TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

زنا سے نفرت دلانے کا اور زانی کی وعید کا بیان، بالخصوص جب وہ اپنے پڑوسی کی بیوی اور اس عورت سے زنا کرے، جس کا خاوند غائب ہو - زنا سے نفرت دلانے کا اور زانی کی وعید کا بیان، بالخصوص جب وہ اپنے پڑوسی کی بیوی اور اس عورت سے زنا کرے، جس کا خاوند غائب ہو - زنا کی حد کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of زنا کی حد کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 8 · 9 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۶۶۴۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَا یَزْنِی الزَّانِیْ حِیْنَیَزْنِی وَھُوَ مُؤْمِنٌ وَلَایَسْرِقُ حِیْنَیَسْرِقُ وَھُوَ مُؤْمِنٌ وَلَایَشْرَبُ الْخَمْرَ حِیْنَیَشْرَ بُہَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ وَالتَّوَبَۃُ مَعْرُوْضَۃٌبَعْدُ)) (مسند احمد: ۱۰۲۲۰)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زانی جس وقت زنا کرتا ہے، وہ اس وقت مؤمن نہیں ہوتا، چورجب چوری کرتا ہے، وہ اس وقت مؤمن نہیں ہوتا اور شرابی جس وقت شراب پیتا ہے، وہ اس وقت مؤمن نہیں ہوتا اور (ان جرائم کے بعد بھی) توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔
Takhreej
(۶۶۴۴) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۸۱۰، ومسلم: ۵۷ (انظر: ۱۰۲۱۷)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں زانی، چور اور شرابی کی سخت سرزنش کی گئی ہے۔ ’’وہ اس وقت مؤمن نہیں ہوتا‘‘ اس سے نبی کریمa کی مراد یہ ہے کہ یہ امور ایمان کے منافی ہیں، ایمان ان سے روکتا ہے، جب کوئی شخص ان برائیوں کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ ایمان کے تقاضے پر عمل نہیں کر رہاہوتا، اس معنی میں گویا کہ وہ مؤمن نہیں ہوتا، اس کا یہ مطلب ہر گز نہیںہے کہ وہ کلی طور پر ایمان سے خارج ہو جاتا ہے اور کافر بن جاتا ہے، کیونکہ اہل سنت کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ کسی بھی گناہ، خواہ وہ کبیرہ ہی ہو، کے ارتکاب سے مسلمان کافر نہیں بنتا، یہ اصول بہت سی آیات و احادیث سے قطعی طور پر ثابت ہے۔ لیکن اس اصول کا مطلب ایسے مجرموں سے نرمی برتنا نہیں ہے، بلکہ یہ بتلانا مقصود ہے کہ یہ دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوئے اور ابدی طور پر جہنم کے مستحق نہیں ہیں۔
6644
Sahih
۔ (۶۶۴۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَلَاثَۃٌ لَا یَنْظُرُ اللّٰہُ یَعْنِی إِلَیْہِمْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، اَلْإِمَامُ الْکَذَّابُ، وَالشَّیْخُ الزَّانِی، وَالْعَائِلُ الْمَزْھُوُّ۔)) (مسند احمد: ۹۵۹۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی رو زِ قیامت تین قسم کے افراد کی طرف نہیں دیکھے گا: جھوٹا امام، بوڑھا زانی اورمتکبر فقیر۔
Takhreej
(۶۶۴۵) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۵/۸۶ (انظر: )
Explanation
فوائد:… زمان و مکاں اور شخصیت کی وجہ سے نیکییا برائی کی نوعیت میں فرق آ جاتا ہے، جیسے نوجوانی کی عمر میں نیکی کو زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اسی طرح بڑھاپے کی عمر میں برائی کو سخت ناپسند کیا جاتا ہے، ایسے تین مجرموں کا ذکر اس حدیث میں کیا گیا ہے، امام و حکمران ہو کر جھوٹ بولنا، بوڑھا ہو جانے کے بعد بھی زنا کرنا اور فقر و فاقہ کے باوجود تکبر کرنا۔ جھوٹ، زنا اور تکبر گناہ کے کام ہیں، لیکن جب یہ تین افراد ان امور کا ارتکاب کریں گے تو زیادہ ناپسند کیا جائے گا، کیونکہ ان افراد کا عہدہ، عمر اور ظاہری حالت کے تقاضے کچھ اور ہیں۔
