مسنداحمد

Musnad Ahmad

قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام

دیت کے ابواب نفس، اعضاء اور اعضاء کی منفعتوں کی دیت کا جامع تذکرہ اور اس میں قتل خطا، قتل عمد اور قتل شبہ عمد کا بیان

۔ (۶۵۸۰)۔ حَدَّثَنَا یَعْقُوْبُ ثَنَا اَبِی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ فَذَکَرَ حَدِیْثًا، قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ: وَذَکَرَ عَمْرُو بْنُ شُعَیْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَاِنَّہُ یُدْفَعُ اِلٰی اَوْلِیَائِ الْقَتِیْلِ فِاِنْ شَائُ وْا قَتَلُوْا، وَإِنْ َشَائُ وْا أَخَذُوْا الدِّیَۃَ۔)) وَھِیَ ثَلَاثُوْنَ حِقَّۃً وَثَلَاثُوْنَ جَذَعَۃً وَأَرْبَعُوْنَ خَلِفَۃً فَذَالِکَ عَقْلُ الْعَمْدِ وَمَا صَالَحُوْا عَلَیْہِ مِنْ شَیْئٍ فَہُوَ لَھُمْ وَذَالِکَ شَدِیْدُ الْعَقْلِ، وَعَقْلُ شِبْہِ الْعَمْدِ مُغَلَّظَۃٌ مِثْلُ عَقْلِ الْعَمْدِ، وَلَا یُقْتَلُ صَاحِبُہُ وَذَالِکَ اَنْ یَنْزَغَ الشَّیْطَانُ بَیْنَ النَّاسِ فَتَکُوْنَ دِمَائٌ فِیْ غَیْرِ ضَغِیْنَۃٍ وَلَا حَمْلِ سَلَاحٍ، فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ یَعْنِی: ((مَنْ حَمَلَ عَلَیْنَا السَّلَاحَ فَلَیْسَ مِنَّا۔)) وَلَا رَصَدَ بِطَرِیْقٍ، فَمَنْ قُتِلَ عَلٰی غَیْرِ ذَالِکَ فَہُوَ شِبْہُ الْعَمْدِ وَعَقْلُہُ مُغَلَّظَۃٌ، وَلَا یُقْتَلُ صَاحِبُہُ وَھُوَ بِالشَّہْرِ الْحَرَامِ وَلِلْحُرْمَۃِ وَلِلْجَارِ، وَمَنْ قُتِلَ خَطَائً فَدِیَتُہُ مِائَۃٌ مِنَ الْاِبِلِ، ثَلَاثُوْنَ اِبْنَۃُ مَخَاضٍ وَثَلَاثُوْنَ اِبْنَۃُ لَبُوْنٍ وَثَلَاثُوْنَ حِقَّۃٌ، وَعَشْرُ بَکَارَۃٍ بَنِیْ لَبُوْنٍ ذُکُوْرٍ، قَالَ: وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقِیْمُہَا عَلٰی أَھْلِ الْقُرٰی اَرْبَعَمِائَۃِ دِیْنَارٍ اَوْ عِدْلَہَا مِنَ الْوَرِقِ، وَکَانَ یُقِیْمُہَا عَلٰی اَثْمَانِ الْاِبِلِ، فَاِذَا غَلَتْ رَفَعَ فِیْ قِیْمَتِہَا وَاِذَا ھَانَتْ نَقَصَ مِنْ قِیْمَتِہَا عَلٰی عَہْدِ الزَّمَانِ مَا کَانَ، فَبَلَغَتْ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا بَیْنَ اَرْبَعِمِائَۃِ دِیْنَارٍ اِلٰی ثَمَانِمِائَۃِ دِیْنَارٍ أَوْ عِدْلُھَا مِنَ الْوَرِقِ ثَمَانِیَۃُ آلافِ دِرْھَمٍ، وَقَضٰی أَنَّ مَنْ کَانَ عَقْلُہُ عَلٰی أَھْلِ الْبَقَرِ فِیْ الْبَقَرِ مِأَتَیْ بَقَرَۃٍ، وَقَضٰی اَنَّ مَنْ کَانَ عَقْلُہُ عَلٰی أَھْلِ الشَّائِ فَأَلْفَیْ شَاۃٍ، وَقَضٰی فِی الْأَنْفِ اِذَا جُدِعَ کُلُّہُ بِالْعَقْلِ کَامِلًا، وَاِذَا جُدِعَتْ اَرْنَبَتُہُ فَنِصْفُ الْعَقْلِ، وَقَضٰی فِی الْعَیْنِ نِصْفَ الْعَقْلِ خَمْسِیْنَ مِنَ الْاِبِلِ أَوْعِدْلَھَا ذَھَبًا أَوْ وَرِقًا أَوْ مِائَۃَ بَقَرَۃٍ اَوْ أَلْفَ شَاۃٍ، وَالرِّجْلِ نِصْفُ الْعَقْلِ، وَالْیَدِ نِصْفُ الْعَقْلِ، وَالْمَأْمُوْمَۃِ ثُلُثُ الْعَقْلِ ثَلَاثٌ وَثَلَاثُوْنَ مِنَ الْاِبِلِ أَوْ قِیْمَتُہَا مِنَ الذَّھَبِ اَوِ الْوَرِقِ اَوِ الْبَقَرِ اَوِ الشَّائِ، وَالْجَائِفَۃِ ثُلُثُ الْعَقْلِ، وَالْمُنَقِّلَۃِ خَمْسَ عَشَرَۃَ مِنَ الْاِبِلِ، وَالْمُوَضِّحَۃِ خَمْسٌ مِنَ الْاِبِلِ، وَالْاَسْنَانُ خَمْسٌ مِنَ الْاِبِلِ۔ (مسند احمد: ۷۰۳۳)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے قصداً قتل کیا، اسے مقتول کے لواحقین کے حوالے کر دیاجائے گا، اگر وہ چاہیں تو اس کو قتل کردیں، چاہیں تو دیت لے لیں، جس کی تفصیلیہ ہے: تیس حِقّے، تیس جذعے اور چالیس گابھن اونٹنیاں،یہقتل عمد کی دیت ہے، نیز وہ جس چیز پر صلح کرلیں، وہ ان کے لیے ہو گی،یہ سخت ترین دیت ہے، شبہ عمد قتل کی دیت بھی قتل عمد کی طرح مغلظہ ہے، البتہ شبہ عمد والے قاتل کو قصاصاً قتل نہیں کیا جائے گا، یہ اس لیے ہے کہ شیطان لوگوں کے درمیان فساد برپا کر دیتا ہے اور پھر کینہ اور ہتھیاروں کے بغیر قتل ہو جاتے ہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے خلاف ہتھیار اٹھایا، وہ ہم میں سے نہیں۔ اور نہ ایسے قتل کے لیے گھات لگایا جاتا ہے، جوا ن صورتوں کے علاوہ قتل کیا جائے وہ شبہ عمد ہے، اس کی دیت مغلظہ (سخت) ہے، شبہ عمدکے قاتل کو قصاص میں قتل نہیں کیاجائے گا، اس کا یہ حکم ہوگا اگرچہ حرمت والا مہینہ ہو، یا حرمت والی جگہ ہو یا پڑوسی ہو اور جو غلطی سے قتل ہو گیا، اس کی دیت سو اونٹ ہے، اس کی تفصیلیہ ہے: تیس بنت ِ مخاض، تیس بنت ِ لبون، تیس حِقّے اور دس ابن لبون، جو کہ مذکرہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بستی والوں پر اس دیت کے عوض چار سو دیناریا اس کے برابر چاندی مقرر کرتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اونٹوں کی قیمتوں کو دیکھ کر سونے چاندی کی مقدار کا تعین کرتے تھے، جب اونٹوں کی قیمت بڑھ جاتی تو سونے چاندی کی مقدار بھی زیادہ کر دی جاتی اور جب ان کی قیمت کم ہو جاتی تو نقدی کی مقدار بھی کم کر دی جاتی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میںیہ قیمت چار سو دینار سے آٹھ سو دینار تک یا اس کے برابر چاندی آٹھ ہزار درہم رہی ہے،نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ کیا کہ جس نے دیت میں گائیں دینی ہوں تو وہ دو سو گائے دے اور بکریوں کے مالک دو ہزار بکریاں دیں۔ جب کوئی کسی کی مکمل ناک کاٹ دے تو اس کی پوری دیتیعنی سو اونٹ ہوں گے اور جب کوئی کسی کے ناک کا کنارہ کاٹ دے تو نصف دیتیعنی پچاس اونٹ ہوں گے، ایک آنکھ کی نصف دیت ہو گی، جو کہ پچاس اونٹ ہے یا ان کے برابر سونا یا چاندییا سو گائے یا ہزار بکری ہے، پائوں کی دیت نصف ہے، ایک ہاتھ کی دیت نصف ہے، مامومہ (یعنی دماغ تک اتر جانے والے زخم) کی دیت کل دیت کا ایک تہائی ہے، یعنی تینتیس اونٹ یا سونے اور چاندی کی صورت میں ان کی قیمتیا گائیںیا بکریاں، وہ زخم جو پیٹ تک پہنچ جائے اس کی دیت کل دیت کا ایک تہائی ہے، ٹوٹ جانے والی ہڈی کی دیت پندرہ اونٹ ہے، جس زخم سے ہڈی ننگی ہو جائے، اس کی دیت پانچ اونٹ ہے اور ایک دانت کی دیت پانچ اونٹ ہے۔

