مسنداحمد

Musnad Ahmad

زنا کی حد کے ابواب

زنا سے نفرت دلانے کا اور زانی کی وعید کا بیان، بالخصوص جب وہ اپنے پڑوسی کی بیوی اور اس عورت سے زنا کرے، جس کا خاوند غائب ہو

۔ (۶۶۴۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَا یَزْنِی الزَّانِیْ حِیْنَیَزْنِی وَھُوَ مُؤْمِنٌ وَلَایَسْرِقُ حِیْنَیَسْرِقُ وَھُوَ مُؤْمِنٌ وَلَایَشْرَبُ الْخَمْرَ حِیْنَیَشْرَ بُہَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ وَالتَّوَبَۃُ مَعْرُوْضَۃٌبَعْدُ)) (مسند احمد: ۱۰۲۲۰)

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زانی جس وقت زنا کرتا ہے، وہ اس وقت مؤمن نہیں ہوتا، چورجب چوری کرتا ہے، وہ اس وقت مؤمن نہیں ہوتا اور شرابی جس وقت شراب پیتا ہے، وہ اس وقت مؤمن نہیں ہوتا اور (ان جرائم کے بعد بھی) توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔

۔ (۶۶۴۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ثَلَاثَۃٌ لَا یَنْظُرُ اللّٰہُ یَعْنِی إِلَیْہِمْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، اَلْإِمَامُ الْکَذَّابُ، وَالشَّیْخُ الزَّانِی، وَالْعَائِلُ الْمَزْھُوُّ۔)) (مسند احمد: ۹۵۹۲)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی رو زِ قیامت تین قسم کے افراد کی طرف نہیں دیکھے گا: جھوٹا امام، بوڑھا زانی اورمتکبر فقیر۔

۔ (۶۶۴۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَکْثَرِ مَا یَلِجُ النَّاسُ بِہِ النَّارَ، قَالَ: ((الْأَجْوَفَانِ، اَلْفَمُ وَالْفَرْجُ۔)) وَسُئِلَ عَنْ أَکْثَرِ مَا یَلِجُ بِہِ النَّاسُ الْجَنَّۃَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حُسْنُ الْخُلُقِ۔)) (مسند احمد: ۷۸۹۴)

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس چیز کے بارے میں پوچھا گیا کہ زیادہ تر جس کی وجہ سے لوگ جہنم میں داخل ہوں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پیٹ سے متعلقہ دو چیزیںیعنی منہ اور شرمگاہ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ زیادہ تر جس کی وجہ سے لوگ جنت میں جائیں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ حسن اخلاق ہے۔

۔ (۶۶۴۷)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ حَفِظَ مَا بَیْنَ فُقْمَیْہِ وَفَرْجَہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۸۸)

۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے دو جبڑوں کے درمیان والی چیز اور شرمگاہ کی حفاظت کی، وہ جنت میں داخل ہوگا۔

۔ (۶۶۴۸)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ قَالَ: اِنَّ فَتًی مِنَ الْأَنْصَارِ اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ائْذَنْ لِیْ بِالزِّنَا، فَأَقْبَلَ الَقَوْمُ عَلَیْہِ فَزَجَرُوْہُ وَقَالُوْا: مَہْ مَہْ، فَقَالَ: ((ادْنُہُ۔)) فَدَنَا مِنْہُ قَرِیْبًا قَالَ: فَجَلَسَ، قَالَ: ((أَتُحِبُّہُ لِأُمِّکَ۔)) قَالَ: لَا، وَاللّٰہِ! جَعَلَنِی اللّٰہُ فِدَاکَ، قَالَ: ((وَلَا النَّاسُ یُحِبُّوْنَہُ لِأُمَّہَاتِہِمْ۔)) قَالَ: ((أَفَتُحِبُّہُ لِاِبْنَتِکَ؟)) قَالَ: لَا، وَاللّٰہِ، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! جَعَلَنِی اللّٰہُ فِدَاکَ، قَالَ: ((وَلَا النَّاسُ یُحِبُّوْنَہُ لِبَنَاتِہِمْ۔)) قَالَ: ((أَفَتُحِبُّہُ لِأُخْتِکَ؟)) قَالَ: لَا، وَاللّٰہِ! جَعَلَنِی اللّٰہُ فِدَاکَ، قَالَ: ((وَلَا النَّاسُ یُحِبُّوْنَہُ لِأَخَوَاتِہِمْ۔)) قَالَ: ((أَفَتُحِبُّہُ لِعَمَّتِکَ؟)) قَالَ: لَا، وَاللّٰہِ! جَعَلَنِی اللّٰہُ فِدَاکَ، قَالَ: ((وَلَا النَّاسُ یُحِبُّوْنَہُ لِعَمَّاتِہِمْ۔)) قَالَ: ((أَفَتُحِبُّہُ لِخَالَتِکَ؟)) قَالَ: لَا، وَاللّٰہِ! جَعَلَنِیَ اللّٰہُ فِدَاکَ، قَالَ: ((وَلا النَّاسُ یُحِبُّوْنَہُ لِخَالَاتِہِمْ۔)) قَالَ: فَوَضَعَ یَدَہُ عَلَیْہِ، وَقَالَ: ((اللّٰہُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَہُ وَطَہِّرْ قَلْبَہُ وَحَصِّنْ فَرْجَہُ۔)) فَلَمْ یَکُنْ بَعْدَ ذَالِکَ الْفَتٰییَلْتَفِتُ إِلٰی شَیْئٍ۔ (مسند احمد: ۲۲۵۶۴)

