TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا - شرابی کی حد اور اس کو مارنے کی مقدار کا بیان اور اس کو کس چیز سے مارا جائے گا - شراب کی حرمت اور شرابی کی حد کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of شراب کی حرمت اور شرابی کی حد کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 6 · 14 Hadith
۔ (۶۷۷۳)۔ ) عَنْ حُضَیْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ وَعْلَۃَ أَنَّ الْوَلِیْدَ بْنَ عُقْبَۃَ صَلّٰی بِالنَّاسِ الصُّبْحَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَیْہِمْ فَقَالَ: أَزِیْدُکُمْ فَرُفِعَ ذَالِکَ إِلٰی عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَأَمَرَ بِہِ أَنْ یُجْلَدَ، فَقَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ: قُمْ یَاحَسَنُ! فَاجْلِدْہُ، قَالَ: وَفِیْمَ اَنْتَ وَذَاکَ؟ فَقَالَ عَلِیٌّ: بَلْ عَجَزْتَ وَوَھَنْتَ، قُمْ یَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ جَعْفَرٍ! فَاجْلِدْہُ، فَقَامَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ فَجَلَدَہ، وَعَلِیٌّیَعُدُّ فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِیْنَ، قَالَ: أَمْسِکْ، ثُمَّ قَالَ: ضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْخَمْرِ أَرْبَعِیْنَ وَضَرَبَ أَبُوْ بَکْرٍ أَرْبَعِیْنَ وَعُمَرُ صَدْرًا مِنْ خَلَافَتِہِ ثُمَّ أَتَمَّہَا عُمَرُ ثَمَانِیْنَ وَکُلٌّ سُنَّۃٌ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۰)
۔ حضین بن منذر سے روایت ہے کہ ولید بن عقبہ نے لوگوں کو نماز فجر پڑھائی، جب وہ فارغ ہوا تو وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: کیا میں تم کو مزید نماز پڑھاؤں؟ یہ معاملہ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عدالت میں پیش کیا گیا، انھوںنے اس کو کوڑے مارنے کا حکم دیا، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہااے حسن! کھڑے ہو جائو اور اس کو کوڑے مارو، انہوں نے کہا: آپ کا اس معاملے سے کیا تعلق ہے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم عاجز آ گئے ہو اور کمزور پڑ گئے ہو، پھر انھوں نے کہا: اے عبد اللہ بن جعفر! کھڑے ہو جاؤ اور اس کو کوڑے لگاؤ، پس سیدنا عبد اللہ بن جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کو کوڑے مارے اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے شمار کرنا شروع کر دیا۔ جب وہ چالیس تک پہنچ گئے تو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رک جائو۔ پھر کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شراب پینے کی وجہ سے چالیس کوڑے لگائے، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے پورے دور میں اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی خلافت کے شروع میں چالیس چالیس کوڑے لگائے، پھر سیدنا عمر نے شراب کی سزا اسی (۸۰) کوڑے پورے کر دیئے۔
Takhreej
(۶۷۷۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۷۰۷(انظر: ۱۲۳۰)
6773
Sahih
۔ (۶۷۷۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنَّہُ قَدِمَ نَاسٌ مِنْ أَھْلِ الْکُوْفَۃِ عَلٰی عُثْمَان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَخْبَرُوْہُ بِمَا کَانَ مِنْ أَمْرِ الْوَلِیْدِ أَیْ بِشُرْبِہِ الْخَمْرَ فَکَلَّمَہُ عَلِیٌّ فِیْ ذَالِکَ فَقَالَ: دُوْنَکَ ابْنَ عَمِّکَ، فَأَقِمْ عَلَیْہِ الْحَدَّ، فَقَالَ: یَا حَسَنُ قُمْ! فَاجْلِدْہُ، قَالَ: مَا أَنْتَ مِنْ ھٰذَا فِی شَیْئٍ، وَلِّ ھٰذَا غَیْرَکَ، قَالَ: بَلْ ضَعُفْتَ وَوَھَنْتَ، الْحَدِیْثُ بِنَحْوِالطَّرِیْقِ الْأُوْلٰی۔ (مسند احمد: ۶۲۴)
