TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

چور کی حد کے ابواب - چور کی حد کے ابواب - Book 115 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 115 of Musnad Ahmad, with 6 chapters and 18 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

18 Hadith · 6 Chapters
چور پر لعنت کرنے اور اس چیز کا بیان کہ کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے گا
۔ (۶۷۵۲)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَعَنَ الْلّٰہُ السَّارِقَ یَسْرِقُ الْبَیْضَۃَ فَتُقْطَعُ یَدُہُ، وَیَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ یَدُہُ۔)) (مسند احمد: ۷۴۳۰)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چور پر لعنت کرے، وہ خود چوری کرتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے، وہ رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۶۷۵۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۷۸۳، ۶۷۹۹، ومسلم: ۱۶۸۷(انظر: ۷۴۳۶)
Explanation
فوائد:… اگر ’’اَلْبَیْضَۃ‘‘ کا معنی انڈا ہو تو انڈے اور رسی کا ذکر کلام میں زور پیدا کرنے کے لیے کیا گیا ہے، مراد یہ ہے کہ آدمی معمولی چیز کے عوض اپنے ہاتھ سے بھی محروم ہو جاتا ہے اور عام معاشرے میں رسوائی کی علامت بھی بن جاتا ہے، الا من رحم ربی۔ چور اور چوری کی قباحت و شناعت بیان کی جا رہی ہے، کتنی مقدار کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا؟ اس کی وضاحت اگلی احادیث میں آ رہی ہے۔ اللہ تعالی کی رحمت سے دوری کو لعنت کہتے ہیں۔ غیر معین نافرمانوں پر لعنت کی جا سکتی ہے، کیونکہیہ جنس پر لعنت ہوتی ہے، نہ کہ خاص فرد پر، جیسے ارشادِ باری تعالی ہے: {الا لعنۃ اللہ علی الظالمین} … ’’خبردار! ظالموں پر اللہ تعالی کی لعنت ہو۔‘‘ اسی طرح ان لوگوں پر لعنت کرنا درست ہے، جن کے بارے میں انبیائے کرام کی تصدیق کی وجہ سے یہیقین ہو چکا ہے کہ وہ جہنمی ہیں، جیسے ابو جہل، ابو لہب، فرعون و غیرہ۔ جن احادیث میں لعنت کرنے سے منع کیا گیا ہے، ان سے مراد یہ ہے کہ کسی خاص فرد پر لعنت نہ کی جائے۔
6752
Sahih
چور پر لعنت کرنے اور اس چیز کا بیان کہ کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے گا
۔ (۶۷۵۳)۔ عَنْ یَحْیَ بْنَ یَحْیَ الْغَسَّانِیِّ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِیْنَۃَ فَلَقِیْتُ أَبَا بَکْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَھُوَ عَامِلٌ عَلَی الْمَدِیْنَۃِ، قَالَ: أُتِیْتُ بِسَارِقٍ فاَرْسَلَتْ اِلَیَّ خَالَتِی عَمْرَۃُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنْ لَّا تَعْجَلْ فِی أَمْرِ ھٰذَا الرَّجُلِ حَتّٰی آتِیَکَ فَأُخْبِرَکَ مَاسَمِعْتُ مِنْ عَائِشَۃَ فِی أَمْرِ السَّارِقِ، قَالَ: فَأَتَتْنِی وَأَخْبَرَتْنِی أَنَّہَا سَمِعْتْ عَائِشَۃَ تَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اقْطَعُوْا فِی رُبُعِ الدِّیْنَارِ، وَلَا تَقْطَعُوْا فِیْمَا ھُوَ أَدْنٰی مِنْ ذٰلِکَ۔)) وَکَانَ رُبُعُ الدِّیْنَارِیَوْمَئِذٍ ثَلَاثَۃَ دَرَاھِمٍ فَالدِّیْنَارُ اِثْنَیْ عَشَرَ دِرْھَمًا، قَالَ: وَکَانَتْ سَرِقَتُہُ دُوْنَ رُبُعِ الدِّیْنَارِ فَلَمْ أَقْطَعْہُ۔ (مسند احمد: ۲۵۰۲۰)
۔ یحییٰ بن یحییٰ غسانی کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا اور مدینہ کے عامل ابوبکر بن محمد کو ملا، انھوں نے کہا: میرے پاس ایک چور لایا گیا اورمیری خالہ عمرہ بنت عبد الرحمن نے میری طرف پیغام بھیجا کہ اس آدمی کے بارے میں جلدی فیصلہ نہ کرنا، مجھے آلینے دو تاکہ میں تجھے وہ حدیث بتا سکوں جو میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے چور کے بارے میں سنی ہے، پس وہ میرے پاس آئیں اور انہوں نے مجھے بتایا کہ انھوں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے چور کے بارے میں سنا ، انھوں نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چور کا ہاتھ دینار کے چوتھے حصہ میں کاٹو، اس سے کم میں نہ کاٹو۔ ان دنوں میں دینار کا چوتھا حصہ تین درہم کے برابر ہوتا تھا، تو دینار بارہ درہم کا ہوا، اس چور کی چوری دینار کے چوتھے حصہ سے کم تھی ، لہذا میں نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔
