مسنداحمد

Musnad Ahmad

زنا کی حد کے ابواب

زنا سے نفرت دلانے کا اور زانی کی وعید کا بیان، بالخصوص جب وہ اپنے پڑوسی کی بیوی اور اس عورت سے زنا کرے، جس کا خاوند غائب ہو


۔ (۶۶۵۰)۔ عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْاَسْوَدِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِأَصْحَابِہِ: ((مَا تَقُوْلُوْنَ فِی الزِّنَا؟)) قَالُوْا: حَرَّمَہُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ فَہُوَ حَرَامٌ إِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، قال: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِاَصْحَابِہِ: ((لَأَنْ یَزْنِیَ الرَّجُلُ بِعَشْرِ نِسْوَۃٍ أَیْسَرُ عَلَیْہِ مِنْ أَنْ یَزْنِیَ بِاِمْرَأَۃِِ جَارِہِ۔)) قَالَ: ((فَمَا تَقُوْلُوْنَ فِی السَّرِقَۃِ؟)) قَالُوْا: حَرَّمَہَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ فَہِیَ حَرَامٌ، قَالَ: ((لَاَنْ یَسْرِقَ الرَّجُلُ مِنْ عَشْرَۃِ أَبْیَاتٍ أَیْسَرُ عَلَیْہِ مِنْ أَنْ یَسْرِقَ مِنْ جَارِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۵۵)

۔ سیدنا مقداد بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا : تم لوگ زنا کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول نے اس کو حرام قرار دیا ہے اور یہ قیامت کے دن تک حرام ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا دس عورتوں سے زنا کرنا، اس کا جرم ہمسائے کی بیوی سے زنا کرنے کے جرم سے کم ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا تم لوگ چوری کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے اس کو حرام قرار دیا ہے، پس یہ حرام ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا دس گھروں سے چوری کرنا، اس کا جرم پڑوسی کے گھر سے چوری کرنے کے جرم سے کم ہے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۶۶۵۰) تخریج: اسنادہ جیّد۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۰/ ۶۰۵، وفی ’’الاوسط‘‘: ۶۳۲۹ (انظر: ۲۳۸۵۴)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… پڑوسی کو اپنے پڑوسی پر حسن ظن ہوتاہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کا پڑوسی اس کی عزتوں کا محافظ ہے، اُدھر اللہ تعالی اور اس کے رسول نے پڑوسی کے بہت زیادہ حقوق بیان کیے ہیں، جو آدمی ان سب حد بندیوں کو پامال کر جاتا ہے تو آپ a اس کے جرم کو دس گنا سے بھی بڑھا کر بیان کرتے ہیں۔