TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

چوری میں محفوظ جگہ کا اعتبار کرنے کا بیان اور لوٹنے والے، ڈاکہ ڈالنے والے، خیانت کرنے والے اور عاریہ کا انکار کرنے والے کا بیان اور ان چیزوں کی وضاحت جن میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا - چوری میں محفوظ جگہ کا اعتبار کرنے کا بیان اور لوٹنے والے، ڈاکہ ڈالنے والے، خیانت کرنے والے اور عاریہ کا انکار کرنے والے کا بیان اور ان چیزوں کی وضاحت جن میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا - چور کی حد کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of چور کی حد کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 6 · 4 Hadith
۔ (۶۷۵۹)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی الْحَرِیْسَۃِ الَّتِیْ تُوْجَدُ فِی مَرَاتِعِہَا وَقَدْ سُئِلَ عَنْہَا، قَالَ: ((فِیْہَا ثَمَنُہَا مَرَّتَیْنِ وَضَرْبُ نَکَالٍ وَمَا أُخِذَ مِنْ عَطَنِہِ فَفِیْہِ الْقَطْعُ اِذَا بَلَغَ مَایُؤْخَذُ مِنْ ذَالِکَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ۔)) قَالَ: (أَیْ السَّائِلُ) یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَالثِّمَارُ وَمَا أُخِذَ مِنْہَا فِیْ أَکْمَامِہَا؟ قَالَ: ((مَنْ أَخَذَ بِفِیْہِ وَلَمْ یَتَّخِذْ خُبْنَۃً فَلَیْسَ عَلَیْہِ شَیْئٌ، وَمَنِ احْتَمَلَ فَعَلَیْہِ ثَمَنُہُ مَرَّتَیْنِ وَضَرْبًا وَنَکَالًا، وَمَا أُخِذَ مِنْ أَجْرَانِہِ فَفِیْہِ الْقَطْعُ اِذَا بَلَغَ مَا یُؤْخَذُ مِنْ ذَالِکَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ۔))(مسند احمد: ۶۶۸۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس محفوظ جانور کے بارے میں جو کہ اپنی چراگاہ میں تھا سوال کیا گیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی چوری میں دگنی قیمت ہوگی اور چور کو سزا بھی دی جائے گی اور جو جانوروں کے باڑے سے چرا لیا جائے گا، اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا، بشرطیکہ وہ ڈھال کی قیمت کے برابر ہو۔ سائل نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان پھلوں کے متعلق کیا حکم ہے جو گابھے اور شگوفے سے چرا لیے جائیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے صرف کھا لیا اور کپڑے میں ڈال کر نہ لے گیا،اس پر کوئی پکڑ نہیں اور جو کپڑے میں اٹھا کر لے جائے گا تو اسے اس کی دو گناقیمت دینا پڑے گی اور مار اور سزا بھی ساتھ ہوگی اور جو کھجور کھلیان جیسے محفوظ مقام سے چرائی جائے گی، اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا، بشرطیکہ وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے۔
Takhreej
(۶۷۵۹) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابوداود: ۱۷۱۰، والنسائی: ۸/ ۸۵ (انظر: ۶۶۸۳)
Explanation
فوائد:… جانوروں کے باڑے اور کھجور وغیرہ کے کھلیان محفوظ مقام ہیں، اس لیے وہاں سے اٹھائی ہوئی چیز کو چوری کہا جائے گا۔ چراگاہ حفاظت والا مقام نہیں ہے، اس لیے اس مقام سے چوری کرنے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ پچھلے باب کے شروع میں چوری کی تعریف ملاحظہ کر لیں۔ باغ سے گزرنے والا اپنی ضرورت کے مطابق باغ کا پھل کھا سکتا ہے ۔ یہ مسلمان کے مال کی حرمت ہے کہ دوگنا جرمانہ بھی ڈالا جا رہا ہے اور سزا بھی دی جا رہی ہے۔
6759
Sahih
۔ (۶۷۶۰)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ عَلَی الْمُنْتَہِبِ قَطْعٌ، وَمَنِ انْتَہَبَ نُہْبَۃً مَشْہُوْرَۃً فَلَیْسَ مِنَّا۔)) وَقَالَ: ((لَیْسَ عَلَی الْخَائنِ قَطْعٌ۔)) (مسند احمد: ۱۵۱۳۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ڈاکو پر ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں ہے اور جس نے واضح طور پر ڈاکہ مارا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خیانت کرنے والے پر بھی ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں۔
Takhreej
(۶۷۶۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابوداود: ۴۳۹۱، ۴۳۹۲، وابن ماجہ: ۲۵۹۱، والترمذی: ۱۴۴۸، والنسائی: ۸/ ۸۸(انظر: ۱۵۰۷۰)
Explanation
فوائد:… اصحاب السنن کی روایات میں ((وَلَا الْمُخْتَلِس)) کا اضافہ بھی ہے، اس کے معنی ہیں: غفلت سے فائدہ اٹھا کر چیز کو اچک لینے والا، یعنی ایسے شخص کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ خائن سے مرادوہ شخص ہے کہ جس کے پاس لوگ امانتیں رکھتے ہیں، لیکن وہ ان کو استعمال کر کے ضائع کر دیتا ہے۔
6760
Sahih
۔ (۶۷۶۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: کَانَتْ مَخْزُوْمِیَّۃٌ تَسْتَعِیْرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُہُ فَاَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَطْعِہَا۔(مسند احمد: ۶۳۸۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ مخزوم قبیلے کی ایک عورت سامان ادھار لیتی تھی اور پھر انکار کر دیتی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔
Takhreej
(۶۷۶۱) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ النسائی: ۸/۷۱ (انظر: ۶۳۸۳)
Explanation
فوائد:… بظاہر اس حدیث ِ مبارکہ سے اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ عاریۃً لی ہوئی چیز کا انکار کر دینے کی وجہ سے اس عورت کا ہاتھ کاٹا گیا، لیکن جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ ایسے انکار کی وجہ سے تو ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا ، جبکہ بعض احادیث ِ صحیحہ میں اس امر کی وضاحت بھی کر دی گئی ہے کہ اس عورت نے چوری کی تھی، اس لیے آپ a نے اس چوری کی وجہ سے ہاتھ کاٹا تھا، اس حدیث کو اختصار پر محمول کیا جائے گا۔
6761
Sahih
۔ (۶۷۶۲)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ قَالَ: سَرَقَ غُلَامٌ لِنُعْمَانَ الْأَنْصَارِیِّ نَخْلًا صِغَارًا فَرُفِعَ اِلٰی مَرْوَانَ فَأَرَادَ أَنْ یَقْطَعَہُ، فَقَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِیْجٍ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یُقْطَعُ فِی الثَّمَرِ وَلَا فِی الْکَثَرِ۔)) قَالَ: قُلْتُ لِیَحْیٰ: مَا الْکَثَرُ؟ قَالَ: الْجُمَّارُ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۰۷)
۔ محمد بن یحییٰ بن حبان بیان کرتے ہیں کہ سیدنا نعمان انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ایک غلام نے چھوٹی چھوٹی کھجوریں چوری کر لیں،جب ااس کا معاملہ مروان کی عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے اس چور کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کیا، لیکن سیدنا رافع بن خدیج ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھل اور کھجور کے درخت کے گوند کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ میں نے یحییٰ سے کہا: کَثَر سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: جُمَّار (کھجور کے درخت کا گوند)۔
Takhreej
(۶۷۶۲) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ النسائی فی ’’الکبری‘‘: ۷۴۵۲ (انظر: ۱۵۸۱۴)
Explanation
فوائد:… اس کی وجہ یہ ہے کہ باغ حفاظت کی جگہ نہیں ہے، اس باب کی پہلی حدیث میں باغ کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔
6762
Sahih