Takhreej
(۶۷۵۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۸۴(انظر: ۲۴۵۱۵)
Explanation
فوائد: … دینار کا وزن= 4ماشہ‘ 4رتی (ساڑھے چار ماشے) =4.374گرام دینار کا چوتھائی حصہ: 1ماشہ، 1رتی،یعنی: تقریباً 1.093گرام یاد رہے کہ دینار سونے کے درج بالا وزن کا نام ہے، بہتر ہے کہ 4ماشہ، 4 رتی سونے کے روپے بنا لیے جائیں، پھر جواب کو 4 پر تقسیم کر لیا جائے، چوتھائی دینار کی قیمت معلوم ہو جائے گی، پھر جو چیز چوری کی گئی ہو، اس کی قیمت کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا کہ چور کا ہاتھ کاٹا جائے یا نہیں۔ نبی کریمa کے زمانے میں چوتھائی دینار کی قیمت، تین درہم چاندی کی قیمت کے برابر ہوتی تھی، لیکن اس زمانے میں چوتھائی دینار کی قیمت تین درہم سے کافی زیادہ ہے، اور وہ اس طرح کہ اگر ایک تولے سونے کی قیمت (۰۰۰،۵۰) روپے ہو تو چوتھائی دینار کی قیمت پانچ ہزار روپے سے کچھ کم بنتی ہے، جبکہ تین درہم چاندی کی قیمت ایک ہزار روپے سے بھی کم بنتی ہے۔
6753
Sahih
چور پر لعنت کرنے اور اس چیز کا بیان کہ کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے گا
۔ (۶۷۵۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تُقْطَعُ یَدُ السَّارِقِ (وَفِیْ لَفْظٍ: لَاتُقْطَعُ یَدُ السَّارِقِ اِلَّا) فِیْ رُبُعِ دِیْنَارٍ فَصَاعِدًا۔)) (مسند احمد: ۲۵۸۱۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، مگر دینار کے چوتھائی حصے میںیااس سے زیادہ میں۔
Takhreej
(۶۷۵۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۸۴ (انظر: ۲۵۳۰۴)
6754
Sahih
چور پر لعنت کرنے اور اس چیز کا بیان کہ کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے گا
۔ (۶۷۵۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَطَعَ یَدَ رَجُلٍ سَرَقَ تُرْسًا مِنْ صُفَّۃِ النِّسَائِ ثَمَنُہُ ثَلَاثَۃُ دَرَاھِمَ۔ (مسند احمد: ۶۳۱۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹا تھا، اس نے عورتوں کے چبوترے سے ڈھال چوری کی تھی، اس کی قیمت تین درہم تھی۔
Takhreej
(۶۷۵۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۸۶(انظر: ۶۳۱۷)
Explanation
فوائد:… اور زمانۂ نبوی میں تین درہم ، چوتھائی دینار کے برابر ہوتے تھے، اصل معیار چوتھائی دینار ہے، جیسا کہ گزشتہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔
6755
Sahih
چور پر لعنت کرنے اور اس چیز کا بیان کہ کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے گا
۔ (۶۷۵۶)۔ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ اَبِیْہِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تُقْطَعُ الْیَدُ فِی ثَمَنِ الْمِجَنِّ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۵)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ڈھال کی قیمت کے برابر کی چوری میں ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔
Takhreej
(۶۷۵۶) تخریج: ضعیف، قالہ الالبانی، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۵۸۶ (انظر: ۱۴۵۵)
6756
Zaeef
چور پر لعنت کرنے اور اس چیز کا بیان کہ کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے گا
۔ (۶۷۵۷)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ: اَنَّقِیْمَۃَ الْمِجَنِّ کَانَ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَشَرَۃُ دَرَاھِمَ۔ (مسند احمد: ۶۶۸۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں ڈھال کی قیمت دس درہم تھی۔
Takhreej
(۶۷۵۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن اسحاق مدلس، وقد عنعن، أخرجہ ابوداود: ۴۳۸۷، والنسائی: ۸/ ۸۴ (انظر: ۶۶۸۷)
6757
Zaeef
چور پر لعنت کرنے اور اس چیز کا بیان کہ کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے گا
۔ (۶۷۵۸)۔ وَعَنْہُ اَیُضًا عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا قَطْعَ فِیْمَا دُوْنَ عَشَرَۃِ دَرَاھِمَ)) (مسند احمد: ۶۹۰۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دس درہم سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