۔ سیدنا ابو امامہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نوجوان، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے زنا کی اجازت دیں، لوگ اس پر پل پڑے اور کہا: خاموش ہو جا، خاموش ہو جا تو،لیکن آ پ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس نوجوان سے فرمایا: قریب ہو جا۔ پس وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہوکر بیٹھ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو اپنی ماں کیلئے اس چیز کو پسند کرتا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! ہرگز نہیں، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسی طرح لوگ بھی اپنی مائوں کیلئے اس برائی کو پسند نہیں کرتے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا کیا تو اپنی بیٹی کے لئے اس چیز کو پسند کرے گا؟ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کر دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ بھی اس برائی کو اپنی بیٹیوں کے لئے پسند نہیں کرتے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا کیا تو زنا کو اپنی بہن کے لئے پسند کرتا ہے؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے، میں اپنی بہن کے لیے اس کو کبھی بھی پسند نہیں کروں گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ بھی اپنی بہنوں کے لئے اس برائی کو پسند نہیں کرتے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو اس کو اپنی پھوپھی کے لئے پسند کرے گا؟ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم میں اس کو پسند نہیں کروں گا، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر لوگ بھی اپنی پھوپھیوں کے لئے پسند نہیں کرتے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتاؤ کہ کیا تو اس برائی کو اپنی خالہ کے لیے پسند کرے گا؟ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں اس کو پسند نہیں کروں گا، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کریں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر لوگ بھی اپنی خالائوں کے لئے اس برائی کو پسند نہیں کرتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا دست مبارک اس پر رکھا اور اس کے حق میںیہ دعا فرمائی: اے میرے اللہ! اس کے گناہ بخش دے، اس کے دل کو پاک کر دے اور اس کی شرمگاہ کو محفوظ کر دے۔ اس کے بعد وہ نوجوان کسی چیز کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتا تھا۔

۔ (۶۶۴۹)۔ ) عَنْ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا تَزَالُ أُمَّتِیْ بِخَیْرٍ مَالَمْ یَفْشُ فِیْہِمْ وَلَدُ الزِّنَا فَاِذَا فَشَا فِیْہِمْ وَلَدُ الزِّنَا فَیُوْشِکُ اَنْ یَعُمَّہُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِعِقَابٍ)) (مسند احمد: ۲۷۳۶۷)

۔ ام المؤمنین سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت اس وقت تک بھلائی پر رہے گی، جب تک ان میں زنا کی اولاد کی کثرت نہ ہوگی، جب ان میں ولد الزنا کی کثرت ہو جائے گی تو قریب ہو گا کہ اللہ تعالیٰ ان پر عام عذاب مسلط کر دے۔

۔ (۶۶۵۰)۔ عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْاَسْوَدِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَصْحَابِہِ: ((مَا تَقُوْلُوْنَ فِی الزِّنَا؟)) قَالُوْا: حَرَّمَہُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ فَہُوَ حَرَامٌ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، قال: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِاَصْحَابِہِ: ((لَأَنْ یَزْنِیَ الرَّجُلُ بِعَشْرِ نِسْوَۃٍ أَیْسَرُ عَلَیْہِ مِنْ أَنْ یَزْنِیَ بِاِمْرَأَۃِِ جَارِہِ۔)) قَالَ: ((فَمَا تَقُوْلُوْنَ فِی السَّرِقَۃِ؟)) قَالُوْا: حَرَّمَہَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ فَہِیَ حَرَامٌ، قَالَ: ((لَاَنْ یَسْرِقَ الرَّجُلُ مِنْ عَشْرَۃِ أَبْیَاتٍ أَیْسَرُ عَلَیْہِ مِنْ أَنْ یَسْرِقَ مِنْ جَارِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۵۵)

۔ سیدنا مقداد بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا : تم لوگ زنا کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول نے اس کو حرام قرار دیا ہے اور یہ قیامت کے دن تک حرام ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا دس عورتوں سے زنا کرنا، اس کا جرم ہمسائے کی بیوی سے زنا کرنے کے جرم سے کم ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا تم لوگ چوری کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے اس کو حرام قرار دیا ہے، پس یہ حرام ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا دس گھروں سے چوری کرنا، اس کا جرم پڑوسی کے گھر سے چوری کرنے کے جرم سے کم ہے۔

۔ (۶۶۵۱)۔ عَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَعَدَ عَلٰی فِرَاشِ مُغِیْبَۃٍ قَیَّضَ اللّٰہُ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ثُعْبَانًا۔)) (مسند احمد: ۲۲۹۲۴)

۔ سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص اس عورت کے بستر پر بیٹھا، جس کا خاوند گھر سے غائب ہو، اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس پر ایک سانپ مقرر کرے گا۔

۔ (۶۶۵۲)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَلِجُوْا عَلَی الْمُغِیْبَاتِ فَاِنَّ الشَّیْطَانَیَجْرِیْ مِنْ أَحَدِکُمْ مَجْرَی الدَّمِ۔)) قُلْنَا: وَمِنْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((وَمِنِّیْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ أَعَانَنِیْ عَلَیْہِ فَأَسْلَمَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۷۵)

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے فرمایا: جن عورتوں کے خاوند موجود نہ ہوں، ان پر داخل نہ ہوا کرو، کیونکہ شیطان تمہارے اندر خون کی طرح گردش کرتا ہے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے شیطان کا تعلق آپ سے بھی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ بھی تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف میری مدد کی، پس وہ میرا مطیع ہو گیا۔