Chapters

6
01
چور پر لعنت کرنے اور اس چیز کا بیان کہ کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے گا
7 Hadith
02
چوری میں محفوظ جگہ کا اعتبار کرنے کا بیان اور لوٹنے والے، ڈاکہ ڈالنے والے، خیانت کرنے والے اور عاریہ کا انکار کرنے والے کا بیان اور ان چیزوں کی وضاحت جن میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
4 Hadith
03
چور کے اقرار پر ہاتھ کاٹنے، حد کے بارے میں تلقین کرنے اور کاٹنے کے بعد ہاتھ کو داغنے کا بیان، نیز اس چیز کا بیان کہ کیا ایک مرتبہ چوری کا اعتراف کافی ہے
1 Hadith
04
جب غلام، آقا کی چوری کرے تو کیا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، نیز بھاگے ہوئے غلام کا حکم کیا ہے، جب وہ چوری کرے
2 Hadith
05
ان امور کا بیان کہ چوری میں پہلے کون سا ہاتھ کاٹا جائے، کاٹنے کا جگہ، ہاتھ کاٹ کر چور کی گردن میں لٹکانا، بار بار چوری کرنے والے کی سزا اور اس آیت کے بارے میںمفسرین کے اقوال: ’’اور چوری کرنے والا مرد اور عورت،پس ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو‘‘
1 Hadith
06
ہاتھ کاٹنے وغیرہ کی حد کا بیان، نیز کیا دار الحرب میں پوری سزا دی جائے گییا نہیں
3 Hadith
No chapter matched that.