6645
Sahih
۔ (۶۶۴۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَکْثَرِ مَا یَلِجُ النَّاسُ بِہِ النَّارَ، قَالَ: ((الْأَجْوَفَانِ، اَلْفَمُ وَالْفَرْجُ۔)) وَسُئِلَ عَنْ أَکْثَرِ مَا یَلِجُ بِہِ النَّاسُ الْجَنَّۃَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حُسْنُ الْخُلُقِ۔)) (مسند احمد: ۷۸۹۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس چیز کے بارے میں پوچھا گیا کہ زیادہ تر جس کی وجہ سے لوگ جہنم میں داخل ہوں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پیٹ سے متعلقہ دو چیزیںیعنی منہ اور شرمگاہ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ زیادہ تر جس کی وجہ سے لوگ جنت میں جائیں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ حسن اخلاق ہے۔
Takhreej
(۶۶۴۶) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۴۲۴۶، والترمذی: ۲۰۰۴ (انظر: ۷۹۰۷)
6646
Sahih
۔ (۶۶۴۷)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَفِظَ مَا بَیْنَ فُقْمَیْہِ وَفَرْجَہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۸۸)
۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے دو جبڑوں کے درمیان والی چیز اور شرمگاہ کی حفاظت کی، وہ جنت میں داخل ہوگا۔
Takhreej
(۶۶۴۷) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابویعلی: ۷۲۷۵، والحاکم: ۴/ ۳۵۸، والبیھقی فی ’’شعب الایمان‘‘: ۵۷۵۵ (انظر: ۱۹۵۵۹)
Explanation
فوائد:… یعنی اپنی زبان کو غیبت، چغلی، جھوٹی بات اور لغویات سے محفوظ رکھا اور شرمگاہ کو زنا اور ناجائز شہوات سے بچایا وہ جنت میں داخل ہوگا۔
6647
Sahih
۔ (۶۶۴۸)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ قَالَ: اِنَّ فَتًی مِنَ الْأَنْصَارِ اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ائْذَنْ لِیْ بِالزِّنَا، فَأَقْبَلَ الَقَوْمُ عَلَیْہِ فَزَجَرُوْہُ وَقَالُوْا: مَہْ مَہْ، فَقَالَ: ((ادْنُہُ۔)) فَدَنَا مِنْہُ قَرِیْبًا قَالَ: فَجَلَسَ، قَالَ: ((أَتُحِبُّہُ لِأُمِّکَ۔)) قَالَ: لَا، وَاللّٰہِ! جَعَلَنِی اللّٰہُ فِدَاکَ، قَالَ: ((وَلَا النَّاسُ یُحِبُّوْنَہُ لِأُمَّہَاتِہِمْ۔)) قَالَ: ((أَفَتُحِبُّہُ لِاِبْنَتِکَ؟)) قَالَ: لَا، وَاللّٰہِ، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! جَعَلَنِی اللّٰہُ فِدَاکَ، قَالَ: ((وَلَا النَّاسُ یُحِبُّوْنَہُ لِبَنَاتِہِمْ۔)) قَالَ: ((أَفَتُحِبُّہُ لِأُخْتِکَ؟)) قَالَ: لَا، وَاللّٰہِ! جَعَلَنِی اللّٰہُ فِدَاکَ، قَالَ: ((وَلَا النَّاسُ یُحِبُّوْنَہُ لِأَخَوَاتِہِمْ۔)) قَالَ: ((أَفَتُحِبُّہُ لِعَمَّتِکَ؟)) قَالَ: لَا، وَاللّٰہِ! جَعَلَنِی اللّٰہُ فِدَاکَ، قَالَ: ((وَلَا النَّاسُ یُحِبُّوْنَہُ لِعَمَّاتِہِمْ۔)) قَالَ: ((أَفَتُحِبُّہُ لِخَالَتِکَ؟)) قَالَ: لَا، وَاللّٰہِ! جَعَلَنِیَ اللّٰہُ فِدَاکَ، قَالَ: ((وَلا النَّاسُ یُحِبُّوْنَہُ لِخَالَاتِہِمْ۔)) قَالَ: فَوَضَعَ یَدَہُ عَلَیْہِ، وَقَالَ: ((اللّٰہُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَہُ وَطَہِّرْ قَلْبَہُ وَحَصِّنْ فَرْجَہُ۔)) فَلَمْ یَکُنْ بَعْدَ ذَالِکَ الْفَتٰییَلْتَفِتُ إِلٰی شَیْئٍ۔ (مسند احمد: ۲۲۵۶۴)
