مسنداحمد

Musnad Ahmad

قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام

شبہ عمد کے مقتول کی دیت کا بیان

۔ (۶۵۸۳)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ النَّاسَ یَوْمَ الْفَتْحِ فَقَالَ: ((أَلَا اِنَّ دِیَۃَ الْخَطَأِ الْعَمْدِ بِالسَّوْطِ أَوِ الْعَصَا مُغَلَّظَۃٌ مِائَۃٌ، مِنْہَا أَرْبَعُوْنَ خَلِفَۃً فِیْ بُطُوْنِہَا أَوْلَادُھَا، أَلَا اِنَّ کُلَّ دَمٍ وَمَالٍ وَمَأْثُرَۃٍ کَانَتْ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ تَحْتَ قَدَمِیْ اِلَّا مَا کَانَ مِنْ سِقَایَۃِ الْحَاجِّ وَسِدَانَۃِ الْبَیْتِ فَاِنِّیْ قَدْ أَمْضَیْتُہَا لِأَھْلِہَا)) (مسند احمد: ۵۸۰۵)

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ کے روز لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: کوڑے یا لاٹھی وغیرہ سے ہو جانے والے خطأ عمد کے قتل کی دیت مغلظہ ہے، کل سو اونٹ ہوں گے، ان میں چالیس اونٹنیاں گابھن ہوں گی، خبر دار!ہر خون، مال، جاہلیت کا فخر میرے قدموں کے نیچے کچل دیا گیا ہے، ہاں میں حاجیوں کو پانی پلانے اوربیت اللہ کی خدمت کرنے کا عہدہ ان ہی کے سپرد کرتا ہوں، جو پہلے سے یہ خدمت کر رہے ہیں۔

۔ (۶۵۸۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللُّہِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ قَتِیْلَ الْخَطَأِ شِبْہُ الْعَمَدِ قَتِیْلُ السَّوْطِ وَالْعَصَا، فِیْہِ مِائَۃٌ مِنْہَا أَرْبَعُوْنَ فِیْ بُطُوْنِہَا أَوْلَادُھَا۔)) (مسند احمد: ۶۵۵۲)

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: کوڑے یا لاٹھی وغیرہ سے ہو جانے والا قتل خطأ شبہ عمد ہے، اس کی دیت سو اونٹ ہے، ان میں چالیس اونٹنیاں گابھن ہوں گی۔

۔ (۶۵۸۵)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ أَوْسٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ فَذَکَرَ حَدِیْثًا وَفِیْہِ: ((أَلَا وَإِنَّ قَتِیْلَ خَطَأٍ الْعَمْدِ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا وَالْحَجَرِ دِیَۃٌ مُغَلَّظَۃٌ مِائَۃٌ مِنَ الْاِبِلِ مِنْہَا أَرْبَعُوْنَ فِیْ بُطُوْنِہَا أَوْلَادُھَا (وَفِیْ لَفْظٍ) أَرْبَعُوْنَ مِنْ ثَنِیَّۃٍ اِلٰی بَازِلِ عَامِہَا کُلُّہُنَّ خَلِفَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۵۴۶۳)

۔ سیدنا عقبہ بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک صحابی ٔ رسول سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ کے دن ایک خطبہ دیا اور اس میں فرمایا:خبردار! خطا عمد کا مقتول جو کہ کوڑے، لاٹھییا پتھر سے مارا جائے، اس کی دیت مغلظہّ (سخت)ہے جو کہ سو اونٹ ہے، ان میں چالیس اونٹنیاں حاملہ ہوں گی، ایک روایت میں ہے: چالیس اونٹنیاں ثنیہ سے بازل کے درمیان درمیان ہوں گی اور سب کی سب حاملہ ہوں گی۔

۔ (۶۵۸۷)۔ وَعَنْہُ اَیُضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَرِیْبٍ مِنْ ذَالِکَ اِلَّا أَنَّہُ قَالَ: ((مِائَۃٌ مِنَ الْاِبِلِ ثَلَاثُوْنَ حِقَّۃً وَثَلَاثُوْنَ جَذَعَۃً وَثَلَاثُوْنَ بِنَاتِ لَبُوْنٍ وَأَرْبَعُوْنَ ثَنِیَّۃً خَلِفَۃً اِلٰی بَازِلِ عَامِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۴۶۵)

۔ یہ بھی مذکورہ بالا حدیث کے قریب قریب ہی ہے، البتہ اس میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کل سو اونٹ ہوں گے، ان میں سے تیس حِقّے، تیس جذعے، تیس بنت ِ لبون اور چالیس اونٹنیاں ثَنِیّۃ سے بَازِل تک ہوں، لیکن ہوں گابھن۔

۔ (۶۵۸۸)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖأَنَّرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((عَقْلُ شِبْہِ الْعَمْدِ مُغَلَّظٌ مِثْلُ عَقْلِ الْعَمْدِ وَلَا یُقْتَلُ صَاحِبُہُ، وَذَالِکَ أَنْ یَنْزُوَ الشَّیْطَانُ بَیْنَ النَّاسِ۔)) قَالَ أَبُوْ النَّضْرِ: فَیَکُوْنُ رِمِّیًا فِیْ عِمِّیًا فِیْ غَیْرِ فِتْنَۃٍ وَلَا حَمْلِ سَلَاحٍ۔ (مسند احمد: ۶۷۱۸)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قتل عمد کی دیت کی طرح قتل شبہ عمد کی دیت بھی سخت ہے، البتہ شبہ عمد میں قاتل کو قتل نہیں کیا جاسکتا، یہ اس طرح ہوتا ہے کہ شیطان لوگوں کے درمیان شر انگیزی کرنا ہے۔ ابو نضر کہتے ہیں: پھر اندھادھند لڑائی (لاٹھی، کوڑا اور پتھر جیسی چیزوں) کو پھینکا جاتا ہے، جبکہ بیچ میں نہ کوئی فتنہ ہوتا ہے اور نہ اسلحہ۔