TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مسواک کے ابواب - مسواک کے ابواب - Book 11 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 11 of Musnad Ahmad, with 6 chapters and 25 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

25 Hadith · 6 Chapters
مسواک کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۵۰)۔ عَنْ أَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اَلسِّوَاکُ مَطْہَرَۃٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاۃٌ لِلرَّبِّ)) (مسند أحمد:۶۲)
سیدنا ابو بکر صدیقؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مسواک کرنا منہ کو پاک کرنے والا اور ربّ تعالیٰ کو راضی کرنے والا عمل ہے۔
Takhreej
(۵۵۰) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ ابویعلی: ۱۰۹، ۱۱۰(انظر: ۶۲)
550
Sahih
مسواک کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۵۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۲۵۴۳۸)
سیدہ عائشہ ؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۵۵۱) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ ۔أخرجہ النسائی: ۱/ ۱۰ (انظر: ۲۴۹۲۵)
551
Sahih
مسواک کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۵۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: عَلَیْکُمْ بِالسِّوَاکِ، فَاِنَّہٗ مَطْیَبَۃٌ لِلْفَمِ وَمَرْضَاۃٌ لِلرَّبِّ۔ (مسند أحمد: ۵۸۶۵)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم مسواک کا لازمی طور پر اہتمام کرو، کیونکہ یہ منہ کو پاک کرنے والا اور ربّ کو راضی کرنے والا ہے۔
Takhreej
(۵۵۲) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ الطبرانی فی الاوسط (انظر: ۵۸۶۵)
552
Sahih
مسواک کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۵۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أُمِرْتُ بِالسِّوَاکِ حَتَّی ظَنَنْتُ أَوْ حَسِبْتُ أَنْ سَیَنْزِلُ فِیْہِ قُرْآنٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۲۵)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے مسواک کرنے کا اتنا حکم دیاگیا کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ عنقریب اس کے بارے میں قرآن مجید نازل ہو جائے گا۔
Takhreej
(۵۵۳) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ ابویعلی: ۲۳۳۰۰، وابن ابی شیبۃ: ۱/ ۱۷۱(انظر: ۲۱۲۵)
553
Sahih
مسواک کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۵۴)۔وَعَنْہُ أَیْضًا ؓ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکْثِرُ السِّوَاکَ حَتَّی ظَنَنَّا أَوْ رَأَیْنَا أَنَّہُ سَیَنْزِلُ عَلَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۲۵۷۳)
سیدنا ابن عباسؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اس قدر زیادہ مسواک کرتے تھے، کہ ہمیں یہ خیال آنے لگا کہ اس کے بارے میں عنقریب قرآن نازل ہو جائے گا۔
Takhreej
(۵۵۴) تخریج: انظر الحدیث السابق
554
Sahih
مسواک کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۵۵)۔ عَنْ وَاثِلَۃَ بْنِ الْأَسْقَعِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أُمِرْتُ بِالسِّوَاکِ حَتّٰی خَشِیْتُ أَنْ یُکْتَبَ عَلَیَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۱۰۳)
سیدنا واثلہ بن اسقع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مجھے مسواک کرنے کا اتنا حکم دیا گیا کہ میں ڈرنے لگ گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کو فرض کر دیا جائے۔
Takhreej
(۵۵۵) تخریج: حدیث حسن لغیرہ ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۲/ ۱۸۹ (انظر: ۱۶۰۰۷)