۔ سیدنا ابو امامہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نوجوان، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے زنا کی اجازت دیں، لوگ اس پر پل پڑے اور کہا: خاموش ہو جا، خاموش ہو جا تو،لیکن آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس نوجوان سے فرمایا: قریب ہو جا۔ پس وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہوکر بیٹھ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو اپنی ماں کیلئے اس چیز کو پسند کرتا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! ہرگز نہیں، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسی طرح لوگ بھی اپنی مائوں کیلئے اس برائی کو پسند نہیں کرتے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا کیا تو اپنی بیٹی کے لئے اس چیز کو پسند کرے گا؟ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کر دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ بھی اس برائی کو اپنی بیٹیوں کے لئے پسند نہیں کرتے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا کیا تو زنا کو اپنی بہن کے لئے پسند کرتا ہے؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے، میں اپنی بہن کے لیے اس کو کبھی بھی پسند نہیں کروں گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ بھی اپنی بہنوں کے لئے اس برائی کو پسند نہیں کرتے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو اس کو اپنی پھوپھی کے لئے پسند کرے گا؟ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم میں اس کو پسند نہیں کروں گا، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر لوگ بھی اپنی پھوپھیوں کے لئے پسند نہیں کرتے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتاؤ کہ کیا تو اس برائی کو اپنی خالہ کے لیے پسند کرے گا؟ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں اس کو پسند نہیں کروں گا، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کریں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر لوگ بھی اپنی خالائوں کے لئے اس برائی کو پسند نہیں کرتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا دست مبارک اس پر رکھا اور اس کے حق میںیہ دعا فرمائی: اے میرے اللہ! اس کے گناہ بخش دے، اس کے دل کو پاک کر دے اور اس کی شرمگاہ کو محفوظ کر دے۔ اس کے بعد وہ نوجوان کسی چیز کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتا تھا۔
Takhreej
(۶۶۴۷) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابویعلی: ۷۲۷۵، والحاکم: ۴/ ۳۵۸، والبیھقی فی ’’شعب الایمان‘‘: ۵۷۵۵ (انظر: ۱۹۵۵۹)
Explanation
فوائد:… نبی کریمa کا حکیمانہ انداز ہے، جس کا استعمال بعض افراد کے لیے مناسب سمجھا گیا۔ بعض لوگ ایسے مزاج کے ہوتے ہیں کہ صرف لفظ ’’حرام‘‘ ان کی صحت پر کوئی خاص اثر نہیں رکھتا، ایسے لوگوں کو ان کی ذات سے متعلقہ مثالیں دے کر بات سمجھائی جا سکتی ہے، جیسا حکمت و دانائی جیسی صفات سے متصف محمد رسول اللہ a نے اِس موقع پر کیا۔
6648
Sahih
۔ (۶۶۴۹)۔ ) عَنْ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا تَزَالُ أُمَّتِیْ بِخَیْرٍ مَالَمْ یَفْشُ فِیْہِمْ وَلَدُ الزِّنَا فَاِذَا فَشَا فِیْہِمْ وَلَدُ الزِّنَا فَیُوْشِکُ اَنْ یَعُمَّہُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِعِقَابٍ)) (مسند احمد: ۲۷۳۶۷)
۔ ام المؤمنین سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت اس وقت تک بھلائی پر رہے گی، جب تک ان میں زنا کی اولاد کی کثرت نہ ہوگی، جب ان میں ولد الزنا کی کثرت ہو جائے گی تو قریب ہو گا کہ اللہ تعالیٰ ان پر عام عذاب مسلط کر دے۔
