکلے، یہاں تک کہ اسے مقتول پایا، پھر انہوں نے اس کو دفن کیا اور بعد ازاں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، عبداللہ کا بھائی عبد الرحمن بن سہل اور اس کے دو چچا کے بیٹے حویصہ اور محیصہ جو کہ عبد الرحمن سے بڑے تھے، مگر عبد الرحمن ان سب سے بڑھ کر جرأت مند تھا اور مقتول کے خون کا وارث بھی تھا، یہ افراد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور عبد الرحمن نے اپنے چچا کے بیٹوں حویصہ اور محیصہ سے پہلے آپ سے بات کرنا شروع کی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بڑے کو بات کرنے دو، بڑے کو بات کرنے دو۔ سو عبدالرحمن پیچھے ہٹ گئے اور حویصہ نے بات کی، اس کے بعد محیصہ نے اور آخر میں عبد الرحمن نے صورت حال بتائی اور انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہمارے بھائی پر حملہ ہوا ہے اور خیبر میں ہمارے دشمن صرف یہودی ہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنے قاتل کو اس طرح نامزدکرو کہ تم میں سے پچاس آدمی قسمیں اٹھائیں کہ ہم اس قاتل کو تم لوگوں کے حوالے کر دیں گے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! ہم جس واقعہ پرحاضر نہیں تھے، اس کے بارے میں قسمیں کیسے اٹھائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر یہودی لوگ پچاس قسمیں اٹھائیں گے اور تمہارے ساتھی کے خون سے بری ہو جائیں گے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم تو یہودیوں کی قسمیں قبول کرنے والے نہیں ہیں، جس کفر میں وہ مبتلا ہیں، وہ گناہ والی قسم سے بڑا جرم ہے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے پاس سے سو اونٹنیوں کی صورت میں اس مقتول کی دیت ادا کر دی، سہل کہتے ہیں : میں ابھی تک یہ بات نہیں بھولا کہ ان میں ایک سرخ رنگ کی اونٹنی تھی، اس نے مجھے لات ماری تھی، جبکہ میں اس کو نرمی سے ہانک رہا تھا۔

۔ (۶۵۷۸)۔ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ إِنْسَانٍ مِنَ الْأَنْصَارِمِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ الْقَسَامَۃَ کَانَتْ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ قَسَامَۃَ الدَّمِ، فَأَقَرَّھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی مَاکَانَتْ عَلَیْہِ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ وَقَضٰی بِہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِیْ حَارِثَۃَ فِیْ قَتِیْلٍ اِدَّعَوْہُ عَلَی الْیَہُوْدِ۔ (مسند احمد: ۱۶۷۱۵)

۔ ایک انصاری صحابی سے مروی ہے کہ جاہلیت میں خون بہنے کی صورت میں قسامہ تھا، رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اسی طرح برقرار رکھا، جیسے وہ جاہلیت میں تھا، اور بنو حارثہ کے چند انصاری لوگوں نے اپنے ایک مقتول کی تہمت یہودیوں پر لگا دی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قسامہ کی روشنی میں فیصلہ کیا تھا۔

۔ (۶۵۷۹)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: وَجَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَتِیْلًا بَیْنَ قَرْیَتَیْنِ فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذِرِعَ مَا بَیْنَہُمَا، قَالَ: وَکَأَنِّیْ أَنْظُرُ إِلٰی شِبْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَلْقَاہُ عَلٰی أَقْرَبِہِمَا۔ (مسند احمد: ۱۱۳۶۱)

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو بستیوں کے درمیان ایک مقتول پایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان دونوں بستیوں کے درمیان فاصلہ کو ماپنے کا حکم دیا، گویا کہ میں اب بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بالشت کو دیکھ رہا ہوں،پھر آپ نے قریب والی بستی کو اس قتل کا ذمہ دار قرار دیا۔