۔ (دوسری سند) اہل کوفہ سے کچھ لوگ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے اور ولید کے بارے میں شراب پینے کی اطلاعات دیں، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس موضوع پر بات کی، انھوں نے کہا: تم خود اپنے چچے کے بیٹے کو پکڑو اور اس پر حدّ قائم کرو، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے حسن! کھڑے ہو جاؤ اور اس کو کوڑے لگاؤ، انھوں نے کہا: آپ کا اس معاملے سے کیا تعلق ہے، یہ معاملہ کسی اور کے سپرد کر دو، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بلکہ تم کمزور پڑ گئے ہو اوربزدل ہو گئے ہو، …۔ پھر پہلی روایت کی طرح کی روایت بیان کی۔
Takhreej
(۶۷۷۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… سیدنا عثمانb نے ولید کو سیدنا علیbکے چچا کا بیٹا اس لئے قرار دیا تھا کہ سیدنا علیb، ہاشم کی اولاد میں سے تھے اور ولید، عبد شمس کی اولاد میں سے تھے اس اعتبار سے یہ اوپر جا کر چچا کے بیٹے ثابت ہوئے ہیں، ہاشم اور عبد شمس دونوں عبد ِ مناف کے بیٹے تھے۔ سنن ابو داود (۴۴۸۹) کی ایک روایت میں ہے: جب سیدنا عمر b خلیفہ بنے تو سیدنا خالد بن ولیدb نے ان کی طرف یہ خط لکھا: لوگ بہت زیادہ شراب پینے لگ گئے ہیں اور انھوں نے موجود حدّ اور سزا کو کم سمجھ لیا ہے، پس سیدنا عمر b نے اوّلین مہاجرین سے مشورہ کیا اور اُن سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اب اسی (۸۰) کوڑے لگائے جائیں۔ سیدنا علیb نے کہا: جب آدمی شراب پیتا ہے تو وہ بہتان تراشیاں کرتا ہے اور تہمتیں لگاتا ہے، لہذا میرا خیالیہ ہے کہ اس کو تہمت والی حدّ لگائی جائے۔ (ابوداود: ۴۴۸۹) سنن ابو داود (۴۴۸۸) میں ہے: رسول اللہ a کے پاس ایک شرابی لایا گیا، جبکہ آپ a حنین میں تھے، آپ a نے اس کے چہرے پر مٹی پھینکی اور صحابہ کو حکم دیا کہ وہ اس کو ماریں، پس انھوں نے جوتوں کے ساتھ اور جس کے ہاتھ میں جو چیز تھی، اس کے ساتھ اس کی پٹائی کی،یہاں تک کہ آپ a نے فرمایا: ’’اب بس کر دو۔‘‘ پس وہ رک گئے، رسول اللہ a کی وفات تک ایسے معاملہ چلتا رہا، پھر سیدنا ابو بکر b شراب کی وجہ سے چالیس کوڑے لگائے، سیدنا عمر b نے ابتدائے خلافت کے ایام میں چالیس اور پھر اسی (۸۰) کوڑے شروع کیے، سیدنا عثمان b اپنے زمانۂ خلافت میں (۴۰ اور ۸۰) دونوں سزائیں جاری رکھیں اور سیدنا امیر معاویہb نے اسی (۸) کی حدّ کو نافذ کر دیا۔
6774
Sahih
۔ (۶۷۷۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ انَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اضْرِبُوْہُ۔)) قَالَ: فَمِنَّا الضَّارِبُ بِیَدِہِ وَمِنَّا الضَّارِبُ بِنَعْلِہِ وَالضَّارِبُ بِثَوْبِہِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَخْزَاکَ اللّٰہُ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَقُوْلُوْا ھٰکَذَا لَا تُعِیْنُوْا عَلَیْہِ الشِّیْطَانَ وَلٰکِنْ قُوْلُوْا: رَحِمَکَ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۷۹۷۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا، اس نے شراب پی ہوئی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے مارو۔ پھر ہم میں سے کسی نے اس کو اپنے ہاتھ سے مارا، کسی نے جوتے سے مارا اور کسی نے کپڑے سے مارا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو ایک آدمی نے کہا: اللہ تجھے رسوا کرے، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس طرح نہ کہو، اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو، بلکہ تم یہ کہو : اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے۔