۔ (۶۵۸۱)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ دِیَۃِ الْکُبْرٰی الْمُغَلَّظَۃِ ثَلَاثِیْنَ اِبْنَۃَ لَبُوْنٍ وَثَلَاثِیْنَ حِقَّۃً وَأَرْبَعِیْنَ خَلِفَۃً، وَقَضٰی فِیْ دِیَۃِ الصُّغْرٰی ثَلَاثِیْنَ اِبَنَۃَ لَبُوْنٍ وَثَلَاثِیْنَ حِقَّۃً وَعِشْرِیْنَ اِبْنَۃَ مَخَاضٍ وَعِشْرِیْنَ بَنِیْ مَخَاضٍ ذُکُوْرٍ، ثُمَّ غَلَتِ الْاِبِلُ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھَانَتِ الدَّرَاھِمُ، فَقَوَّمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِبِلَ الْمَدِیْنَۃِ سِتَّۃَ آلافِ دِرْھَمٍ حِسَابَ أَوْقِیَۃٍ لِکُلِّ بَعِیْرٍ، ثُمَّ غَلَتِ الْاِبِلُ وَھَانَ الْوَرِقُ فَزَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ أَلْفَیْنِ حِسَابَ أُوْقِیَتَیْنِ لِکُلِّ بَعِیْرٍ، ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ وَھَانَتِ الدَّرَاھِمُ فَأَتَمَّہَا عُمَرُ اِثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا حِسَابَ ثَلَاثِ أَوَاقٍ لِکُلِّ بَعِیْرٍ، قَالَ: فَزَادَ ثُلُثَ الدِّیَۃِ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ وَثُلُثًا آخَرَ فِی الْبَلَدِ الْحَرَامِ، قَالَ: فَتَمَّتْ دِیَۃُ الْحَرْمَیْنِ عِشْرِیْنَ أَلْفًا، قَالَ: فکَانَ یُقَالَ: یُؤْخَذُ مِنْ أَھْلِ الْبَادِیَۃِ مَاشِیَتُہُمْ لَا یُکَلَّفُوْنَ الْوَرِقَ وَلَا الذَّھَبَ، وَیُؤْخَذُ مِنْ کُلِّ قَوْمٍ مَالُھُمْ قِیْمَۃَ الْعدْلِ مِنْ أَمْوَالِھِمْ۔ (مسند احمد: ۲۳۱۵۹)

۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بڑی اور مغلظہ دیت کے بارے میںیہ فیصلہ فرمایا کہ اس میں تیس بنت ِ لبون، تیس حِقّے اور چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں، چھوٹی دیت میں آپ کا فیصلہیہ ہے کہ تیس بنت ِ لبون، تیس حِقّے، بیس بنت ِ مخاض اور بیس ابن مخاض یعنی مذکر اونٹ۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد اونٹ مہنگے ہوگئے اور درہم سستے ہو گئے، سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مدینہ کے اونٹوں کی قیمت چھ ہزار درہم مقرر کی، ہر اونٹ کی قیمت ایک اوقیہ تھی، پھر اونٹ مہنگے ہوگئے اور چاندی کی قیمت گر گئی تو سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دیت میں اضافہ کر کے دو ہزار اور بڑھا دیئے اور ہر اونٹ کی قیمت دو اوقیون کے حساب سے لگائی، اونٹ پھر مہنگے ہوگئے اور درہم گر گئے، اس بارسیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بارہ ہزار درہم پور ے کر دیے، ہر اونٹ کی قیمت تین اوقیوں کے حساب سے لگائی اور حرمت والے مہینے میں دیت کی ادائیگی میں دیت کا تیسرا حصہ زیادہ وصول کرتے تھے اور حرمت والے شہر میں ایک اور تیسرے حصہ کا اضافہ کر دیتے تھے، اس طرح حرمین شریفین(مکہ و مدینہ) کی دیت بیس ہزار درہم مکمل ہوگئی تھی، دیہات والوں سے ان کے مویشیوں سے دیت لی جاتی تھی انہیں سونا یا چاندی دینے کا ہی مکلف نہ کیا جاتا تھا، اور ہر قوم سے ان کے مالوں سے دیت عادلانہ قیمت لگا کر وصول کی جاتی تھی۔