Takhreej
(۶۶۴۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابن اسحاق مدلس وقد عنعن، ومحمد بن عبد اللہ و محمد بن عبدالرحمن ضعیفان، وعبید اللہ بن ابی رافع لین الحدیث۔ أخرجہ ابویعلی: ۷۰۹۱، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۴/ ۵۵ (انظر: ۲۶۸۳۰)
Explanation
فوائد:… ولد الزنا کی کثرت کا مطلب ہے کہ زنا عام ہو جائے، جس سے ناجائز بچے جنم لیں گے اور حسب و نسب کا نظام خراب ہو جائے گا۔ اگرچہ دورِ حاضر کے لوگوں میں بڑی بڑی اور کئی خرابیاں پائی جاتی ہیں، لیکن منصوبہ بندی کے اسباب اور الیکٹرانک، سوشل اور پرنٹ میڈیا کی وجہ سے جو بے غیرتی زنا اور اس سے متعلقہ گناہوں کی وجہ سے پھیلی ہے، اس کی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی، غیرت و حمیت کی وجہ سے جن افراد اور خاندانوں کے بارے میں اس برائی کا سوچا ہی نہیں جا سکتا تھا، ان کے وڈیرے زنا کی دلدل میں پھنس گئے اور ان کی بیویوں اور بچیوں نے اپنے لیے کرائے پر سانڈ لیے رکھے ہیں، ایسے خاندانوں کے پچاس ساٹھ ساٹھ برس عمر کے لوگوں کی نگاہیں تو شرم و حیا کا پیکر ہونی چاہیے تھیں، لیکن اب وہ چور نگاہوں سے اور ٹکٹکی باندھ کر ایسی بے پردہ لڑکیوں کو دیکھتے نظر آتے ہیں، جو ان کی بچیوں کی ہم عمر یا ان سے چھوٹی ہوتی ہیں۔ (اللہ کی پناہ) کیا کوئی چھٹی حس میں جا کر سوچ سکتا ہے کہ مائیں اپنی بچیوں کی عزتیں لٹانے کے لیے ڈیلکریں گی؟ کیا کسی میںیہ چیز برداشت کرنے کی ہمت ہے کہ بچیاں پابندی لگانے والے باپ کے سامنے واقعی ننگا ہو کر یہ کہیں گی کہ پھر تم خود ہماری ضرورت پوری کرو، نہیں تو ہمیں باہر جانے دو، کیا کسی کے دماغ میںیہ بات سما لینے کی گنجائش ہے کہ خاوند کمائی کرنے کے لیے دوسرے ممالک میں چلے جائیںاور ان کی بیویاں ان کی ہی آمدنیاں خرچ کر کے کرائے پر سانڈ رکھ لیں۔ جبکہ ایسا ہو رہا ہے اور ہر ملک کے ہر شہر میں ہو رہا ہے۔ لوگو! آؤ، شریعت ِ مطہرہ کو تھام لیں، اسی میں ہماری عزتوں کا دفاع ہے، یہی حمیت و غیرت والی زندگی کا دوسرا نام ہے۔
6649
Zaeef
۔ (۶۶۵۰)۔ عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْاَسْوَدِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَصْحَابِہِ: ((مَا تَقُوْلُوْنَ فِی الزِّنَا؟)) قَالُوْا: حَرَّمَہُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ فَہُوَ حَرَامٌ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، قال: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِاَصْحَابِہِ: ((لَأَنْ یَزْنِیَ الرَّجُلُ بِعَشْرِ نِسْوَۃٍ أَیْسَرُ عَلَیْہِ مِنْ أَنْ یَزْنِیَ بِاِمْرَأَۃِِ جَارِہِ۔)) قَالَ: ((فَمَا تَقُوْلُوْنَ فِی السَّرِقَۃِ؟)) قَالُوْا: حَرَّمَہَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ فَہِیَ حَرَامٌ، قَالَ: ((لَاَنْ یَسْرِقَ الرَّجُلُ مِنْ عَشْرَۃِ أَبْیَاتٍ أَیْسَرُ عَلَیْہِ مِنْ أَنْ یَسْرِقَ مِنْ جَارِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۵۵)
۔ سیدنا مقداد بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا : تم لوگ زنا کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول نے اس کو حرام قرار دیا ہے اور یہ قیامت کے دن تک حرام ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا دس عورتوں سے زنا کرنا، اس کا جرم ہمسائے کی بیوی سے زنا کرنے کے جرم سے کم ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا تم لوگ چوری کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے اس کو حرام قرار دیا ہے، پس یہ حرام ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا دس گھروں سے چوری کرنا، اس کا جرم پڑوسی کے گھر سے چوری کرنے کے جرم سے کم ہے۔
