مسنداحمد

Musnad Ahmad

قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام

محض قتلِ خطا کی دیت کا بیان

۔ (۶۵۸۹)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِکُلِّ شَیْئٍ خَطَأٌ اِلَّا السَّیْفَ وَلِکُلِّ خَطَإٍ اَرْشٌ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۸۵)

۔ سیدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تلوار کے علاوہ ہر چیز میں خطا ہوتی ہے اور ہر خطا میں دیت ہے۔

۔ (۶۵۹۰)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَعَلَ الدِّیَۃَ فِی الْخَطَائِ اَخْمَاسًا۔ (مسند احمد: ۳۶۳۵)

۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قتل خطا کی دیت کی پانچ قسم بنائی ہیں۔

۔ (۶۵۹۲)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖاَنَّالنَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی أَنَّ مَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِیَتُہُ مِائَۃٌ مِنَ الْاِبِلِ ثَلَاثُوْنَ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَثَلَاثُوْنَ بِنْتَ لَبُوْنٍ، وَثَلَاثُوْنَ حِقَّۃً، وَعَشَرَۃٌ بَنُوْ لَبُوْنٍ ذُکُوْرٍ۔ (مسند احمد: ۶۶۶۳)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ جو آدمی خطأً قتل ہو گیا، اس کی دیت سو اونٹ ہو گی، جس کی تفصیلیہ ہے: تیس بنت ِ مخاض، تیس بنت ِ لبون، تیس حِقّے اور دس ابن لبون مذکر۔