۔ سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطاب کر رہے تھے اور فرما رہے تھے: دینے والے کا ہاتھ اوپر والا ہاتھ ہوتا ہے۔ اپنی ماں، باپ، بہن، بھائی اور زیادہ سے زیادہ نزدیکی رشتہ داروں پر صرف کرو۔ اتنی دیر میں بنو ثعلبہ بن یربوع کے کچھ افراد آگئے، انصار میں سے ایک آدمی نے ان کے بارے میں کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو یریوع کے افراد آگئے ہیں، انہوں نے فلاں کو قتل کیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! کوئی جان دوسرے کے جرم کی ذمہ دار نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات دو بار ارشاد فرمائی۔
۔ سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے ابو جان کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، جب میں نے آپ کو دیکھا تو میرے ابا جان نے کہا: ابو رمثہ ! تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جانتا ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: یہ محمد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، پس میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میرا خیال تھا کہ آپ کی ذات گرامی کی عام انسانوں سے الگ تھلگ حیثیت ہوگی، مگر آپ ایک انسان تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کانوں تک آ رہے تھے، بالوں پر مہندی کے نشان تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سبز رنگ کی دو چادریں پہن رکھی تھیں، میرے ابونے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کیا اور ہم بیٹھ گئے، آپ نے کچھ دیر تک ہم سے باتیںکیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارا بیٹا ہے؟ میرے ابا جان نے کہا: جی ہاں،کعبہ کے رب کی قسم! یہی بات درست ہے کہ یہ میرا بیٹا ہے، میں اس پر گواہی دیتا ہوں۔ یہ ساری باتیں سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھل کر مسکرا پڑے، کیونکہ میری اپنے باپ کے ساتھ مشابہت بالکل واضح تھی، لیکن اس کے باوجود وہ قسم اٹھا رہے تھے، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! یہ تیرے حق میں جرم نہیں کرے گا اور تو اس کے حق میں جرم نہیں کرے گا۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ … الحدیث۔
۔ سیدنا خشخاس عنبری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور میرے ساتھ میرا بیٹا بھی تھا، آپ نے فرمایا: کیایہ تیرا بیٹا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، یہ میرا بیٹا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تیرے حق میں جرم نہیں کرے گا اور تو اس کے حق میں جرم نہیں کرے گا (بلکہ ہر کوئی اپنے جرم کا خود ذمہ دار ہو گا)۔
۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد ِ خلافت میں ایک آدمی نے اپنے باپ سے روایت کی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے لئے ایک تحریر لکھوادیں کہ مجھے غیر کے جرم میں نہ پکڑا جائے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تیرا حق بھی ہے اور ہر مسلمان کا بھی ہے (کہ کسی کو کسی کے جرم میں نہیں پکڑا جائے گا)۔