Takhreej
(۶۷۵۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، الحجاج بن ارطاۃ کثیر الخطأ والتدلیس، أخرجہ الدارقطنی: ۳/ ۱۹۲(انظر: ۶۹۰۰)
Explanation
فوائد:… امام ابو حنیفہk نے اسی حدیث کی روشنی میں دس درہم ہاتھ کاٹنے کی حد مقرر کی ہے، لیکنیہ روایت ضعیف ہے۔
6758
Zaeef
چوری میں محفوظ جگہ کا اعتبار کرنے کا بیان اور لوٹنے والے، ڈاکہ ڈالنے والے، خیانت کرنے والے اور عاریہ کا انکار کرنے والے کا بیان اور ان چیزوں کی وضاحت جن میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
۔ (۶۷۵۹)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی الْحَرِیْسَۃِ الَّتِیْ تُوْجَدُ فِی مَرَاتِعِہَا وَقَدْ سُئِلَ عَنْہَا، قَالَ: ((فِیْہَا ثَمَنُہَا مَرَّتَیْنِ وَضَرْبُ نَکَالٍ وَمَا أُخِذَ مِنْ عَطَنِہِ فَفِیْہِ الْقَطْعُ اِذَا بَلَغَ مَایُؤْخَذُ مِنْ ذَالِکَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ۔)) قَالَ: (أَیْ السَّائِلُ) یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَالثِّمَارُ وَمَا أُخِذَ مِنْہَا فِیْ أَکْمَامِہَا؟ قَالَ: ((مَنْ أَخَذَ بِفِیْہِ وَلَمْ یَتَّخِذْ خُبْنَۃً فَلَیْسَ عَلَیْہِ شَیْئٌ، وَمَنِ احْتَمَلَ فَعَلَیْہِ ثَمَنُہُ مَرَّتَیْنِ وَضَرْبًا وَنَکَالًا، وَمَا أُخِذَ مِنْ أَجْرَانِہِ فَفِیْہِ الْقَطْعُ اِذَا بَلَغَ مَا یُؤْخَذُ مِنْ ذَالِکَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ۔))(مسند احمد: ۶۶۸۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس محفوظ جانور کے بارے میں جو کہ اپنی چراگاہ میں تھا سوال کیا گیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی چوری میں دگنی قیمت ہوگی اور چور کو سزا بھی دی جائے گی اور جو جانوروں کے باڑے سے چرا لیا جائے گا، اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا، بشرطیکہ وہ ڈھال کی قیمت کے برابر ہو۔ سائل نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان پھلوں کے متعلق کیا حکم ہے جو گابھے اور شگوفے سے چرا لیے جائیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے صرف کھا لیا اور کپڑے میں ڈال کر نہ لے گیا،اس پر کوئی پکڑ نہیں اور جو کپڑے میں اٹھا کر لے جائے گا تو اسے اس کی دو گناقیمت دینا پڑے گی اور مار اور سزا بھی ساتھ ہوگی اور جو کھجور کھلیان جیسے محفوظ مقام سے چرائی جائے گی، اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا، بشرطیکہ وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے۔
Takhreej
(۶۷۵۹) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابوداود: ۱۷۱۰، والنسائی: ۸/ ۸۵ (انظر: ۶۶۸۳)
Explanation
فوائد:… جانوروں کے باڑے اور کھجور وغیرہ کے کھلیان محفوظ مقام ہیں، اس لیے وہاں سے اٹھائی ہوئی چیز کو چوری کہا جائے گا۔ چراگاہ حفاظت والا مقام نہیں ہے، اس لیے اس مقام سے چوری کرنے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ پچھلے باب کے شروع میں چوری کی تعریف ملاحظہ کر لیں۔ باغ سے گزرنے والا اپنی ضرورت کے مطابق باغ کا پھل کھا سکتا ہے ۔ یہ مسلمان کے مال کی حرمت ہے کہ دوگنا جرمانہ بھی ڈالا جا رہا ہے اور سزا بھی دی جا رہی ہے۔
6759
Sahih
چوری میں محفوظ جگہ کا اعتبار کرنے کا بیان اور لوٹنے والے، ڈاکہ ڈالنے والے، خیانت کرنے والے اور عاریہ کا انکار کرنے والے کا بیان اور ان چیزوں کی وضاحت جن میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
۔ (۶۷۶۰)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ عَلَی الْمُنْتَہِبِ قَطْعٌ، وَمَنِ انْتَہَبَ نُہْبَۃً مَشْہُوْرَۃً فَلَیْسَ مِنَّا۔)) وَقَالَ: ((لَیْسَ عَلَی الْخَائنِ قَطْعٌ۔)) (مسند احمد: ۱۵۱۳۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ڈاکو پر ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں ہے اور جس نے واضح طور پر ڈاکہ مارا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خیانت کرنے والے پر بھی ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں۔
Takhreej
(۶۷۶۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابوداود: ۴۳۹۱، ۴۳۹۲، وابن ماجہ: ۲۵۹۱، والترمذی: ۱۴۴۸، والنسائی: ۸/ ۸۸(انظر: ۱۵۰۷۰)
