۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے روز لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: کوڑے یا لاٹھی وغیرہ سے ہو جانے والے خطأ عمد کے قتل کی دیت مغلظہ ہے، کل سو اونٹ ہوں گے، ان میں چالیس اونٹنیاں گابھن ہوں گی، خبر دار!ہر خون، مال، جاہلیت کا فخر میرے قدموں کے نیچے کچل دیا گیا ہے، ہاں میں حاجیوں کو پانی پلانے اوربیت اللہ کی خدمت کرنے کا عہدہ ان ہی کے سپرد کرتا ہوں، جو پہلے سے یہ خدمت کر رہے ہیں۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: کوڑے یا لاٹھی وغیرہ سے ہو جانے والا قتل خطأ شبہ عمد ہے، اس کی دیت سو اونٹ ہے، ان میں چالیس اونٹنیاں گابھن ہوں گی۔
۔ سیدنا عقبہ بن اوس رضی اللہ عنہ ایک صحابی ٔ رسول سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ایک خطبہ دیا اور اس میں فرمایا:خبردار! خطا عمد کا مقتول جو کہ کوڑے، لاٹھییا پتھر سے مارا جائے، اس کی دیت مغلظہّ (سخت)ہے جو کہ سو اونٹ ہے، ان میں چالیس اونٹنیاں حاملہ ہوں گی، ایک روایت میں ہے: چالیس اونٹنیاں ثنیہ سے بازل کے درمیان درمیان ہوں گی اور سب کی سب حاملہ ہوں گی۔
۔ قاسم بن ربیعہ نے اس حدیث کو یوں بیان کیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوڑے، لاٹھی اور پتھر سے ہو جانے والے خطأ عمد کے مقتول کی دیت سو اونٹ ہے، ان میں سے چالیس اونٹنیاں گابھن ہوں گی، جس نے ایک اونٹ بھی زائد طلب کیا، وہ جاہلیت والوں میں سے ہو گا۔
۔ یہ بھی مذکورہ بالا حدیث کے قریب قریب ہی ہے، البتہ اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کل سو اونٹ ہوں گے، ان میں سے تیس حِقّے، تیس جذعے، تیس بنت ِ لبون اور چالیس اونٹنیاں ثَنِیّۃ سے بَازِل تک ہوں، لیکن ہوں گابھن۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قتل عمد کی دیت کی طرح قتل شبہ عمد کی دیت بھی سخت ہے، البتہ شبہ عمد میں قاتل کو قتل نہیں کیا جاسکتا، یہ اس طرح ہوتا ہے کہ شیطان لوگوں کے درمیان شر انگیزی کرنا ہے۔ ابو نضر کہتے ہیں: پھر اندھادھند لڑائی (لاٹھی، کوڑا اور پتھر جیسی چیزوں) کو پھینکا جاتا ہے، جبکہ بیچ میں نہ کوئی فتنہ ہوتا ہے اور نہ اسلحہ۔