مسنداحمد

Musnad Ahmad

قتل اور دوسرے جرائم کے مسائل اور خونوں کے احکام

اس شخص کا بیان کہ جس کے والد کو از راہِ خطا قتل کر دیا گیا اور پھر اس نے اس کی دیت کو مسلمانوں پر خیرات کر دیا

۔ (۶۶۱۰)۔ عَنْ مَحْمُوْدِ بْنِ لَبِیْدٍ قَالَ: اِخْتَلَفَتْ سُیُوْفُ الْمُسْلِمِیْنَ عَلَی الْیَمَانِ اَبِیْ حُذَیْفَۃیَوْمَ أُحُدٍ وَلَا یَعْرِفُوْنَہُ فَقَتَلُوْہُ، فَأَرَادَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَن یَدِیَہُ فَتَصَدَّقَ حُذَیْفَۃُ بِدِیَتِہِ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ۔ (مسند احمد: ۲۴۰۳۹)

۔ سیدنا محمود بن لبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ احد کے دن مسلمانوں کی تلواریں سیدنایمان پر چل گئیں، جبکہ وہ ان کو جانتے نہیں تھے، سوانھوں نے ان کو قتل کر دیا، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی دیت دینا چاہی لیکن سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وہ دیت مسلمانوں پر خیرات کر دی۔