Explanation
فوائد:… اصحاب السنن کی روایات میں ((وَلَا الْمُخْتَلِس)) کا اضافہ بھی ہے، اس کے معنی ہیں: غفلت سے فائدہ اٹھا کر چیز کو اچک لینے والا، یعنی ایسے شخص کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ خائن سے مرادوہ شخص ہے کہ جس کے پاس لوگ امانتیں رکھتے ہیں، لیکن وہ ان کو استعمال کر کے ضائع کر دیتا ہے۔
6760
Sahih
چوری میں محفوظ جگہ کا اعتبار کرنے کا بیان اور لوٹنے والے، ڈاکہ ڈالنے والے، خیانت کرنے والے اور عاریہ کا انکار کرنے والے کا بیان اور ان چیزوں کی وضاحت جن میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
۔ (۶۷۶۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: کَانَتْ مَخْزُوْمِیَّۃٌ تَسْتَعِیْرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُہُ فَاَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَطْعِہَا۔(مسند احمد: ۶۳۸۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ مخزوم قبیلے کی ایک عورت سامان ادھار لیتی تھی اور پھر انکار کر دیتی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔
Takhreej
(۶۷۶۱) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ النسائی: ۸/۷۱ (انظر: ۶۳۸۳)
Explanation
فوائد:… بظاہر اس حدیث ِ مبارکہ سے اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ عاریۃً لی ہوئی چیز کا انکار کر دینے کی وجہ سے اس عورت کا ہاتھ کاٹا گیا، لیکن جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ ایسے انکار کی وجہ سے تو ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا ، جبکہ بعض احادیث ِ صحیحہ میں اس امر کی وضاحت بھی کر دی گئی ہے کہ اس عورت نے چوری کی تھی، اس لیے آپ a نے اس چوری کی وجہ سے ہاتھ کاٹا تھا، اس حدیث کو اختصار پر محمول کیا جائے گا۔
6761
Sahih
چوری میں محفوظ جگہ کا اعتبار کرنے کا بیان اور لوٹنے والے، ڈاکہ ڈالنے والے، خیانت کرنے والے اور عاریہ کا انکار کرنے والے کا بیان اور ان چیزوں کی وضاحت جن میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
۔ (۶۷۶۲)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ قَالَ: سَرَقَ غُلَامٌ لِنُعْمَانَ الْأَنْصَارِیِّ نَخْلًا صِغَارًا فَرُفِعَ اِلٰی مَرْوَانَ فَأَرَادَ أَنْ یَقْطَعَہُ، فَقَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِیْجٍ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یُقْطَعُ فِی الثَّمَرِ وَلَا فِی الْکَثَرِ۔)) قَالَ: قُلْتُ لِیَحْیٰ: مَا الْکَثَرُ؟ قَالَ: الْجُمَّارُ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۰۷)
۔ محمد بن یحییٰ بن حبان بیان کرتے ہیں کہ سیدنا نعمان انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ایک غلام نے چھوٹی چھوٹی کھجوریں چوری کر لیں،جب ااس کا معاملہ مروان کی عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے اس چور کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کیا، لیکن سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھل اور کھجور کے درخت کے گوند کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ میں نے یحییٰ سے کہا: کَثَر سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: جُمَّار (کھجور کے درخت کا گوند)۔
Takhreej
(۶۷۶۲) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ النسائی فی ’’الکبری‘‘: ۷۴۵۲ (انظر: ۱۵۸۱۴)
Explanation
فوائد:… اس کی وجہ یہ ہے کہ باغ حفاظت کی جگہ نہیں ہے، اس باب کی پہلی حدیث میں باغ کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔
6762
Sahih
چور کے اقرار پر ہاتھ کاٹنے، حد کے بارے میں تلقین کرنے اور کاٹنے کے بعد ہاتھ کو داغنے کا بیان، نیز اس چیز کا بیان کہ کیا ایک مرتبہ چوری کا اعتراف کافی ہے