۔ (۶۵۸۲)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: سَمِعْتُ زَیَادَ بْنَ ضُمَیْرَۃَ بْنِ سَعْدٍ السُّلَبِیَّیُحَدِّثُ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ وَجَدِّیْ وَکَانَا قَدْ شَہِدَا حُنَیْنًا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَا: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الظُّہْرَ، ثُمَّ جَلَسَ إِلٰی ظِلِّ شَجَرَۃٍ فَقَامَ إِلَیْہِ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ وَعُیَیْنَۃُ بْنُ حِصْنِ بْنِ بَدْرٍ یَطْلُبُ بِدَمِ الْأَشْجَعِیِّ عَامِرِ بْنِ الْأَضْبَطِ وَھُوَ یَؤْمَئِذٍ سَیِّدُ قَیْسٍ، وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ یَدْفَعُ عَنْ مُحَلِّمِ بْنِ جَثَامَۃَ لِخِنْدِفٍ (وَفِیْ لَفْظٍ: بِمَکَانِہِ مِنْ خِنْدِفٍ) فَاخْتَصَمَا بَیْنَیَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَمِعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((تَأْخُذُوْنَ الدِّیَۃَ خَمْسِیْنَ فِی سَفَرِنَا ھٰذَا وَخَمْسِیْنَ إِذَا رَجَعْنَا۔)) قَالَ: یَقُوْلُ عُیَیْنَۃُ: وَاللّٰہِ، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَا أَدَعُہُ حَتَّی أُذِیْقَ نِسَائَہُ مِنَ الْحُزْنِ مَا ذَاقَ نِسَائِیْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَلْ تَأْخُذُوْنَ الدِّیَۃَ۔)) فَأَبٰی عُیَیْنَۃُ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ لَیْثٍیُقَالُ لَہُ مُکَیْتِلٌ رَجُلٌ قَصِیْرٌ مَجْمُوْع،ٌ فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! مَا وَجَدْتُ لِھٰذَا الْقَتِیْلِشَبِیْہًا فِیْ غُرَّۃِ الْاِسْلَامِ اِلَّا کَغَنَمٍ وَرَدَتْ فَرُمِیَ أَوَّلُھَا فَنَفَرَ آخِرُھَا، اسْنُنِ الْیَوْمَ وَغَیِِّرْ غَدًا، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَہُ ثُمَّ قَالَ: ((بَلْ تَقْبَلُوْنَ الدِّیَۃَ فِیْ سَفَرِنَا ھٰذَا خَمْسِیْنَ وَخَمْسِیْنَ إِذَا رَجَعْنَا۔)) فَلَمْ یَزَلْ بِالْقَوْمِ حَتّٰی قَبِلُوْا الدِّیَۃَ، فَلَمَّا قَبِلُوْا الدِّیَۃَ، قَالَ: قَالُوْا: اَیْنَ صَاحِبُکُمْ یَسْتَغْفِرُ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَامَ رَجُلٌ آدَمُ طَوِیْلٌ ضَرَبَ عَلَیْہِ حُلَّۃً کَأَنْ تَہَیَّأَ لِلْقَتْلِ حَتّٰی جَلَسَ بَیْنَیَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا جَلَسَ، قَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا اسْمُکَ؟)) قَالَ: اَنَا مُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَۃَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَامَ مِنْ بَیْنَیَدَیْہِ وَھُوَ یَتَلَقّٰی دَمْعَہُ بِفَضْلِ رِدَائِہِ، فَأَمَّا نَحْنُ بَیْنَنَا فَنَقُوْلُ: قَدِ اسْتَغْفَرَ لَہُ وَلٰکِنَّہُ أَظْہَرَ مَا اَظْہَرَ لِیَدَعَ النَّاسُ بَعْضُہُمْ مِنْ بَعْضٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۳۹۶)

