TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

تہمت کی حد کے ابواب - تہمت کی حد کے ابواب - Book 114 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 114 of Musnad Ahmad, with 2 chapters and 5 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

5 Hadith · 2 Chapters
تہمت لگانے سے نفرت دلانے اور اس کے کبیرہ گناہ ہونے کا بیان
۔ (۶۷۴۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِخَمْسٍ سَمِعْتُہُنَّ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَذَکَرَ مِنْہُنَّ: ((وَمَنْ قََفٰی مُؤْمِنًا أَوْ مُؤْمِنَۃً حَبَسَہُ اللّٰہُ فِیْ رَدْغَۃِ الْخَبَالِ، عُصَارَۃِ أَھْلِ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۵۵۴۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا:کیا میں تمہیں وہ پانچ باتیں بتا نہ دوں جو میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہیں؟ پھر انھوں نے ان کا ذکر کیا، ان میں ایک بات یہ تھی: جو کسی مؤمن مرد یا عورت پر زنا کی تہمت لگاتا ہے، اللہ تعالی اس کو رَدْغَۃ الخَبَال یعنی جہنمیوں کے پیپ میں ٹھہرائے گا۔
Takhreej
(۶۷۴۷) تخریج: حدیث حسن۔ أخرجہ الحاکم: ۴/۹۹ (انظر: ۵۵۴۴)
6747
Sahih
تہمت لگانے سے نفرت دلانے اور اس کے کبیرہ گناہ ہونے کا بیان
۔ (۶۷۴۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ نَبِیَّ التَّوْبَۃِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَیُّمَا رَجُلٍ قَذَفَ مَمْلُوْکَہُ وَھُوَ بِرِیْئٌ مِمَّا قَالَ، اَقَامَ عَلَیْہِ الْحَدَّیَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِلَّا أَنْ یَکُوْنَ کَمَا قَالَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۴۹۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی توبہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اپنے غلام پر تہمت لگائی، جبکہ وہ اس تہمت سے بری ہو، تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس پر حد قائم کرے گا، الّا یہ کہ وہ اسی طرح ہو، جیسے اس کے آقا نے اس کے بارے میں کہاہو۔
Takhreej
(۶۷۴۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۶۰(انظر: ۱۰۴۸۸)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالی کا دربار کامل عدل و انصاف پر مشتمل ہو گا۔
6748
Sahih
تہمت لگانے سے نفرت دلانے اور اس کے کبیرہ گناہ ہونے کا بیان
۔ (۶۷۴۹)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ زَنّٰی اَمَۃً لَمْ یَرَھَا تَزْنِیْ، جَلَدَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بَسْوِطٍ مِنْ نَارٍ۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۰۳)
۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنی لونڈی کو زنا کارقرار دیا، جبکہ اس نے اس کو زنا کرتے ہوئے دیکھا نہ ہو تو اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کو آگ کے کوڑے سے حدّ لگائے گا۔
Takhreej
(۶۷۴۹) تخریج: اسنادہ ضعیف، الحمصی وابوطالب مجھولان أخرجہ (انظر: )
Explanation
فوائد:… آزاد عورت ہو یا لونڈی، ہر ایک پر تہمت لگانا کبیرہ گناہ ہے، آنے والے باب میں مذکورہ احادیث سے اس گناہ کی شدت کا احساس ہو گا۔
6749
Zaeef
تہمت کی حد اسی کوڑے ہونے کا بیان
۔ (۶۷۵۰)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖقَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی وَلَدِ الْمُتَلَاعِنَیْنِ: ((أَنَّہُ یَرِثُ أُمَّہُ وَتَرِثُہُ أُمُّہُ، وَمَنْ قَفَاھَا بِہِ جُلِدَ ثَمَانِیْنَ، وَمَنْ دَعَاہُ وَلَدَ زِنًا جُلِدَ ثَمَانِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۷۰۲۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے لعان کرنے والوں کی اولاد کے بارے میں رسو ل اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا: یہ اولاد اپنی ماں کی اور اس کی ماں ان کی وارث بنے گی اور جس نے اس خاتون پر تہمت لگائی، اس کو اسی (۸۰) کوڑے لگائے جائیں گے اور جس نے ایسی اولاد کو زنا والی اولاد قرار دیا، اس کو بھی اسی (۸۰) کوڑے لگائے جائیں گے۔
Takhreej
(۶۷۵۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن اسحق مدلس، وقد عنعن (انظر: ۷۰۲۸)
Explanation
فوائد:… اس باب میں تہمت سے مراد عورت پر زنا کی تہمت لگانا ہے۔ لیکنیہ مسئلہ ایسے ہی ہے کہ میاں بیوی جس بچے پر لعان کریں گے، وہ ماں کی طرف منسوب ہو گا اور وہ ماں اور بیٹا ایک دوسرے کے وارث بنیں گے۔
6750
Zaeef
تہمت کی حد اسی کوڑے ہونے کا بیان
۔ (۶۷۵۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: لَمّا نَزَلَ عُذْرِیْ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ فَذَکَرَ ذَالِکَ وَتَلَا الْقُرْآنَ فَلَمَّا نَزَلَ أَمَرَ بِرَجُلَیْنِ وَامْرَأَۃٍ فَضُرِبُوْا حَدَّھُمْ۔ (مسند احمد: ۲۴۵۶۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: جب میرا عذر نازل ہوا تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف لے گئے، اس چیز کا ذکر کیا، پھر قرآن پاک کی متعلقہ آیات کی تلاوت کی، پھر جب منبر سے نیچے اترے تودو مردوں اور ایک عورت کو حد لگانے کا حکم دیا، پس ان پر حد لگا دی گئی۔
Takhreej
(۶۷۵۱) حدیث حسن، أخرجہ ابوداود: ۴۴۷۴، والترمذی: ۳۱۸۱، وابن ماجہ: ۲۵۶۷ (انظر: ۲۴۰۶۶)
Explanation
فوائد:… یہ ایک طویل قصہ ہے، اس کا بیان سورۂ نور کی بارہ تیرہ آیات میںموجود ہے، یہ واقعہ سیدہ عائشہc کی عزت و عظمت پر دلالت کرتا ہے، جن تین افراد کو تہمت کی سزا میں کوڑے لگے تھے، وہ مسلمان تھے، ان کے نام یہ ہیں: سیدنا مسطح، سیدنا حسان بن ثابت اور سیدہ حمنہ بنت جحش e، امام حاکم نے ’’الاکلیل‘‘ میں ایک روایت بیان کی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریمa نے جن لوگوں کو تہمت کی حد لگائی تھی، ان میں رئیس المنافقین عبد اللہ بن اُبی بھی تھا۔
6751
Sahih