۔ (۶۷۶۳)۔ عَنْ اَبِی اُمَیَّۃَ الْمَخْزُوْمِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِلِصٍّ فَاعْتَرَفَ وَلَمْ یُوْجَدْ مَعَہ مَتَاعٌ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا إِخَالُکَ سَرَقْتَ۔)) قَالَ: بَلْ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اقْطَعُوْہُ ثُمَّ جِیْئُوْا بِہِ۔)) قَالَ: فَقَطَعُوْہُ ثُمَّ جَائُ وْا بِہِ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((قُلْ أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوْبُ إِلَیْہِ۔)) قَالَ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ تُبْ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۷۵)
۔ سیدنا ابو امیہ مخزومی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا، اس نے چوری کا اعتراف تو کیا، لیکن اس کے پاس سامان نہیں تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: میرا خیال ہے تو نے چوری نہیں کی۔ اس نے کہا: کیوں نہیں، میں نے چوری کی ہے،دو یا تین مرتبہ ایسے ہی کہا گیا، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا ہاتھ کاٹ دو اور پھر اس کو میرے پاس لے آؤ۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تو کہہ: أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوْبُ إِلَیْہِ (میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتاہوں)۔ اس نے کہا: أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوْبُ إِلَیْہِ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو اس کی توبہ قبول فرما۔
Takhreej
(۶۷۶۳) صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۴۳۸۰، وابن ماجہ: ۲۵۹۷، والنسائی: ۸/ ۶۷ (انظر: ۲۲۵۰۸)
Explanation
فوائد:… چوری میں ایک سے زائد اعتراف کروانا ضروری ہے یا نہیں، ہم حدیث نمبر (۶۶۹۲)کی شرح میں اس مسئلہ کی وضاحت کر چکے ہیں۔ بیہقی اور دارقطنی کی روایتیوں ہے: ((اِقْطَعُوْا ثُمَّ احْسِمُوْہُ۔)) … ’’اس کا ہاتھ کاٹ دو اور پھر اس کو داغ دو۔‘‘ لیکنیہ روایت ضعیفہے، (دیکھیں: ارواء الغلیل: ۸/ ۱۲۰) داغنے کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ خون رک جائے۔ اگرچہ حدود کفارہ ہیں، لیکن اس موقع پر توبہ و استغفار کا حکم دینے کی وجہ یہ ہے کہ مجرم کے اندر یہ تصور مضبوط ہو جانا چاہئے کہ اس کے ساتھ جو کچھ کیا گیا ہے، وہ اس کے اپنے جرم کے بدلے میں ہے، لہذا وہ استغفار اور ندامت کا اظہار کرے، نیز اس عمل سے اس کے اندر حوصلہ بھی پیدا ہو گا اور ذلت اور پریشانی کے اثرات کم ہو جائیں گے۔
6763
Sahih
جب غلام، آقا کی چوری کرے تو کیا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، نیز بھاگے ہوئے غلام کا حکم کیا ہے، جب وہ چوری کرے
۔ (۶۷۶۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا سَرَقَ الْعَبْدُ فَبِعْہُ وَلَوْ بِنَشٍّ)) یَعْنِی بِنِصْفِ أُوْ قِیَّۃٍ۔ (مسند احمد: ۸۴۳۲)
۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب غلام چوری کرے تو اسے فروخت کر دو، اگرچہ نصف اوقیہ کے عوض بیچنا پڑے۔
Takhreej
(۶۷۶۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، عمر بن ابی سلمۃ ضعیف فیمایتفرد بہ، أخرجہ ابوداود: ۴۴۱۲، والنسائی: ۸/ ۹۱، وابن ماجہ: ۲۵۸۹ (انظر: ۸۴۵۱)
Explanation
فوائد:… ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔
6764
Zaeef
جب غلام، آقا کی چوری کرے تو کیا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، نیز بھاگے ہوئے غلام کا حکم کیا ہے، جب وہ چوری کرے
۔ (۶۷۶۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ (وقَالَ مَرَّۃً: إِذَا سَرَقَ) فَبِعْہُ وَلَوْ بِنَشٍّ۔)) وَالنَّشُّ: نِصْفُ الْأُوْقِیَّۃِ۔ (مسند احمد: ۹۰۱۸)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب غلام بھاگ جائے، راوی نے ایک بار یہ الفاظ کہے: جب غلام چوری کرے تو اسے فروخت کر دے، اگرچہ بیس درہم کے عوض فروخت کرنا پڑے۔
Takhreej
