مسنداحمد

Musnad Ahmad

قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام

جنین کی دیت کا بیان

۔ (۶۶۰۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ اِمْرَأَتَیْنِ مِنْ بَنِیْ ھُذَیْلٍ رَمَتْ اِحْدَاھُمَا الْأُخْرٰی فَأَلْقَتْ جَنِیْنًا، فَقَضٰی فِیْہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِغُرَّۃٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَۃٍ۔ (مسند احمد: ۷۲۱۶)

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ بنو ہذیل کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مارا اور اس کا جنین گرا دیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس جنین کی دیت کے طور پر ایک لونڈییا غلام کا فیصلہ کیا۔

۔ (۶۶۰۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْجَنِیْنِ بِغُرَّۃٍ عَبْدٍ أَوْ اَمَۃٍ، فَقَالَ الَّذِیْ قَضٰی عَلَیْہِ: أَ یُعْقَلُ مَنْ لَا أَکَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا صَاحَ وَلَا اسْتَہَلَّ فَمِثْلُ ذَالِکَ یُطَلُّ؟ فَقَالَ: ((اِنَّ ھٰذَا الْقَوْلَ لَقَوْلُ شَاعِرٍ فِیْہِ غُرَّۃٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۰۴۷۲)

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جنین کی دیت کے طور پر ایک غلام یا لونڈی کا فیصلہ کیا، جس پر یہ فیصلہ کیا گیا، اس نے کہا: کیا اس کی دیت دی جائے گی، جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ چیخا، نہ چلایا، اس قسم کا نفس تو رائیگاں ہو جاتا ہے۔ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ باتیں تو شاعروں والی ہیں، میں کہہ رہا ہوں کہ جنین میں ایک غلام یا ایک لونڈی دیت ہے۔

۔ (۶۶۰۷)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی لِحَمْلِ بْنِ مَالِکٍ الْھُذَلِیِّ بِمِیْرَاثِہِ عَنِ امْرَأَتِہِ الَّتِیْ قَتَلَتْہَا الْأُخْرٰی، وَقَضٰی فِی الْجَنِیْنِ الْمَقْتُوْلِ بِغُرَّۃٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَۃٍ، قَالَ: ((فَوَرِثَہَا بَعْلُہَا وَبَنُوْھَا۔)) قَالَ: وَکَانَ لَہُ مِنْ اِمْرَأَتَیْہِ کِلْتَیْہِمَا وَلَدٌ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَۃِ الْمُقْضٰی عَلَیْہِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ أَغْرَمُ مَنْ لَاصَاحَ وَلَا اسْتَہَلَّ وَلَا شَرِبَ وَلَا أَکَلَ فَمِثْلُ ذَالِکَ بَطَلَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھٰذَا مِنَ الْکُہَّانِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۵۹)

۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حمل بن مالک ہذلی کے لئے ان کی اس بیوی سے وراثت حاصل کرنے کا فیصلہ دیا تھا، جسے ان کی دوسری بیوی نے قتل کر دیا تھا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ بھی فرمایاتھا کہ قتل ہونے والے جنین کی دیت ایک لونڈییا ایک غلام ہو گی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس مقتولہ عورت کے بیٹے اور خاوند اس کے وارث بنیں گے۔ حمل بن مالک کی دونوں بیویوں سے اولاد تھی، قاتلہ کے باپ، جس نے ایک غلام یا ایک لونڈی دینی تھی، نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کی چٹی کس طرح بھروں، جو نہ چیخا، نہ چلایا، نہ اس نے پیا اور نہ کھایا، اس قسم کے نفس تو رائیگاں ہو جاتے ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو نجومیوں میں سے ہے۔

۔ (۶۶۰۸)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖقَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی عَقْلِ الْجَنِیْنِ اِذَا کَانَ فِیْ بَطْنِ أُمِّہِ بِغُرَّۃٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَۃٍ، فَقَضٰی بِذَالِکَ فِیْ امْرَأَۃِ حَمْلِ بْنِ مَالِکِ بْنِ النَّابِغَۃِ الْھُذَلِیِّ وَأَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا شِغَارَ فِی الْاِسْلَامِ۔)) (مسند احمد: ۷۰۲۶)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جنین کی دیت کے بارے میں ایک غلام یا ایک لونڈی کا فیصلہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حمل بن مالک بن نابغہ ہذلی کی بیوی کے بارے میںیہی فیصلہ دیا تھا، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: ’اسلام میں شغار نہیں ہے۔

۔ (۶۶۰۹)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّہُ حَدَّثَ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ عَنْ عُمَرَ أَنَّہُ اِسْتَشَارَھُمْ فِیْ اِمْلَاصِ الْمَرْأَۃِ، فَقَالَ لَہُ الْمُغِیْرَۃُ: قَضٰی فِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْغُرَّۃِ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: اِنْ کُنْت صَادِقًا فَأْتِ بِأَحَدٍ یَعْلَمُ ذَالِکَ، فَشَہِدَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی بِہِ۔ (مسند احمد: ۱۸۳۱۶)

۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس بارے میں مشورہ کیا کہ جب عورت (کسی کے چوٹ وغیرہ مارنے سے) قبل از وقت بچہ گرادے، تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بارے میںیہ فیصلہ کیا کہ ایک لونڈییا غلام دینا ہو گا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا : اگر آپ سچے ہیں تو ایسا گواہ پیش کرو جو اس معاملے کو جانتا ہو، پھر سیدنا محمد بن مسلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے گواہی دی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہی فیصلہ دیا تھا۔