555
Sahih
مسواک کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۵۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَکْثَرْتُ عَلَیْکُمْ فِی السِّوَاکِ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۴۸۶)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں نے تم کو مسواک کرنے کی بہت زیادہ تاکید کی ہے۔
Takhreej
(۵۵۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۸۸۸ (انظر: ۱۲۴۵۹)
556
Sahih
مسواک کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۵۷)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا جَائَ نِیْ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ قَطُّ اِلَّا أَمَرَنِیْ بِالسِّوَاکِ، لَقَدْ خَشِیْتُ أَنْ أُحْفِیَ مُقَدَّمَ فِیَّ۔ (مسند أحمد: ۲۲۶۲۵)
سیدنا ابو امامہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جبریلؑ جب بھی میرے پاس تشریف لائے، تو انھوں نے مجھے مسواک کرنے کا حکم دیا، میں تو اس بات سے ڈرنے لگ گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ منہ کا سامنے والا حصہ ہی اکھاڑ دوں۔
Takhreej
(۵۵۷) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، عبید اللہ بن زحر الافریقی وعلی بن یزید الالھانی ضعیفان ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۸۹ (انظر: ۲۲۲۶۹)
557
Zaeef
مسواک کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۵۸)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَسْتَنُّ فَأَعْطٰی أَکْبَرَ الْقَوْمِ وَقَالَ: ((اِنَّ جِبْرِیْلَ أَمَرَنِیْ أَنْ أُکَبِّرَ۔)) (مسند أحمد: ۶۲۲۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مسواک کر رہے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وہ مسواک لوگوں کے بڑے آدمی کو دے دی اور فرمایا: بیشک جبریلؑ نے مجھے بڑے آدمی کو مسواک دینے کا حکم دیا۔
Takhreej
(۵۵۸) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ البیھقی: ۱/ ۴۰، وأخرج نحوہ مسلم: ۲۲۷۱، وعلقہ البخاری: ۲۴۶ بصیغۃ الجزم (انظر: ۶۲۲۶)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ((اَرَانِیْ اَتَسَوَّکُ بِسِوَاکٍ فَجَائَ نِیْ رَجُلَانِ اَحَدُھُمَا اَکْبَرُ مِنَ الْآخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاکَ الْاَصْغَرَ مِنْھُمَا فَقِیْلَ لِیْ: کَبِّرْ، فَدَفَعْتُہٗ اِلَی الْاَکْبَرِ مِنْھُمَا)) … میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں مسواک کر رہا تھا، پس میرے پاس دو آدمی آئے، ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا، پس جب میں نے چھوٹے کو مسواک پکڑانا چاہی تو مجھے کہا گیا کہ بڑے کو دو، پس میں نے بڑے کو دے دی۔ (صحیح بخاری: ۲۴۶)
558
Sahih
مسواک کی فضیلت کا بیان
۔ (۵۵۹)۔ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ تَمَّامِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: أَتَوُا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ أُتِیَ، فَقَالَ: ((مَالِیْ أَرَاکُمْ تَأْتُوْنِیْ قُلْحًا، اسْتَاکُوْا، لَوْ لَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِیْ لَفَرَضْتُ عَلَیْہِمُ السِّوَاکَ کَمَا فَرَضْتُ عَلَیْہِمُ الْوُضُوْئَ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۳۵)
سیدنا تَمّام بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب لوگ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ تم میرے پاس اس حال میں آئے ہو کہ تمہارے دانتوں پر میل کچیل اور زردی نظر آ رہی ہے، مسواک کیا کرو، اگر امت پر مشقت ڈالنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں نے مسواک کو وضو کی طرح فرض کر دینا تھا۔