(۶۷۶۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… یہ حدیث تو ضعیف ہے، البتہ درج ذیل حدیث ملاحظہ کریں: سیدنا علیb سے روایت ہے کہ نبی کریمa کی ایک لونڈی نے زنا کیا اور آپ a نے مجھے حکم دیا کہ میں اس پر حد قائم کروں، لیکن جب میں اس کے پاس آیا تو اس کو اس حال میں پایا کہ ابھی اس کا نفاس کا خون خشک نہیں ہوا تھا، میں نبی کریمaکے پاس واپس آ گیااور آپ a کو صورتحال پر مطلع کیا۔ آپ a نے فرمایا: ((إِذَا جَفَّتْ مِنْ دَمِہَا فَأَقِمْ عَلَیْہَا الْحَدَّ، أَقِیْمُوْا الْحُدُوْدَ عَلٰی مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ۔…)) ’’جب اس کا خون خشک ہو جائے تو پھر اس کو حد لگانا،اپنے غلاموں پر بھی حدیں قائم کیا کرو۔‘‘ دیکھیں: حدیث نمبر (۶۷۲۱) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غلاموں اور لونڈیوں پر حدود نافذ کی جائیں گی، جب تک ان کو مستثنی کرنے والی کوئی واضح نص نہ آ جائے۔ امام مالک، امام شافعی اور عام اہل علم کییہی رائے ہے کہ چوری کی حدّ غلام اور لونڈی پر نافذ کی جائے گی۔
6765
Zaeef
ان امور کا بیان کہ چوری میں پہلے کون سا ہاتھ کاٹا جائے، کاٹنے کا جگہ، ہاتھ کاٹ کر چور کی گردن میں لٹکانا، بار بار چوری کرنے والے کی سزا اور اس آیت کے بارے میںمفسرین کے اقوال: ’’اور چوری کرنے والا مرد اور عورت،پس ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو‘‘
۔ (۶۷۶۶)۔ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِیٍّ الْمُقَدَّمِیُّ قَالَ: سَمِعْتُ حَجَّاجًا یَذْکُرُ عَنْ مَکْحُوْلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مُحَیْرِیْزٍ قَالَ: قُلْتُ لِفَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ: اَرَاَیْتَ تَعْلِیْقَیَدِ السَّارِقِ فِی الْعُنُقِ، أَمِنَ السُّنَّۃِ؟ قَالَ: نَعَمْ، رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِسَارِقٍ فَأَمَرَ بِہِ فَقُطِعَتْ یَدُہُ ثُمَّ أَمَرَ بِہَا فَعُلِّقَتْ فِی عُنُقِہِ، قَالَ حَجَّاجٌ: وَکَانَ فَضَالَۃُ مِمَّنْ بَایَعَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ، قَالَ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰن عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اَحْمَدَ: قُلْتُ لِیَحْیَی بْنِ مَعِیْنٍ: سَمِعْتَ مِنْ عُمَرَ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقَدَّمِیِّ شَیْئًا؟ قال: أَیُّ شَیْئٍ کَانَ عِنْدَہُ؟ قُلْتُ: حَدِیْثُ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ فِی تَعْلِیْقِ الْیَدِ، فَقَالَ: لا، حَدَّثَنَا عَفَّانُ عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۴۴)
۔ عبد الرحمن بن محیریز سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا چور کا ہاتھ کاٹنے کے بعد اس کی گردن میں لٹکانا سنت ہے، اس بارے میں تیرا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، کیونکہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، پس اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا اور وہ ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا۔ حجاج کہتے ہیں: سیدنا فضالہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان لوگوں میں سے ہیں، جنہوں نے حدیبیہ کے مقام پر درخت کے نیچے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی تھی۔ ابو عبد الرحمن عبد اللہ بن احمد کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن معین سے کہا: کیا آپ نے عمر بن علی مقدمی سے کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے کہا: ان کے پاس کیا تھا جو میں سنتا؟ میں نے کہا: سیدنا فضالہ بن عبید والی وہ حدیث، جس میں چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانے کا ذکر ہے، انہوں نے کہا: نہیں، البتہ عفان نے ہمیں ان سے بیان کیا ہے۔
Takhreej
(۶۷۶۶) تخریج: اسنادہ ضعیف، حجاج بن ارطاۃ لیس بذاک القوی، وھو مدلس وقد عنعنہ، أخرجہ ابوداود: ۴۴۱۱، والترمذی: ۱۴۴۷، والنسائی: ۸/ ۹۲، وابن ماجہ: ۲۵۸۷ (انظر: ۲۳۹۴۶)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث ضعیف ہے اور کوئی ایسی صحیح حدیث نہیں ہے، جو اس بات پر دلالت کرے کہ چور کا کٹا ہوا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دیا جائے۔ واللہ اعلم بالصواب سیدنا حارث بن حاطبb سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنَّ رَسُولَ اللّٰہِV أُتِیَ بِلِصٍّ فَقَالَ: ((اقْتُلُوہُ)) فَقَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّمَا سَرَقَ، فَقَالَ: ((اُقْتُلُوہُ)) قَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّمَا سَرَقَ، قَالَ: ((اِقْطَعُوا یَدَہُ)) قَالَ ثُمَّ سَرَقَ فَقُطِعَتْ رِجْلُہُ ثُمَّ سَرَقَ عَلَی عَہْدِ أَبِی بَکْرٍB حَتّٰی قُطِعَتْ قَوَائِمُہُ کُلُّہَا ثُمَّ سَرَقَ أَیْضًا الْخَامِسَۃَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍB: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِV أَعْلَمَ بِہٰذَا حِینَ قَالَ ((اُقْتُلُوہُ)) ثُمَّ دَفَعَہُ إِلَی فِتْیَۃٍ مِنْ قُرَیْشٍ لِیَقْتُلُوہُ مِنْہُمْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِ وَکَانَ یُحِبُّ الْإِمَارَۃَ فَقَالَ أَمِّرُونِی عَلَیْکُمْ فَأَمَّرُوہُ عَلَیْہِمْ، فَکَانَ إِذَا ضَرَبَ ضَرَبُوہُ حَتّٰی قَتَلُوہُ۔ رسول اللہa کے پاس ایک چور لایا گیا، آپa نے فرمایا: ’’اس کو قتل کردو۔‘‘ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے تو چوری کی ہے، آپa نے پھر فرمایا: ’’اس کو قتل کر دو۔‘‘ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے، آپ a نے فرمایا: ’’تو پھر اس کا ہاتھ کاٹ دو۔‘‘ اس نے پھر چوری کی تو اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا، پھر اس نے سیدنا ابوبکر b کے زمانے میں چوریاں کیں،یہاں تک کہ اس کے تمام ہاتھ پاؤں کو کاٹ دیا گیا، پھر جب اس نے پانچویں بار چوری کی تو سیدنا ابو بکر b نے کہا: جب رسول اللہ a نے اس کو قتل کرنے کی بات کی تھی تو آپ a اس کو زیادہ جاننے والے تھے، پھر سیدنا ابو بکر b نے اس چور کو قریشی نوجوانوں کے سپرد کیا، تاکہ وہ اس کو قتل کر دیں، ان میں سیدنا عبد اللہ بن زبیرb بھی تھے، جو کہ امارت کو پسند کرتے تھے، اس لیے انھوں نے ان نوجوانوں سے کہا: تم اس معاملے میں مجھے اپنا امیر بناؤ، پس انھوں نے اس کو امیر بنایا، پس جب وہ ضرب لگاتا تو تب دوسرے نوجوان ضرب لگاتے، یہاں تک کہ انھوں نے اس کو قتل کر دیا۔ (نسائی:۴۹۸۰) آپa کے فرمان ’’اس کو قتل کر دو‘‘ سے آپ کا مقصود یہ نہ تھا کہ اس کو واقعی قتل کر دیا جائے، بلکہ یہ آپa کی پیش گوئی تھی کہ اس کا انجام کار قتل ہو گا، جو اس کے حق میں پوری ہوئی،یہ بھی ممکن ہے کہ آپ a کو بذریعۂ وحی بتا دیا گیا ہو کہ یہ شخص باز نہیں آئے گا اور بالآخر اسے قتل کرنا پڑے گا۔صحابۂ کرام e نے آپ a کے حکم کی تعمیل میں تردد اس لیے کیا کہ آپ a نے خود چور کی سزا ہاتھ کاٹنا بتائی تھی،یہ بھی ممکن ہے کہ وہ آپ a کے اندازِ گفتگو سے یہ اندازہ لگا رہے ہوں کہ آپa کا مقصود قتل نہیں ہے۔ پہلی چوری پر چور کا دایاں ہاتھ کاٹا جائے گا، اس کے بعد جمہور اہل علم کے نزدیک دوسری چوری پر بایاں پاؤں، تیسری چوری پر بایاں ہاتھ اور چوتھی چوری پر دایاں پاؤں کاٹ دیا جائے گا، اگروہ پانچویں بار چوری کرے تو اس کے بارے میں دو آراء ہیں، ایک کہ اس کو قتل کر دیا جائے گا، جیسا کہ سیدنا ابوبکر b نے کیا اور دوسری کہ اس کو جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ واللہ اعلم بالصواب! چور کا ہاتھ اس کی کلائی سے کاٹا جائے گا۔
6766
Zaeef
ہاتھ کاٹنے وغیرہ کی حد کا بیان، نیز کیا دار الحرب میں پوری سزا دی جائے گییا نہیں
۔ (۶۷۶۷)۔ عَنْ جُنَادَۃَ بْنِ اَبِی اُمَیَّۃَ أَنَّہ قَالَ عَلَی الْمِنْبَرِ بِرُوْدَسَ حِیْنَ جَلَدَ الرَّجُلَیْنِ اللَّذَیْنِ سَرَقَا غَنَائِمَ النَّاسِ فَقَالَ: إِنَّہُ لَمْ یَمْنَعْنِی مِنْ قَطْعِہِمَا اِلَّا أَنِّی سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ أَرْطَاۃَ وَجَدَ رَجَلًا سَرَقَ فِی الْغَزْوِ یُقَالُ لَہُ مَصْدَرٌ فَجَلَدَہُ وَلَمْ یَقْطَعْیَدَہُ وَقَالَ: نَہَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْقَطْعِ فِی الْغَزْوِ۔(مسند احمد: ۱۷۷۷۶)
۔ جنادہ بن ابی امیہ نے روڈس جزیرہ میں ان دو آدمیوں پر حد لگائی، جنہوں نے مال غنیمت سے چوری کی تھی اور پھر منبر پر چڑھ کر کہا:میں نے ان کے ہاتھ اس لئے نہیں کاٹے، کیونکہ میں نے سیدنا بسر بن ارطاۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا، انھوں نے مصدر نامی ایک آدمی کو اس حال میں پایا کہ اس نے غزوہ کے دوران چوری کی تھی، تو انہوں نے اسے کوڑے مارے ، ہاتھ نہیں کاٹا،نیز انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں غزوہ کے دوران ہاتھ کاٹنے سے منع کیاہے۔
Takhreej
