۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے لعان کرنے والوں کی اولاد کے بارے میں رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا: یہ اولاد اپنی ماں کی اور اس کی ماں ان کی وارث بنے گی اور جس نے اس خاتون پر تہمت لگائی، اس کو اسی (۸۰) کوڑے لگائے جائیں گے اور جس نے ایسی اولاد کو زنا والی اولاد قرار دیا، اس کو بھی اسی (۸۰) کوڑے لگائے جائیں گے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: جب میرا عذر نازل ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے، اس چیز کا ذکر کیا، پھر قرآن پاک کی متعلقہ آیات کی تلاوت کی، پھر جب منبر سے نیچے اترے تودو مردوں اور ایک عورت کو حد لگانے کا حکم دیا، پس ان پر حد لگا دی گئی۔