Takhreej
(۵۵۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابو علی الزراد مجھول۔ أخرجہ البزار: ۴۹۸، والطبرانی: ۱۳۰۱ (انظر:۱۸۳۵)
Explanation
فوائد:… امام صنعانی نے کہا: مسواک کی فضیلت میں ایک سو سے زیادہ احادیث منقول ہیں، لیکن بڑا تعجب ہے کہ اتنی کثیر احادیث کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد نے بلکہ کئی فقہاء نے غفلت برتی ہے، پس یہ بڑی ناکامی ہے۔ (سبل السلام: ۱/ ۴۱)
559
Zaeef
نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم
۔ (۵۶۰)۔عَنْ عَلِیٍّ ؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِیْ لَأَمَرْتُہُمْ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ وَلَأَخَّرْتُ عِشَائَ الْآخِرَۃَ اِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ الْأَوَّلِ، فِاِنَّہُ اِذَا مَضٰی ثُلُثُ اللَّیْلِ الْأَوَّلُ ہَبَطَ اللّٰہُ تَعَالٰی اِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا، فَلَمْ یَزَلْ ہُنَاکَ حَتَّی یَطْلُعَ الْفَجْرُ فَیَقُوْلَ قَائِلٌ: أَلَا سَائِلٌ یُعْطٰی، أَلَا دَاعٍ یُجَابُ، أَلَا سَقِیْمٌ یَسْتَشْفِیْ، فَیُشْفٰی، اَلَا مُذْنِبٌ یَسْتَغْفِرُ فَیُغْفَرَلَہُ۔)) (مسند أحمد: ۹۶۷)
سیدنا علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا اور نمازِ عشا کو رات کے پہلے ایک تہائی حصے تک مؤخر کر دیتا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب رات کا پہلا ایک تہائی گزرتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور طلوع فجر تک یہیں رہتے ہیں، اس دورانیے میں ایک کہنے والا یہ کہتا رہتا ہے: کیا کوئی سوال کرنے والا ہے کہ اس کو دیا جائے، کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کو جواب دیا جائے، کیا شفا طلب کرنے والا کوئی مریض ہے کہ اس کو شفا دے دی جائے اور بخشش طلب کرنے والا کوئی گنہگار ہے کہ اس کو بخش دیا جائے۔
Takhreej
(۵۶۰) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ الدارمی: ۱۴۸۴، وأخرجہ البیھقی: ۱/ ۳۶ الی قولہ: ثلث اللیل الاول (انظر: ۹۶۷)
560
Sahih
نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم
۔ (۵۶۱)۔ عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِیْ لَأَمَرْتُہُمْ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ۔)) قَالَ: فَکَانَ زَیْدٌ یَرُوْحُ اِلَی الْمَسْجِدِ وَسِوَاکُہُ عَلَی أُذُنِہِ بِمَوْضِعِ قَلَمِ الْکَاتِبِ، مَا تُقَامُ صَلَاۃٌ اِلَّا اسْتَاکَ قَبْلَ أَنْ یُصَلِّیَ۔ (مسند أحمد: ۲۲۰۲۶)
سیدنا زیدبن خالد جہنیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا احساس نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دے دیتا۔ سیدنا زیدؓجب مسجد کی طرف آتے تھے تو کاتب کے قلم کی طرح ان کے کان پر مسواک ہوتی تھی، جب بھی نماز کھڑی کی جاتی تھی تو وہ نماز سے پہلے مسواک کرتے تھے۔
Takhreej
(۵۶۱) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۴۷، والترمذی: ۲۳ (انظر: ۲۱۶۸۴)
561
Sahih
نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم
۔ (۵۶۲)۔عَنْ عَلِیٍّؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند أحمد: ۶۰۷)
سیدنا علی ؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۵۶۲) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ البزار: ۴۷۷، والدارمی: ۱۴۸۵(انظر: ۶۰۷)
562
Sahih
نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم
۔ (۵۶۳)۔عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((فَضْلُ الصَّلوٰۃِ بِالسِّوَاکِ عَلَی الصَّلوٰۃِ بِغَیْرِ السِّوَاکِ سَبْعِیْنَ ضِعْفًا۔)) (مسند أحمد: ۲۶۸۷۱)