۔ سیدنا عروہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہیں کہ میرے باپ اور میرے دادا، جو کہ جنگ حنین میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حاضر تھے، کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نماز ظہر پڑھائی اور ایک درخت کے سائے میں تشریف لے گئے، اقرع بن حابس آپ کے سامنے کھڑے ہوئے، وہ اور عینیہ بن حصن بن بدر دونوں قیس قبیلہ کے سردار عامر بن اضبط اشجعی کے خون کا مطالبہ کرنے لگے، اقرع بن حابس خندف کی وجہ سے محلم بن جثامہ کا دفاع کر رہا تھا، یہ دونوں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے مقدمہ لے کر پیش ہوئے، ہم نے سنا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم پچاس اونٹ اب دوران سفر لے لو اور پچاس واپس جا کر لے لینا۔ عینیہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم میں اسے نہیں چھوڑوں گا حتیٰ کہ اس کی عورتوں کو وہ غم نہ پہنچائوں، جو اس نے ہماری عورتوں کو پہنچایا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دیت لے لو۔ مگر عینیہ نے انکار کر دیا، لیث قبیلہ کا مکیتل نامی ایک آدمی کھڑا ہوا،وہ چھوٹے قد کا آدمی تھا اور مختلف ہتھیاروں سے مسلح تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اسلام کی ابتداء میں اس جیسا مقتول آپ کو نہ ملا ہوگا، مگر بکریوں کی مانند جو پانی کے گھاٹ پر وارد ہوں، ان سے پہلے بکریوں پر تیر پھینکا جائے تو آخر والی بھی بھاگنے لگتی ہیں،( یعنی ہم قصاص لیں گے، چھوڑیں گے نہیں) آج طریقہ جاری کیجیے، کل کلاں اسے بدل لینا،یعنی آج تو قصاص کے حکم پر عمل ہوگا، اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعاء کے لیے ہاتھ اٹھا لیے آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ ایسا کرو کہ دیت قبول کر لیں، پچاس اونٹ اب لے لو اور پچاس واپسی پر۔ آپ انہیں نر م کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ لوگ دیت قبول کرنے پر رضا مند ہوگئے، جب انہوں نے دیت قبول کر لی تو کہنے لگے: وہ تمہارا قاتل کہاں ہے، تاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے لیے استغفار کردیں، پس گندمی رنگ کا دراز قد آدمی کھڑا ہو، اس نے پوشاک پہنی ہوئی تھی، ایسے لگ رہا تھا کہ وہ قتل کے لیے تیار ہو رہا ہے، جب وہ رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آ کر بیٹھ گیا، آپ نے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: میں محلم بن جثامہ ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے میرے اللہ! محلم کو معاف نہ کر۔ آپ نے تین مرتبہ یہ بد دعا کی، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے سے کھڑا کر چلنے لگا اور وہ اپنی چادر کے ایک کنارے سے اپنے آنسو صاف کر رہا تھا، ہم نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے لیے استغفار ہی کیا تھا، بس ان الفاظ کا اظہار کیا کہ لوگ ایک دوسرے کو چھوڑ دیں۔