مسنداحمد

Musnad Ahmad

مسواک کے ابواب

نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم

۔ (۵۶۰)۔عَنْ عَلِیٍّ ؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِیْ لَأَمَرْتُہُمْ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ وَلَأَخَّرْتُ عِشَائَ الْآخِرَۃَ اِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ الْأَوَّلِ، فِاِنَّہُ اِذَا مَضٰی ثُلُثُ اللَّیْلِ الْأَوَّلُ ہَبَطَ اللّٰہُ تَعَالٰی اِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا، فَلَمْ یَزَلْ ہُنَاکَ حَتَّی یَطْلُعَ الْفَجْرُ فَیَقُوْلَ قَائِلٌ: أَلَا سَائِلٌ یُعْطٰی، أَلَا دَاعٍ یُجَابُ، أَلَا سَقِیْمٌ یَسْتَشْفِیْ، فَیُشْفٰی، اَلَا مُذْنِبٌ یَسْتَغْفِرُ فَیُغْفَرَلَہُ۔)) (مسند أحمد: ۹۶۷)

سیدنا علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا اور نمازِ عشا کو رات کے پہلے ایک تہائی حصے تک مؤخر کر دیتا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب رات کا پہلا ایک تہائی گزرتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور طلوع فجر تک یہیں رہتے ہیں، اس دورانیے میں ایک کہنے والا یہ کہتا رہتا ہے: کیا کوئی سوال کرنے والا ہے کہ اس کو دیا جائے، کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کو جواب دیا جائے، کیا شفا طلب کرنے والا کوئی مریض ہے کہ اس کو شفا دے دی جائے اور بخشش طلب کرنے والا کوئی گنہگار ہے کہ اس کو بخش دیا جائے۔

۔ (۵۶۱)۔ عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِیْ لَأَمَرْتُہُمْ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ۔)) قَالَ: فَکَانَ زَیْدٌ یَرُوْحُ اِلَی الْمَسْجِدِ وَسِوَاکُہُ عَلَی أُذُنِہِ بِمَوْضِعِ قَلَمِ الْکَاتِبِ، مَا تُقَامُ صَلَاۃٌ اِلَّا اسْتَاکَ قَبْلَ أَنْ یُصَلِّیَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۰۲۶)

سیدنا زیدبن خالد جہنیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا احساس نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دے دیتا۔ سیدنا زیدؓجب مسجد کی طرف آتے تھے تو کاتب کے قلم کی طرح ان کے کان پر مسواک ہوتی تھی، جب بھی نماز کھڑی کی جاتی تھی تو وہ نماز سے پہلے مسواک کرتے تھے۔

۔ (۵۶۲)۔عَنْ عَلِیٍّؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۶۰۷)

سیدنا علی ؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔

۔ (۵۶۳)۔عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((فَضْلُ الصَّلوٰۃِ بِالسِّوَاکِ عَلَی الصَّلوٰۃِ بِغَیْرِ السِّوَاکِ سَبْعِیْنَ ضِعْفًا۔)) (مسند أحمد: ۲۶۸۷۱)

زوجۂ رسول سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مسواک والی نماز کی فضیلت اس نماز پر ستر گنا زیادہ ہے، جس کے ساتھ مسواک نہ کی جائے۔

۔ (۵۶۴)۔عَنْ أُمِّ حَبِیْبَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَوْلَا أَنَّ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِیْ لَأَمَرْتُہُمْ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ کَمَا یَتَوَضَّؤُوْنَ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۹۶۰)

زوجہ ٔ رسول سیدہ ام حبیبہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا احساس نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے ساتھ اس طرح مسواک کرنے کا حکم دے دیتا، جیسے وہ وضو کرتے ہیں۔