زوجۂ رسول سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: مسواک والی نماز کی فضیلت اس نماز پر ستر گنا زیادہ ہے، جس کے ساتھ مسواک نہ کی جائے۔
Takhreej
(۵۶۳) تخریج: حدیث ضعیف، وھذا اسناد منقطع، محمد بن اسحاق لم یسمع ھذا الحدیث من الزھری۔ أخرجہ الحاکم: ۱/ ۱۴۵، والبیھقی: ۱/ ۳۸، وابن خزیمۃ: ۱۳۷(انظر: ۲۶۸۷۱)
563
Zaeef
نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم
۔ (۵۶۴)۔عَنْ أُمِّ حَبِیْبَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَوْلَا أَنَّ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِیْ لَأَمَرْتُہُمْ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ کَمَا یَتَوَضَّؤُوْنَ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۹۶۰)
زوجہ ٔ رسول سیدہ ام حبیبہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا احساس نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے ساتھ اس طرح مسواک کرنے کا حکم دے دیتا، جیسے وہ وضو کرتے ہیں۔
Takhreej
(۵۶۴) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابویعلی: ۷۱۲۷، والبخاری فی التاریخ الکبیر : ۹/ ۱۹ (انظر: ۲۷۴۱۵)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر ہر نماز کے ساتھ مسواک استعمال کرنا چاہیے، اگرچہ وضو نہ بھی کرنا ہو اور اگر مسواک کی وجہ سے مسوڑھوں سے خون وغیرہ نکل آئے تو اس سے وضو متأثر نہیں ہو گا، اس کی مزید وضاحت آگے آ رہی ہے۔
564
Sahih
وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا بیان
۔ (۵۶۵)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِیْ لَأَمَرْتُہُمْ بِالسِّوَاکِ مَعَ الْوُضُوْئِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: لَأَمَرْتُہُمْ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ بِوُضُوْئٍ وَمَعَ کُلِّ وُضُوْئٍ سِوَاکٌ) وَلَأَخَّرْتُ الْعِشَائَ اِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ أَوْ شَطْرِ اللَّیْلِ)) (مسند أحمد:۷۴۰۶)
سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا احساس نہ ہوتا تو میں ان کو ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دے دیتا اور نمازِ عشا کو ایک تہائی رات یا نصف رات تک مؤخر کر دیتا۔ ایک روایت میں ہے: میں ان کو ہر نماز کے ساتھ وضو کا اور ہر وضو کے ساتھ نماز کا حکم دے دیتا۔
Takhreej
(۵۶۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۸۸۷، ومسلم: ۲۵۲ (انظر: ۷۴۱۲)
Explanation
فوائد:… وضو کے ساتھ مسواک کرنا تو نماز کی خاطر ہے، جیسا کہ دوسری روایت کے الفاظ سے ثابت ہو رہا ہے، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ وضو کے علاوہ بھی مسواک کرتے تھے، جیسا کہ اگلے ابواب میں وضاحت آ رہی ہے۔
565
Sahih
وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا بیان
۔ (۵۶۶)۔وَعَنْہُ أَیْضًا بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: قَالَ أَبُوْہُرَیْرَۃَ لقَدْ کُنْت أَسْتَنُّ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ وَبَعْدَ مَا أَسْتَیْقِظُ وَقَبْلَ مَاآکُلُ وبَعْدَ مَاآکُلُ حِیْنَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ مَا قَالَ۔ (مسند أحمد:۹۱۸۳)
سیدنا ابو ہریرہؓ سے بھی یہ اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی یہ حدیث سننے کے بعد سونے سے پہلے، جاگنے کے بعد، کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد مسواک کرتا تھا۔
Takhreej
(۵۶۶) تخریج: حدیث صحیح، وانظر لمرفوعہ الحدیث السابق
566
Sahih
لکڑی سے مسواک کرنے کی کیفیت اور کلی کرتے وقت وضو کرنے والے آدمی کا اپنی انگلی سے مسواک کرنے کا بیان
