مسنداحمد

Musnad Ahmad

تہمت کی حد کے ابواب

تہمت لگانے سے نفرت دلانے اور اس کے کبیرہ گناہ ہونے کا بیان

۔ (۶۷۴۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِخَمْسٍ سَمِعْتُہُنَّ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَذَکَرَ مِنْہُنَّ: ((وَمَنْ قََفٰی مُؤْمِنًا أَوْ مُؤْمِنَۃً حَبَسَہُ اللّٰہُ فِیْ رَدْغَۃِ الْخَبَالِ، عُصَارَۃِ أَھْلِ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۵۵۴۴)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا:کیا میں تمہیں وہ پانچ باتیں بتا نہ دوں جو میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہیں؟ پھر انھوں نے ان کا ذکر کیا، ان میں ایک بات یہ تھی: جو کسی مؤمن مرد یا عورت پر زنا کی تہمت لگاتا ہے، اللہ تعالی اس کو رَدْغَۃ الخَبَال یعنی جہنمیوں کے پیپ میں ٹھہرائے گا۔

۔ (۶۷۴۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ نَبِیَّ التَّوْبَۃِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَیُّمَا رَجُلٍ قَذَفَ مَمْلُوْکَہُ وَھُوَ بِرِیْئٌ مِمَّا قَالَ، اَقَامَ عَلَیْہِ الْحَدَّیَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِلَّا أَنْ یَکُوْنَ کَمَا قَالَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۴۹۳)

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی توبہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اپنے غلام پر تہمت لگائی، جبکہ وہ اس تہمت سے بری ہو، تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس پر حد قائم کرے گا، الّا یہ کہ وہ اسی طرح ہو، جیسے اس کے آقا نے اس کے بارے میں کہاہو۔

۔ (۶۷۴۹)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ زَنّٰی اَمَۃً لَمْ یَرَھَا تَزْنِیْ، جَلَدَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بَسْوِطٍ مِنْ نَارٍ۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۰۳)

۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنی لونڈی کو زنا کارقرار دیا، جبکہ اس نے اس کو زنا کرتے ہوئے دیکھا نہ ہو تو اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کو آگ کے کوڑے سے حدّ لگائے گا۔