Takhreej
(۶۶۵۰) تخریج: اسنادہ جیّد۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۰/ ۶۰۵، وفی ’’الاوسط‘‘: ۶۳۲۹ (انظر: ۲۳۸۵۴)
Explanation
فوائد:… پڑوسی کو اپنے پڑوسی پر حسن ظن ہوتاہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کا پڑوسی اس کی عزتوں کا محافظ ہے، اُدھر اللہ تعالی اور اس کے رسول نے پڑوسی کے بہت زیادہ حقوق بیان کیے ہیں، جو آدمی ان سب حد بندیوں کو پامال کر جاتا ہے تو آپ a اس کے جرم کو دس گنا سے بھی بڑھا کر بیان کرتے ہیں۔
6650
Sahih
۔ (۶۶۵۱)۔ عَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَعَدَ عَلٰی فِرَاشِ مُغِیْبَۃٍ قَیَّضَ اللّٰہُ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ثُعْبَانًا۔)) (مسند احمد: ۲۲۹۲۴)
۔ سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص اس عورت کے بستر پر بیٹھا، جس کا خاوند گھر سے غائب ہو، اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس پر ایک سانپ مقرر کرے گا۔
Takhreej
(۶۶۵۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ بن لھیعۃ۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۳۲۷۸، وفی ’’الاوسط‘‘: ۳۲۳۷ (انظر: ۲۲۵۵۷)
6651
Zaeef
۔ (۶۶۵۲)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَلِجُوْا عَلَی الْمُغِیْبَاتِ فَاِنَّ الشَّیْطَانَیَجْرِیْ مِنْ أَحَدِکُمْ مَجْرَی الدَّمِ۔)) قُلْنَا: وَمِنْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((وَمِنِّیْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ أَعَانَنِیْ عَلَیْہِ فَأَسْلَمَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۷۵)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے فرمایا: جن عورتوں کے خاوند موجود نہ ہوں، ان پر داخل نہ ہوا کرو، کیونکہ شیطان تمہارے اندر خون کی طرح گردش کرتا ہے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے شیطان کا تعلق آپ سے بھی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ بھی تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف میری مدد کی، پس وہ میرا مطیع ہو گیا۔
Takhreej
(۶۶۵۲) تخریج: ھذہ ثلاثۃ احادیث، وھی صحیحۃ، لکن جمعھا مجالد فی ھذا المتن الواحد، واسناد ھذا الحدیث ضعیف لضعف مجالد بن سعید۔ أخرجہ الترمذی: ۱۱۷۲(انظر: ۱۴۳۲۴)
Explanation
فوائد:… صحیح مسلم (۲۱۷۱) میں سیدنا جابر بن عبد اللہ b سے مروی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((أَلَاَ لَایَبِیِْتَنَّ رَجُلٌ عِنْدَ اِمْرَأَۃٍ ثَیِّبٍ، اِلَّا اَنْ یَّکُوْنَ نَاکِحًا اَوْ ذَا مَحْرَمٍ۔))… ’’خبردار کوئی آدمی کسی بیوہ عورت کے پاس رات نہ گزارے، الایہ کہ وہ اس کا خاوند ہو یا محرم رشتہ دار۔‘‘ کنواری اور غیر شادی شدہ عورتوں کی بہ نسبت شادی شدہ خواتین کے لیے برائی پر آمادہ ہو جانا قدرے آسان ہوتا ہے، ان میں غیرت کے تقاضوں کے معاملے نرمی آ جاتی ہے، جبکہ عیب کے چھپ جانے کا بھی امکان ہوتا ہے، بیوہ کا معاملہ بھی اسی قسم کا ہوتا ہے، اس لیے آپ a نے خاص طور پر ان خواتین کے ساتھ بیٹھنےیا ان کے ساتھ رات گزارنے سے منع کیا، وگرنہ کسی غیر محرم خاتون کے ساتھ خلوت میں بیٹھنا ہی منع ہے، رات گزارنا تو درکنار۔
6652
Zaeef