مسنداحمد

Musnad Ahmad

قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام

قتل کے علاوہ اعضا اور زخموں وغیرہ کی دیت کا بیان

۔ (۶۵۹۳)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖأَنَّرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی فِی الْأَنْفِ اِذَا جُدِعَ کُلُّہُ الدِّیَۃً کَامِلَۃً، وَاِذَا جُدِعَتْ أَرْنَبَتُہُ فَنِصْفَ الدِّیَۃِ، وَفِی الْعَیْنِ نِصْفَ الدِّیَۃِ، وَفِی الْیَدِ نِصْفَ الدِّیَۃِ، وَفِی الرِّجْلِ نِصْفَ الدِّیَۃِ، وَقَضٰی أَنْ یَعْقِلَ عَنِ الْمَرْأَۃِ عَصَبَتُہَا مَنْ کَانُوْا، وَلَا یَرِثُوْنَ مِنْہَا اِلَّا مَا فَضَلَ عَنْ وَرَثَتِہَا، وَإِنْ قُتِلَتْ فَعَقْلُہَا بَیْنَ وَرَثَتِہَا وَھُمْ یَقْتُلُوْنَ قَاتِلَہَا، وَقَضٰی أَنَّ عَقْلَ أَھْلِ الْکِتَابِ نِصْفُ عَقْلِ الْمُسْلِمِیْنَ وَھُمُ الْیَہُوْدُ وَالنَّصَارٰی۔ (مسند احمد: ۷۰۹۲)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ فرمایاکہ جب کسی کا ناک مکمل کٹ جائے تو اس کی پوری دیت ہے،جب ناک کی نوک کٹ جائے تو نصف دیت ہے، ایک آنکھ میں نصف دیت ہے، ایک ہاتھ میں نصف دیت ہے اور ایک پائوں میں نصف دیت ہے، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ فرمایاکہ عورت کی دیت اس کے عصبہ ادا کریں گے اور وہ جو بھی ہوں اور یہ عصبہ اس عورت کے اصحاب الفروض سے بچنے والے مال کے وارث بنیں گے، اور اگر خاتون قتل ہو جائے تو اس کی دیت اس کے وارثوں کو ملے گی اور وہی اس کے قاتل کو قتل کریں گے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ اہل کتاب یعنییہود ونصاریٰ کی دیت مسلمانوں کی دیت کی بہ نسبت نصف ہے۔

۔ (۶۵۹۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللُّہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فِیْ کُلِّ إِصْبَعٍ عَشْرٌ مِنَ الْاِبِلِ، وَفِیْ کُلِّ سِنٍّ خَمْسٌ مِنَ الْاِبِلِ وَالْاَصَابِعُ سَوَائٌ، وَالْأَسْنَانُ سَوَائٌ۔)) (مسند احمد: ۶۷۱۱)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر ایک انگلی کی دیت دس اونٹ اور ہر ایک دانت کی دیت پانچ اونٹ ہے، انگلیاں اور دانت سب دیت میں برابر ہیں۔

۔ (۶۵۹۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَوَّی بَیْنَ الْأَسْنَانِ وَالْأَصَابِعِ فِی الدِّیَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۶۲۱)

۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دانتوں اور انگلیوں کو دیت میں برابر قرار دیا ہے۔

۔ (۶۵۹۶)۔ وَعَنْہُ اَیُضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ھٰذِہٖوھٰذِہٖسَوَائٌ۔)) الْخِنْصَرُوَالْاِبْہَامُ۔ (مسنداحمد: ۱۹۹۹)

۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ چھنگلی انگلی اور یہ انگوٹھا دیت میں برابر ہیں (یعنی ہر ایک کی دیت دس دس اونٹ ہو گی)۔

۔ (۶۵۹۷)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ حَدَّثَ أَنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی فِی الْأَصَابِعِ عَشْرًا عَشْرًا مِنَ الْاِبِلِ۔ (مسند احمد: ۱۹۸۳۹)

۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگلیوں کے بارے میںیہ فیصلہ فرمایا کہ ہر ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہے۔

۔ (۶۵۹۸)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖأَنَّرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((فِی الْمَأْمُوْمَۃِ ثُلُثُ الْعَقْلِ ثَلَاثٌ وَثَلَاثُوْنَ مِنَ الْاِبِلِ أَوْ قِیْمَتُہَا مِنَ الذَّھَبِ أَوِ الْوَرِقِ أَوِ الْبَقَرِ أَوِ الشَّائِ، وَالْجَائِفَۃُ ثُلُثُ الْعَقْلِ، وَالْمُنَقِّلَۃُ خَمْسَ عَشْرَۃَ مِنَ الْاِبِلِ، وَالْمُوْضِحَۃُ خَمْسٌ مِنَ الْاِبِلِ وَالْاَسْنَانُ خَمْسٌ مِنَ الْاِبِلِ۔)) (مسند احمد: ۷۰۳۳)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مامومہ (یعنی دماغ تک اتر جانے والے زخم) کی دیت کل دیت کا ایک تہائی ہے، یعنی تینتیس اونٹ یا سونے اور چاندی کی صورت میں ان کی قیمتیا گائیںیا بکریاں، وہ زخم جو پیٹ تک پہنچ جائے اس کی دیت کل دیت کا ایک تہائی ہے، ٹوٹ جانے والی ہڈی کی دیت پندرہ اونٹ ہے، جس زخم سے ہڈی ننگی ہو جائے، اس کی دیت پانچ اونٹ ہے اور ایک دانت کی دیت پانچ اونٹ ہے۔