Takhreej
(۶۷۷۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۷۷۷، ۶۷۸۱ (انظر: ۷۹۸۵)
Explanation
فوائد:… جس آدمی کو حد لگائی جا رہی ہو، اس کے لیے بد دعا نہیں کی جا سکتی، بلکہ اس کے حق میں دعا کرنی چاہیے۔
6775
Sahih
۔ (۶۷۷۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِرَجُلٍ قَالَ مِسْعَرٌ: أَظُنُّہ، فِی شَرَابٍ، فَضَرَبَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَعْلَیْنِ أَرْبَعِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۱۲۹۷)
۔ سیدنا ابو سعیدخدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا،اس نے شراب پی ہوئی تھی،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دو جوتوں سے مارتے ہوئے چالیس جوتے مارے۔
Takhreej
(۶۷۷۶) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۱۴۴۲(انظر: ۱۱۲۷۷)
6776
Sahih
۔ (۶۷۷۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: جُلِدَ عَلٰی عَہْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْخَمْرِ بِنَعْلَیْنِ أَرْبَعِیْنَ، فَلَمَّا کَانَ زَمَنُ عُمَرَ جُلِدَ بَدَلَ کُلِّ نَعْلٍ سَوْطًا۔ (مسند احمد: ۱۱۶۶۴)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد مبارک میں دو جوتوں سے شراب کی حد لگاتے ہوئے چالیس جوتے مارے جاتے تھے، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا زمانۂ خلافت تھا تو انھوں نے ہر جوتے کے عوض ایک کوڑا مارا۔
Takhreej
(۶۷۷۷) اسنادہ ضعیف لضعف زید العمی، والمسعودی قد اختلط، وسماع یزید منہ بعد الاختلاط، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۹/ ۵۴۷، والطحاوی فی ’’شرح معانی الآثار‘‘: ۳/۱۵۷ (انظر: ۱۱۶۴۱)
6777
Zaeef
۔ (۶۷۷۸)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: جَلَدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْخَمْرِ بِالْجَرِیْدِ وَالنِّعَالِ وَجَلَدَ أَبُوْبَکْرٍ، قَالَ یَحْیٰی فِی حَدِیْثِہِ: أَرْبَعِیْنَ، فَلَمَّا کَانَ عُمَرُ وَدَنَا النَّاسُ مِنَ الرِّیْفِ وَالْقُرٰی، قَالَ لِأَصْحَابِہِ: مَا تَرَوْنَ؟ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰن: اجْعَلْہَا کَأَخَفِّ الْحُدُوْدِ، فَجَلَدَ عُمَرُ ثَمَانِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۶۳)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھجور کی ٹہنیوں اور جوتوں سے شراب کی لگائی، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھییہی حد لگائی،یحییٰ کی حدیث کے مطابق چالیس ضربیں لگائی جاتی تھیں، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت شروع ہوئی تو لوگ فتوحات کی کثرت سے خوش حال ہوئے تو شراب نوشی میں اضافہ ہوا تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا اور کہا: اب اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ سب سے ہلکی حد مقرر کر دیں، پس سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے شرابی کی حد اسی کوڑے مقرر کر دیئے۔
Takhreej
(۶۷۷۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۷۷۳، ۶۷۷۶، ومسلم: ۱۷۰۶(انظر: ۱۲۱۳۹)
6778
Sahih
