مسنداحمد

Musnad Ahmad

چور کی حد کے ابواب

چور پر لعنت کرنے اور اس چیز کا بیان کہ کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے گا


۔ (۶۷۵۳)۔ عَنْ یَحْیَ بْنَ یَحْیَ الْغَسَّانِیِّ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِیْنَۃَ فَلَقِیْتُ أَبَا بَکْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَھُوَ عَامِلٌ عَلَی الْمَدِیْنَۃِ، قَالَ: أُتِیْتُ بِسَارِقٍ فاَرْسَلَتْ اِلَیَّ خَالَتِی عَمْرَۃُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنْ لَّا تَعْجَلْ فِی أَمْرِ ھٰذَا الرَّجُلِ حَتّٰی آتِیَکَ فَأُخْبِرَکَ مَاسَمِعْتُ مِنْ عَائِشَۃَ فِی أَمْرِ السَّارِقِ، قَالَ: فَأَتَتْنِی وَأَخْبَرَتْنِی أَنَّہَا سَمِعْتْ عَائِشَۃَ تَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اقْطَعُوْا فِی رُبُعِ الدِّیْنَارِ، وَلَا تَقْطَعُوْا فِیْمَا ھُوَ أَدْنٰی مِنْ ذٰلِکَ۔)) وَکَانَ رُبُعُ الدِّیْنَارِیَوْمَئِذٍ ثَلَاثَۃَ دَرَاھِمٍ فَالدِّیْنَارُ اِثْنَیْ عَشَرَ دِرْھَمًا، قَالَ: وَکَانَتْ سَرِقَتُہُ دُوْنَ رُبُعِ الدِّیْنَارِ فَلَمْ أَقْطَعْہُ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۲۰)

۔ یحییٰ بن یحییٰ غسانی کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا اور مدینہ کے عامل ابوبکر بن محمد کو ملا، انھوں نے کہا: میرے پاس ایک چور لایا گیا اورمیری خالہ عمرہ بنت عبد الرحمن نے میری طرف پیغام بھیجا کہ اس آدمی کے بارے میں جلدی فیصلہ نہ کرنا، مجھے آلینے دو تاکہ میں تجھے وہ حدیث بتا سکوں جو میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے چور کے بارے میں سنی ہے، پس وہ میرے پاس آئیں اور انہوں نے مجھے بتایا کہ انھوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے چور کے بارے میں سنا ، انھوں نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چور کا ہاتھ دینار کے چوتھے حصہ میں کاٹو، اس سے کم میں نہ کاٹو۔ ان دنوں میں دینار کا چوتھا حصہ تین درہم کے برابر ہوتا تھا، تو دینار بارہ درہم کا ہوا، اس چور کی چوری دینار کے چوتھے حصہ سے کم تھی ، لہذا میں نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۶۷۵۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۸۴(انظر: ۲۴۵۱۵)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد: … دینار کا وزن= 4ماشہ‘ 4رتی (ساڑھے چار ماشے) =4.374گرام دینار کا چوتھائی حصہ: 1ماشہ، 1رتی،یعنی: تقریباً 1.093گرام یاد رہے کہ دینار سونے کے درج بالا وزن کا نام ہے، بہتر ہے کہ 4ماشہ، 4 رتی سونے کے روپے بنا لیے جائیں، پھر جواب کو 4 پر تقسیم کر لیا جائے، چوتھائی دینار کی قیمت معلوم ہو جائے گی، پھر جو چیز چوری کی گئی ہو، اس کی قیمت کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا کہ چور کا ہاتھ کاٹا جائے یا نہیں۔ نبی کریمa کے زمانے میں چوتھائی دینار کی قیمت، تین درہم چاندی کی قیمت کے برابر ہوتی تھی، لیکن اس زمانے میں چوتھائی دینار کی قیمت تین درہم سے کافی زیادہ ہے، اور وہ اس طرح کہ اگر ایک تولے سونے کی قیمت (۰۰۰،۵۰) روپے ہو تو چوتھائی دینار کی قیمت پانچ ہزار روپے سے کچھ کم بنتی ہے، جبکہ تین درہم چاندی کی قیمت ایک ہزار روپے سے بھی کم بنتی ہے۔