۔ (۵۶۷)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا یُوْنُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ ثَنَا غَیْلَانُ بْنُ جَرِیْرٍ عَنْ أَبِیْ بُرْدَۃَ عَنْ أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّؓ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَسْتَاکُ وَھُوَ وَاضِعٌ طَرْفَ السِّوَاکِ عَلَی لِسَانِہِ یَسْتَنُّ اِلَی فَوْقَ، فَوَصَفَ حَمَّادٌ کَأَنَّہُ یَرْفَعُ سِوَاکَہُ، قَالَ حَمَّادٌ: وَوَصَفَہُ لَنَا غَیْلَانُ قَالَ: کَانَ یَسْتَنُّ طُوْلًا۔ (مسند أحمد: ۱۹۹۷۵)
سیدنا ابو موسی اشعری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر داخل ہوا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ مسواک کر رہے تھے اور مسواک کا کنارہ زبان پر تھا اور اوپر کو مسواک کر رہے تھے۔ حماد نے اس کیفیت کو یوں بیان کیا کہ گویا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ اپنے مسواک کو اٹھا رہے تھے، پھر حماد نے کہا کہ غیلان نے ہمیں یہ کیفیت بیان کی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ طول میں مسواک کرتے تھے۔
Takhreej
(۵۶۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۴۴، ومسلم: ۲۵۴ (انظر: ۱۹۷۳۷)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زبان پر لمبائی میں مسواک کی جائے گی، نیز مسواک صرف دانتوں کے ساتھ خاص نہیں ہے۔
567
Sahih
لکڑی سے مسواک کرنے کی کیفیت اور کلی کرتے وقت وضو کرنے والے آدمی کا اپنی انگلی سے مسواک کرنے کا بیان
۔ (۵۶۸)۔ عَنْ أَبِیْ مَطَرٍ قَالَ: بَیْنَا نَحْنُ جُلُوْسٌ مَعَ أَمِیْرِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلِیٍّ فِی الْمَسْجِدِعَلَی بَابِ الرَّحْبَۃِ جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَرِنِیْ وُضُوْئَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ عِنْدَ الزَّوَالِ، فَدَعَا قَنْبَرًا فَقَالَ: ائْتِنِیْ بِکُوْزٍ مِنْ مَائٍ فَغَسَلَ کَفَّیْہِ وَوَجْہَہُ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا فَأَدْخَلَ بَعْضَ أَصْابِعِہِ فِیْ فِیْہِ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا۔ (اَلْحَدِیْثَ سَیَأْتِیْ بِطُوْلِہِ فِیْ بَابِ صِفَۃِ الْوُضُوْئِ اِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی) (مسند أحمد: ۱۳۵۶)
ابو مطر کہتے ہیں: ہم مسجد میں امیرالمؤمنین سیدنا علیؓ کے پاس رحبہ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا وضو دکھاؤ، یہ زوال کا وقت تھا، پس انھوں نے قنبر غلام کو بلایا اور کہا: پانی کا برتن میرے پاس لاؤ، پس انھوں نے ہتھیلیوں اور چہرے کو تین تین دفعہ دھویا، تین بار کلی کی اور انگلی کو منہ میں داخل کیا اور تین دفعہ ناک میں پانی چڑھایا۔ (پوری حدیث بَابُ صِفَۃِ الْوُضُوْئِ میں آئے گی۔)
Takhreej
(۵۶۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف المختار بن نافع ولجھالۃ ابی مطر البصری ۔ أخرجہ عبد بن حمید: ۹۵ (انظر: ۱۳۵۶)
568
Zaeef
نیند سے بیدار ہوتے وقت، تہجد کے وقت اور گھر میں داخل ہوتے وقت مسواک کرنے کا بیان
۔ (۵۶۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ لَا یَنَامُ اِلَّا وَالسِّوَاکُ عِنْدَہُ، فَاِذَا اسْتَیْقَظَ بَدَأَ بِالسِّوَاکِ۔ (مسند أحمد: ۵۹۷۹)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ جب بھی سوتے تھے، مسواک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس ہوتی تھی، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بیدار ہوتے تو مسواک سے شروع کرتے۔
Takhreej
(۵۶۹) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ ابو یعلی: ۵۷۴۹، والطبرانی فی الکبیر : ۱۳۵۹۸(انظر: ۵۹۷۹)
569
Sahih