۔ (۶۷۷۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَجَلَدَہُ بِجَرِیْدَتَیْنِ نَحْوَ الْأَرْبَعِیْنَ، قَالَ: وَفَعَلَہُ أَبُوْبَکْرٍ، فَلَمَّا کَانَ عُمَرُ اسْتَشَارَ النَّاسَ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ: أَخَفُّ الْحُدُوْدِ ثَمَانُوْنَ، قَالَ: فَأَمَرَ بِہِ عُمَرُ۔ (مسند احمد: ۱۲۸۳۶)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا، اس نے شراب پی ہوئی تھی، آپ نے اسے کھجور کی دو ٹہنیوں سے چالیس ضربیں لگائیں، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھییہی سنت جاری رکھی، لیکن جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خلیفہ بنے تو انھوں نے لوگوں سے مشورہ کیا،سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ مشورہ دیا کہ سب سے ہلکی حد اسی (۸۰) کوڑے ہے، تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے شرابی کو اسی کوڑے لگانے کا حکم دے دیا۔
Takhreej
(۶۷۷۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… شریعت ِ اسلامیہ میں سب سے ہلکی حدّ تہمت لگانے والے کی ہے، یعنی اسی (۸۰) کوڑے، باقی تمام حدود اس سے زیادہ سنگین ہیں۔
6779
Sahih
۔ (۶۷۸۰)۔ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: کُنَّا نَأْتِی بِالشَّارِبِ فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَفِی اِمْرَۃِ اَبِی بَکْرٍ وَصَدْرًا مِنْ اِمْرَۃِ عُمَرَ، فَنَقُوْمُ اِلَیْہِ فَنَضْرِبُہُ بِاَیْدِیْنَا وَ نِعَالِنَا وَ اَرْدِیَتِنَا، حَتّٰی کَانَ صَدْرًا مِنْ اِمْرَۃِ عُمَرَ فَجَلَدَ فِیْھَا اَرْبَعِیْنَ، حَتّٰی اِذَا عَتَوْا فِیْھَا وَفَسَقُوْا جَلَدَ ثَمَانِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۵۸۱۰)
۔ سیدنا سائب بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد ِ مبارک میں ،سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت میں اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کے ابتدائی دور میں شرابی کو لاتے اور اس کے قریب کھڑے ہو کر اس کو ہاتھوں، جوتوں اور کپڑوں سے مارتے، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور خلافت کے شروع میںشرابی کی حد چالیس کوڑے کر دی گئی، لیکن جب شرابیوں نے سرکشی کی اور انھوں نے فسق اختیار کر لیا تو شرابی کی سزا اسی کوڑے کر دی گئی۔
Takhreej
(۶۷۸۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۷۷۹ (انظر: ۱۵۷۱۹)
6780
Sahih
۔ (۶۷۸۱)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اُتِیَ بِالنُّعَیْمَانِ اَوِ ابْنِ النُّعَیْمَانِ وَھُوَ سَکْرَانُ، قَالَ: فَاشْتَدَّ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ لَفْظٍ: فَشَقَّ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَشَقَّۃً شَدِیْدَۃً) وَأَمَرَ مَنْ فِی الْبَیْتِ أَنْ یَضْرِبُوْہُ، قَالَ عُقْبَۃُ: فَکُنْتُ فِیْمَنْ ضَرَبَہُ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ) فَضَرَبُوْہُ بِالْأَیْدِی وَالْجَرِیْدِ، فَکُنْتُ فِیْمَنْ ضَرَبَہُ۔ (مسند احمد: ۱۶۲۵۵)
۔ سیدنا عقبہ بن حارث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نعیمانیا ابن نعمان کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایا گیا، وہ نشے میں مست تھے، یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر گراں گزری، ایک روایت میں ہے: اس صورتحال سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بڑی مشقت ہوئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھر میںموجود افراد کو حکم دیا کہ وہ اس کو ماریں، سیدنا عقبہ کہتے ہیں؟ میں بھی اس کو مارنے والوں میں تھا، ہم نے اس کو ہاتھوں اور کھجور کی ٹہنیوں سے مارا تھا۔
Takhreej
(۶۷۸۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۷۷۵(انظر: ۱۶۱۵۵)