(۶۷۶۷) صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ الترمذی: ۱۴۵۰، ورواہ ابوداود مختصرا: ۴۴۰۸ (انظر:۱۷۶۲۶)
6767
Sahih
ہاتھ کاٹنے وغیرہ کی حد کا بیان، نیز کیا دار الحرب میں پوری سزا دی جائے گییا نہیں
۔ (۶۷۶۸)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ بُسْرِ بْنِ اَرْطَاۃَ فَأُتِیَ بِمَصْدَرٍ قَدْ سَرَقَ بُخْتِیَّۃً، فَقَالَ: لَوْلَا أَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہَانَا عَنِ الْقَطْعِ فِی الْغَزْوِ لَقَطَعْتُکَ فَجَلَدَ ثُمَّ خَلّٰی سَبِیْلَہُ۔ (مسند احمد: ۱۷۷۷۷)
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: میں سیدنا بسر بن ارطاۃ کے پاس تھا، مصدرکو ان کے پاس لایا گیا، اس نے ایک بختی اونٹ کی چوری کی تھی، سیدنا بسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غزوے میں ہاتھ کاٹنے سے منع کرتے ہوئے نہ سنا ہوتا تو میں نے تیرا ہاتھ کاٹ دینا تھا۔
Takhreej
(۶۷۶۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… سنن نسائی (۴۹۸۲) کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ a نے فرمایا: ((لَا تُقْطَعُ الْاَیْدِیْ فِیْ السَّفَرِ۔)) … ’’سفر میں چور کے ہاتھ نہ کاٹے جائیں۔‘‘ لیکن سفر سے مراد جنگ کا سفر ہے، جیسا کہ اس باب کی حدیث سے معلوم ہو رہا ہے، جنگ کے سفر میں بڑا مقصود دشمن کی شکست ہے، اس لیے اسی پر توجہ دی جائے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایسے موقع پر ہاتھ نہ کاٹنے کی وجہ یہ ہو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ شخص مشتعل ہو کر دشمنوں کے علاقے میں بھاگ جائے اور ان کے ساتھ مل کر مرتدّ ہو جائے۔ لیکن اس حکم کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حد بالکل ساقط کر دی جائے، بلکہ جب سفر سے واپسی ہو گی تو حد لگائی جائے گی، کیونکہ شریعت کی مقررہ حدود ساقط نہیں ہو سکتیں۔
6768
Sahih
ہاتھ کاٹنے وغیرہ کی حد کا بیان، نیز کیا دار الحرب میں پوری سزا دی جائے گییا نہیں
۔ (۶۷۶۹)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((جَاھِدُوْا النَّاسَ فِی اللّٰہِ تَبَارَکَ وَ تَعَالَی الْقَرِیْبَ وَالْبَعِیْدَ وَلَا تُبْالُوْا فِی اللّٰـہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ، وَ أَقِیْمُوْا حُدُوْدَ اللّٰہِ فِی الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ))(مسند احمد: ۲۳۰۷۵)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی خاطرقریب اور دور والوں سے جہاد کرو اور اللہ تعالیٰ کے لیے کسی ملامت کرنیوالے کی ملامت کی پرواہ نہ کرو اور حضر وسفر میں اللہ تعالیٰ کی حدیں قائم کرو۔
Takhreej
(۶۷۶۹) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۸۵۰(انظر: ۲۲۶۹۹)
Explanation
فوائد:… مسافر اللہ تعالی کی حدود سے مستثنی نہیں ہے، البتہ اس باب کی پہلی حدیث سے معلوم ہوا کہ سفرِ جنگ میں حد کے نفاذ میں تاخیر کی رخصت دی جائے گی۔
6769
Sahih

Chapters

6
01
چور پر لعنت کرنے اور اس چیز کا بیان کہ کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے گا
7 Hadith
02
چوری میں محفوظ جگہ کا اعتبار کرنے کا بیان اور لوٹنے والے، ڈاکہ ڈالنے والے، خیانت کرنے والے اور عاریہ کا انکار کرنے والے کا بیان اور ان چیزوں کی وضاحت جن میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
4 Hadith
03
چور کے اقرار پر ہاتھ کاٹنے، حد کے بارے میں تلقین کرنے اور کاٹنے کے بعد ہاتھ کو داغنے کا بیان، نیز اس چیز کا بیان کہ کیا ایک مرتبہ چوری کا اعتراف کافی ہے
1 Hadith
04
جب غلام، آقا کی چوری کرے تو کیا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، نیز بھاگے ہوئے غلام کا حکم کیا ہے، جب وہ چوری کرے
2 Hadith
05
ان امور کا بیان کہ چوری میں پہلے کون سا ہاتھ کاٹا جائے، کاٹنے کا جگہ، ہاتھ کاٹ کر چور کی گردن میں لٹکانا، بار بار چوری کرنے والے کی سزا اور اس آیت کے بارے میںمفسرین کے اقوال: ’’اور چوری کرنے والا مرد اور عورت،پس ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو‘‘
1 Hadith
06
ہاتھ کاٹنے وغیرہ کی حد کا بیان، نیز کیا دار الحرب میں پوری سزا دی جائے گییا نہیں
3 Hadith
No chapter matched that.