Explanation
فوائد:… سیدنا نعیمانb اسلام کے اولین سپوتوں میں سے تھے، یہ بیعت ِ عقبہ اور غزوۂ بدر اور دیگر کئی معرکوں میں شریک ہوئے تھے، یہ خوش طبع انسان تھے، نبی کریم بھیa ان کی خوش طبعی سے مسکراتے تھے، ان جیسے عظیم لوگوں کو شراب سے دور رہنا چاہیے تھا، اسی وجہ سے آپ a کو رنج و ملال زیادہ ہوا۔ اس جگہ اگرچہ شک کے ساتھ ہے کہ نعیمانیا ابن نعیمان کو نبی کریمa کے پاس لایا گیا، لیکن صحیح بخاری، کتاب الوکالۃ میں شک کے بغیر ہے کہ نعیمان کو لایا ہے۔ مزید وہاں یہ بھی ہے اس کو لانے والے حدیث کے راوی عقبہ بن حارث خود ہی تھے۔ (عبداللہ رفیق)
6781
Sahih
۔ (۶۷۸۲)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَزْھَرَ قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَدَاۃَیَوْمِ الْفَتْحِ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ یَتَخَلَّلُ النَّاسَ یَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیْدِ فَأُتِیَ بِشَارِبٍ فَأَمَرَہُمْ فَضَرَبُوْہُ بِمَا فِی أَیْدِیْہِمْ، فَمِنْہُمْ مَنْ ضَرَبَہ بِعَصًا وَمِنْہُمْ مَنْ ضَرَبَہُ بِسَوْطٍ وَحَثٰی عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم التُّرَابَ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۳۳)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن ازہر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فتح مکہ والے دن دیکھا ، جبکہ میں نوخیز جوان تھا،آپ لوگوں کے بیچوں بیچ سے آ رہے تھے اور سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے متعلق دریافت کر رہے تھے، اسی اثناء میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک شرابی کو لایاگیا، آپ نے لوگوں کو حکم دیا اور ان کے ہاتھوں میں جو چیز بھی تھی، انھوں نے اس کو اس سے مارنا شروع کر دیا، کسی نے لاٹھی سے مارا اور کسی نے کوڑے سے مارا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پر چلو بھر مٹی پھینکی۔
Takhreej
(۶۷۸۲) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ ابوداود: ۴۴۸۹(انظر: ۱۶۸۱۰)
6782
Sahih
۔ (۶۷۸۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَخَلَّلُ النَّاسَ یَوْمَ حُنَیْنٍ،یَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیْدِ فَأُتِیَ بِسَکْرَانٍ فَأَمَرَ مَنْ کَانَ مَعَہُ أَنْ یَضْرِبُوْہُ بِمَا کَانَ فِی أَیْدِیْہِمْ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۳۲)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد الرحمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ حنین والے دن لوگوں کے درمیان سے گزرتے آ رہے تھے اور سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے بارے میں دریافت کر رہے تھے، اسی اثناء میں آپ کے پاس ایک شرابی لایا گیا،پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ساتھ والے لوگوں کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھوں میں جو کچھ ہے، وہ اس کے ساتھ اس کو ماریں۔
Takhreej
(۶۷۸۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
6783
Sahih
۔ (۶۷۸۴)۔ عَنْ اَبِی التَّیَّاحِ عَنْ اَبِی الْوَدَّاکِ قَالَ: لَا أَشْرَبُ نَبِیْذًا بَعْدَ مَا سَمِعْتُ أَبَا سَعِیْدٍ الْخُدْرِیَّ، قَالَ: جِیْئَ بِرَجُلٍ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالُوْا: إِنَّہُ نَشْوَانُ، فَقَالَ: إِنَّمَا شَرِبْتُ زَبِیْبًاوَتَمْرًا فِی دُبَّائَۃٍ، قَالَ: فَخُفِقَ بِالنِّعَالِ وَنُہِزَ بِالْأَیْدِی، وَنَہٰی عَنِ الدُّبَّائِ وَالزَّبِیْبِ وَالتَّمْرِ اَنْ یُخْلَطَا۔ (مسند احمد: ۱۱۳۱۷)
۔ ابو وداک سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اس وقت سے نبیذ نہیں پی، جب سے سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ حدیث سنی، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایا گیا، لوگوں نے بتایا کہ اس نے نشہ کر رکھا ہے، اس نے کہا: میں نے تو کدو کے برتن میں منقّی اور کھجور ڈال کر پی ہے، بہرحال جوتوں سے اس کی پٹائی کی گئی اور ہاتھوں سے اس کو دھکے دئیے گئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کدو والے برتن اور منقّی اور کھجور ملا کر پینے سے منع فرما دیا۔
Takhreej
(۶۷۸۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الطیالسی: ۲۱۷۶، والنسائی فی ’’الکبری‘‘: ۵۲۹۲ (انظر: ۱۱۲۹۷)
Explanation
فوائد:… جب شراب حرام ہوئی تھی تو آپ a نے جن برتنوں سے منع کیا تھا، ان میں سے ایک کدو کا برتن تھا، بعد میں آپ a نے اُن تمام برتنوں کے استعمال کو جائز قرار دیا تھا۔ منقّی اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ ان میں جلدی نشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
6784
Sahih
۔ (۶۷۸۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِسَکْرَانٍ فَضَرَبَہُ الْحَدَّ، فَقَالَ: ((مَا شَرَابُکَ؟)) فَقَالَ: الزَّبِیْبُ وَالتَّمْرُ، قَالَ: ((یَکْفِی کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا مِنْ صَاحِبِہِ۔)) (مسند احمد: ۴۷۸۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پا س ایک نشہ میں مست آدمی لایا گیا، آپ نے اس پر حد لگائی اور اس سے پوچھا : تیری شراب کس چیز سے تیار کی گئی ہے؟ اس نے کہا: منقّی اور کھجور سے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان میں سے ہر ایک چیز دوسری سے کفایت کرتی ہے۔
Takhreej
(۶۷۸۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ النجرانی الذی روی عنہ ابو اسحاق، أخرجہ ابویعلی: ۵۷۸۳، والطیالسی: ۱۹۴۰(انظر: ۴۷۸۶)
6785
Zaeef
۔ (۶۷۸۶)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَا مِنْ رَجُلٍ أَقَمْتُ عَلَیْہِ حَدًّا فَمَاتَ فَأَجِدُ فِی نَفْسِی اِلَّا الْخَمْرَ، فَاِنَّہُ لَوْ مَاتَ لَوَدَیْتُہُ لِأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَسُنَّہُ۔ (مسند احمد: ۱۰۲۴)
۔ علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں کسی آدمی پر حد قائم کروں اور وہ مرجائے تو مجھے کوئی غم نہیں ہوگا، ما سوائے شراب کی حد لگاتے ہوئے، اگر کوئی اس حد کے دوران مر جائے گا تو میں اس کی دیت ادا کروں گا، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی حدّ کو متعین نہیں کیا۔
Takhreej
(۶۷۸۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۷۷۸، ومسلم: ۱۷۰۷(انظر: ۱۰۲۴)
Explanation
فوائد:… دوسری حدود کی طرح شراب کی حدّ کا تعین نہیں کیا گیا، اس لیے سیدنا علیb نے یہ رائے دی اور احتیاط کا یہی تقاضا ہے۔ حقیقتیہ ہے کہ نبی کریمa کے زمانے میں شرابی کی حدّ مقرر نہیں تھی۔ چھڑی، جوتوں، کپڑوںسے سزا دے دی جاتی تھی، البتہ یہ بات درست ہے کہ ایک موقع پر زیادہ سے زیادہ چالیس ضربیں لگائی گئیں، اسی چیز کو دیکھ کر سیدنا ابو بکر b نے چالیس کا قانون جاری رکھا، پھر سیدنا عمر b نے کبار صحابہ کے مشورے سے اسی (۸۰) کوڑوں تک سزا زیادہ کر دی، سیدنا علیb کی رائے بڑی دور اندیشی پر مشتمل تھی کہ شرابی تہمت اور بہتان والی باتیں کرتا ہے، اس لیے اس کو تہمت والی سزا دی جائے۔
6786
Sahih